30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بے حد محبت کیا کرتے تھے ۔چنانچہ
عثمان غنی اور تعظیم نبی
ہجرت مدینہ کے 6سال بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے مکہ جانے کا ارادہ فرمایا،آپ کے ساتھ عمرہ ادائیگی کے لئے 1500صحابہ کرام بھی تیار ہوگئے،مسلمانوں کا قافلہ جب حدیبیہ کے مقام پر پہنچا تو کفار مکہ کی جانب سے مسلمانوں کو مکہ آنے سے روک دیا گیا اور پیغام بھجوایا گیا کہ ہم مسلمانوں کو ہرگز ہرگز مکہ میں نہیں آنے دیں گے۔لڑائی کا ماحول بننے لگا ،رسول پاک نے حکمت عملی کا مظاہرہ کیا اور عثمان غنی کو مکہ والوں سے بات چیت کے لئے روانہ کیا۔عثمان غنی مالدار اور مکے کے بڑے تاجر تھے،سب ان کی عزت کیا کرتے تھے۔حضرت عثمان غنی کو مکہ آنے کی اجازت دیدی گئی۔
کفار مکہ نے عثمان غنی سے کہا:مسلمانوں کو ہم مکہ میں نہیں آنے دیں گے،آپ چونکہ یہاں آگئے ،طواف کرنا چاہو تو طواف کرلو ۔عثمان غنی کا اپنے نبی کا کتنا ادب واحترام کرتے تھے؟ ان کی نظر میں حضور کی تعظیم دیکھئے،عثمان غنی نے ارشاد فرمایا:نبی کریم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کے بغیر میں ہرگز عمرہ نہیں کروں گا۔
پیارے اسلامی بھائیو!اس بات کو سمجھئے کہ اگر کوئی احرام باندھ کر عمرہ نہ کرے تو اس پر دم واجب ہوجاتا ہے،ہمارے یہاں جتنی جلدی احرام پہننے کی ہوتی ہے اس سے زیادہ جلدی احرام اتارنے کی ہوتی ہے،بس کسی طرح سے احرام اتر جائے،جلدی سے طواف و سعی کروں ،حلق کرواؤں اوراحرام کی پاپندی سے خود کو آزاد کردوں ۔کفار مکہ عثمان غنی کو رعایت (Offer)دے رہے ہیں،آپ چونکہ مکہ میں آگئے،حالتِ احرام میں ہیں تو بس صرف آپ عمرہ کرلیجئے آپ کے علاوہ نہ کسی مسلمان کو عمرہ کرنے دیں گے اور نہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع