30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جانور غرق ہوگئے،دعا کیجئے کہ بارش بند ہوجائے ۔ یہ سن کر آپ نے پھر اپنا مقدس ہاتھ اٹھا دیا اور یہ دعا فرمائی: اَللّٰھُمَّ حَوَالَیْنَا وَلَا عَلَیْنَا اے اﷲ ! ہمارے ارد گرد بارش ہو اور ہم پر بارش نہ ہو۔پھر آپ نے بدلی کی طرف اپنے دستِ مبارک سے اشارہ فرمایا تو مدینہ کے ارد گرد سے بادل کٹ کر چھٹ گیا اور پاس کے کھیتوں میں بارش برستی رہی۔(1)
بخاری شریف کی اس حدیث سے بہت سی باتیں معلوم ہوئیں :
(1)صحابہ کرام اپنی ہر پریشانی میں حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کو پکارتے تھے،چاہے بارش کروانی ہو یا بارش رکوانی ہو۔
(2)عام طور پر بارش سے متعلق 2 ہی دعا کی جاتی ہے ،بارش ہوجائے یا بارش رک جائےمگر نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اختیارات ایسے تھے کہ بادلوں کو مدینہ سے ہٹادیا اور مدینہ کے ارد گرد بھیج دیا ،اب بارش مدینہ میں نہیں بلکہ اس کے ارد گرد برسنے لگ گئی۔
(3)نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے اشاروں پر چاند سورج چلتے ہیں تو پھر بادل کیوں نہ چلیں گے حضور نے برساتی بادلوں کو اشاروں سے مدینہ سے ہٹادیا۔امام عشق ومحبت ان ہی خوبصورت واقعے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے خوبصورت وسیلہ والتجا رب کریم کی بارگاہ میں پیش کرتے ہیں :
جن کو سوئے آسماں پھیلا کے جل تھل کر دیے
صدقہ اُن ہاتھوں کا پیارے ہم کو بھی درکار ہے
[1] … بخاری،کتاب الاستسقاء،باب من تمطر فی المطر۔۔۔الخ،1/353،حدیث:1033۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع