30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
آئے، خاتون جنت بی بی فاطمہ نے افسردگی کی وجہ پوچھی تو مولا علی مشکل کشا رضی اللہ عنہ نے عثمان غنی کی دعوت کا حال سنایا :آج میرے بھائی عثمان نے نبی کریم کی دعوت کی اور ہر قدم کے بدلے ایک غلام آزاد کیا ،کاش!ہم بھی اللہ پاک کے آخری نبی صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی ایسی ہی دعوت کر پاتے۔
دعوت اور ہمارا رویہ
آج ہم بھی دعوتوں میں جاتے ہیں ،دعوت سے واپسی کے بعد ہمارے گھروں میں لڑائی جھگڑا شروع ہوجاتا ہے،جھگڑے کی وجہ کیا ہوتی ہے؟انہوں نے اتنی بڑی دعوت کی تھی ،اتنا شاندار ”ہال“،بینکویٹ“،”ہوٹل“ تھا،اتنے مہنگے اور برانڈڈ کپڑے سلوائے تھے،اتنا زیور دیا ،کھانے میں 70 قسم کی ڈشز تھیں ،دعوت کسی کی ہوئی جھگڑا ہمارے گھر ہورہا ہے کیوں ؟ کیونکہ دعوتوں میں جاتے ہی اسی لئے ہیں کہ چیک کرکے آئیں گے کہ ان کے کپڑے کیسے تھے؟فرنیچر کیسا دیا ؟جہیز میں کیا کیا دیا ؟کھانا کیسا تھا ،کسی کے گھر جائیں تب گھر میں فتنہ وفساد شروع ،ان کے گھر میں ہر 6مہینے بعد نیا کلر ہوتا ہے،ان کے صوفے بھی نئے اور خوبصورت تھے ہمارے گھر میں تو وہی سالوں پرانے صوفے ہیں ،انسان بھی سوچتا ہے کہ میں دعوت پر لے کر گیا تھا یا سامان کی تحقیقات پر لے گیا تھا۔ ہم لوگوں کا مسئلہ یہی ہے کہ کسی کی نعمت دیکھ کر ہم اپنی نعمتوں کو برا سمجھنا شروع کردیتے ہیں۔
ہرحال میں صبر کیجئے
صحابہ کرام نبی کی تعظیم ،عزت ،محبت اور نیکیوں میں مقابلہ کیا کرتے تھے اور ایک دوسرے سے نیکیوں میں آگے نکلنے کی کوشش کیا کرتے تھے،مولاعلی نے گھر آکر یہ نہیں فرمایا:کاش! ہمارے پاس بھی عثمان غنی جتنا بڑا گھر ہوتا ،بہت زیادہ پیسے ہوتے بلکہ انہوں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع