30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میں سب سے بڑھ کر بس حضور سے محبت کرنی ہے ،جب کبھی پیارے آقا کی عزت ، عظمت ،ناموس کی بات آئے،پیارے کی آقا کی سنت کی بات ،حضور کے حکم اور اطاعت کی بات ہو تو میرے لئے وہی سب سے پہلے ہوگا باقی سب بعد میں ہوگا کیونکہ حضور کی محبت کے بغیر ایمان مکمل نہیں ہوتا ۔
پانچواں حق:تعظیم رسول
رسول اللہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی تعظیم ،عزت کا حکم اللہ کریم کی طرف سے ہے جیسا کہ قرآن مجید میں رسول پاک کی تعظیم سے متعلق اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّاۤ اَرْسَلْنٰكَ شَاهِدًا وَّ مُبَشِّرًا وَّ نَذِیْرًاۙ(۸) لِّتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ تُعَزِّرُوْهُ وَ تُوَقِّرُوْهُؕ-وَ تُسَبِّحُوْهُ بُكْرَةً وَّ اَصِیْلًا(۹) (پ26،فتح:8-9)
ترجمہ کنزُ العِرفان : بیشک ہم نے تمہیں گواہ اور خوشخبری دینے والااور ڈر سنانے والا بنا کربھیجا۔ تاکہ (اے لوگو!) تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لاؤ اور رسول کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح و شام اللہ کی پاکی بیان کرو۔
نبی پاک کے امتیو!آپ کی تعظیم وتوقیر کا حکم قرآن دے رہا ہے حضور کی ذات ِ مقدسہ میں کمی تو دور کی بات آپ سے نسبت رکھنے والی چیز کی بھی کوئی تحقیر یا بے ادبی کرے تو وہ ایمان سے خارج ہوجاتا ہے ،حضور کی تعظیم وتوقیر کرنا امتی کا حق ہے لہٰذا حضور کی تعظیم کے ساتھ آپ سے نسبت رکھنے والی ہر چیز کی عقیدت اور محبت ہمارے میں دلوں میں ہونی چاہئے ۔بزرگان دین حضور سے نسبت رکھنے والی چیزوں کی کس قدر تعظیم کیا کرتے تھے اس کا اندازہ اس واقعے سے لگائیے:
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع