30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وقت یہاں آجاتے ہیں کیونکہ ہوٹل کا کھانا مہنگا پڑتا ہے۔ اس طرح ہرگز نہ کیا جائے کہ جب آئے ہی ہیں تو شیطان سے بالکل دامن چُھڑا لیں اور یہاں ہی رہیں اِدھر اُدھر جائیں گے تو تھکن ہو جائے گی اور کچھ بھی نہیں سیکھ سکیں گے۔
مزارات پر ملنے والے چھلے اور کڑے پہننا کیسا؟
سُوال:اگر ہم کسی دَربار پر جاتے ہیں جیسے غوث پاک رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہ کے مزار پر یا پاکپتن شریف تو وہاں سے چھلا یا کڑا ملتا ہے جیسا کہ میرے ہاتھ میں انگوٹھی ہے اس کے پہننے کا کیا طریقہ ہے اور ا س کے آداب کیا ہیں اور اس کو پہننے کا مُبارَک دِن کونسا ہے؟ (شوبز سے تعلق رکھنے والے ایک شخص کا سُوال)
جواب:بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ کے مزارات چھلوں اور کڑوں کے لیے نہیں ہوتے بلکہ وہاں جا کر حاضریاں دینے کا مقصد فیض حاصل کرنا اور ان کے نقش قدم پر چلنے کی نیت کرنا ہوتاہے۔ یاد رَکھیے! بزرگانِ دِین رَحْمَۃُ اللہِ عَلَیْہِمْ نے چھلے اور کڑے تقسیم نہیں کیے بلکہ نمازیں پڑھی اور پڑھائی ہیں ، مسلمانوں کو اسلامی زندگی گزارنے کا دَرس دیا ہے۔ فی زمانہ ان مزارات پر طرح طرح کے ملنگ چھلے کڑے لے کر بیٹھ گئے ہیں اور لوگ بے چارے سمجھ رہے ہوتے ہیں کہ ان کا تعلق بھی کسی بزرگ سے ہے حالانکہ یہ اسٹیل کی انگوٹھیاں اور کڑے وغیرہ پہننا مَرد کے لیے ناجائز و گناہ ہے۔ مَرد کے لیے صِرف چاندی کی ایک انگوٹھی جس میں ایک نگ ہو اور اس کی چاندی کا وزن ساڑھے چار ماشہ سے کم ہو وہ پہننا جائز ہے ، اس کے علاوہ کسی بھی دھات کی انگوٹھی مَرد کو پہننا جائز نہیں ہے بلکہ صرف چاندی کا چھلا ہو یعنی اس میں نگ نہ لگا ہو وہ بھی پہننا جائز نہیں ہے۔ ([1])
پوشیدہ صَدقہ کرنے سے کیا مُراد ہے اور اس کا کیا طریقہ ہے؟
سُوال:اگر کوئی شخص کسی دوسرے شخص کی مالی مدد کرتا ہے اور ان دونوں کے علاوہ کسی بھی تیسرے شخص کو اس کا عِلم نہیں ہے تو کیا اس کو پوشیدہ صَدقہ کہا جائے گا یا لینے والے کے بھی عِلم میں لائے بغیر دیا جائے تو پوشیدہ صَدقہ کہلائے گا جیسے کسی نابینا کو رَقم دے دی جائے ؟
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع