30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یہ ہوتی ہے کہ انہوں نے دعوت پر نہیں بلایا تھا،سیدھے منہ بات نہیں کی تھی چھوٹی سی بات کو بڑی بات بنادیتے ہیں ،آپ تو نبی کے غلام ہو پھر غلامی کہاں گئی ؟نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم تو جانی دشمنوں کو معاف کردیا کرتے تھے ۔روئے زمین پر فتح مکہ سے بڑی مثال کوئی نہیں ہے ۔
خون کے پیاسوں کو معاف کیا
حضور کے اعلان نبوت فرمانے کے بعد کفار مکہ نے حضور پر طرح طرح کے ظلم وستم کئے،صحابہ کرام کو اذیتیں دیں حالانکہ حضور صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ولادت مکہ مکرمہ میں ہوئی، اور 53 سال تک مکہ میں گزارے اس کے باجود کفار مکہ نے حضور اورآپ کے اصحاب پر دائرہ حیات تنگ کردیا تھا اور مکہ چھوڑنے پر مجبور کردیا تھا ،جب حضور نے غم زدہ حالت میں مکہ چھوڑا تو فرمایا:” اے مکہ کی زمین! خدا کی قسم! تو اللہ پاک کی ساری زمینوں سے زیادہ پیاری اور محبوب جگہ ہے اور اگر مجھے کفار یہاں سے تکالیف دے کر نہ نکالتے تو میں ہرگز تجھ سے نہ نکلتا ۔‘‘(1)
اللہ پاک نے مسلمانوں پر کرم فرمایااور 8سال کے بعد”فتح مکہ“ ہوا،کعبے کی چابیاں مل گئیں،کعبے کی چھت پر اذان دی گئی،خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک کیا گیا ، ہزاروں کا مجمع سرجھکائے کھڑا تھا جن میں ظلم وستم کرنے والے اور حضور کےچچا امیر حمزہ کو شہید کرنے والے،حضور کی شہزادی بی بی زینب کے پیٹ میں نیزہ مارنے والے،حضور کے گلے میں چادر کا پھندا ڈالنے والے،سجدہ کی حالت میں گندگی ڈالنے والے،صحابہ کو تپتی ریت پر لٹانے والے موجود تھے ،آج ان سے بدلہ لینے کا موقع تھا ،جیسا انہوں نے ظلم کیا تھا ان پر
[1] …ترمذی ،کتاب المناقب ، باب فی فضل مکۃ، 5/486، حدیث:3951۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع