30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
صدر الشریعہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں :
تمام اہلِ محشر تو پل پر سے گزرنے میں مشغول، مگر وہ بے گناہ، گناہگاروں کا شفیع پل کے کنارے کھڑا ہوا بکمالِ گریہ وزاری اپنی اُمتِ عاصی کی نجات کی فکر میں اپنے رب سے دُعا کر رہا ہے: ’’ رَبِّ سَلِّمْ سَلِّمْ ‘‘ اِلٰہی! ان گناہگاروں کو بچالے بچالے۔ اور ایک اسی جگہ کیا! حضور اُس دن تمام مواطن میں دورہ فرماتے رہیں گے، کبھی میزان پر تشریف لے جائیں گے، وہاں جس کے حسنات میں کمی دیکھیں گے، اس کی شفاعت فرما کر نجات دلوائیں گے اور فوراً ہی دیکھو تو حوضِ کوثر پر جلوہ فرما ہیں ، پیاسوں کو سیراب فرما رہے ہیں اور وہاں سے پل پر رونق افروز ہوئے اور گرتوں کو بچایا۔ غرض ہر جگہ اُنھیں کی دوہائی، ہر شخص اُنھیں کو پکارتا، اُنھیں سے فریاد کرتا ہے اور اُن کے سوا کس کوپکارے۔۔۔؟! کہ ہر ایک تو اپنی فکر میں ہے، دوسروں کو کیا پوچھے، صرف ایک یہی ہیں، جنہیں اپنی کچھ فکر نہیں اور تمام عالَم کا بار اِن کے ذمے۔(1) اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا امام احمد رضا خان فرماتے ہیں :
پیشِ حق مژدہ شفاعت کا سناتے جائیں گے
آپ روتے جائیں گے ہم کو ہنساتے جائیں گے
کچھ خبر بھی ہے فقیرو آج وہ دن ہے کہ وہ
نعمتِ خُلد اپنے صَدقے میں لٹاتے جائیں گے
خاک اُفتادو بس اُن کے آنے ہی کی دیر ہے
خود وہ گر کر سجدہ میں تم کو اٹھاتے جائیں گے
[1] … بہارشریعت،1/147-149،حصہ :1۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع