30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
قبیلوں اور لوگوں کے پاس تشریف لے جاتے ،ایک بار عرب کے مشہور پہلوان رکانہ کے پاس دعوت اسلام دینے گئے ،رکانہ عرب کی پہلوانی میں مشہور تھا گویا وہ اس زمانے کا عرب کا ہیوی ویٹ چیمپئن تھا،اس نے دعوت سننے کے بعد کہا :میں آ پ کو اللہ کا سچا نبی اس وقت مانوں گا جب آپ مجھے کشتی میں پچھاڑ دیں گے، اللہ کے نبی اسلام کی دعوت دینے گئے مگر اس نے عجیب وغریب مطالبہ کردیا ،حضور نے اس کا مقابلہ قبول کرلیا ، جیسے ہی رکانہ نے حضور کی طرف قدم بڑھایا آپ نے اسے اٹھاکر زمین پر پٹخ دیا ،رکانہ ہکا بکا اورحیران و پریشان ہوگیا ،اسے سمجھ ہی نہیں آیا کہ یہ آنا فانا کیسے ہوگیا،اس نے ایک بار پھر مقابلے کے لئے کہا:دوبارہ جیسے قریب ہوا حضور نے پیغمبرانہ قوت سے دوسری بار بھی زمین پر اٹھاکر پھینک دیا ، رکانہ کو داؤ پیج اورہلنے جلنے کی نوبت تک نہیں آنے دی ،رکانہ تیسری بار کہتا ہے عرب کا کوئی پہلوان میری پیٹھ زمین پر نہیں لگا سکا ،ایک بار پھر مقابلہ کیجئے :تیسری بار بھی اٹھاکر زمین پر پھینکا اور دھول چٹادی ۔رکانہ کہتا ہے آپ اللہ پاک کے سچے نبی ہیں اور مسلمان ہوگیا۔(1)
یزید بن رکانہ
عام طور پر پہلوان کا بیٹا بھی پہلوان ہوتا ہے ،رکانہ پہلوان کا بیٹا یزید بن رکانہ بھی مشہور اور عرب کا نامی گرامی پہلوان تھا ،کچھ عرصے بعد وہ 300 بکریاں لے کر آیا اور حضور کی بارگاہ میں عرض کی ،آپ مجھ سے کشتی لڑئیے اورمجھے پچھاڑئیے پھر میں آپ کو طاقتور مانوں گا،حضور نے باپ کو ہرادیا تھا ،پیارے آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مسکرا کر فرمایا:اگر میں نے تمہیں گرادیا تو مجھے کیا دو گے ،یزید نےکہا: 300بکریاں لایا ہوں ،
[1] … شرح الزرقانی علی المواہب ،6/101-102۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع