30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جواب: واقعی یہ ایک مسئلہ ہے کہ پوشیدہ کی تعریف کیاہے اور کس طرح دینے کو پوشیدہ کہا جائے گا؟ ایک کو بھی پتا نہ چلے شاید نفس کو یہ گوارا نہ ہو کسی نہ کسی کو تو بتا ہی دیتے ہیں مثلاً کہیں گے کہ “ میں نےالیاس کے ہاتھ میں رقم دینی ہے “ اس طرح مجھے تو پتا چلے گا کہ اس نے دو لاکھ روپے دئیے ہیں۔ یا کسی کو بتائیں گے کہ کسی اور کو مَت بتانا کہ میں نے اتنی اتنی رَقم دینی ہے۔ مثال کے طور پر میرے پاس ایک لاکھ روپے کی رقم تحفۃً آئی تو میں اپنے قریبی شخص کو دوں اور اس سے کہہ دوں کہ یہ فیضانِ مدینہ میں دے دو اور میرا نام نہیں بتانالیکن اس صورت میں بھی جس کو دے رہا ہے اس سے پوشیدہ نہیں رہے گا۔ اگر یوں کہا جائے کہ “ یہ رَقم فیضانِ مدینہ کے چندہ بکس میں ڈال دینا یا قافلوں کی مدمیں جمع کروا دینا “ اور اس کو بتایا نہ جائے کہ یہ رقم کس کی طرف سے ہے تو وہ یہ سمجھے گا کہ شاید یہ کسی نے دی ہو گی ، اس طرح حکمتِ عملی سے بھی َرقم چُھپا کر دی جا سکتی ہے۔ یوں ہی خاموشی سے خود ہی چندہ بکس میں رقم ڈالی جاسکتی ہے ۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ کے قریب بیٹھے ہوئے مفتی صاحب نے فرمایا : ) پوشیدہ صَدقہ دینے والی بات عرش کے سائے میں جگہ ملنے والی حدیث میں کی گئی ہے وہ اس طرح ہے کہ سیدھے ہاتھ سے صَدقہ دے تو اُلٹے ہاتھ کو معلوم نہ ہو کہ اس نے کیا خرچ کیا۔ پوشیدہ کا عام طور پر یہی معنیٰ ہوتا ہے کہ کسی بھی دوسرے کو معلوم نہ ہو لیکن اگر کوئی ایسی ضَرورت پیش آئی کہ بتانا پڑےگا اور اس کے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے مثلاً رَقم کسی ایسے شخص تک پہنچانی ہے جس تک یہ خود نہیں پہنچا سکتا تو ایسے شخص کو دے دے جو متعلقہ شخص تک پہنچا دے اور اس کو یہ بتا دے کہ اس کو پتا نہ چلے کہ کس نے دی ہے تو اُمید ہے کہ یہ بھی پوشیدہ صَدقے میں ہی آئےگا۔
(امیرِ اہلِ سُنَّت دَامَتْ بَرَکاتُہُمُ الْعَالِیَہ نے فرمایا : )اِنَّمَا الْاَعْمَالُ بِالنِّیِّات(اَعمال کا دارو مدار نیتوں پر ہے۔ ) ([1]) ظاہر ہے اگر کھڑے ہوکر اِعلان کرتا ہے کہ میں ایک لاکھ روپے پیش کر رہا ہوں اور اس کی رِیاکاری کی نیت نہ ہو تو یہ بھی جائز ہے اگرچہ یہ اعلان پوشیدہ نہیں کہلائے گا مگر اس میں ثواب ملنے کی اُمید موجود ہے۔ اگر اِعلان اس لیے کر رہا ہے کہ یہ خود ایسا شخص ہے جسے دیکھ کر دوسروں کو تَرغیب ملے گی اور وہ بھی کچھ نہ کچھ رَقم راہِ خُدا میں دیں گے اور دِکھاوا مقصود نہیں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع