30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بھی تو کالا ہوتا ہےحالانکہ کوئلہ ناپاک نہیں ہوتا اور یوں ہی بندہ بھی کالا ہوتا ہے توکیا وہ ناپاک ہوتا ہے ؟بہارِ شریعت میں صاف لکھا ہوا ہے کہ “ راستے کی کیچڑ پاک ہے جب تک اس کا ناپاک ہونا معلوم نہ ہو۔ “ ([1])جب بارش میں چلتے ہیں تو چپلوں سے چھینٹیں اُڑ کر کپڑوں پر پڑتی ہیں لہٰذا جب تک ان کے ناپاک ہونے کا یقینی علم نہ ہو اس وقت تک یہ پاک ہیں اور ان کپڑوں میں نماز پڑھیں گے تو نماز ہو جائے گی ۔
زکوٰۃ کی رَقم ضائع ہونے سے بچائیے
سُوال:بعض بَرادریوں میں زکوٰۃ فنڈ کا سسٹم رائج ہوتا ہےجس کے باعث بَرادری کے لوگوں کو زور دیا جاتا ہے کہ وہ اپنی زکوٰۃ کی رقم اسی فنڈ میں جمع کروائیں لہٰذا انہیں مجبوراً بَرادری کے فنڈ میں اپنی زکوٰۃ جمع کروانا پڑتی ہے۔ اس رَقم کا اِستعمال کچھ اس طرح ہوتا ہےکہ بَرادری میں کسی بھی شخص کا اِنتقال ہو جائے اگرچہ وہ امیر کبیر ہی کیوں نہ ہو اس کے جنازے وغیرہ کے اِنتظامات میں جو بھی رقم لگے گی وہ اسی زکوٰۃ فنڈ سے دی جاتی ہے حالانکہ وہ اس کا مستحق نہیں ہوتا۔ اس حوالے سے سُوال یہ ہے کہ بیان کردہ صورت میں اس فنڈ کے لیے زکوٰۃ جمع کروانا اور پھر زکوٰۃ کی رقم کا اس طرح اِستعمال کرنا دُرُست ہے یا نہیں؟
جواب:کوئی بھی اِدارہ ہو اس کے لیے مشورہ ہے کہ وہ عُلَمائے کِرام کَثَّرَہُمُ اللہُ السَّلَامسے راہ نمائی حاصِل کر کے ہی کام کرے۔ یہ حقیقت ہے کہ بَرادری سسٹم ، سماجی اِداروں اور ہسپتالوں میں جو زکوٰۃ لی جاتی ہے اس کاMisuse (یعنی غَلَط اِستعمال) ہو رہا ہوتا ہے۔ ہم نے ایک بار بَرادریوں کے ذِمَّہ داران کو جمع کرکے ان کا اجلاس رکھا تھا ، میں نے اجلاس میں ان کے سامنے زکوٰۃ کے حوالے سے یہ بیان کیا کہ بَرادری کے فنڈ وغیرہ میں جمع ہونے والی زکوٰۃ کی رقم کو سب پر بِلا اِمتیاز اِستعمال کرنا دُرُست نہیں ہے لیکن اس کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ اِسی طرح اگر کوئی بیمار آتا ہے تو اس کو اسی رقم سے انجکشن وغیرہ لگوا دیا جاتا ہے یا ڈاکٹر کی فیس ادا کر دی جاتی ہے لیکن یہ انجکشن یا وہ رقم اس کے قبضے میں نہیں دی جاتی اور اس طرح وہ زکوٰۃ کی رقم ضائع ہو جاتی ہے کیونکہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضَروری ہے کہ اس رقم کا کسی مستحقِ زکوٰۃ کو مالک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع