30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ایک کی گواہی دو کے برابر
سرکارِ دو عالَم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ایک اعرابی سے گھوڑا خریدا،وہ بیچ کر مکر گیا اور گواہ مانگا، جو مسلمان آتا اعرابی کو جھڑکتا کہ تیرے لئے خرابی ہو ، رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حق کے سوا کیا فرمائیں گے (مگر گواہی کوئی نہیں دیتا کیونکہ کسی کے سامنے کا واقعہ نہ تھا) اتنے میں حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ بارگاہ میں حاضر ہوئے اور گفتگو سن کر بولے: میں گواہی دیتا ہوں کہ تو نے حضور اقدس کے ہاتھ گھوڑا بیچا ہے۔ رسولُ اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم تو موقع پرموجودہی نہیں تھے،پھر تم نے گواہی کیسے دی؟عرض کی: یا رسولَ اللہ ! میں حضور کی تصدیق سے گواہی دے رہاہوں اور ایک روایت میں ہے کہ میں حضور اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے لائے ہوئے دین پر ایمان لایا ہوں اور یقین جانا کہ حضور حق ہی فرمائیں گے، میں آسمان وزمین کی خبروں پر حضور کی تصدیق کرتاہوں توکیا اس اعرابی کے مقابلے میں تصدیق نہ کروں گا ۔اس کے انعام میں پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے ہمیشہ ان کی گواہی دو مَردکی گواہی کے برابر فرمادی اورارشاد فرمایا: ’’خزیمہ جس کسی کے نفع خواہ ضَرر کی گواہی دیں ایک انہیں کی گواہی کافی ہے۔(1)
مسواک فرض کردیتا
حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے فرمایا: وَلَوْلَا اَنِّي اَخَافُ اَنْ اَشُقَّ عَلَى اُمَّتِي لَفَرَضْتُهُ لَهُمْ اگر مجھے اپنی امت کے مشقت میں پڑنے کاخوف نہ ہوتاتومیں ان پر
[1] … ابو داؤد،کتاب الاقضیۃ،باب اذا علم الحاکم صدق الشاہد الواحد۔۔۔الخ،3/431،حدیث:3607 ۔معجم کبیر،4/87،حدیث:3730
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع