30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
جب کسی بزرگ اور اللہ پاک کے نیک بندوں کی فاتحہ کا کھانا ہو گا تو اسے کہتے ہیں کہ فلاں بزرگ کا عُرس ہے یا فلاں بزرگ کی نیاز ہے حالانکہ وہی فاتحہ کا کھانا ہے اور وہی بَرسی ہے لیکن یہاں زیادہ اِحترام والے اَلفاظ اِستعمال کیے جاتے ہیں۔ اِیصالِ ثواب ہر مسلمان کے لیے کیا جا سکتا ہے مگر ہمارے یہاں رَواج یہی ہے کہ عام مسلمان کے اِیصالِ ثواب کے کھانے کو نیاز نہیں کہا جاتا ۔
سُوال : اگر کوئی دوسروں سے غَلَط اَنداز سے پیش آتا ہے اور وہ اپنی اس عادت سے تنگ بھی ہےتو وہ اپنی اس عادت کو کیسے ختم کرے؟نیز لوگ اسے یہ کہتے ہیں کہ “ تم ہمیشہ بُری بات کرتے ہو “ تو کیا لوگوں کا اُسے اس طرح کہنا اسے اچھا کر دے گا؟(سوشل میڈیا کے ذَریعے سُوال)
جواب:لوگوں کا بُرا بھلا کہنا کبھی اسے اچھا بھی کر سکتا ہے جبھی تو اس کو پتا چلا ہے کہ لوگ مجھ سے تنگ ہیں اس لیے وہ سُدھرنا بھی چاہتا ہے۔ اگر نہیں سُدھر پاتا تو اسے سُدھرنے کی بھرپور کوشش کرنی چاہیے اور جب وہ دِل سے کوشش کرے گا تو سُدھر جائے گا ورنہ خالی کہہ دینے سے کچھ نہیں ہو گا۔ اِس حوالے سے ایک فرضی حکایت بھی ہےچنانچہ ایک شخص کیچڑ میں پھنس گیا تھا اور وہ اس سے نکل نہیں پا رہا تھا ، اتنے میں کوئی دوسرا آدمی آیا اور اس نے پستول (Pistol)نکالا اور کیچڑ میں پھنسے ہوئے شخص پر نشانہ باندھا تو اب وہ ایک دَم بے قرار ہو کر اُچھلا کودا اور کیچڑ سے نکل کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اس شخص نے پستول پھینک دیا اور زور زور سے ہنسا اور بھاگنے والے شخص سے کہنے لگا : میں تمہیں مارنا نہیں چاہتا تھا بلکہ میں نے اس لیے تم پر پستول نکالا کہ تم کیچڑ سے نکلنے کی صحیح کوشش نہیں کر رہے تھے ، اب جب تمہاری جان پر بنی تو تم نے زور لگایا اور کیچڑ سے نکلنے میں کامیاب ہو گئے۔
اسی طرح جو شخص یہ سمجھتا ہے کہ وہ سُدھر نہیں پا رہا تو سمجھ لیجئے کہ اس کی اپنی کوشش ہی کمزور ہے ۔ سمجھانے کے لیے ایک مثال یہ بھی ہو سکتی ہےکہ اگر کسی کو ایک گھنٹے کے لیے قبر میں بند کر دیا جائے اور اس کے لیے آکسیجن کا اِہتمام بھی کر دیا جائے تاکہ وہ مَرنے نہ پائے تو وہ قبر سے باہر نکل کر کان پکڑ لے گا یا واقعی کوئی ایک گھنٹے تک نزع کی سختیاں
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع