30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
انہیں جنگ میں سے ایک ہے، مدینہ منورہ سے دور احد کے مقام پر یہ لڑائی لڑی گئی،دوران لڑائی شیطان نے افواہ اڑادی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم شہید ہوگئے، افواہ پھیلتے پھیلتے مدینہ منورہ تک چلی گئی ،ایک صحابیہ رضی اللہ عنہ ا نے جب سنا تو بے قرار ہوگئیں ،مدینہ منورہ سے احد کی جانب دیوانہ وار بھاگنے لگیں ، راستے میں ایک شخص نے بتایا تمہارے والد شہید ہوگئے،صحابیہ نے کہا:مجھے پروا نہیں بس یہ بتاؤ میرے آقا ومولی کیسے ہیں؟بے چین دل کو قرار نہیں آیا ،محبوب کے دیدار کے لئے قدم بڑھتے جارہے ہیں ، راستے میں پھر ایک شخص ملتا ہے ،وہ کہتا ہے ،تمہارا شوہر شہید ہوگیا ،صحابیہ کہتی ہیں :مجھے پروا نہیں ہے ،بس اتنا بتادو جانِ عالم کیسے ہیں ؟دیدار نبی کے بنا بے چینی برقرار ہے ،اُحد کی طرف سفر جاری رکھا ، مزید آگے بڑھنے پر بتایا تمہارا بیٹا بھی شہید ہوگیا۔خاتون نے کہا:مجھے اس کی بھی پروا نہیں مجھے آنکھوں کے نور اور بےچین دلوں کو قرار دینے والی ہستی کے بارے میں بتاؤ وہ کیسے ہیں ؟حضور کے دیدار کے لئے اُحد کے مقام پر آپہنچتی ہیں ،حضور کو زندہ اور صحیح وسلامت دیکھا ،جان میں جان آگئی،بے چین دل کو قرار آگیا،آنکھوں کو ٹھنڈک مل گئی ، صحابیہ کہتی ہیں : کُلُّ مُصِیبَۃٍ بَعدَکَ جَلَلٌ حضور آپ کے ہوتے ہوئے ہر مصیبت ہیچ ہے۔(1)اس پورے واقعے کو شاعر نے ان اشعار میں سمو دیا۔
بڑھ کے اس نے رخ انور کو جو دیکھا تو کہا
تو سلامت ہے تو پھر ہیچ ہیں سب رنج و الم
میں بھی باپ بھی شوہر بھی برادر بھی
اے شہ دیں تیرے ہوتے ہوئے کیا چیز ہیں ہم
[1] … کتاب المغازی للواقدی،1/315۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع