30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ان فضاؤں میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں ؟تو یہ اس کے عشق کا ایک اَنداز تھا ۔
امام مالِک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ مدینہ شریف میں سُواری نہ کرتے
حضرتِ سَیِّدُنا امام مالِک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ کے پاس ایک بار خراسان کے عمدہ گھوڑے آئے تو اس وقت ان کے پاس ایک صاحب(حضرتِ سَیِّدُنا امام شافعی رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ )حاضر ہوئے اور بات چیت ہوئی تو آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے فرمایا : سارے گھوڑے تم لے جاؤ ۔ انہوں نے عرض کیا : آپ اپنی سواری کے لیے بھی کچھ گھوڑے رکھ لیجیے ۔ حضرتِ سَیِّدُنا امام مالک رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نے اِرشاد فرمایا : جس زمین نے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کے قدم چومے ہیں میں اس زمین کو گھوڑوں کی ٹاپوں سے روندو ں یعنی میں اس پر گھوڑے دوڑاؤں یہ مجھ سے نہیں ہو سکے گا ۔ ([1])آپ رَحْمَۃُ اللّٰہِ عَلَیْہِ نہ تو مدینہ شریف میں سواری کرتے ([2])اور نہ ہی استنجا کرتے بلکہ اِستنجا کے لیے مدینہ شریف سے باہر تشریف لے جاتے البتہ جب بیمار ہوتے تو مجبوری کی صورت میں باہر نہ جا سکتے تھے ۔ ([3])
بی بی عائشہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْھَا مدینے شریف میں ہتھوڑے نہیں چلانے دیتیں
اُمُّ الْمُؤمِنِیْن حضرتِ سَیِّدَتُنا عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا کسی کو مدینہ شریف میں ہتھوڑے وغیرہ نہیں چلانے دیتی تھیں کہ اس سے سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو تکلیف ہو گی([4]) کیونکہ سرکار صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم حیات ہیں تو اس طرح کے کام مدینہ شریف سے باہر ہوا کرتے تھے ۔ مدینہ شریف سے باہر باقاعدہ ایک مقام تھا کہ لوگ عام طور پر توڑ پھوڑ یا چیزوں کی جو بھی دُرُستی کرنی ہوتی تھی وہاں جا کر کرتے تھے اور مدینہ شریف میں سکون ہوتا تھا ۔
تُرکوں کا دور بھی بڑا پاکیزہ دور تھا کہ انہوں نے مسجدِ نبو ی شریف عَلٰی صَاحِبِھَا الصَّلَا ۃُ وَالسَّلَام کی تعمیرات میں حصہ لیا
[1] احیاء العلوم ، کتاب العلم ، باب ثانی فی العلم المحمود والمذموم واقسامھما واحکامھما ، ۱ / ۴۸-احیاء العلوم(مترجم) ، ۱ / ۱۱۴۔
[2] الشفا ، القسم الثانی ، الباب الاول فرض الایمان به ، فصل ومن اعظامه واکبارہ...الخ ، ۲ / ۵۷۔
[3] بستان المحدثین ، ص۱۹۔
[4] الدرة الثمینة فی اخبار المدینة لابن النجار ملحق شفاء الغرام ، الباب الخامس عشر…الخ ، ۲ / ۴۵۰ ۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع