30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(23)…غفلت
غفلت کی تعریف:
’’یہاں دینی اُمور میں غفلت مراد ہے یعنی وہ بھول ہے جو انسان پر بیدار مغزی اوراحتیاط کی کمی کے باعث طاری ہوتی ہے۔‘‘(1)
آیت مبارکہ:
اللہ عَزَّوَجَلَّ قرآن پاک میں ارشاد فرماتا ہے: (وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ فِیْ نَفْسِكَ تَضَرُّعًا وَّ خِیْفَةً وَّ دُوْنَ الْجَهْرِ مِنَ الْقَوْلِ بِالْغُدُوِّ وَ الْاٰصَالِ وَ لَا تَكُنْ مِّنَ الْغٰفِلِیْنَ۲۰۵)( پ ۹ ، الاعراف: ۲۰۵) ترجمۂ کنزالایمان: ’’اور اپنے رب کو اپنے دل میں یاد کرو، زاری اور ڈر سے اور بے آواز نکلے زبان سے صبح اور شام اور غافلوں میں نہ ہونا۔‘‘
حدیث مبارکہ، مجھے تم پر غفلت کا خوف ہے:
حضرت سیِّدُنا ابوعبیدہ بن جراح رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ بحرین سے (جزیے کا) مال لے کر واپس لوٹے اور انصارنے آپ کی آمدکی خبرسنی تو سب نے صبح کی نمازحضورنبی کریم،رء وف رحیم صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کے ساتھ اداکی۔ جب آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم فارغ ہوئے توسارے آپ کے سامنے حاضر ہو گئے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے انہیں دیکھ کر تبسم فرمایا اور ارشادفرمایا: ’’میرا خیال ہے کہ آپ لوگوں نے ابو عبیدہ کی آمد کی خبر سن لی ہے کہ وہ کچھ مال لائے ہیں۔‘‘ انہوں نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم ایساہی ہے۔ آپ صَلَّی اللہُ تَعَا لٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشاد فرمایا: ’’خوشخبری سنا دو اور اُس کی امید رکھو جو تمہیں خوش کردے گا، پس اللہ عَزَّوَجَلَّ کی قسم !مجھے تم پر فقر (یعنی غربت) کا خوف نہیں لیکن مجھے ڈر ہے کہ تم پردنیا پھیلا دی جائے گی جیسا کہ تم سے پہلی قوموں پر پھیلائی گئی تھی، پس تم بھی اس دنیا کی خاطر پہلے لوگوں کی طرح باہم مقابلہ کرو گے، اوریہ تمہیں غفلت میں ڈال دے گی جس طرح اس نے پچھلی قوموں کوغافل کردیا۔‘‘(2)
غفلت کے بارے میں تنبیہ:
فرائض وواجبات وسنن موکدہ کی ادائیگی میں غفلت ناجائز وممنوع اور جہنم میں لے جانے والا کام ہے، ہر مسلمان کو اس سے بچنا لازم ہے۔
حکایت، غافل عابد کی غفلت سے توبہ کا انعام:
حضرت سیِّدُنا علی بن حسین رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ فرماتے ہیں کہ ہمارا ایک پڑوسی بہت زیادہ عبادت گزار تھا۔ وہ اس قدر نمازیں پڑھا کرتا تھا کہ بسا اوقات مسلسل قیام کے سبب اس کے پاؤں سوج جاتے ۔خوف خدا میں رونے کے سبب اس کی بینائی کمزور ہوگئی ۔ ایک مرتبہ اس کے گھر والوں اور لوگوں نے مل کر اسے شادی کرنے کا مشورہ دیا۔ یہ سن کر اس نے ایک کنیز خرید لی۔ یہ کنیز نغمہ سرائی کی شوقین تھی لیکن اس عابد کو یہ بات معلوم نہ تھی۔ ایک دن عابد اپنی عبادت گاہ میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ کنیز نے بلند آواز میں گانا شروع کردیا۔ گانے کی آواز سن کر عابد کی نماز میں خلل آگیا، اس نے عبادت میں لگے رہنے کی بہت کوشش کی مگرناکام رہا ۔ کنیز اس سے کہنے لگی: ’’میرے آقا! تمہاری جوانی ڈھلنے کو ہے ، تم نے عین جوانی میں دنیا کی لذتوں کو چھوڑ دیا ، اب تو مجھ سے کچھ فائدہ اٹھا لو۔‘‘ یہ بات سن کر عابد پر غفلت کا پردہ
پڑ گیا اور وہ عبادت چھوڑ کر اس کنیز کے ساتھ مشغول ہوگیا ۔ جب اس عابد کے بھائی کو یہ بات معلوم ہوئی تو اس نے اسے (نیکی کی دعوت پر مشتمل )ایک خط لکھا جس کا مضمون کچھ یوں تھا:
’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے نام سے شروع جو بہت مہربان رحمت والا، یہ خط ایک مشفِق وناصح اور طبیب دوست کی طرف سے اس شخص کی طرف ہے جس سے حلاوتِ ذکر اور تلاوتِ قرآن کی لذت سلب ہو گئی ، جس کے دل سے خشوع اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کا خوف جاتا رہا ۔ مجھے معلوم ہوا ہے کہ تم نے ایک کنیز خریدی ہے جس کے بدلے اپنا ’’حصہ آخرت ‘‘ بیچ دیا ہے ، تم نے کثیر کو قلیل کے بدلے اور قرآن کو نغمات کے بدلے بیچ دیا، میں تمہیں ایسی شے سے ڈراتا ہوں جو لذّات کو توڑنے والی ، شہوتوں کو ختم کرنے والی ہے ، جب وہ آئے گی تو تمہاری زبان گنگ ہوجائے گی، اعضاء کی مضبوطی رخصت ہوجائے گی اور تمہیں کفن پہنایا جائے گا ، تمہارے اہل وعیال اور پڑوسی تم سے وحشت کھائیں گے ،میں تمہیں اس چنگھاڑ سے ڈراتا ہوں جب لوگ بادشاہ جبار عَزَّوَجَلَّ کی ہیبت سے گھٹنوں کے بل گر جائیں گے ، میرے بھائی !میں تمہیں اللہ عَزَّوَجَلَّ کے غضب سے ڈراتا ہوں۔‘‘
پھر یہ خط لپیٹ کر اس عابد کے پاس بھیج دیا ۔ جب عابد کو یہ خط ملا تو وہ رقص وسرور کی محفل میں مشغول تھا ۔ یہ خط پڑھتے ہی اس پر خوف خدا کے سبب کپکپی طاری ہوگئی، اس کے منہ سے جھاگ نکلنے لگی، وہ ساری دنیوی لذت بھول گیا، محفل سے اٹھا اور
شراب کے برتن توڑ ڈالے۔ کنیز کو آزاد کر نے کے بعد قسم اٹھائی کہ ’’ اب نہ تو کچھ کھانا کھاؤں گا اور نہ ہی سوؤں گا۔‘‘ بعدازاں اس کے انتقال کے بعد خط لکھنے والے بھائی نے اسے خواب میں دیکھا اور پوچھا : ’’ مَافَعَلَ اللہُ بِکَ یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے تمہارے ساتھ کیا معاملہ فرمایا ؟‘‘ تو اس عابد نے جواب دیا: ’’ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے مجھے اس کنیز کے بدلے ایک جنتی کنیز (یعنی حور)عطا فرمائی ہے جو مجھے جنت کی پاکیزہ شرا ب یہ کہہ کر پلاتی ہے کہ یہ پاکیزہ شراب اس شراب کے بدلے میں پی لو جو تم نے دنیا میں اپنے ربّ عَزَّوَجَلَّ کی خاطر چھوڑدی تھی ۔‘‘(3)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
[1]مفردات الفاظ القرآن، ص۶۰۹۔
[2] بخاری، کتاب الرقاق، باب مایحذرمن زھرۃ الدنیا ۔۔۔ الخ، ج۴، ص۵۴۰، حدیث:۶۴۲۵۔
[3] 1…کتاب التوابین، ص۲۵۸ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع