30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
نعت خوانی پر وسوسہ نہیں
نبی پاک کی مدح سرائی کرنا ،نعت پڑھنا نئی چیز نہیں ہے اور نہ ہی یہ 100یا 200سال پرانا طریقہ ہے،جب کبھی نعت خوانی یا محفل میلاد کا ذکر ہوتا ہے تو لوگ خود وسوسے کا شکار ہوجاتے ہیں یا پھر دوسروں کو وسوسوں میں مبتلا کرنا شروع کردیتے ہیں کہ نعت خوانی نیا کام ہے، پہلے زمانے میں نہیں ہوتا تھا،ان بیچاروں نے نہ تو نبی پاک صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی سیرت کا مطالعہ کیا اور نہ ہی اسلامی تعلیمات کو سمجھا ہوتا ہے اگر مطالعہ کرتے تو پھر وسوسوں میں نہ آتے۔
علمائے اسلام نے صحابہ کرام کو خصوصیات کے اعتبار سے تقسیم کیا ہے مختلف صحابہ کرام کی مختلف ذمہ داریاں ہوتی تھیں جیسے بعض صحابہ کرام وحی لکھا کرتے تھے انہیں ”کاتبین وحی“ کہا جاتاہے بعض حضور کی حفاظت کرتے تھے انہیں ”محافظ“ کہے سکتے ہیں اور صحابہ کرام کی اسی بزم میں نعت گو اورنعت خواں صحابہ بھی تھےجن کا فرض ”نعت رسول “بیان کرنا تھا ۔
حضور کے زمانے میں جنگ تلوار سے بھی لڑی جاتی تھی اور اشعار کے ذریعے سے بھی مد مقابل کو گھائل کیا جاتا تھا چونکہ انہیں اپنی زبان پر ناز تھا کسی کو بھی لفظوں کے نشتر سے زخمی کردیا کرتے تھے،کفار اور بے ایمان لوگ آقا صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کی شان میں نازیبا کلمات کہتے تو نعت گو صحابہ کرام حضور کی شان میں نعت اور اشعار لکھ کر کفار کو جواب دیتے۔ مشہور صحابی حضرت عبد اللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں نبی پاک کافرمان ہے :”ان کے اشعار کفار کے لئے تیر کا کام کرتے ہیں ۔(1)
[1] … مواہب اللدنیۃ و شرح الزرقانی،باب عمرۃ القضا،3/318۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع