دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Batini Bemarion ki Malomat | باطنی بیماریوں کی معلومات

Mayoosi Ki Tareef Kiya Hai Aur Is Ki Tafseel

book_icon
باطنی بیماریوں کی معلومات
            

(47)…مایوسی

مایوسی کی تعریف:

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت اور اس کےفضل واحسان سے خود کومحروم سمجھنا ’’مایوسی ‘‘ہے۔

آیت مبارکہ:

٭ اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (قُلْ یٰعِبَادِیَ الَّذِیْنَ اَسْرَفُوْا عَلٰۤى اَنْفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوْا مِنْ رَّحْمَةِ اللهِ١ؕ اِنَّ اللهَ یَغْفِرُ الذُّنُوْبَ جَمِیْعًا١ؕ اِنَّهٗ هُوَ الْغَفُوْرُ الرَّحِیْمُ۝۵۳)( پ ۲۴ ، الزمر: ۵۳) ترجمۂ کنز الایمان: ’’تم فرماؤ اے میرے وہ بندو جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ سب گناہ بخش دیتا ہے بیشک وہی بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘ ٭ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: (مَنْ یَّقْنَطُ مِنْ رَّحْمَةِ رَبِّهٖۤ اِلَّا الضَّآلُّوْنَ۝۵۶)( پ ۱۴ ، الحجر: ۵۶) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اپنے ربّ کی رحمت سے کون ناامید ہو مگر وہی جو گمراہ ہوئے۔‘‘ ٭ایک اور مقام پر ارشاد ہوتا ہے: (لَا تَایْـَٔسُوْا مِنْ رَّوْحِ اللهِ١ؕ اِنَّهٗ لَا یَایْـَٔسُ مِنْ رَّوْحِ اللهِ اِلَّا الْقَوْمُ الْكٰفِرُوْنَ۝۸۷) ( پ ۱۳ ، یوسف: ۸۷) ترجمۂ کنزالایمان: ’’ اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہو بیشک اللہ کی رحمت سے ناامید نہیں ہوتے مگر کافر لوگ۔‘‘

حدیث مبارکہ، مایوسی کبیرہ گناہ ہے:

حضور سیِّدُ الْمُبَلِّغِیْن ، رَحْمَۃٌ لِّلْعٰلَمِیْن صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم سے سوال کیا گیا :’’کبیرہ گناہ کون سے ہیں ؟‘‘ تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے ساتھ کسی کو شریک کرنا، اس کی رحمت سے مایوس ہونا اور اس کی خفیہ تدبیر سے بے خوف رہنا اور یہی سب سے بڑا گناہ ہے۔‘‘(1)

مایوسی کاحکم:

اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت سے مایوس ہو کر گناہوں میں مشغول ہوجانا ناجائز وحرام اورکبیرہ گناہ ہے، رحمت الٰہی سے مایوسی بعض صورتوں میں کفر بھی ہے۔ چنانچہ شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ اپنی مایہ ناز تصنیف ’’کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب‘‘ صفحہ ۴۸۳پر فرماتے ہیں : ’’بعض اَوقات مختَلِف آفات، دُنیاوی مُعامَلات یا بیماری کے مُعالَجات و اَخراجا ت وغیرہ کے سلسلے میں آدَمی ہمّت ہار کرما یوس ہو جاتا ہے اِس طرح کی مایوسی کُفر نہیں۔رحمت سے مایوسی کے کفر ہونے کی صورتیں یہ ہیں : اللہ عَزَّوَجَلَّ کو قادِر نہ سمجھے یا اللہ تعالٰی کو عالِم نہ سمجھے یا اللہ تعالٰی کو بخیل سمجھے۔‘‘

حکایت :مایوسی کی سزا:

حضرتِ سیِّدُنا زید بن اسلم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ سے مروی ہےکہ پہلی اُمتوں میں ایک شخص کثرتِ عبادت سے اپنے نفس پر سختی کرتا اور لوگوں کو رحمتِ الٰہی سے مایوس کرتا۔جب اس کا انتقال ہوا تو کسی نے خواب میں دیکھا کہ وہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں حاضر ہے اور عرض کر رہا ہے: ’’اے میرے ربّ عَزَّوَجَلَّ !میرے لئے تیری بارگاہ میں کیا (اجر) ہے؟ ’’تو بارگاہِ خداوندی عَزَّوَجَلَّ سے جواب ملا: ’’آگ۔‘‘ اس نے عرض کی: ’’ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ ! میری عبادت و ریاضت کہاں گئی؟‘‘ ارشاد فرمایا: ’’تودنیا میں لوگوں کو میری رحمت سے مایوس کرتا تھا، آج میں تجھے اپنی رحمت سے مایوس کر دوں گا۔‘‘(2)

مایوسی کے تین اسباب و علاج:

(1)… مایوسی کا پہلا سبب جہالت ہے کہ بندہ اپنی جہالت اور کم علمی کے سبب رحمت الٰہی سے مایوسی جیسے موذی گناہ میں مبتلا ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دنیوی علوم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کرے، قرآن وحدیث کا علم حاصل کرے، جہنم میں لے جانے والے اعمال اوران پر ملنے والے عذابات پر غور وفکر کرے تاکہ اس کے دل میں خوف آخرت پیدا ہو، جنت میں لے جانے والے اعمال اور ان پر ملنے والے عظیم اجروثواب پر نظر رکھے تاکہ اللہ عَزَّوَجَلَّ کی رحمت کاملہ پر اس کا یقین مزید پختہ ہوجائے اور مایوسی اس سے دور بھاگ جائے۔ (2)…مایوسی کا دوسرا سبب بے صبری ہے۔ کسی آزمائش یا مصیبت پر بے صبری کا مظاہرہ کرتے ہوئے واویلا کرنے سے رحمت الٰہی سے مایوسی پیدا ہوتی ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ مصیبتوں پر صبر کرنے کی عادت ڈالے کیوں بے صبر ی کی وجہ سےنکلنے والے کلمات بسا اوقات ’’کفریات‘‘پر مشتمل ہوتے ہیں جو ایمان کو برباد کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ کسی بھی تکلیف یا مصیبت پر بندہ یہ مدنی ذہن بنائے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اس آزمائش میں مبتلا کیا ہے تو میں اس پر بے صبری کا مظاہرہ کرکے اجر وثواب کیوں ضائع کروں ؟ بلکہ میں اس کی رحمت کاملہ پر نظر رکھوں اور اس مصیبت یا پریشانی سے نجات کے لیے اس کی بارگاہ میں التجا کروں۔ (3)… مایوسی کا تیسرا سبب دوسروں کی پر آسائش زندگی پر نظر رکھنا ہے۔جب بندہ کسی کو پرآسائش زندگی پر غور وفکر کرتا ہے تو اسے اپنی زندگی پر سخت تشویش ہوتی ہےیوں بندہ رحمت الٰہی سے مایوس ہوجاتا ہے۔اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ دوسروں پر نظر رکھنے کے بجائے اپنی زندگی پر غور وفکر کرے ، ربّ عَزَّوَجَلَّ کا شکر ادا کرتے ہوئے قناعت اختیار کرے،یہ مدنی ذہن بنائے کہ جس ربّ عَزَّوَجَلَّ نے اسے پرآسائش زندگی عطا فرمائی ہے یقیناً وہ مجھے ویسی ہی زندگی عطا کرنے پر قادر ہے لیکن یہ اس کی مشیت ہے اور میں اس کی مشیت پر راضی ہوں۔ نیز بندہ اس بات پر بھی غور کرے کہ جو شخص دنیا میں جتنی بھی پرآسائش زندگی بسر کرے گا ہوسکتا ہے کل بروز قیامت اسے اتنا ہی سخت حساب وکتاب دینا پڑے، لہٰذا پرآسائش زندگی کی خواہش کرنے کے بجائے سادہ طرز زندگی اپنانے ہی میں عافیت ہے۔ (4)… مایوسی کا چوتھا سبب بری صحبت ہے۔جب بندہ ایسے دنیا دار لوگوں کی صحبت اختیار کرتا ہے جو خود مایوسی کا شکار ہوتے ہیں تو ان کی صحبت کی وجہ سے یہ بھی مایوسی کا شکار ہوجاتا ہے۔ اس کا علاج یہ ہے کہ بندہ سب سے پہلے ایسے لوگوں کی صحبت ترک کرکے نیک پرہیزگار اور متقی لوگوں کی صحبت اختیار کرے، اللہ والوں کے پاس بیٹھے تاکہ مایوسی کے سیاہ بادل چھٹ جائیں اور رحمت الٰہی پر یقین کی بارش نازل ہو۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ تبلیغ قرآن وسنت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوت اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول بھی ایک اچھی صحبت فراہم کرتا ہے۔ ہزاروں لوگ اس مدنی ماحول سے وابستہ ہوئے، گناہوں بھری زندگی کو ترک کیا اور نیکیوں بھری زندگی گزارنے لگے۔ آپ بھی اس مدنی ماحول سے ہردم وابستہ رہیے، اپنے علاقے میں ہونے والے ہفتہ وار سنتوں بھرے اجتماع میں شرکت کیجئے، مدنی انعامات پر عمل کیجئے، جدول کے مطابق مدنی قافلوں میں سفر کیجئے۔ شیخ طریقت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی ضیائی دامت برکاتہم العالیہ کے عطا کردہ اس مدنی مقصد کے تحت زندگی گزاریے کہ ’’مجھے اپنی اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ‘‘اپنی اصلاح کے لیے مدنی انعامات پر عمل اور ساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کے لیے مدنی قافلوں میں سفر کرنا ہے اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے وابستہ ہوکر ہزاروں لوگ گناہوں بھری زندگی سے تائب ہوکر آج نیکیوں بھیر زندگی گزار رہے ہیں ، ترغیب کے لیے ایک مدنی بہار پیش خدمت ہے:

مایوسی کے تین اسباب و علاج:

باب المدینہ( کراچی )کے مقیم ایک نوجوان اسلامی بھائی کے تحریری بیان کا خلاصہ ہے کہ دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستگی سے قبل میں گناہوں بھری زندگی بسرکر رہاتھا۔ہمہ وقت دنیا کی عارضی وفانی لذّات میں مست رہنا اور اپنی زندگی کے قیمتی ایام اللہ عَزَّوَجَلَّ اور اس کے پیارے رسول صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی نافرمانی میں برباد کرنا میرا معمول بن چکا تھا ۔میں یادِ الٰہی سے اس قدر دور تھا کہ نماز پنجگانہ تو کُجا میں جُمعۃ المبارک کی نماز بھی کبھی کبھار ہی پڑھتا تھا۔ فکرِ آخرت سے یکسرغافل، برے دوستوں کی صحبتِ بدکا شکار تھا۔ اسی وجہ سے دن بدن میں گناہوں کی دلدل میں دھنستا ہی چلاجارہا تھا ،نت نئی بے ہودگیاں سیکھ کر اپنے نفس کو تسکین دیتا، ستم بالائے ستم یہ کہ میرے دوست بدکاری بھی کرتے تھے اور متعدد بار مجھے بھی اس گندے کام کی رغبت دلائی گئی مگر اللہ عَزَّوَجَلَّ کے فضل سے بچا رہا۔ الغرض میرے اخلاق وکرادر انتہائی داغ دار ہوچکے تھے، ہروقت شیطانی خیالات کے جال میں پھنسارہتا اور یادِ خدا سے غافل ہوکر میں اپنی قیمتی سانسوں کو بربادیِ آخرت میں ضائع کرتا ، دن مختلف برے کاموں کی نذر ہوجاتا تو رات چوراہوں پر لگی بُرے دوستوں کی مَنڈلیوں میں کٹ جاتی ہمارا روزانہ کا معمول تھاکہ ہم شام ہوتے ہی ایک جگہ جمع ہوجاتے اور ہنسی، مذاق طنز اور دل آزای جیسے بُرے افعال کے ساتھ ساتھ موبائلوں میں موجود فحش وعریانی والی گندی گندی فلمیں دیکھ کر نفس وشیطان کو خوش کرتے ،رات گئے تک یہی سلسلہ رہتا جب گناہ کرکے تھک جاتے اور لوگ خواب خرگوش کے مزے لوٹ رہے ہوتے تو ہماری منڈلی اختتام پذیر ہوتی اور ہم میں سے ہرایک اس حالت میں گھر میں داخل ہوتا کہ ہمارے سروں پر ایک گناہوں کی بھاری بھرکم گٹھڑی ہوتی۔ میرے قلب پر ایک عجب بے سکونی طاری ہوتی، اسی حالت میں غفلت کی چادر اوڑھ کر سوجاتا آنکھ اس وقت کھلتی جب سورج بڑی آب و تاب سے چمک رہا ہوتا تھا یوں سب سے پہلے نماز فجر قضا کرنے کا کبیرہ گناہ میرے نامہ اعمال میں درج ہوتا، نجانے اب تک کتنی نمازیں قضاء کرنے کاوبال سر پر لیے ہوئے تھا مگر مجھے کوئی احساس نہ تھا۔ آخر دنیا میں جتنا بھی جی لوں بالآخرایک دن موت کا جام پینا پڑے گا، اپنے دوست احباب کو چھوڑ کر اندھیری قبر میں اتر نا پڑیگا اور اپنے برے اعمال کی سزا بھگتنی پڑے گی۔ قسمت اچھی تھی جواس پر فتن دور میں مسلمانوں کی قبر وآخرت کی تیاری کا ذہن دینے والی تبلیغ وقران وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اسلامی کا مشکبار مدنی ماحول میسر آگیا۔ مدنی ماحول میں آنے کی سبیل کچھ یوں بنی کہ ایک دن حسب عادت بد گناہوں کے عادی دوست نمادشمنوں کے ساتھ بیٹھا ہواتھا ،دریں اثنا نمازِ مغرب کی اذانیں فضا میں گونجنے لگیں اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کے دربار سے ہر ایک منادی اس پاک ذات کی وحدانیت اور اس کے محبوب کی رسالت کی گواہی دینے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کو فلاح و کامرانی کی دعوت دینے لگا۔ بہت سے مسلمان حکم الٰہی کی بجاآواری کے لیے جانبِ مسجد رواں دواں تھے مگر ہم تمام دوست نمازوں سے یکسر غافل ہوکر اپنی موج مَستی میں گم تھے۔ دَرِیں اَثنا دعوتِ اسلامی کے مدنی ماحول سے وابستہ ایک عاشقِ رسول اسلامی بھائی ہمارے قریب سے گزرتے ہوئے رک گئے اور ہمیں نماز سے غافل دیکھ کر قریب تشریف لائے اور انتہائی محبت بھرے انداز میں سلام کرتے ہوئے کہنے لگے: ’’نماز کا وقت ہوگیا ہے ،آپ بھی نماز ادافرمالیں۔‘‘ نجانے ان کی دعوت میں ایساکیا اثر تھا کہ میں اس قدر متأثر ہواکہ اکیلا ہی ان کے ساتھ جانب مسجد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہونے کے لیے لَرزِیدہ لَرزِیدہ قدموں سے چل دیا، سب دوست یہ دیکھ کر بہت حیران ہوئے مگر انہیں مسجد میں جانے کی توفیق نصیب نہ ہوئی، مسجد میں پہنچ کر میں نے وضو کیااور ان اسلامی بھائی کے ساتھ نماز پڑھنے کے لیے کھڑا ہو گیا، چونکہ مجھے نماز پڑھنا نہیں آتی تھی اس لیے ان کو دیکھ دیکھ کر نماز ادا کرنے لگا ، ایک عرصے کے بعد بارگاہ الٰہی میں سربسجود ہونے کی سعادت ملی تھی، نماز اداکرنے کے بعد اپنے گناہوں سے لتھڑے ہوئے کالے کالے ہاتھ بارگاہ الٰہی میں اٹھا دیے، دنیا وآخرت کی بہتری طلب کی، جب واپس جانے لگاتو میری نظر مسجد میں ایک طرف بیٹھے ہوئے چند عاشقانِ رسول پر پڑی، قریب جاکر دیکھا کہ ایک سنّتوں کے پابند اسلامی بھائی شیخِ طریقت، امیرِ اہلسنّت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علاّمہ مولانا ابوبلال محمد الیاس عطارؔ قادری رَضَوی دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کی مایہ ناز تالیف ’’فیضان سنّت ‘‘سے انتہائی پیارے انداز میں درس دے رہے ہیں اور کئی اسلامی بھائی باادب بیٹھ کر درس سننے میں محو ہیں یہ پیارا منظر دیکھ بہت اچھا لگا اور میں بھی علم دین کے اس گلشن میں کھلنے والے خوشنما پھولوں سے اپنے دل کے گلدستے کو سجانے بیٹھ گیا ،جوں جوں ایک ولیٔ کامل کی عام فہم اور پراثر تحریر سنتا گیا میرے اندر کی کیفیت بدلتی گئی ،دل کی قساوت (سختی) نرمی میں بدلنے لگی اور میں اپنی بداعمالیوں کے بارے میں سوچ کر خوف زدہ ہوگیا ۔ بے ساختہ میری آنکھوں سے آنسوؤں کی برسات شروع ہوگئی جن سے دل کی بنجر زمین سیراب ہونے لگی۔ درس کے اختتام پر مبلغ دعوتِ اسلامی نے بڑے ہی پیارے انداز میں ڈھیروں ڈھیرنیکیاں کمانے کے لیے دعوتِ اسلامی کے ہفتہ وار سنّتوں بھرے اجتماع میں جانے کی ترغیب کچھ ایسے انداز میں دلائی کہ میں نے ہاتھوں ہاتھ جانے کی نیّت کرلی چنانچہ دعا کے بعد میں اجتماع میں جانے کے لیے مسجد ہی میں رک گیا اور دیگر اسلامی بھائی اجتماع میں جانے کی تیاری میں مشغول ہوگئے کوئی گاڑی کے لیے رابطہ کررہا ہے تو کوئی کھانے کی ترکیب بنارہے اور کوئی گھر گھر جاکر اجتماع کی دعوت دیکر لوگوں کو لا رہا ہے توکوئی مدنی قافلے کی عظیم نیّت سے اپنازادِراہ کا بیگ اٹھائے ہوئے ہے یہ عجب منظر دیکھ کر میں بہت حیران ہوا کہ یہ بھی تو میری طرح نوجوان ہیں جنہیں اپنی قبر و آخرت کی اس قدر فکر ہے اور ایک میں ہوں کہ اپنی زندگی گناہوں میں برباد کر رہا ہوں تھوڑی ہی دیر میں تمام عاشقان رسول جمع ہوگئے اور سب گاڑی پر سوار ہونے لگے میں بھی ان کے پیچھے پیچھے سوار ہوگیا ایک اپنائیت بھرا ماحول تھا۔ ہر ایک دوسرے سے نہایت ہی پیارے اندازمیں خیریت دریافت کررہا تھا جب سب اسلامی بھائی گاڑی میں سوار ہوگئے تو گاڑی فیضان مدینہ کی جانب روانہ ہوئی ایک عاشق رسول نے بلند آواز سے صلوۃوسلام اور سفر کی دعا پڑھنا شروع کی ان کے ساتھ دیگر اسلامی بھائی بھی بلند آواز سے پڑھنے لگے۔ تھوڑی دیر بعدگاڑی ایک جگہ رک گئی۔ تمام عاشقانِ رسول اترنے لگے، میں بھی ان کے ساتھ اتر گیا اور ان کے پیچھے پیچھے عالمی مدنی مرکز فیضان مدینہ کی پرکیف فضاؤں میں پہنچ گیا، جونہی میں فیضانِ مدینہ میں داخل ہوا کثیر باعمامہ عاشقانِ رسول کو دیکھ کر بہت اچھا لگا، میں قلبی سکون محسوس کرنے لگا۔ چنانچہ میں بھی ہونے والے پرسوز بیان کی برکتیں سمیٹنے کے لیے عاشقانِ رسول کے قرب میں جابیٹھا اور توجہ سے بیان سننے میں محو ہو گیا۔ بیان کے بعد تمام عاشقانِ رسول یک زبان ہو کر اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی عظمت وکبریائی کی صدائیں بلند کرنے لگے۔ میں بھی ذکرِالٰہی کی لذت سے مالا مال ہونے لگا، پھر دعا کے آداب بیان کئے گئے اور ایک مبلغِ دعوتِ اسلامی نے ایسی پُر سوز دعا کرائی کہ مجمع پر رقت طاری ہوگئی۔ ہر ایک اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ سے رحمت ومغفرت کی بھیک حاصل کرنے کے لیے دست دراز کیے بیٹھا تھا بہت سی آنکھیں خوفِ خدا کے باعث اشک بہارہی تھیں اور فضاء خائفین کے رونے کی آوازوں سے گونج رہی تھی۔ خوفِ خدا میں رونے والے عاشقانِ رسول کی پر سوز صداؤں نے مجھ پر ایسی رقت طاری کی کہ میری حالت بھی غیر ہو گئی، روتے روتے میری ہچکیاں بندھ گئیں ، آنسو تھے کہ تھمنے کا نام نہیں لے رہے تھے۔میں نے زندگی کی بقیہ سانسوں کو غنیمت جانتے ہوئے اپنے سابقہ گناہوں سے سچی توبہ کی اور گناہوں بھری زندگی چھوڑ کر دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول سے رشتہ جوڑنے کا عزمِ مُصَمَّم کرلیا۔اختتامِ دعا پرمیں اپنے آپ کو ہلکا پھلکا محسوس کررہا تھا گویا ایک بہت بھاری وزن میرے دل و دماغ سے اُتر گیا ہو۔ ایک عجب کیف و سرور کی کیفیت مجھ پر طاری تھی، نیکیوں سے محبت میرے دل میں پیدا ہو چکی تھی۔ چنانچہ میں نے اجتماع سے واپسی پر نمازوں کی پابندی شروع کر دی اور نیکی کی دعوت کی بھی دھومیں مچانے لگا۔ میرے اندر برپا ہونے والے مدنی اِنقلاب نے ہر آنکھ کو حیرت میں ڈال دیا تھا لیکن یہ حقیقت تھی کہ میں سُدھرنے کے لئے کمر بستہ ہو چکا تھا اور امیرِ اہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے عطا کردہ مدنی مقصد ’’مجھے اپنی اورساری دنیا کے لوگوں کی اصلاح کی کوشش کرنی ہے ‘‘ کو اپنا نصبُ العَین بنالیا تھا۔ سنّتوں پر عمل کے ساتھ ساتھ دوسروں کو سنّتوں پر عمل کی ترغیب دینے لگا۔ دعوتِ اسلامی کے مشکبار مدنی ماحول کی برکت سے میرے اخلاق و کردار اچھے ہو گئے۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ اب ہر ایک سے اچھے اخلاق سے پیش آنا، بڑوں کا ادب کرنا اور چھوٹوں پر شفقت کرنا میرا معمول بن گیاہے۔ مجھ میں پیدا ہونے والی اس نمایاں تبدیلی کے باعث لوگ دعوتِ اسلامی کو دُعائیں دیتے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ مدنی ماحول اختیار کرنے کی برکت سے معاشرے میں عزّت کی نگاہ سے دیکھا جانے لگا ہوں۔ وہ لوگ جو کل تک حقارت سے دیکھا کرتے تھے اب رشک بھری نظروں سے دیکھنے لگے ہیں۔ اَلْحَمْدُ لِلہِ عَزَّوَجَلَّ تادمِ تحریر علاقائی مشاورت خادم (نگران) ہونے کے ساتھ ساتھ علاقے کی جامع مسجد میں امامت وخطابت کے فرائض سرانجام دے رہا ہوں۔ اللہ عَزَّوَجَلَّ میرے محسن اسلامی بھائی کو خوب خوب برکتیں عطا فرمائے اور مجھے تادمِ مرگ غلامیٔ امیرِاہلسنّت اور مدنی ماحول میں استقامت مرحمت فرمائے۔(3) آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے، دعوت اسلامی کے مدنی ماحول اور اچھی صحبت کی برکت سے کئی گناہوں سے نجات مل گئی۔اگر آپ بھی باطنی گناہوں اور ہلاکت میں ڈالنے والے اعمال سے بچنا چاہتے ہیں تو نیک پرہیزگار لوگوں کی صحبت اختیار کیجئے، اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ ان لوگوں کی صحبت کی برکت سے ایک نہ ایک دن مُہْلِکَات سے نجات مل ہی جائے گی۔ اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّوَجَلَّ یاربِّ مصطفےٰ عَزَّوَجَلَّ ! بطفیل مصطفےٰ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ہماری،ہمارے ماں باپ کی اور ساری اُمّت کی مغفِرت فرما۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ہماری تمام غلَطیاں اور سارے ظاہری وباطنی گناہ مُعاف فرما،نیک عمل کا جذبہ دے،ہمیں پرہیزگار اور ماں باپ کافرما ں بردار بنا۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ !ہمیں اپنا اور اپنے مَدَنی حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کامُخلِص عاشِق بنا۔ہمیں گناہوں کی بیماریوں سے شِفا عطا فرما۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں دعوتِ اسلامی کے مَدَنی ماحول میں استِقامت عطا فرما۔ یااللہ عَزَّوَجَلَّ ! ہمیں زَیرِگنبدِخَضرا جلوۂ محبوب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم میں شہادت،جنَّتُ الْبقیع میں مدفن اور جنَّتُ الفردوس میں اپنے مدنی حبیب صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کا پڑوس نصیب فرما۔ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !مدینے کی خوشبو دار ٹھنڈی ٹھنڈی ہواؤں کا واسِطہ ہماری جائز دُعائیں قبول فرما۔ آمِیْنْ بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِیْنْ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد ماخذ ومراجع قرآن مجید کلامِ الٰہی ۔ ۔ ۔ کتاب مؤلف /مصنف /متوفی مطبوعات کنز الایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی ۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ، کراچی تفسیر طبری ابو جعفرمحمد بن جرير الطبري، متوفی ۳۱۰ھ دار الکتب العلمیہ بیروت ۱۴۲۰ھ تفسیر خازن علاء الدین علی بن محمدبغد ادی، متوفی ۷۴۱ھ المطبعۃ المیمنیہ مصر الدر المنثور امام جلال الدین بن ابو بکر سیوطی شافعی، متوفی ۹۱۱ھ دار الفکر بیروت روح البیان مولی الروم شیخ اسماعیل حقی بروسی، متوفی۱۱۳۷ھ دار احیاء التراث العربی بیروت الصاوی علی الجلالین امام احمد بن محمد صاوی،متوفی۱۲۴۱ھ دار الفکر بیروت ۱۴۲۱ھ روح المعانی ابو فضل شہاب الدین سید محمود آلوسی، متوفی ۱۲۷۰ھ دار احیاء التراث العربی بیروت التفسیرات الاحمدیہ شیخ احمد بن ابی سعید المعروف بملّا جیون جونپوری متوفی۱۱۳۰ ھ پشاور خزائن العرفان صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی نور العرفان حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ پیر بھائی کمپنی کراچی مفردات الفاظ القران امام راغب اصفہانی ،متوفی ۴۲۵ ھ دار القلم، دمشق عجائب القرآن مولانا عبد المصطفےٰ اعظمی، متوفی ۱۴۰۶ھ مکتبۃ المدینہ کراچی مصنف عبد الرزاق امام ابو بکر عبد الرزاق بن ھمام بن نافع صنعانی، متوفی ۲۱۱ھ دار الکتب العلمیہ بیروت مسند احمد ابو عبد اللہ امام احمد بن محمد بن حنبل شیبانی، متوفی ۲۴۱ھ دار الفکر بیروت صحیح البخاری امام ابو عبد اللہ م حمد بن اسماعیل بخا ری ،متوفی ۲۵۶ھ دار الکتب العلمیہ بیروت صحیح مسلم امام ابو حسین مسلم بن حجاج قشیری، متوفی ۲۶۱ھ دار المغنی عرب شریف سنن ابن ماجہ امام ابو عبد اللہ محمد بن یز ید ابن ماجہ، متوفی ۲۷۳ھ دار المعرفہ بیروت سنن ابی داود امام ابو داود سلیمان بن اشعث سجستانی، متوفی ۲۷۵ھ دار احیاء التراث العربی بیروت سنن الترمذی امام ابو عیسیٰ محمد بن عیسیٰ ترمذی، متوفی ۲۷۹ھ دار الفکر بیروت صحیح ابن حبان ابو حاتم محمد بن حبان تميمي الدارمي، متوفى۳۵۴ھ دار الکتب العلمیہ بیروت المعجم الصغیر امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، متوفی ۳۶۰ھ دار الکتب العلمیہ بیروت المعجم الکبیر امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی، متوفی ۳۶۰ھ دار احیاء التراث العربی بیروت المعجم الاوسط امام ابو القاسم سلیمان بن احمد طبرانی ،متوفی ۳۶۰ھ دار الکتب العلمیہ بیروت حلیۃ الاولیاء حافظ ابو نعیم احمد بن عبد اللہ اصفہانی شافعی، متوفی ۴۳۰ھ دار الکتب العلمیہ بیروت شعب الإیمان امام ابو بکر احمد بن حسین بن علی بیہقی، متوفی ۴۵۸ھ دار الکتب العلمیہ بیروت تاریخ ابن عساکر امام علی بن حسن المعروف ابن عساکر، متوفی ۵۷۱ ھ دار الفکر بیروت مجمع الزوائد حافظ نور الدین علی بن ابی بکر ہیتمی، متوفی ۸۰۷ھ دار الفکربیروت الجامع الصغیر امام جلال الدین بن ابو بکر سیوطی شافعی، متوفی ۹۱۱ھ دارالکتب العلمیۃبیروت کنز العمال علامہ علی متقی بن حسام الدین ہندی برہان پوری، متوفی ۹۷۵ھ دار الکتب العلمیہ بیروت عمدۃ القاری امام بدر الدین ابو محمد محمود بن احمد عینی، متوفی ۸۵۵ھ دارالفکربیروت مرقاۃ المفاتیح علامہ ملا علی بن سلطان قاری ،متوفی۱۰۱۴ھ دار الفکر بیروت فیض القدیر علامہ محمد عبد الرء وف مناوی، متوفی۱۰۳۱ھ دار الکتب العلمیہ بیروت مرآۃ المناجیح حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی، متوفی۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنزلاہور اشعۃاللمعات شیخ محقق عبدالحق محدث دہلوی، متوفی ۱۰۵۲ ھ کوئٹہ پاکستان رد المحتار مع الدرا لمختار محمد امین ابن عابدین شامی، متوفی ۱۲۵۲ھ دار المعرفہ بیروت فتاویٰ رضویہ اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان، متوفی ۱۳۴۰ھ رضا فاؤنڈیشن لاہور بہارشریعت مفتی محمد امجد علی اعظمی، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی الموسوعۃ لابن ابی الدنیا عبد اللہ بن محمد بغدادي معروف بابن ابي الدنيا ،متوفی۲۸۱ھ المکتبۃ العصریہ بیروت قوت القلوب شیخ ابوطالب محمدبن علی مکی، متوفی۳۸۶ھـ مرکز اہلسنت ہند ۱۴۲۳ھـ الرسالۃ القشیریۃ امام ابو القاسم عبد الکریم بن ہوازن قشیری، متوفی ۴۶۵ھ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۱۸ھ کشف المحجوب علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش متوفی۵۰۰ھ مرکز الاولیاء لاہور مکاشفۃ القلوب امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ دار الکتب العلمیہ بیروت إحیاء علوم الدین امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ دار صادر بیروت لباب الاحیاء امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ مکتبۃ المدینہ کراچی احیاء العلوم امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ مکتبۃ المدینہ کراچی منھاج العابدین امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ دار الکتب العلمیہ بیروت کیمیائے سعادت امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ انتشارات گنجینہ تہران منہاج العابدین امام ابو حامد محمد بن محمد غزالی، متوفی ۵۰۵ھ مکتبۃ المدینہ کراچی عیون الحکایات امام ابوفرج عبد الرحمن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ مکتبۃ المدینہ کراچی عیون الحکایات امام ابوفرج عبد الرحمن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ دار الکتب العلمیہ بیروت۱۴۲۴ھ تلبیسِ ابلیس امام ابوفرج عبد الرحمن بن علی ابن جوزی، متوفی۵۹۷ھ دارلکتاب العربی بیروت ۱۴۱۳ھ نزھۃ المجالس علامہ عبد الرحمٰن بن عبدالسلام صفوری شافعی،متوفی ۸۹۴ھ دار الکتب العلمیۃ بیروت۱۴۱۹ھ الروض الفائق الشیخ شعیب حریفیش، متوفی ۸۱۰ھ کوئٹہ پاکستان حکایتیں اور نصیحتیں الشیخ شعیب حریفیش، متوفی ۸۱۰ھ مکتبۃ المدینہ کراچی المنبھات امام حافظ احمد بن علی بن حجر عسقلانی، متوفی ۸۵۲ھ پشاورپاکستان شرح الصدور امام جلال الدین بن ابی بکر سیوطی شافعی، متوفی ۹۱۱ھ مرکز اہلسنت برکات رضا ہند تنبیہ المغترین امام عبدالوھاب بن احمد شعرانی، متوفی ۹۷۳ھ دار المعرفہ بیروت۱۴۲۵ھ الزواجر عن اقتراف الکبائر ابو العباس احمد بن محمد بن علي بن حجر هيتمي متوفى۹۷۴ھ دار المعرفہ بیروت جہنم میں لےجانے والے اعمال ابو العباس احمد بن محمد بن علي بن حجر هيتمي متوفى۹۷۴ھ مکتبۃ المدینہ کراچی الحدیقۃ الندیۃ عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی، متوفی۱۱۴۳ھ پشاور پاکستان اِصلاحِ اعمال عبدالغنی بن اسماعیل نابلسی، متو فی۱۱۴۳ھ مکتبۃ المدینہ کراچی تذکر ۃ الاولیاء شیخ فرید الدین عطار ،متوفی۶۰۶/۶۱۶ھ انتشارات گنجینہ تہران اتحاف السادۃ المتقین محمد بن محمد بن عبد الرزّاق معروف بمرتضى بيدي،متوفى۱۲۰۵ھ دارالکتب العلمیۃبیروت التّوبیخ والتّنبیہ امام عبد اللہ بن محمد بن جعفر بن حيان،متوفی۳۶۹ھ مكتبة الفرقان بریقۃ محمودیۃ شرح طریقۃ محمدیہ مولانا ابو سعید الخادمی شرکت صحافیۃ عثمانیہ۱۳۱۶ھ الزہد و قصر العمل الشیخ اسعد محمد سعید الصاغرجی مکتبۃ الغزالی دمشق نیکی کی دعوت امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی جہنم کے خطرات مولانا عبد المصطفےٰ اعظمی، متوفی ۱۴۰۶ھ مکتبۃ المدینہ کراچی آدا ب مرشدکامل المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب) مکتبۃ المدینہ کراچی کتاب التوابین اما م مو فق الدین عبداللہ بن احمدبن قدامہ المقدسی ،متوفی۶۲۰ دارالکتب العلمیۃبیروت ۱۴۰۷ھ بدگمانی المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب) مکتبۃ المدینہ کراچی حرص المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب) مکتبۃ المدینہ کراچی خو فِ خدا المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب) مکتبۃ المدینہ کراچی روض ا لریاحین امام عبد اللہ بن اسعد الیافعی ،متوفی ۷۶۸ھ دار الکتب العلمیہ، بیروت ۱۴۲۱ھ مدارج النبوۃ شیخ عبدالحق محدث دہلوی، متوفی۱۰۵۲ ھ نوریہ رضویہ ، لاہور۱۹۹۷ء تذکرہ محد ث اعظم پاکستان مفتی جلال الدین قادری ضیاء القرآن لاہور۲۰۰۵ء ظلم کا انجام امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی وسائلِ بخشش امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی تعارف امیر اہلسنت المدینۃ العلمیۃ (شعبہ اصلاحی کتب) مکتبۃ المدینہ کراچی بیانات عطاریہ (حصہ دوم) امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی کفریہ کلمات کے بارے میں سوال جواب امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی عاشقان رسول کی 130حکایات امیر اہلسنت بانی دعوت اسلامی مولانا محمد الیاس عطار قادری مکتبۃ المدینہ کراچی بری سنگت کا وبال المدینۃ العلمیۃ (شعبہ مدنی بہاریں) مکتبۃ المدینہ کراچی جنتی زیور مولانا عبد المصطفےٰ اعظمی، متوفی ۱۴۰۶ھ مکتبۃ المدینہ کراچی ملفوظاتِ اعلی حضرت مولانا مصطفےٰ رضاخان، متوفی ۱۴۰۲ھ مکتبۃ المدینہ کراچی ٭٭٭٭٭٭ مجلس المدینۃا لعلمیۃ کے شعبۂ بیانات ورسائل دعوت اسلامی کی طرف سے پیش کردہ چند رسائل نمبرشمار کتاب کا نام کل صفحات 1 احساس ذمہ داری 50 2 فیضان مرشد 46 3 پیارے مرشد 48 4 صدقے کا انعام 63 5 سود اور اس کا علاج 98 6 کامل مرید 48 7 وقف مدینہ 86 8 جنت کی تیاری 134 9 پیر پر اعتراض منع ہے۔ 64 10 صحابی کی انفرادی کوشش 124 11 جامع شرائط پیر 86 12 موت کا تصور 44 13 برائیوں کی ماں 112 14 مقصد حیات 64 15 ہمیں کیا ہوگیا ہے؟ 124 16 مدنی کاموں کی تقسیم 29 17 مدنی کاموں کی تقسیم کے تقاضے 72 18 مدنی مشورے کی اہمیت 32 19 تعارف دعوت اسلامی 56 20 فیصلہ کرنے کے مدنی پھول 56 21 غیر مند شوہر 48 22 جنت کا راستہ 62 ٭٭٭٭٭٭ کب گناہوں سے کنارا میں کروں گا یارب کب گناہوں سے کنارا میں کروں گا یارب! نیک کب اے مرے اللہ بنوں گا یا رب! کب گناہوں کے مرض سے میں شفا پائوں گا کب میں بیمار، مدینے کا بنوں گا یارب! گر ترے پیارے کا جلوہ نہ رہا پیش نظر سختیاں نزع کی کیوں کر میں سہوں گا یارب! نزع کے وقت مجھے جلوۂ محبوب دکھا تیرا کیا جائے گا میں شاد مروں گا یارب! ہائے! معمولی سی گرمی بھی سہی جاتی نہیں گرمی حشر میں پھر کیسے سہوں گا یارب! آج بنتا ہوں معزّز جو کھلے حشر میں عیب آہ! رسوائی کی آفت میں پھنسوں گا یارب! پل صراط آہ! ہے تلوار کی بھی دھار سے تیز کس طرح سے میں اسے پار کروں گا یارب! قبر محبوب کے جلووں سے بسا دے مالک یہ کرم کر دے تو میں شاد رہوں گا یارب! گر تو ناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی ہائے! میں نارجہنّم میں جلوں گا یارب! دردسر ہو یا بخار آئے تڑپ جاتا ہوں میں جہنّم کی سزا کیسے سہوں گا یارب! عفو کر اور سدا کے لئے راضی ہوجا گر کرم کر دے تو جنّت میں رہوں گا یارب! اِذن سے تیرے سر حشر کہیں کاش! حضور ساتھ عطارؔ کو جنّت میں رکھوں گا یارب!
[1]
الزواجر، مقدمۃ فی تعریف الکبیرۃ ، ج۱، ص۲۲۔ [2] مصنف عبدالرزاق،کتاب الجامع ،باب الا قناط ،ج ۱۰،ص۲۶۱،حدیث:۲۰۷۲۸۔ [3] بری سنگت کا وبال، ص۱۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن