30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بنایا جائے ورنہ زکوٰۃ ادا ہی نہیں ہو گی۔ ([1]) ہاں! اگر ایسا سلسلہ ہو کہ انجکشن اس فقیرِ شرعی مریض کو دے کر اس کو مالک بنا دیا جائے پھر وہ خود کہے کہ یہ انجکشن مجھے لگا دو تو یہ جائز ہو گا اور اس طرح زکوٰۃ بھی ادا ہوجائے گی۔ اگر کوئی مستحقِ زکوٰۃ مریض ہسپتال میں ایڈمٹ ہوتا ہے تو اِنتظامیہ اس کے Bed کا کرایہ ، دواؤں کی رَقم اور ڈاکٹر کی فیس وغیرہ زکوٰۃ کے فنڈ سے کاٹ لیتی ہے اور یوں زکوٰۃ کے لیے جمع کی گئی رقم ضائع ہو جاتی ہےحالانکہ اگر یہ لوگ رقم اور دواؤں کو اس فقیرِ شرعی مریض کی ملک کرنے کے بعد اس کی اِجازت سے اِستعمال کرتے تو زکوٰۃ ادا ہوجاتی لیکن ایسا نہیں کیا جاتا تو یوں جس نے یہ رقم جمع کروائی ہوتی ہے اس کی زکوٰۃ ادا ہی نہیں ہورہی ہوتی بلکہ الٹا گناہوں کا اَنبار لگ رہا ہوتا ہے اور اِنتظامیہ کے اَراکین بے چارے یہ سمجھ رہے ہوتے ہی کہ ہم قوم کی خدمت کر رہے ہیں۔ یہ سب عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے راہ نمائی لیے بغیر قدم اُٹھانے کا نتیجہ ہے اور یہ خود کو Risk (خطرے) میں ڈالنے والی بات ہے۔ جو لوگ اس طرح کے کام کر رہے ہوتے ہیں بدقسمتی سے وہ عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللہُ السَّلَام سے رابطہ بھی نہیں رکھتے ، ان بے چاروں کو تو اتنی بھی سمجھ نہیں ہوتی کہ زکوٰۃ کب فرض ہوتی ہے؟کیسے ادا کی جاتی ہے ؟اور اس کا اِستعمال کس طرح ہوتا ہے؟ لہٰذا انہیں چاہیے کہ قدم قدم پر عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے راہ نمائی لیتے ہوئے کام کریں اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ یہ منصب صرف عُلَما ہی کا ہے۔ اِسلام اور شریعت کے مُعاملات میں اپنی عقل اِستعمال کرنے کے بجائے عُلَما کو ہی یہ مُعاملات حل کرنے دئیے جائیں۔
زکوٰۃ کی رَقم کا حیلہ کرنے کا طریقہ
سُوال: زکوٰۃ کی رَقم کا حیلہ کرنے کا طریقہ بیان فرما دیجیے۔ ([2])
جواب:حیلہ کرنا کوئی لمبا چوڑا مسئلہ نہیں ہے ، کسی بھی مستحقِ زکوٰۃ کو یہ رَقم دے کر اس کو مالک بنا دیا جائے اور وہ اپنی مَرضی سے یہ رقم فنڈ میں جمع کروا دے تاکہ آپ اس کے ذَریعے کسی بھی مَریض کا علاج کروا سکیں یا کسی بھی نیک کام میں خرچ کر سکیں۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع