30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سرور کہوں کہ مالک و مولیٰ کہوں تجھے
باغ خلیل کا گلِ زیبا کہوں تجھے
تیرے تو وصف ”عیبِ تناہی“ سے ہیں بری
حیراں ہوں میرے شاہ میں کیا کیا کہوں تجھے
آقا کے حسن وجمال کی مدح کرتے ہوئے اعلی حضرت لکھتے ہیں
کٓ گیسو ہٰ دَہن یٰ اَبرو آنکھیں عٓ صٓ
کٓہٰیٰعٓصٓ اُن کا ہے چہرہ نور کا
شمع دل مشکاۃ تن سینہ زجاجہ نور کا
تیری صورت کے لئے اترا ہے سورہ نور کا
اعلی حضرت کی شاعری قرآن وحدیث کی روشنی میں ہوتی ہے اور جو عقیدہ صحابہ کرام رکھتے تھے وہی عقائد اعلی حضرت نے اپنی شاعری میں اپنائے ہیں حضرت حسان بن ثابت نے حضور کی شان میں فرمایا :
کَاَ نَّکَ قَدْ خُلِقْتَ کَمَا تَشَآءُ
حضور کو ایسے پیدا فرمایا جیسا آپ چاہتے تھے
اعلی حضرت نے اردو زبان میں حضور کی شان کچھ اس طرح بیان فرمائی :
خدا کی رضا چاہتے ہیں دو عالم خدا چاہتا ہے رضائے محمد
نبی کی مدح سرائی یہ حضور کا حق ہے اسے سعادت سمجھ کر کرنا چاہئے ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع