30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا لَا تَقُوْلُوْا رَاعِنَا وَ قُوْلُوا انْظُرْنَا وَ اسْمَعُوْاؕ-وَ لِلْكٰفِرِیْنَ عَذَابٌ اَلِیْمٌ(۱۰۴)
(پ:1،بقرہ:104)
ترجمۂ کنزالعرفان : اے ایمان والو! راعنا نہ کہو اور یوں عرض کرو کہ حضور ہم پر نظر رکھیں اور پہلے ہی سے بغور سنو اور کافروں کے لئے دردناک عذاب ہے۔
قرآن ہمیں انظرنا کہنا سکھا رہا ہے،اسی لئے ہم کہتے ہیں :
یَارَسُوْلَ اللهِ اُنظُرْ حَالَنَا
یَاحَبِیْبَ اللهِ اِسمَعْ قَالَنَا
اِنَّنِـی فِـی بَحْـرِ ھَمِّ مُّغْرَقٌ
خُذْیَدِیْ سَھِّلْ لَّنَا اَشْکَالَنَا
اس آیت کریمہ کے تحت مفتی اہلسنت ، مفتی محمد قاسم عطاری تفسیر صراط الجنان میں فرماتے ہیں :
انبیاء کرام علیہم الصلوۃ والسلام کی تعظیم و توقیر اور ان کی جناب میں ادب کا لحاظ کرنا فرض ہے اور جس کلمہ میں ترکِ ادب کا معمولی سا بھی اندیشہ ہو وہ زبان پر لانا ممنوع ہے۔ایسے الفاظ کے بارے میں حکمِ شرعی یہ ہے کہ جس لفظ کے دو معنی ہوں اچھے اور برے اور لفظ بولنے میں اس برے معنیٰ کی طرف بھی ذہن جاتا ہو تو وہ بھی اللہ تعالیٰ اور حضور اقدس صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کے لئے استعمال نہ کئے جائیں نیز یہ بھی معلوم ہوا کہ حضور پر نور صلی اللہ تعالی علیہ والہ وسلم کی بارگاہ کا ادب ربُّ العالَمین خود سکھاتا ہے اور تعظیم کے متعلق احکام کو خود جاری فرماتا ہے۔ یاد رہے کہ اس آیت میں ا س بات کی طرف اشارہ ہے کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع