30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
سلسلہ نبی پاک کے مبارک دور سے جاری ہے ۔حضرت حسان بن ثابت اور حضرت عبد اللہ بن رواحہ یہ وہ صحابہ ہیں جو نبی کریم کے دور میں نعت شریف پڑھا کرتے تھے ،اس زمانے کے لوگ جنگیں تلواروں سے بھی لڑتے تھے اور لفظوں سے بھی مقابلہ کیا کرتے تھے،کبھی کفار حضور کی شان اقدس میں گستاخی کی نیت سے کچھ شعر کہتے ،حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم حضرت عبد اللہ بن رواحہ کو نعت کہنے کا حکم دیتے۔آپ فرماتے ہیں :اے عبد اللہ !تمہارے اشعار کفار کے لئے تیروں کی مانند ہیں ۔(1)
خوش نصیب لوگ
خوش نصیب ہیں وہ لوگ جو دن رات نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی مدح کرتے ہیں مگر کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جن کا سارا دن گزر جاتا ہے مگر حضور کا ذکر نہیں کرتے حالانکہ حضور کی مدح کرنا یہ ہماراحق ہے ، ہماری زبانیں حضور کے ذکر سے تر رہیں ،ہم صبح وشام آپ کا چرچہ کرتے رہیں ۔یہ تو دنیاوی دستور بھی ہے جو جس سے محبت کرتا ہے اس کی تعریفیں کرتا ہے جیسا کہ کوئی اپنے بھائی سے محبت کرتا ہے یا اپنے باس سے محبت کرتا ہے تو بات بات میں اسی کی تعریف کرتا ہے،یا کوئی بھی ٹاپک ہو مگر گھماپھرا کر اس کا ذکر لے آئے گا۔
نبی پاک کے امتیو! اے کاش!ہماری زبانیں بھی ذکر مصطفی سے تر رہیں،پتہ چل جائے کہ یہ نبی کا امتی ہے،وقفے وقفے سے آقا کا ذکر ہو،کوئی بات یا بہانہ ملے اور آقا کی مدح شروع ہوجائے،آقا کی مدح کیجئے اور کسی وسوسہ دلانے والے کے وسوسے میں مت آئیے کیونکہ نبی پاک کی مدح کرنا حضرات صحابہ کرام کا مشغلہ تھا، حضرت حسان بن ثابت
[1] … المواھب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،3/318۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع