30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
پہلے ہی جانور ذبح کرلیتے ہیں ، ایسا ہرگز نہیں کرنا چاہئے کیونکہ شہر والے نے اگر نماز عید سے پہلے قربانی کرلی تو وہ قربانی ہی نہیں ہوگی جبکہ دیہات میں عید کی نماز نہیں ہوتی اس لئے وہاں فجر کے بعد بھی قربانی کرسکتے ہیں۔ حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے دور میں ایک بار ایسا ہی ہوا چنانچہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیارنے نمازِ عید سے پہلے قربانی کرلی تھی ،جب انہیں معلوم ہوا یہ کافی نہیں تو عرض کی: یا رسولَ اللہ ! وہ تو میں کرچکا، اب میرے پاس چھ مہینے کا بکری کا بچہ ہے مگر سال بھر والے سے اچھاہے ۔ ارشاد فرمایا: ’’اِس کی جگہ اُسے کردو اور فرمایا: وَلَنْ تَجْزِىَ جَذَعَةٌ عَنْ اَحَدٍ بَعْدَكَ اورہرگز اتنی عمر کی بکری تمہارے بعد دوسروں کی قربانی میں کافی نہ ہوگی۔(1)
سبحان اللہ! جو ارشاد زبان اقدس سے نکلا وہی شریعت بن گیا ۔نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے صرف ان کے لئے 6مہینے کی بکری کی قربانی جائز قرار دی اور ان کے بعد تاقیامت کسی کے لئے بھی جائز نہیں ۔
قرآنی سورتیں ”حق مہر“بنادیا
رحمت عالم نورمجسم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی بارگاہ میں ایک عورت نے آپ سے نکاح کی خواہش کا اظہار فرمایا،آپ خاموش رہے،حضرت سہل بن سعد نے عرض کی : یا رسو ل اللہ ! اگر آپ اس عورت سے نکاح نہیں فرمانا چاہتے تومجھے موقع دیں، میں نکاح کرلیتا
[1] … بخاری، کتاب العیدین، باب التکبیر الی العید، 1/332،حدیث:968۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع