30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پاک نے ایسے نبی کا امتی بنایا ،جب دنیا میں تشریف لائے تو امتی امتی کی صدا بلند تھی،معراج ہوئی تب بھی امت کو یاد رکھا ،قبر میں اپنی امت کو نہ بھولے،سر محشر بھی امت کی فکر ہی لاحق ہے،حتی کہ دنیا میں جتنے بھی نبی آئے سب کو ایک خاص دعا گئی اور انہوں نے وہ دعائیں مانگ لی ،حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو بھی خاص دعا دی گئی مگر حضور نے وہ خاص دعا قیامت کے دن کے لئے باقی رکھ لی ،ہم گنہگاروں کے لئے حضور نے دعا فرمانی ہے ہماری شفاعت کے لئے حضور دعا فرمائیں گے جو اللہ پاک قبول فرمائے گا۔
امت کے لئے گریہ و زاری
حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو اپنی امت سے بہت پیار ہے ،اعلی حضرت امام اہلسنت مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:بادشاہ اپنے گرم بستروں ، نرم تکیوں میں مست خواب ناز ہے اورجو محتاج بے نوا ہے اس کے بھی پاؤں دوگز کی کملی میں دراز، ایسے سہانے وقت ، ٹھنڈے زمانہ میں ، وہ معصوم ، بے گناہ، پاک داماں ، عصمت پناہ اپنی راحت وآسائش کو چھوڑ، خواب وآرام سے منہ موڑ ، جبین نیاز آستانہ عزت پر رکھے ہے کہ الہٰی !میری امت سیاہ کارہے ، درگزرفرما، اوران کے تمام جسموں کو آتش دوزخ سے بچا۔
جب وہ جانِ راحت کان رافت پیداہوابارگاہ الہٰی میں سجدہ کیا اور رب ھب لی امتی فرمایا، جب قبر شریف میں اتارا لبِ جاں بخش کو جنبش تھی، بعض صحابہ نے کان لگا کر سنا آہستہ آہستہ امتی امتی فرماتے تھے ۔ قیامت کے روز کہ عجب سختی کا دن ہے ، تانبے کی زمین ، ننگے پاؤں، زبانیں پیاس سے باہر ، آفتاب سروں پر ، سائے کا پتہ نہیں ، حساب کا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع