30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں اللہ کے خزانوں کا خزانچی ہوں ۔جب اللہ پاک عطا کرنے والا اورنبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم بانٹنے والے ہوں تو پھر ہم جھولیاں بھر بھر کر کیوں نہ مانگیں ؟اور حضور کے در سے نہ مانگیں تو پھر کس سے مانگیں؟سیدی اعلی حضرت امام عشق و محبت مولانا امام احمد رضا خان رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:
لَاوَرَبِّ الْعَرْش جس کو جو ملا اُن سے ملا
بٹتی ہے کونین میں نعمت رسول اللہ کی
امیر اہل سنت اپنے آقا و مولی کی مد ح سرائی میں فرماتے ہیں:
دو جہان کے خزانے دئیے ہاتھ میں خدا نے
تیرا کام ہے لوٹانا مدنی مدینے والے
ہمیں تو فخر کرنا چاہئے کہ ہم ایسے آقا کے امتی ہیں ،نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم ایک مقام پر فرماتے ہیں: وَبَيْنَا اَنَا نَائِمٌ اُتِيتُ بِمَفَاتِيحِ خَزَائِنِ الاَرْضِ فَوُضِعَتْ فِى يَدِىمیں آرام کررہا تھا تمام خزائن کی کنجیاں میرے ہاتھ میں رکھ دی گئیں۔(1)اسی لئے ہم کہتے ہیں :
کھاتے ہیں تیرے در کا پیتے ہیں تیرے در کا
پانی ہے تیرا پانی دانہ ہے تیرا دانہ
اعلیٰ حضرت فرماتے ہیں :
ان کے ہاتھ میں ہر کنجی ہے مالکِ کل کہلاتے یہ ہیں
[1] … بخاری،کتاب التعبیر،باب المفاتیح بالید،4/413،حدیث:7013 ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع