30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم اپنا کام اپنے ہاتھوں سے کرناپسند فرماتے تھے جبکہ ہم اپنے ہاتھ سے کام کرنا شان کے لائق ہی نہیں سمجھتے ہیں بلکہ خیال کرتے ہیں کہ کہیں اوقات کم نہ ہوجائے ،یاد رکھئے ہر وہ طاقت ،صلاحیت جس پرا نسان غرور کرتا نظر آتا ہے جیسے میں بڑا حسین وجمیل ہوں تو یاد رکھو حضور سے بڑھ کر کوئی حسین وجمیل نہیں آیا ہے ،کوئی کہے میں باکمال ہوں تو خیال رکھو حضور سے بڑھ کر باکمال کوئی ہوا ہی نہیں ،کوئی دعوی کرے میں بڑا طاقتور ہوں تو حقیقت حال اس سے یکسر مختلف ہے کیونکہ حضور سے بڑھ کر کوئی طاقتور آیا ہی نہیں کوئی اس گھمنڈ میں مبتلا نہ رہے کہ اس کے بڑے بڑے لوگ ساتھی ہیں کیونکہ آپ کے خادم فرشتے ہیں اتنے کمالات کے باوجود حضور عاجزی و انکساری اختیار فرماتے تھے،صحابہ کرام کے ساتھ گھل مل کررہتے تھے،اگر آج کسی کو کوئی دنیاوی عہدہ مل جائے تو غرور تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے یاد رکھئےغرور وتکبر شیطان کے خطرناک ہتھیاروں میں سے ہے ۔
پہلا گناہ اور تکبر
سب سے پہلے نافرمانی کی وجہ تکبر تھا ،شیطان نے یہی کہا تھا ” اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ “ میں ان سے بہتر ہوں ،اس نے تکبر اور حسد کیا اس کے بعد اس کی ساری عبادتیں ،ریاضتیں برباد ہوگئیں اور ہمیشہ کے لئے مردود ہوگیا ،شیطان نےصرف ایک بار ” اَنَا خَیْرٌ مِّنْهُ “ کہاتھا مگر جو ہر روز کہے بلکہ دن میں کئی بار زبان اور انداز سے ظاہر کرے کہ” میں اس سے بہتر ہوں ۔“صرف دولت اور عہدہ ہی تکبر کا سبب نہیں بلکہ علم کی وجہ سے بھی انسان تکبر میں مبتلا ہوجاتا ہے ،وہ خود کو عالم اور دوسروں کو جاہل سمجھنا شروع کردیتا ہے ،حالانکہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع