30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
وکالت کا بیان
انسان کو اللّٰہ تعالیٰ نے مختلف طبائع عطا کیے ہیں کوئی قوی ہے اور کوئی کمزور بعض کم سمجھ ہیں اور بعض عقلمند ہر شخص میں خود ہی اپنے معاملات کو انجام دینے کی قابلیت نہیں نہ ہر شخص اپنے ہاتھ سے اپنے سب کام کرنے کے لیے طیار لہٰذا انسانی حاجت کا یہ تقاضا ہوا کہ وہ دوسروں سے اپنا کام کرائے۔ قرآن مجید نے بھی اس کے جواز کی طرف اشارہ کیا اللّٰہ تعالیٰ نے اصحاب کہف کا قول ذکر فرمایا۔
{ فَابْعَثُوْۤا اَحَدَكُمْ بِوَرِقِكُمْ هٰذِهٖۤ اِلَى الْمَدِيْنَةِ فَلْيَنْظُرْ اَيُّهَاۤ اَزْكٰى طَعَامًا فَلْيَاْتِكُمْ بِرِزْقٍ مِّنْهُ } (6)
1…مرد یاعورت کاشادی ہونے کی گواہی دینے والے۔ 2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الشہادات،باب الرجوع عن الشہادۃ،ج۸،ص۲۸۲۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،الباب الحادی عشرفی المتفرقات،ج۳،ص۵۵۷۔
4…ایسا قریبی رشتہ دار جس سے نکاح کرنا ہمیشہ کے لیے حرام ہو۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الرجوع عن الشہادۃ،الباب الحادی عشرفی المتفرقات،ج۳،ص۵۵۷۔ 6…پ۱۵،الکہف:۱۹۔
’’اپنے میں سے کسی کو یہ چاندی دے کر شہر میں بھیجو وہاں سے حلال کھانا دیکھ کر تمھارے پاس لائے۔‘‘
خود حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے بعض امور میں لوگوں کو وکیل بنایا، حکی م بن حزام رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو قربانی کا جانور خریدنے کے لیے وکیل کیا۔(1) اور بعض صحابہ کو نکاح کا وکیل کیا وغیرہ وغیرہ۔ اور وکالت کے جواز پر اجماع امت بھی منعقد لہٰذا کتاب و سنت و اجماع سے اس کا جواز ثابت۔ وکالت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جو تصرف خود کرتا اُس میں دوسرے کو اپنے قائم مقام کر دینا۔ (2)
مسئلہ ۱: یہ کہہ دیا کہ میں نے تجھے فلاں کام کرنے کا وکیل کیا یا میں یہ چاہتا ہوں کہ تم میری یہ چیز بیچ دو یا میری خوشی یہ ہے کہ تم یہ کام کردو یہ سب صورتیں توکیل کی (3)ہیں ۔ وکیل کا قبول کرنا صحت وکالت کے لیے ضروری نہیں یعنی اُس نے وکیل بنایا اور وکیل نے کچھ نہیں کہا یہ بھی نہیں کہ میں نے قبول کیا اور اُس کام کو کر دیا تو مؤکل پر لازم ہو گا۔ ہاں اگر وکیل نے رد کر دیا تو وکالت نہیں ہوئی فرض کرو ایک شخص نے کہا تھا کہ میری یہ چیز بیچ دو اُس نے انکار کر دیا اس کے بعد پھر بیع کر دی تو یہ بیع مؤکل پر لازم نہ ہوئی کہ یہ اُس کا وکیل نہیں بلکہ فضولی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: زید نے عمرو کو اپنی زوجہ کو طلاق دینے کے لیے وکیل کیا عمرو نے انکار کر دیا اب طلاق نہیں دے سکتا اور اگر خاموش رہا اور اُس کو طلاق دے دی تو طلاق ہو گئی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳: یہ ضروری ہے کہ وہ تصرف جس میں وکیل بناتا ہے معلوم ہواور اگر معلوم نہ ہو تو سب سے کم درجہ کا تصرف یعنی حفاظت کرنا اس کا کام ہو گا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: اس کے لیے شرط یہ ہے کہ توکیل اُسی چیز میں ہو سکتی ہے جس کو مؤکل خود کر سکتا ہو اور اگر کسی خاص وجہ سے مؤکل کا تصرف ممتنع ہو گیا اور اصل میں جائز ہو توکیل درست ہے مثلاً مُحرِم(7)نے شکار بیع کرنے کے لیے غیر محرم کو وکیل کیا۔(8)(درمختار)
1…’’سنن ابی داود‘‘،کتاب البیوع،باب فی المضارب یخالف،الحدیث:۳۳۸۶،ج۳،ص۳۵۰۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۳۔۲۷۶۔ 3…وکیل بنانے کی ۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۰۔ 5…المرجع السابق۔
6…المرجع السابق۔ 7…حج وعمرہ کی نیت سے احرام باندھنے والا مُحرِم کہلاتا ہے۔ 8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۶۔
مسئلہ ۵: مجنون یا لا یعقل بچہ(1)نے وکیل بنایا یہ توکیل مطلقاً صحیح نہیں اور سمجھ وال بچہ نے وکیل کیا اس کی تین صورتیں ہیں ۔ (۱) اُس چیز کا وکیل کیا جس کو خود نہیں کر سکتا ہے مثلاً زوجہ کو طلاق دینا۔ غلام کو آزاد کرنا۔ ہبہ کرنا۔ صدقہ دینا یعنی ایسے تصرفات جن میں ضرر محض ہے ان میں توکیل صحیح نہیں ۔ (۲) اور اگر ایسے تصرفات میں وکیل کیا جو نفع محض ہیں یہ توکیل درست ہے مثلاً ہبہ قبول کرنا۔ صدقہ قبول کرنا۔ (۳) اور ایسے تصرفات میں وکیل کیا جن میں نفع و ضرر دونوں ہوں جیسے بیع و اجارہ وغیرہما اس میں ولی نے اجازت تجارت دی ہو توکیل صحیح ہے ورنہ ولی کی اجازت پر موقوف ہے اجازت دے گا صحیح ہو گی ورنہ باطل۔ (2) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۶: مرتد نے کسی کو وکیل کیا یہ توکیل موقوف ہے اگر مسلمان ہو گیا نافذ ہے اوراگر قتل کیا گیا یا مر گیا یا دارالحرب میں چلا گیا توکیل باطل ہے اور اگر دارالحرب میں چلا گیاتھا پھر مسلمان ہو کر واپس ہوا اور قاضی نے اسکے دارالحرب چلے جانے کا حکم دے دیا تھا وہ توکیل باطل ہو چکی اور قاضی نے ابھی حکم نہیں دیاہے کہ مسلمان ہو کر واپس آگیا توکیل باقی ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷: مرتدہ عورت نے کسی کو وکیل بنایا یہ توکیل جائز ہے۔ وکیل بنانے کے بعد معاذاللّٰہمرتدہ ہو گئی یہ توکیل بدستور باقی ہے ہاں اگر مرتدہ عورت اپنے نکاح کا وکیل بنائے یہ توکیل باطل ہے اگر زمانۂ ارتدادمیں (4)وکیل نے نکاح کر دیا یہ نکاح بھی باطل اور اگر مسلمان ہونے کے بعد وکیل نے اس کا نکاح کیا یہ نکاح صحیح ہے اور اگر وکیل نے اُس وقت نکاح کیا تھاجب وہ مسلمان تھی پھر معاذاللّٰہمرتدہ ہو گئی پھر مسلمان ہو گئی اب وکیل نے اُس کا نکاح کیا یہ نکاح جائز نہیں ہے کہ توکیل باطل ہو گئی۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۸: کافر کی کافر کے ذمہ شراب باقی ہے اُس نے مسلمان کو تقاضے کے لیے(6)وکیل کیا مسلمان کو ایسی وکالت قبول نہ کرنی چاہیے ۔(7) (عالمگیری)
1…ناسمجھ بچہ ۔ 2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۱،وغیرہ۔
3…المرجع السابق،ص ۵۶۱۔۵۶۲۔ 4…مرتد ہونے کے زمانے میں ۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۲۔
6…مطالبے کے لیے،لینے کے لیے۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً ۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۲۔
مسئلہ ۹: باپ نے نابالغ بچہ کے لیے کسی چیز کے خریدنے یا بیچنے کا کسی کو وکیل کیا یہ توکیل درست ہے باپ کے وصی کا بھی یہی حکم ہے کہ وہ بچے کے لیے چیز خریدنے یا بیچنے کاکسی کو وکیل بنا سکتا ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: توکیل کے لیے وکیل کا عاقل ہونا شرط ہے یعنی مجنون یا اتنا چھوٹا بچہ جو لا یعقل ہو وکیل نہیں ہو سکتا بلوغ اور حریت(2) اس کے لیے شرط نہیں یعنی نابالغ سمجھ وال کواور غلام محجور(3) کو بھی وکیل بنا سکتے ہیں ۔ وکیل نے بھنگ پی لی کہ عقل میں فتور (4)پیدا ہو گیا وہ اپنی وکالت پر نہ رہا یعنی اس حالت میں جو تصرف کرے گا وہ مؤکل پر نافذ نہیں ہو گا۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل کو علم ہو جانا صحت توکیل کے لیے شرط نہیں فرض کرو اُس نے کسی کو وکیل کر دیا ہے اور اُس وقت وکیل کو خبر نہ ہوئی بعد کو وکیل نے معلوم کیا اور تصرف کیا یہ تصرف جائز ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: وکیل بنانے کے لیے وکیل کو علم ہو جانا اگرچہ شرط نہیں ہے مگر وہ وکیل اُس وقت ہو گا جب اُسے علم ہو جائے لہٰذا اگر غلام بیچنے یا زوجہ کو طلاق دینے کا وکیل کیا اور وکیل کو ابھی علم نہیں ہوا ہے بطور خود اُس وکیل نے غلام کو بیچ دیا یا اُس کی بی بی کو طلاق دے دی نہ بیع جائز ہوئی نہ طلاق۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: حقوق دو قسم ہیں حقوق العبد،حقوقاللّٰہ۔
حقوق اللّٰہدو قسم ہیں ۔ اُس میں دعویٰ شرط ہے یا نہیں ۔ جن حقوق اللّٰہمیں دعویٰ شرط ہے جیسے حد قذف، حد سرقہ ان کے اثبات کے لیے توکیل صحیح ہے۔ موکل موجود ہو یا غائب وکیل اس کا ثبوت پیش کر سکتا ہے اور ان کا استیفا یعنی قذف میں درّے لگانا یا چوری میں ہاتھ کاٹنا اس کے لیے موکل کی موجودگی ضروری ہے۔ اور جن حقوق اللّٰہمیں دعوٰے شرط نہیں جیسے حد زنا، حد شرب خمر(8)ان کے اثبات یا استیفا کسی میں توکیل جائز نہیں ۔
حقوق العباد بھی دو قسم ہیں شبہہ سے ساقط ہو تے ہیں یا نہیں ۔ اگر ساقط ہو جائیں جیسے قصاص اسکے اثبات کی توکیل صحیح
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۲۔ 2…آزادی یعنی غلام نہ ہونا۔
3…ایسا غلام جسے آقا نے تجارت کر نے سے روک دیا ہو۔ 4…نقص ،خرابی ،خلل۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۱۔
6…المرجع السابق،ص۵۶۳۔ 7…المرجع السابق۔ 8…شراب پینے کی سزا۔
ہے اور استیفا کی توکیل یعنی قصاص جاری کرنے کا وکیل بنانا یہ اگر موکل یعنی ولی کی موجودگی میں ہو تو درست ہے ورنہ نہیں ۔ اور حقوق العبد جو شبہہ سے ساقط نہیں ہوتے ان سب میں وکیل بالخصومۃ(1)بنانا درست ہے وہ حق از قبیل دَین ہو(2)یاعین(3)۔ تعزیر کے اثبات اور استیفا دونوں کے لیے وکیل بنانا جائز ہے موکل موجود ہو یا غائب۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: مباحات میں وکیل بنانا جائز نہیں جیسے جنگل کی لکڑی کاٹنا، گھاس کاٹنا، دریا یا کوئیں سے پانی بھرنا، جانور کا شکار کرنا، کان سے جواہر نکالنا جوکچھ ان سب میں حاصل ہو گا وہ سب وکیل کا ہے موکل اُس میں سے کسی شے کا حقدار نہیں۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: وکیل بالخصومۃ میں خصم(6) کا راضی ہونا شرط ہے یعنی بغیر اُس کی رضامندی کے وکالت لازم نہیں اگر وہ رد کر دے گا تو وکالت رد ہو جائے گی خصم یہ کہہ سکتا ہے کہ وہ خود حاضر ہو کر جواب دے۔ خصم مدعی (7)ہو یا مدعی علیہ(8) دونوں کا ایک حکم ہے اور اگر موکل بیمار ہو کہ پیدل کچہری نہ جا سکتا ہو یا سواری پر جانے میں مرض کا اضافہ ہو جاتا ہو یا موکل سفر میں ہو یا سفر کا ارادہ رکھتا ہو یا عورت پردہ نشین ہو یا عورت حیض و نفاس والی ہو اور حاکم مسجد میں اجلاس کرتا ہو یا کسی دوسرے حاکم نے اُسے قید کر دیا ہویا اپنا دعویٰ اچھی طرح بیان نہ کر سکتا ہو ان سب نے وکیل کیا تو وکالت بغیر رضا مندی خصم لازم ہو گی۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: مدعی مدعیٰ علیہ میں سے ایک معزز ہے دوسرا کم درجہ کا ہے وہ معزز مقدمہ کی پیروی کے لیے وکیل کرتا ہے یہ عذر نہیں اس کی وجہ سے وکالت لازم نہ ہو گی اُس کا فریق کہہ سکتا ہے کہ وہ خود کچہری میں حاضر ہو کر جواب دہی کرے۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: خصم راضی ہو گیا تھا مگر ابھی دعوے کی سماعت نہیں ہوئی ہے اس رضا مندی کو واپس لے سکتا ہے اور دعوے کی سماعت کے بعد واپس نہیں لے سکتا۔(11) (درمختار)
1… مقدمے کا وکیل ۔ 2…یعنی قرض کی قِسم سے ہو۔ 3…یعنی کوئی مخصوص چیز۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۳۔۵۶۴۔
5…المرجع السابق،ص۵۶۴۔ 6…مدمقابل۔ 7…دعوی کرنے والا۔ 8…جس پر دعویٰ کیا جاتاہے۔
9…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۷۸۔ 10…المرجع السابق،ص۲۷۹۔ 11 …المرجع السابق۔
مسئلہ ۱۸: عقد دو قسم کے ہیں بعض وہ ہیں جن کی اضافت (1)موکل(2) کی طرف کرنا ضروری نہیں خود اپنی طرف بھی اضافت کرے جب بھی موکل ہی کے لیے ہو جیسے بیع اجارہ اور بعض وہ ہیں جن کی اضافت موکل کی طرف کرنا ضروری ہے اگر اپنی طرف اضافت کر دے تو موکل کے لیے نہ ہو بلکہ وکیل ہی کے لیے ہو جیسے نکاح کہ اس میں موکل کا نام لینا ضروری ہے اگر یہ کہہ دے کہ میں نے تجھ سے نکاح کیا تو اسی کا نکاح ہو گا موکل کا نہیں ہو گا۔ قسم اوّل کے حقوق کا تعلق خود وکیل سے ہو گا موکل سے نہیں ہو گا مثلاً بائع کا وکیل ہے تو تسلیم مبیع (3) اور قبض ثمن (4) وکیل کرے گا اور مشتری کاوکیل ہے توثمن دینا اور مبیع لینا اسی کا کام ہے مبیع میں استحقاق ہوا (5) تو مشتری وکیل سے ثمن واپس لے گا وہ بائع سے لے گا اور مشتری کے وکیل نے خریدا ہے تو یہ وکیل ہی بائع سے ثمن واپس لے گا یہ کام موکل یعنی مشتری کا نہیں اور مبیع میں عیب ظاہر ہوا تو اس میں جو کچھ کرنا پڑے خصومت وغیرہ (6)وہ سب وکیل ہی کا کام ہے۔ (7)(ہدایہ)
مسئلہ ۱۹: عقد کی اضافت اگر وکیل نے موکل کی طرف کر دی مثلاً یہ کہا کہ یہ چیز تم سے فلاں شخص نے خریدی اس صورت میں عقد کے حقوق موکل سے متعلق ہوں گے۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۲۰: موکل نے یہ شرط کر دی کہ عقد کے حقوق کا تعلق وکیل سے نہ ہو گا بلکہ مجھ سے ہو گا یہ شرط باطل ہے یعنی باوجود اس شرط کے بھی وکیل ہی سے تعلق ہو گا۔ (9)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: اس صورت میں حقوق کا تعلق اگرچہ وکیل سے ہے مگر مِلک ابتدا ہی سے موکل کے لیے ہوتی ہے یہ نہیں کہ پہلے اُس چیز کا وکیل مالک ہو پھر اُس سے موکل کی طرف منتقل ہو لہٰذا غلام خریدنے کا اسے وکیل کیا تھا اس نے اپنے قریبی رشتہ دار کو جو غلام ہے خریدا آزاد نہیں ہو گا یا باندی(10) خریدنے کو کہا تھا اس نے اپنی زوجہ کو جو باندی ہے خریدا نکاح فاسد نہیں کہ وکیل ان کا مالک ہوا ہی نہیں اور موکل کے ذی رحم محرم کو خریدا آزاد ہو جائے گا اور موکل کی زوجہ کو خریدا نکاح فاسد ہو جائے گا۔(11)(درمختار)
1…نسبت یعنی منسوب کرنا۔ 2…وکیل بنانے والا۔ 3…یعنی فروخت شدہ چیز خریدار کو دینا۔ 4… یعنی خریدار سے چیز کی مقرر کردہ قیمت لینا۔
5…جو چیز بیچی گئی ہے اس میں کسی کا حق ثابت ہوا۔ 6…مقدمہ وغیرہ۔ 7…’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۳،ص۱۳۷۔۱۳۸۔
8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۱۔ 9…المرجع السابق۔ 10…لونڈی۔ 11…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۲۔
مسئلہ ۲۲: جس عقد کی موکل کی طرف اضافت ضروری ہے جیسے نکاح، خلع، دم عمد(1)سے صلح، انکار کے بعد صلح، مال کے بدلے میں آزاد کرنا، کتابت، ہبہ، تصدق(2)، عاریت، امانت رکھنا، رہن(3)، قرض دینا، شرکت، مضاربت کہ اگر ان کو موکل کی طر ف نسبت نہ کرے تو موکل کے لیے نہیں ہوں گے ان میں عقد کے حقوق کا تعلق موکل سے ہو گا وکیل سے نہیں ہوگا۔ وکیل ان عقودمیں (4) سفیر محض ہوتا ہے قاصد کی طرح کہ پیغام پہنچا دیااور کسی بات سے کچھ تعلق نہیں لہٰذا نکاح میں شوہر کے وکیل سے مہر کا مطالبہ نہیں ہو سکتا عورت کے وکیل سے تسلیمِ زوجہ کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(5) (درمختار)
مسئلہ ۲۳: وکیل سے چیز خریدی ہے موکل ثمن کا مطالبہ کرتا ہے مشتری انکار کرسکتا ہے کہہ سکتا ہے کہ میں نے تم سے نہیں خریدی جس سے خریدی اُس کو دام دوں گا مگر مشتری نے موکل کو دے دیا تو دینا صحیح ہے اگرچہ وکیل نے منع کر دیا ہو کہہ دیا ہو کہ مجھی کو دینا موکل کو نہ دینا۔ وکیل کے سامنے موکل کو دے یا اُس کی غیبت(6) میں ثمن ادا ہو جائے گا وکیل دوبارہ مطالبہ نہیں کر سکتا۔(7) (ہدایہ، بحر)
مسئلہ ۲۴: وکیل کے مر جانے کے بعد وصی اس کے قائم مقام ہے موکل قائم مقام نہیں ۔ (8)(بحر)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص نے خریدنے کے لیے دوسرے کو وکیل کیا خریدنے سے پہلے یا بعد میں وکیل کو زر ثمن دے دیا کہ اسے ادا کر کے مبیع لاؤ وکیل نے روپیہ ضائع کر دیا اور وکیل خود تنگدست ہے اپنے پاس سے اس وقت روپیہ نہیں دے سکتا اس صورت میں بائع کو اختیار ہے کہ مبیع کو روک لے اُس پر قبضہ نہ دے جب تک ثمن وصول نہ کر لے مگرمؤکل سے ثمن کا مطالبہ نہیں کر سکتا اور فرض کرو کہ موکل نہ ثمن دیتا ہے نہ مبیع پر قبضہ لیتا ہے تو قاضی ان دونوں کی رضامندی سے چیز کو بیع کر دے گا۔ (9) (بحرالرائق)
1…جان بوجھ کر کسی کو قتل کرنا۔ 2…صدقہ کرنا۔ 3… کسی کے پاس اپنی کوئی چیز گروی رکھنا۔ 4…ان معاملات میں ۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۲۔ 6…عدم موجودگی۔
7…’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۳،ص۱۳۸۔و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸۔
8… ’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸۔ 9…المرجع السابق۔
مسئلہ ۲۶: وکیل بائع سے ایک چیز خریدی اور مشتری کا دَین موکل یا وکیل یا دونوں کے ذمہ ہے چاہتا یہ ہے کہ دام(1)نہ دینا پڑے بقایا میں مجرا کر دیا جائے(2)اگر موکل کے ذمہ دَین ہے تو محض عقد کرنے ہی سے مقاصہ یعنی ادلا بدلا ہو گیا اور اگر وکیل و موکل دونوں کے ذمہ ہے تو موکل کے دَین کے مقابلہ میں مقاصہ ہو گا وکیل کے نہیں اور تنہا وکیل پر دَین ہو تواس سے بھی مقاصہ ہو جائے گا مگر وکیل پر لازم ہو گا کہ اپنے پاس سے موکل کو ثمن ادا کرے۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۲۷: وصی نے کسی کو یتیم کی چیز بیچنے کو کہا وکیل نے بیچ کر دام یتیم کو دے دیے یہ دینا جائز نہیں بلکہ وصی کو دے۔ بیع صرف میں وکیل کیا ہے وکیل نے عقد کیا اور موکل نے عوض پر قبضہ کیا یہ درست نہیں عقد صرف باطل ہو جائے گا کہ اس میں مجلس عقد میں عاقد کا قبضہ ضروری ہے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۲۸: کسی کو اس لیے وکیل کیا کہ وہ فلاں شخص سے یا کسی سے قرض لا دے یہ توکیل صحیح نہیں اور اگر اس لیے وکیل کیا ہے کہ میں نے فلاں سے قرض لیا ہے تو اُس پر قبضہ کر لے یہ توکیل صحیح ہے۔ اور قرض لینے کے لیے قاصد بنانا صحیح ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۲۹: وکیل کو کام کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا ہاں وکیل اس لیے کیا کہ یہ چیز فلاں کو دے دے وکیل کو دینا لازم ہے مثلاً کسی سے کہا یہ کپڑا فلاں شخص کو دے دینا اُس نے منظور کر لیا وہ شخص چلا گیا اس کو دینا لازم ہے۔ غلام آزاد کرنے پر وکیل کیا اورموکل غائب ہو گیا وکیل آزاد کرنے پر مجبور نہیں ۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: وکیل کو یہ اختیار نہیں کہ جس کام کے لیے وکیل بنایا گیا ہے دوسرے کو اُس کا وکیل کر دے ہاں اگر موکل نے اُس کویہ اختیار دیا ہو کہ خود کر دے یا دوسرے سے کرا دے تو وکیل بنا سکتا ہے یا وکیل کے وکیل نے کام کر لیا اُس کو موکل نے جائز کر دیا تو اب درست ہو گیا۔ وکیل سے کہہ دیا جو کچھ تو کرے منظورہے وکیل نے وکیل کر لیا یہ توکیل درست ہے اور یہ وکیل ثانی موکل کا وکیل قرار پائے گا وکیل کا وکیل نہیں یعنی اگر وکیل اوّل مر جائے یا مجنون ہو جائے یا معزول کر دیا جائے تو اس کا اثر وکیل ثانی پر کچھ نہیں اور اگر وکیل اوّل نے ثانی کو معزول کر دیا معزول ہو جائے گا۔ اگر وکیل اوّل نے دوسرے کو وکیل بناتے
1…قیمت۔ 2…کاٹ دیا جائے۔ 3…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۷،ص۲۵۸۔
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،ج۸،ص۲۸۳۔ 5…المرجع السابق۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۶۔
وقت یہ کہہ دیا کہ توجو کرے گا جائز ہے اور اس وکیل دوم نے کسی کو وکیل کیا یہ درست نہیں ۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: وکالت میں تھوڑی سی جہالت مضر نہیں مثلاً کہہ دیا ململ کا تھان(2) خرید دو۔ شروط فاسدہ سے وکالت فاسد نہیں ہوتی۔ اس میں شرط خیار نہیں ہو سکتی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: وکالتِ عقد لازم نہیں وکیل و موکل ہر ایک بغیر دوسرے کی موجودگی کے معزول کر سکتا ہے مگر یہ ضرور ہے کہ موکل اگر وکیل کو معزول کرے تو جب تک وکیل کو خبر نہ ہو معزول نہیں یعنی اس درمیان میں جو تصرف (4) کرلے گا نافذ ہو گاموکل یہ نہیں کہہ سکتا کہ میں معزول کر چکا ہوں ۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: وکیل کے قبضہ میں جو چیز ہوتی ہے وہ بطورِ امانت ہے یعنی ضائع ہو جانے سے ضمان واجب نہیں۔(6)(عالمگیری)
خرید و فروخت میں توکیل کا بیان
مسئلہ ۱: موکل نے یہ کہا کہ جو چیز مناسب سمجھو میرے لیے خرید لو یہ خریداری کی وکالت عامہ ہے جو کچھ بھی خریدے گا موکل انکار نہیں کر سکتا۔ یوہیں اگر یہ کہہ دیا کہ میرے لیے جو کپڑا چاہو خرید لو یہ کپڑے کے متعلق وکالت عامہ ہے۔ دوسری صورت یہ ہے کہ کسی خاص چیز کی خریداری کے لیے وکیل کیا ہو مثلاً یہ گائے یہ بکری یہ گھوڑا خرید دو۔ اس صورت کا حکم یہ ہے کہ وہی معین چیز جس کی خریداری کا وکیل کیاہے خرید سکتا ہے اُس کے سوا دوسری چیز نہیں خرید سکتا۔ تیسری صورت یہ ہے کہ نہ تعمیم ہے نہ تخصیص مثلاً یہ کہہ دیا کہ میرے لیے ایک گائے خرید دو اس کا حکم یہ ہے کہ اگر جہالت تھوڑی سی ہو توکیل درست ہے اور جہالت فاحشہ ہوتوکیل باطل(7)۔ (8)(درمختار وغیرہ)
1…’’الفتاوی الھندیہ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۶۔
2…ایک قسم کے باریک سوتی کپڑے کا تھان۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۷۔ 4…عمل دخل۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الاول فی بیان معنا ھا شرعاً۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۶۷،۶۳۷۔ 6…المرجع السابق۔
7…یعنی وکیل بنانا درست نہیں ۔ 8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۴،وغیرہ۔
مسئلہ ۲: جب خریدنے کا وکیل کیا جائے تو ضرور ہے کہ اُس چیز کی جنس و صفت یا جنس و ثمن بیان کر دیا جائے تاکہ جہالت میں کمی پیدا ہو جائے۔ اگر ایسا لفظ ذکر کیا جس کے نیچے کئی جنسیں شامل ہیں مثلاً کہہ دیا چوپایہ خرید لاؤ یہ توکیل صحیح نہیں اگرچہ ثمن بیان کر دیا گیا ہو کیونکہ اُس ثمن میں مختلف جنسوں کی اشیاء خرید سکتے ہیں اور اگر وہ لفظ ایسا ہے جس کے نیچے کئی نوعیں ہیں (1) تونوع بیان کرے یا ثمن بیان کرے اور نوع یا ثمن بیان کرنے کے بعد وصف یعنی اعلیٰ، اوسط، ادنیٰ بیان کرنا ضرورنہیں ۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: یہ کہا کہ میرے لیے گھوڑا خرید لاؤ یا تنزیب کا تھان(3) خرید لاؤ یہ توکیل صحیح ہے اگرچہ ثمن نہ ذکر کیا ہو کہ اس میں بہت کم جہالت ہے اور وکیل اس صورت میں ایسا گھوڑا یا ایسا کپڑا خریدے گا جو موکل کے حال سے مناسب ہو۔ غلام یا مکان خریدنے کو کہا تو ثمن ذکر کرنا ضروری ہے یعنی اس قیمت کا خریدنا یا نوع بیان کر دے مثلاً حبشی غلام ورنہ توکیل صحیح نہیں یہ کہا کہ کپڑا خرید لاؤ یہ توکیل صحیح نہیں اگرچہ ثمن بھی بتا دیا ہو کہ یہ لفظ بہت جنسوں کو شامل ہے۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴: طعام خریدنے کے لیے بھیجا مقدار بیان کر دی یا ثمن دے دیا توعرف کا لحاظ کرتے ہوئے طیار کھانا لیا جائے گا گوشت روٹی وغیرہ۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۵: یہ کہا کہ موتی کا ایک دانہ خرید لاؤ یایا قوت سرخ کا نگینہ خرید لاؤ اور ثمن ذکر کیا توکیل صحیح ہے ورنہ نہیں ۔ (6) (عالمگیری)
مسئلہ ۶: گیہوں وغیرہ غلہ خریدنے کو کہا نہ مقدار ذکر کی کہ اتنے سیر یا اتنے مَن اور نہ ثمن ذکر کیا کہ اتنے کا یہ توکیل صحیح نہیں اور اگر بیان کر دیا ہے تو صحیح ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷: گاؤں کے کسی آدمی نے یہ کہا میرے لیے فلاں کپڑا خرید لو اور ثمن نہیں بتایا وکیل وہ کپڑا خریدے جو گاؤں والے استعمال کرتے ہیں اور ایسا کپڑا خریدنا جو گاؤں والوں کے استعمال میں نہیں آتاہو، ناجائز ہے یعنی موکل اُس کے لینے سے انکار کر سکتا ہے۔(8)(عالمگیری)
1… یعنی کئی قِسمیں ہیں ۔ 2…’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۲،ص۱۳۹۔
3…باریک اور کلف دار سوتی کپڑے کا تھان۔
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۴،وغیرہ۔ 5…المرجع السابق،ص۲۸۵۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴۔ 7…المرجع السابق۔
8…المرجع السابق۔
مسئلہ ۸: دلال(1) کو روپے دیے کہ اس کی میرے لیے چیز خرید دو اور چیز کا نام نہیں لیا اگر وہ کسی خاص چیز کی دلالی کرتا ہو تو وہی چیز مراد ہے ورنہ توکیل فاسد۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۹: توکیل میں موکل(3)نے کوئی قید ذکر کی ہے اُس کا لحاظ ضروری ہے اُس کے خلاف کرے گا تو خریداری کا تعلق موکل سے نہیں ہوگا ہاں اگر موکل کے خلاف کیا اور اُس سے بہتر کیا جس کو موکل نے بتایا تھا تو یہ خریداری موکل پر نافذ ہو گی وکیل سے کہا خدمت کے لیے یا روٹی پکانے کے لیے لونڈی خرید لاؤ یا فلاں کام کے لیے غلام خرید لاؤ کنیز (4)یا غلام ایسا خریدا جس کی آنکھیں نہیں یا ہاتھ پاؤں نہیں یہ خریداری موکل پر نافذ نہیں ہو گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: موکل نے جو جنس متعین کی تھی وکیل نے دوسری جنس سے بیع کی موکل پر نافذ نہیں اگرچہ وہ چیز اُس کی بہ نسبت زیادہ کام کی ہے جس کو موکل نے کہا ہے مثلاً وکیل سے کہا تھا میرا غلام ہزار روپے کو بیچنا اُس نے ہزار اشرفی کو بیع کر دیا اور اگر وصف یا مقدار کے لحاظ سے مخالفت ہے تو دو صورتیں ہیں اس مخالفت میں موکل کا نفع ہے یا نقصان اگر نفع ہے موکل پر نافذ ہے مثلاً اُس نے ایک ہزار روپے میں بیچنے کو کہا تھا اس نے ڈیڑھ ہزار میں بیع کی اور نقصان ہے تو نافذ نہیں مثلاً نو سو میں بیع کی ۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: وکیل نے کوئی چیز خریدی اور اُس میں عیب ظاہر ہوا جب تک وہ چیز وکیل کے پاس ہو اُس کے واپس کرنے کا حق وکیل کو ہے اور اگر وکیل مر گیا تو اُس کے وصی یا وارث کا یہ حق ہے اور یہ نہ ہوں تو یہ حق موکل کے لیے ہے اور اگر وکیل نے وہ چیز موکل کو دیدی تو اب بغیر اجازت موکل وکیل کو پھیرنے کا حق نہیں ہے۔ یہی حکم وکیل بالبیع (7) کا ہے کہ جب تک مبیع کی تسلیم نہیں کی واپسی کا حق اس کوہے۔ وکیل نے عیب پر مطلع ہو کر بیع سے رضا مندی ظاہر کر دی تو اب وہ بیع وکیل پر لازم ہو گئی واپسی کا حق جاتا رہا اورموکل کو اختیار ہے چاہے اس بیع کو قبول کر لے اور انکار کر دے گا تو وکیل کی وہ چیز ہو جائے گی موکل سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ (8)(بحر، درمختار)
1…سودا طے کرانے والا،آڑھتی۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴۔
3…وکیل بنانے والا۔ 4…لونڈی۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثانی فی التوکیل بالشراء،ج۳،ص۵۷۴،۵۷۵۔
6…المرجع السابق،ص۵۷۵۔ 7…فروخت کرنے کاوکیل۔
8…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۲۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۵۔
مسئلہ ۱۲: وکیل بالبیع نے چیز بیع کی مشتری(1) کو مبیع(2)کے عیب پر اطلاع ہوئی اگر مشتری نے ثمن وکیل کو دیا ہے تو وکیل سے واپس لے اور موکل کو دیا ہے تو موکل سے واپس لے اور مشتری نے وکیل کو دیا وکیل نے موکل کو دے دیااس صورت میں بھی وکیل سے واپس لے گا۔(3) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۳: مشتری نے مبیع میں عیب پایا موکل اُس عیب کا اقرارکرتا ہے مگر وکیل منکر ہے مبیع واپس نہیں ہو سکتی کیونکہ عقد کے حقوق وکیل سے متعلق ہیں موکل اجنبی ہے اس کا اقرار کوئی چیز نہیں اورا گر وکیل اقرار کرتا ہے موکل انکار کرتا ہے وکیل پر واپسی ہو جائے گی پھر اگر وہ عیب اس قسم کاہے کہ اتنے دنوں میں کہ موکل کے یہاں سے چیز آئی پیدا نہیں ہو سکتا جب تو چیز موکل پر واپس ہو جائے گی اور اگروہ عیب ایسا ہے کہ اتنے دنوں میں پیدا ہو سکتا ہے تو وکیل کو گواہوں سے ثابت کرناہو گا کہ یہ عیب موکل کے یہاں تھا اور اگر وکیل کے پاس گواہ نہ ہوں تو موکل پر قسم دے گا اگر قسم سے انکار کرے چیز واپس ہو گی اور قسم کھالے تو وکیل پر لازم ہو گی۔(4) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۴: وکیل نے بیع فاسد کے ساتھ چیز خریدی یا بیچی اگر موکل ثمن دے چکا ہے یا مبیع کی تسلیم کر دی ہے اور ثمن وصول کر کے موکل کو دے چکاہے بہرحال وکیل کو بیع فسخ کر دینے کا اختیار(5)ہے اور ثمن موکل سے لیکر بائع کو واپس کر دے کہ یہ فسخ بیع حق موکل کی وجہ سے نہیں ہے کہ اُس سے اجازت لے بلکہ حق شرع کی وجہ سے ہے۔(6) (بحرالرائق)
مسئلہ ۱۵: وکیل کو یہ اختیار ہے کہ جب تک موکل سے ـثمن نہ وصول کر لے چیز اپنے قبضہ میں رکھے موکل کو نہ دے خواہ وکیل نے ثمن اپنے پاس سے بائع کو دے دیا ہو یا نہ دیاہو یہ اُس صورت میں ہے کہ ثمن مؤجل نہ ہو اور اگر ثمن مؤجل ہو یعنی ادا کی کوئی میعاد مقرر ہو تو موکل کے حق میں بھی مؤجل ہو گیا یعنی جب تک میعاد پوری نہ ہو موکل سے مطالبہ نہیں کر سکتا۔ اگر بیع میں ثمن مؤجل نہ تھا بیع کے بعد بائع نے ثمن کے لیے کوئی میعاد مقرر کر دی توموکل پر مؤجل نہ ہو گا یعنی وکیل اسی وقت اُس سے مطالبہ کر سکتا ہے۔(7) (بحرالرائق)
1…خریدار۔ 2…بیچی ہوئی چیز۔
3…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۲۔ 4…المرجع السابق۔
5…سوداختم کرنے کا اختیار۔ 6…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳۔ 7…المرجع السابق۔
مسئلہ ۱۶: وکیل نے ہزار روپے میں چیز خریدی بائع نے وہ ہزار وکیل کو ہبہ کردیے وکیل موکل سے پورے ہزار کا مطالبہ کرے گا اور اگر بائع نے پانسو ہبہ کردیے تو یہ پانسومؤکل سے ساقط ہو گئے بقیہ پانسو کا مطالبہ ہو گا اور اگر پہلے پانسو ہبہ کردیے پھر پانسو ہبہ کئے پہلے پانسو موکل سے ساقط ہو گئے بعد والے پانسو کا وکیل مطالبہ کر سکتا ہے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۱۷: وکیل نے ثمن وصول کرنے کے لیے مبیع کو روک لیا اس کے بعدمبیع ہلاک ہو گئی تو وکیل کا نقصان ہوا موکل سے کچھ نہیں لے سکتا اور رو کی نہیں تھی اور ہلاک ہو گئی تومؤکل کا نقصان ہوا موکل کوثمن دینا ہو گا۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: بیع صرف و سلم میں مجلسِ عقدمیں (3) قبضہ ضروری ہے بدونِ قبضہ(4) جدا ہوجانا عقد کو باطل کر دیتا ہے اس سے مراد وکیل کی جدائی ہے موکل کے جدا ہونے کا اعتبارنہیں فرض کرومؤکل بھی وہاں موجود تھا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے موکل چلا گیا عقد باطل نہ ہوا اور وکیل چلا گیا باطل ہو گیا اگرچہ موکل موجود ہو۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۱۹: وکیل بالشرا (6) کوموکل نے روپے دیدیے تھے اُس نے چیز خریدی اور دام نہیں دیے وہ چیز موکل کو دے دی اور موکل کے روپے خرچ کر ڈالے اور بائع کو روپے اپنے پاس سے دیدیے یہ خریداری موکل ہی کے حق میں ہو گی اور اگردوسرے روپے سے چیز خریدی مگر ادا کیے موکل کے روپے، تو خریداری وکیل کے حق میں ہو گی موکل کے لیے ضمان دینا ہو گا۔ (7)(بحر)
مسئلہ ۲۰: وکیل بالشراء نے موکل سے ثمن نہیں لیا ہے تو یہ نہیں کہہ سکتا کہ موکل سے ملے گا تب دوں گا اُسے اپنے پاس سے دینا ہو گا اور وکیل بالبیع نے چیز بیچ ڈالی اور ابھی دام نہیں ملے ہیں تو موکل سے کہہ سکتا ہے کہ مشتری دے گا تو دوں گا اُس کو اِس پرمجبور نہیں کیا جا سکتا کہ اپنے پاس سے دیدے۔ (8)(بحرالرائق)
مسئلہ ۲۱: وکیل بالبیع (9) نے موکل سے کہا کہ میں نے تمھارا کپڑا فلاں کے ہاتھ بیچ ڈالا میں اُس کی طرف سے تمھیں اپنے پاس سے دام دے دیتا ہوں تو متبرع (10) ہے مشتری سے نہیں لے سکتا اور اگر یہ کہا کہ میں تمھیں اپنے پاس سے دام دے دیتا
1…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۶۔
3…یعنی جہاں خریدوفروخت ہووہیں ۔ 4…قبضہ کے بغیر۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۷۔ 6…چیزخریدنے کا وکیل۔
7…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۳۔ 8…المرجع السابق۔
9…کسی چیزکوفروخت کرنے کا وکیل۔ 10…احسان،بھلائی کرنے والا۔
ہوں مشتری کے ذمہ جو دام ہیں وہ میں لے لوں گا اس طرح دینا جائز نہیں جو کچھ موکل کو دیا اُس سے واپس لے۔(1) (بحر)
مسئلہ ۲۲: آڑھتی (2)کے پاس لوگ اپنے مال رکھ دیتے ہیں اور بیچنے کو کہہ دیتے ہیں اُس نے چیز بیع کی اور اپنے پاس سے دام دے دیے کہ مشتری سے ملیں گے تو میں لے لوں گا مشتری مفلس ہو گیا اُس سے ملنے کی اُمید نہیں تو جو کچھ آڑھتی نے مال والوں کو دیا ہے اُن سے واپس لے سکتا ہے۔ (3)(بحر)
مسئلہ ۲۳: موکل نے وکیل کو ہزار روپے چیز خریدنے کے لیے دیے اُس نے چیز خریدی مگر ابھی بائع کو ثمن ادا نہیں کیا اور وہ روپے ضائع ہو گئے تو موکل کے ضائع ہوئے یعنی اُس کو دوبارہ دینا ہو گا اور اگرمؤکل نے پہلے روپے نہیں دیے ہیں وکیل کے خریدنے کے بعد دیے اور بائع کو ابھی دیے نہیں روپے ضائع ہو گئے تو وکیل کے ہلاک ہوئے اور اگر پہلے دے دیے تھے اور وکیل نے بائع کو نہیں دیے اور ہلاک ہو گئے تو وکیل موکل سے دوبارہ لے گا اور اس مرتبہ بھی ہلاک ہو گئے تو اب موکل سے نہیں لے سکتا اپنے پاس سے دینا ہو گا۔ (4)(بحر)
مسئلہ ۲۴: غلام خریدنے کے لیے ہزار روپے کسی نے دیے تھے روپے گھر میں رکھ کر بازار گیا اور غلام خرید لایا بائع کو روپیہ دینا چاہتا ہے دیکھتا ہے کہ روپے چوری گئے اور غلام بھی اسی کے گھر مر گیا ایک طرف بائع آیا کہ روپیہ دو، دوسری طرف موکل آتا ہے کہتا ہے غلام لاؤ، اس کا حکم یہ ہے کہ موکل سے ہزار روپے لے کر بائع کو دے اور پہلے کے روپے اورغلام یہ ہلاک ہوئے موکل ان کا کوئی معاوضہ نہیں لے سکتا کہ امانت تھے۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۵: ایک شخص سے کہا کہ ایک روپیہ کا پانچ سیر گوشت لا دو، وہ ایک روپیہ کا دس سیر گوشت لایا اور گوشت بھی وہ ہے جو بازار میں روپیہ کا پانچ سیر ملتا ہے موکل کو صرف پانچ سیر آٹھ آنے میں لینا ضروری ہے اور باقی گوشت وکیل کے ذمہ۔ اور اگر پاؤ آدھ سیر زائد لایا ہے مگر اتنے ہی میں جتنے میں موکل نے بتایا تھا تو یہ زیادتی موکل کے ذمہ لازم ہے اس کے لینے سے انکار نہیں کر سکتا اور اگر گوشت روپیہ کا پانچ سیر والا نہیں ہے بلکہ یہ گوشت روپیہ کا دس سیر بکتا ہے تو اس میں سے موکل کو کچھ لینا ضرورنہیں ۔ یہی حکم ہر وزنی چیز کاہے۔ اور اگر قیمی چیز ہومثلاً یہ کہا کہ پانچ روپے کا ململ (6) کا تھان لاؤ وکیل پانچ روپے میں دو
1…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۴۔
2…دلال یعنی وہ شخص جو کمیشن لیکر لوگوں کا مال بیچتاہے۔
3…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۴۔
4…المرجع السابق۔ 5…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل فی التوکیل بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۵۸۔
6…ایک قسم کا باریک سوتی کپڑا۔
تھان لایا مگر تھان وہی ہے جو بازار میں پانچ کا آتا ہے تو موکل کو لینا لازم نہیں ۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۶: ایک چیز معین کرکے کہا کہ یہ چیز میرے لیے خرید لاؤ مثلاً یہ بکری یہ گائے یہ بھینس تو وکیل کو وہ چیز اپنے لیے یا موکل کے علاوہ کسی دوسرے کے لیے خریدنا جائز نہیں اگر وکیل کی نیت اپنے لیے خریدنے کی ہے یا مونھ سے کہہ دیا کہ اس کو اپنے لیے یا فلاں کے لیے خریدتا ہوں جب بھی وہ چیز موکل ہی کے لیے ہے۔(2) (ہدایہ، بحر)
مسئلہ ۲۷: وکیل مذکور نے موکل کی موجودگی میں چیز اپنے لیے خریدی یعنی صاف طور پر کہہ دیا کہ اپنے لیے خریدتا ہوں یا ثمن جو کچھ اُس نے بتایا تھا اُس کے خلاف دوسری جنس کو ثمن کیا اُس نے روپیہ کہا تھا اس نے اشرفی(3) یا نوٹ سے وہ چیز خریدی یا موکل نے ثمن کی جنس کومعین نہیں کیا تھا اس نے نقود کے علاوہ دوسری چیز کے عوض میں خریدی یا اس نے خود نہیں خریدی بلکہ دوسرے کو خریدنے کے لیے وکیل کیا اور اُس نے اس کی عدم موجودگی میں خریدی ان سب صورتوں میں وکیل کی مِلک ہو گی موکل کی نہیں ہو گی اور اگر وکیل کے وکیل نے وکیل کی موجودگی میں خریدی تو موکل کی ہو گی۔(4) (ہدایہ)
مسئلہ ۲۸: غیر معین چیز خریدنے کے لیے وکیل کیا تو جو کچھ خریدے گا وہ خود وکیل کے لیے ہے مگر دو صورتوں میں موکل کے لیے ہے ایکی ہ کہ خریداری کے وقت اُس نے موکل کے لیے خریدنے کی نیت کی دوسری یہ کہ موکل کے مال سے خریدی یعنی عقد کو وکیل نے مال موکل کی طرف نسبت کیا مثلاً یہ چیز فلاں کے روپے سے خریدتا ہوں ۔(5) (ہدایہ، درمختار)
مسئلہ ۲۹: عقد کو اپنے روپے کی طرف نسبت کیا تو اسی کے لیے ہے اور اگر عقد کو مطلق روپے سے کیا نہ یہ کہا کہ موکل کے روپے سے نہ یہ کہ اپنے روپے سے تو جو نیت ہو۔ اپنے لیے نیت کی تو اپنے لیے موکل کے لیے نیت کی تو موکل کے لئے۔ اور اگر نیتوں میں اختلاف ہے تو یہ دیکھا جائے گا کہ کس کے روپے اُس نے دیے اپنے دیے تو اپنے لیے خریدی ہے موکل کے دیے تو اُس کے لیے خریدی ہے۔ (6)(بحر)
1…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۷۔
2…’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج ۲،ص۱۴۱۔
و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۶۸۔
3…سونے کا سکہ۔ 4…’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۱۔
5…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۸۔
و’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۲۔
6…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،با ب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۷۰ـ۲۷۱۔
مسئلہ ۳۰: وکیل و موکل میں اختلاف ہے وکیل کہتا ہے میں نے تمھارے (موکل کے) لیے خریدی ہے موکل کہتا ہے تم نے اپنے لیے خریدی ہے اس صورت میں موکل کا قول معتبر ہے جبکہ موکل نے روپیہ نہ دیا ہو اور اگر موکل نے روپیہ دے دیا ہو تو وکیل کا قول معتبر ہے۔ (1)(ہدایہ)
مسئلہ ۳۱: معین غلام کی خریداری کا وکیل تھا پھر وکیل و موکل میں اختلاف ہوا اگر غلام زندہ ہے وکیل کا قول معتبر ہے موکل نے دام(2) دیے ہوں یا نہ دیے ہوں ۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۲: خریدار نے کہا یہ چیز میرے ہاتھ زید کے لیے بیچو اُس نے بیچی اس کے بعد خریدار یہ کہتا ہے کہ زید نے مجھے خریدنے کا حکم نہیں کیا تھا مقصود یہ ہے کہ اس کو میں خود لوں زید کو نہ دوں اگر زید لینا چاہتا ہے تو چیز لے لیگا اور خریدار کا انکار لغو و بیکار ہے۔ ہاں اگر زید بھی یہی کہتا ہے کہ میں نے اُسے حکم نہیں دیا تھا تو خریدارلے گا زید کو نہیں ملے گی مگر جب کہ باوجود اس کے کہ زید نے کہہ دیا ہے کہ میں نے اُس سے لینے کو نہیں کہا ہے خریدار نے وہ چیز زید کو دے دی اور زید نے لے لی تو اب زید کی ہو گئی اور یہ تعاطی کے طور پر(4) زید سے بیع ہوئی۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۳۳: دو چیزیں خریدنے کے لیے حکم دیا خواہ دونوں معین ہوں یا غیر معین اورثمن معین نہیں کیا ہے کہ اتنے میں خریدی جائیں وکیل نے ایک خریدی اگر یہ واجبی قیمت (6)میں خریدی ہے یا خفیف سی زیادتی کے ساتھ خریدی کہ اتنی زیادتی کے ساتھ لوگ خرید لیتے ہوں تو یہ بیع موکل کے لیے ہو گی اور اگر بہت زیادہ داموں کے ساتھ خریدی تو موکل کے لیے لینا ضرور نہیں ۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۳۴: دو چیزیں خریدنے کے لیے وکیل کیا اورثمن معین کر دیا ہے مثلاً ہزار روپے میں دونوں خریدو اورفرض کرو کہ دونوں قیمت میں یکساں ہیں وکیل نے ایک کو پانسویا کم میں خریدا تو موکل پر نافذ ہے اور پانسو سے زیادہ میں خریدی اگرچہ تھوڑی ہی زیادتی ہو تو موکل پر نافذ نہیں مگر جب کہ دوسری باقی روپے میں موکل کے مقدمہ دائر کرنے سے پہلے خریدلے مثلاً پہلی ساڑھے
1… ’’الھدایۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۴۱۔۱۴۲۔ 2…روپے۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۹۔
4…ایجاب وقبول کے بغیر صرف لین دین سے۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۹-۲۹۰۔
6…بازار میں کسی چیز کی معین قیمت جس میں کمی بیشی نہیں کی جاتی ۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء ،ج۸،ص۲۹۰۔
پانسو میں خریدی اور دوسری ساڑھے چار سو میں کہ دونوں ایک ہزار میں ہو گئیں اب دونوں موکل پر لازم ہیں ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۳۵: زید کا عمرو پر دَین(2) ہے زید نے عمرو سے کہا کہ تمھارے ذمہ جو میرے روپے ہیں اُن کے بدلے فلاں چیز معین میرے لیے خرید لو یا فلاں سے فلاں چیز خرید لو یعنی چیز معین کر دی ہو یا بائع کو معین کر دیا ہو یہ توکیل صحیح ہے عمرو خرید کر جب وہ روپیہ بائع کو دیدے گا زید کے دَین سے بری الذمہ ہو جائے گا زید نہ تو چیز کے لینے سے انکار کر سکتا ہے نہ اب دَین کا مطالبہ کر سکتا ہے اور اگر نہ چیز کو معین کیا نہ بائع کو معین کیا اور مدیون(3) نے چیز خریدلی اور روپیہ ادا کر دیا تو بریٔ الذمہ نہیں ہوا زید اس سے دَین کا مطالبہ کر سکتاہے اور وہ چیز جو خریدی ہے مدیون کی ہے زید اُس کے لینے سے انکار کر سکتاہے اور فرض کرو ہلاک ہو گئی تومدیون کی ہلاک ہوئی زید سے تعلق نہیں ۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۳۶: دائن(5) نے مدیون سے کہہ دیا کہ میرا روپیہ جو تمھارے ذمہ ہے اُسے خیرات کر دو یہ کہنا صحیح ہے خیرات کر دے گا تو دائن کی طرف سے ہو گا اب دَین کا مطالبہ نہیں کر سکتا۔ یوہیں مالک مکان نے کرایہ دار سے یہ کہا کہ کرایہ جو تمھارے ذمہ ہے اُس سے مکان کی مرمت کرادو اُس نے کرا دی درست ہے کرایہ کا مطالبہ نہیں ہو سکتا۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: ایک چیز ہزار روپے میں خریدنے کو کہا تھا اور روپے بھی دے دیے اُس نے خرید لی اورچیز بھی ایسی ہے جس کی واجبی قیمت ہزار روپے ہے وہ شخص کہتا ہے یہ پانسو میں تم نے خریدی ہے اور وکیل کہتا ہے نہیں میں نے ہزار میں خریدی ہے اس میں وکیل کا قول معتبر ہو گا اور اگر واجبی قیمت اُس کی پانسو ہی ہے تو موکل کا قول معتبر ہے اور اگر روپے نہیں دیے ہیں اور واجبی قیمت پانسو ہے جب بھی موکل کا قول معتبر ہے اور اگر واجبی قیمت ہزار ہے تو دونوں پر حلف دیا جائے گا اگر دونوں قسم کھا جائیں تو عقد فسخ ہو جائے گا (7) او روہ چیز وکیل کے ذمہ لازم ہو جائے گی۔ (8)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۳۸: موکل نے چیز کو معین کر دیا ہے مگر ثمن نہیں معین کیا کہ کتنے میں خریدنا اوریہی اختلاف ہوا یعنی وکیل کہتا
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰۔ 2…قرض۔ 3…مقروض۔
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰۔ 5…قرض دینے والا۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۰۔
7…یعنی وکیل ومؤکل کے درمیان یہ معاملہ ختم ہوجائے گا۔
8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۱۔
و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۷۷-۲۷۸۔
ہے میں نے ہزار میں خریدی ہے موکل کہتا ہے پانسو میں خریدی ہے یہاں بھی دونوں پر حلف ہے (1) اگرچہ بائع وکیل کی تصدیق کرتا ہو کہ اس کی تصدیق کا کچھ لحاظ نہیں کیونکہ یہ اس معاملہ میں اجنبی ہے اور بعد حلف وہ چیز وکیل پر لازم ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۹: موکل یہ کہتا ہے میں نے تم سے کہا تھا کہ پانسو میں خریدنا اور وکیل کہتا ہے تم نے ہزار روپے میں خریدنے کو کہا تھا یہاں موکل کا قول معتبر ہے اور اگر دونوں گواہ پیش کریں تو وکیل کے گواہ معتبر ہیں ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۴۰: ایک شخص سے کہا تھا کہ میری یہ چیز اتنے میں بیع کر دو اور اُس وقت اُس چیز کی اُتنی ہی قیمت تھی مگر بعد میں قیمت زیادہ ہو گئی تو وکیل کو اُتنے میں بیچنا اب درست نہیں یعنی نہیں بیچ سکتا۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: خریدوفروخت و اجارہ و بیع سلم و بیع صرف کا وکیل اُن لوگوں کے ساتھ عقد نہیں کر سکتا جن کے حق میں اس کی گواہی مقبول نہیں اگرچہ واجبی قیمت کے ساتھ عقد کیا ہو ہاں اگر موکل نے اس کی اجازت دے دی ہو کہہ دیا ہو کہ جس کے ساتھ تم چاہو عقد کرو تو ان لوگوں سے واجبی قیمت پر عقد کر سکتا ہے اور اگر موکل نے عام اجازت نہیں دی ہے اور واجبی قیمت سے زیادہ پر ان لوگوں کے ہاتھ چیز بیع کی تو جائز ہے۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۴۲: وکیل کو یہ جائز نہیں کہ اُس چیز کو خود خرید لے جس کی بیع کے لیے اس کو وکیل کیا ہے یعنی یہ بیع ہی نہیں ہو سکتی کہ خوہی بائع ہوا اور خود مشتری۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۳: موکل نے اُن لوگوں سے بیع کی صریح لفظوں میں اجازت دے دی ہو جب بھی اپنی ذات یا نابالغ لڑکے یا اپنے غلام کے ہاتھ جس پر دَین نہ ہو بیع کرنا جائز نہیں ۔(7) (بحرالرائق)
1… قسم ہے۔ 2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۲۔
3…المرجع السابق۔ 4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۹۳۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۳۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۸،ص۲۸۸۔
7…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴۔
مسئلہ ۴۴: وکیل کم یا زیادہ جتنی قیمت پر چاہے خرید و فروخت کر سکتا ہے جب کہ تہمت کی جگہ نہ ہو اور موکل نے دام بتائے نہ ہوں (1) مگر بیع صرف میں غبن فاحش کے ساتھ بیع کرنا درست نہیں اور وکیل یہ بھی کر سکتا ہے کہ چیز کو غیر نقود کے بدلے میں بیع کرے۔ (2)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۴۵: بیع کا وکیل چیز اُدھار بھی بیع کر سکتا ہے جب کہ موکل بطور تجارت چیز بیچنا چاہتا ہو اور اگر ضرورت و حاجت کے لیے بیع کرتا ہے مثلاً خانہ داری کی چیزیں ضرورت کے وقت بیچ ڈالتے ہیں اس صورت میں وکیل کو اُدھار بیچنا جائز نہیں۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۴۶: عورت نے سوت کا ت کر کسی کو بیچنے کے لیے دیا اُدھار بیچنا جائز نہیں غرض اگر قرینہ سے یہ ثابت ہو کہ موکل کی مراد نقد بیچنا ہے تو اُدھار بیچنا درست نہیں اور جہاں اُدھار بیچنا درست ہے اُس سے مراد اُتنے زمانہ کے لیے اُدھار بیچنا ہے جس کا رواج ہو اوراگر زمانہ طویل کر دیا مثلاً عام طور پر لوگ ایک مہینے کی مدت دیتے تھے اس نے زیادہ کر دی یہ جائز نہیں ۔(4) (بحر، درمختار)
مسئلہ ۴۷: موکل نے کہا اس چیز کو سو روپے میں اُدھار بیچ دینا اُس نے سو روپے نقد میں بیچ دی یہ جائز ہے اور اگر موکل نے دام نہ بتائے ہوں یہ کہا کہ اس کو اُدھار بیچنا وکیل نے نقد بیچ دی یہ جائز نہیں ۔ (5)(بحرالرائق)
مسئلہ ۴۸: وکالت کو زمانہ یا مکان کے ساتھ مقید کرنا درست ہے یعنی موکل نے کہہ دیا کہ اسکو کل بیچنا یا خریدنا یا فلاں جگہ خریدنا یا بیچنا وکیل آج عقد نہیں کر سکتانہ اس جگہ کے علاوہ دوسری جگہ کر سکتا ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۹: وکیل سے کہا جاؤ بازار سے فلاں چیز فلاں شخص کی معرفت خرید لاؤ وکیل نے بغیر اُس کی معرفت کے خریدی یہ درست ہے یعنی اگر وہ چیز ضائع ہو گئی تو وکیل ضامن نہیں اور اگر یہ کہا تھا کہ بغیر اُس کی معرفت کے مت خریدنا وکیل نے بغیر معرفت خریدلی یہ جائز نہیں ہلاک ہو جائے تو وکیل کا نقصان ہے موکل سے تعلق نہیں ۔ (7)(درمختار)
1…قیمت نہ بتائی ہو۔ 2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۴،وغیرہ۔
3…المرجع السابق،ص۲۹۵۔
4…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴۔
و’’الدرالمختار‘‘ کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۵۔
5…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۴۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۶۔ 7…المرجع السابق۔
مسئلہ ۵۰: ایسی چیز بیچنے کے لیے وکیل کیا ہے جس میں بار برداری صَرف ہو گی(1) اور وکیل و موکل دونوں ایک ہی شہر میں ہیں تو اُس سے مراد اُسی شہر میں بیچنا ہے دوسرے شہر میں لے جانا جائز نہیں فرض کرو دوسری جگہ بار کراکے لے گیا اور چوری گئی یا ضائع ہو گئی وکیل کو تاوان دینا ہو گا۔ اور اگر بار برداری کا صرفہ نہ ہوتا ہو اور موکل نے جگہ کی تعیین نہیں کی ہے تو اس شہر کی خصوصیت نہیں وکیل کو اختیار ہے جہاں چاہے لے جائے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: موکل نے وکیل پر کوئی شرط کر دی ہے جو پوری طور پر مفید ہے وکیل کو اُس شرط کی رعایت واجب ہے مثلاً کہا تھا اس کو خیار کے ساتھ بیع کرنا وکیل نے بلا خیار بیع کر دی یہ جائز نہیں ۔ موکل نے کہا تھا کہ میرے لیے اس میں خیار رکھنا اور خیار کی شرط نہیں کی جب تو بیع ہی جائز نہیں اور اگر موکل کے لیے خیار شرط کیا تو وکیل و موکل دونوں کے لیے ہو گا۔ موکل نے مطلق بیع کی اجازت دی وکیل نے موکل یا اجنبی کے لیے خیار شرط کیا یہ بیع صحیح ہے۔ موکل نے ایسی شرط لگائی جس کا کوئی فائدہ نہیں اس کاکوئی اعتبار نہیں ۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: وکیل نے اُدھار بیچی تو ثمن کے لیے مشتری سے کفیل(4)لے سکتا ہے یا ثمن کے مقابل(5) میں کوئی چیز رہن(6)رکھ سکتا ہے لہٰذا اس صورت میں وکیل کے پاس سے رہن کی چیز ہلاک ہو گئی یا کفیل سے وصولی کی کوئی صورت ہی نہ رہی تو وکیل ضامن نہیں ۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵۳: موکل نے کہہ دیا ہے کہ جس کے ہاتھ بیع کرو اُس سے کفیل لینا یا کوئی چیز رہن رکھ لینا وکیل نے بغیر رہن و کفالت(8)بیع کر دی یہ جائز نہیں ۔ وکیل و موکل میں اختلاف ہوا موکل کہتا ہے میں نے رہن یا کفالت کے لیے کہا تھا وکیل کہتا ہے نہیں کہا تھا اس میں موکل کا قول معتبر ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: وکیل نے بیع کی اور مشتری کی طرف سے ثمن کی خود ہی کفالت کی یہ کفالت جائز نہیں اور اگر وہ بیع کا وکیل
1…یعنی مزدوری دینی پڑے گی۔ 2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃبالبیع،ج۳،ص۵۸۹۔
3…المرجع السابق۔ 4…ضامن،ذمہ دار۔ 5…یعنی قیمت کے بدلے۔ 6…گروی۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۶۔
8…رہن رکھے بغیر یاکفیل لیے بغیر۔
9…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃ بالبیع۔۔۔إلخ،ج۳،ص۵۹۰۔
نہیں ہے بلکہ مشتری سے ثمن وصول کرنے کے لیے وکیل ہے یہ مشتری کی طرف سے ثمن کی کفالت کرتا ہے جائز ہے اور مشتری سے ثمن معاف کر دے تومعاف نہ ہو گا۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۵۵: وکیل نے مشتری سے ثمن وصول کرنے میں تاخیر کر دی یعنی بیع کے بعد اُس کے لیے میعاد مقرر کر دی یا ثمن معاف کر دیا یا مشتری نے حوالہ کر دیا اس نے قبول کر لیایا اُس نے کھوٹے روپے دے دیے اس نے لے لیے یہ سب درست ہے یعنی جو کچھ کر چکا ہے مشتری سے اُس کے خلاف نہیں کر سکتا مگرمؤکل کے لیے تاوان دینا ہو گا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: جو شخص خریدنے کا وکیل ہوا اُس کی خریداری کے لیے موکل نے ثمن کی تعیین نہ کی ہو تو اُتنے ہی دام کے ساتھ خرید سکتا ہے جو چیز کی اصلی قیمت ہے یا کچھ زیادہ کے ساتھ خرید سکتا ہے کہ عام طور پر لوگوں کے خریدنے میں یہ دام ہوتے ہوں ۔ یہ اُن چیزوں میں ہے جن کا ثمن معروف و مشہور نہ ہو اور اگر ثمن معروف ہے جیسے روٹی۔ گوشت۔ ڈبل روٹی۔ بسکٹ اور انکے علاوہ بہت سی چیزیں ان کو وکیل نے زیادہ ثمن سے خریدا اگرچہ بہت تھوڑی زیادتی ہے مثلاً چار پیسے میں چار روٹیاں آتی ہیں اس نے پانچ کی چار خریدیں یہ بیع موکل پر نافذ نہیں ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۷: چیز بیچنے کے لیے وکیل کیا وکیل نے اُس میں سے آدھی بیچ دی اورچیز ایسی ہے جس میں تقسیم نہ ہو سکے جیسے لونڈی ،غلام ،گائے، بکری کہ ان میں تقسیم نہیں ہو سکتی اگر موکل کے دعویٰ کرنے سے پہلے وکیل نے دوسرا نصف بھی بیچ دیا جب تو جائزہے ورنہ نہیں اور اگر چیز ایسی ہے جس کے حصہ کرنے میں نقصان نہ ہو جیسے جَو ،گیہوں (4) تو نصف کی بیع صحیح ہے چاہے باقی کو بیع کرے یا نہ کرے اور اگر خریدنے کا وکیل ہے اور آدھی چیز خریدی تو جب تک باقی کو خرید نہ لے موکل پر نافذ نہ ہو گی اُس چیز کے حصے ہو سکتے ہوں یا نہ ہو سکی ں دونوں کا ایک حکم ہے۔ (5)(درمختا ر، بحر)
مسئلہ ۵۸: مشتری نے مبیع میں عیب پایا اور وکیل پر اس کو رد کر دیا اس کی چند صورتیں ہیں مشتری نے گواہوں سے عیب ثابت کیا ہے یا وکیل پر حلف دیا گیا اس نے حلف سے انکار کیا یا خود وکیل نے عیب کا اقرار کیا بشرطیکہ اس تیسری صورت میں
1…الفتاویٰ الخانیہ،کتاب الوکالۃ،فصل فی التوکیل بالبیع والشراء،ج۲،ص۱۵۶۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثالث فی الوکالۃ بالبیع،ج۳،ص۵۹۶۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۷۔ 4…گندم۔
5…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۸۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۷۔
وہ عیب ایسا ہو کہ اس مدت میں پیدا نہیں ہو سکتا ان تینوں صورتوں میں وکیل پر رد موکل پر رد ہے اور اگر عیب ایسا ہے جس کا مثل اس مدت میں پیدا ہو سکتا ہے اور وکیل نے اس کا اقرار کر لیا تو وکیل پر رد موکل پر رد نہیں ۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۵۹: مبیع ایسے عیب کی وجہ سے جس کا مثل حادث ہو سکتا ہے وکیل پر بوجہ اقرار کے رد کی گئی اس صورت میں وکیل کو موکل پر دعویٰ کرنے کا حق ہے گواہوں سے اگر موکل کے یہاں عیب ہونا ثابت کر دے گا یا بصورت گواہ نہ ہونے کے موکل پر حلف دیا جائے گا اگر حلف سے انکار کر دے گا تو موکل پر رد کر دی جائے گی اور اگر وکیل پر رد کیا جانا قاضی کے حکم سے نہ ہو بلکہ خود وکیل نے اپنی رضا مندی سے چیز واپس لی تو اب موکل پر دعویٰ کرنے کا بھی حق نہیں ہے کہ اس طرح واپسی حق ثالث میں بیع جدید (2)ہے۔ (3)(بحرالرائق)
مسئلہ ۶۰: وکالت میں اصل خصوص ہے کیونکہ عموماً یہی ہوتا ہے کہ وکیل کے لیے معین کر کے کام بتایا جاتا ہے عموم بہت کم ہوتا ہے اور مضاربت میں عموم اصل ہے یعنی عام طور پر مضارب کو امور تجارت میں وسیع اختیارات دیے جاتے ہیں کیونکہ مضارب کے لیے پابندی اکثر موقع پر اصل مقصود کے منافی ہوتی ہے اس قاعدۂ کلیہ کی تفریع یہ ہے کہ وکیل نے اُدھار بیچا موکل نے کہا میں نے تم سے نقد بیچنے کو کہا تھا وکیل کہتا ہے تم نے مطلق رکھا تھا نقد یا اُدھار کسی کی تخصیص نہیں تھی موکل کی بات مانی جائے گی اور یہی صورت مضاربت میں ہو کہ رب المال(4) کہتا ہے میں نے نقد بیچنے کو کہا تھا اور مضارب(5) کہتا ہے نقد یا اُدھار کسی کی تعیین نہ تھی تو مضارب کی بات مانی جائے گی۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶۱: وکیل مدعی ہے کہ میں نے چیز بیچ دی اور ثمن پر قبضہ بھی کر لیا مگر ثمن ہلاک ہو گیا اور مشتری بھی وکیل کی تصدیق کرتا ہے موکل کہتا ہے دونوں جھوٹے ہیں وکیل کی بات قسم کے ساتھ معتبر ہے۔(7) (بحرالرائق)
مسئلہ ۶۲: مؤکل کہتا ہے میں نے تجھ کو وکالت سے جدا کر دیا وکیل کہتا ہے وہ چیز تو میں نے کل ہی بیچ ڈالی وکیل کی بات نہیں مانی جائے گی۔ (8)(بحر)
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۸۔
2…تیسرے شخص کے حق میں نیا سودا۔ 3…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۸۹۔
4…مال کامالک ۔ 5…دوسرے کے مال سے مشترک نفع پر تجارت کرنے والا۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۹۔
7…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۱۔ 8…المرجع السابق۔
دوشخصوں کے وکیل کرنے کے احکام
مسئلہ ۶۳: ایک شخص نے دو شخصوں کو وکیل کیا تو ان میں سے ایک تنہا تصرف نہیں کر سکتا (1)اگر کرے گا موکل پر نافذ نہیں ہو گا دوسرا مجنوں ہو گیا یا مر گیا جب بھی اُس ایک کو تصرف کرنا جائز نہیں ۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ اُس کام میں دونوں کی رائے اور مشورہ کی ضرورت ہو مثلاً بیع اگرچہ ثمن بھی بتا دیا ہو اوریہ حکم وہاں ہے کہ دونوں کو ایک ساتھ وکیل بنایا یعنی یہ کہا میں نے دونوں کو وکیل کیا یا زید وعمرو کو وکیل کیا اور اگر دونوں کو ایک کلام میں وکیل نہ بنایا ہو آگے پیچھے وکیل کیا ہو تو ہر ایک بغیر دوسرے کی رائے کے تصرف کر سکتا ہے۔ (2)(بحر)
مسئلہ ۶۴: دو شخصوں کو مقدمہ کی پیروی کے لیے وکیل کیا تو بوقت پیروی دونوں کا مجتمع ہونا(3) ضروری نہیں تنہا ایک بھی پیروی کر سکتا ہے بشرطیکہ امور مقدمہ(4) میں دونوں کی رائے مجتمع ہو۔ (5)(درمختار)
مسئلہ ۶۵: زوجہ کو بغیر مال کے طلاق دینے کے لیے یا غلام کو بغیر مال آزاد کرنے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا ان میں تنہا ایک شخص طلاق دے سکتا ہے آزاد کر سکتا ہے یہاں تک کہ ایک نے طلاق دے دی اور دوسرا انکار کرتا ہے جب بھی طلاق ہو گئی۔ یوہیں کسی کی امانت واپس کرنے کے لیے یا عاریت پھیرنے کے لیے(6) یا غصب کی ہوئی چیز (7)دینے کے لیے یا بیع فاسد میں رد کرنے کے لیے دو وکیل کیے تنہا ایک شخص بغیر مشارکت دوسرے کے یہ سب کام کر سکتا ہے۔ زوجہ کو طلاق دینے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا اور یہ کہہ دیا کہ تنہا ایک شخص طلاق نہ دے بلکہ دونوں جمع ہو کر متفق ہو کر طلاق دیں اور ایک نے طلاق دے دی دوسرے نے نہیں دی یا ایک نے طلاق دی دوسرے نے اسے جائز کیا طلاق نہ ہوئی اورا گر یہ کہا کہ تم دونوں مجتمع ہو کر اُسے تین طلاقیں دے دینا ایک نے ایک طلاق دی دوسرے نے دو طلاقیں دیں ایک بھی نہیں ہوئی جب تک مجتمع ہو کر دونوں تین طلاقیں نہ دیں ۔ یوہیں دو شخصوں سے کہاکہ میری عورتوں میں سے ایک کو تم دونوں طلاق دے دو اور عورت کو معین نہ کیا تو تنہا ایک شخص طلاق نہیں دے سکتا۔(8) (عالمگیری)
1…یعنی معاملہ طے نہیں کر سکتا۔ 2…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالہ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۴۔
3…یعنی حاضر ہونا۔ 4…مقدمہ کے معاملات۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۲۹۹۔
6…عارضی طور پر لی ہوئی چیزواپس کرنے کے لیے۔ 7…ناجائز قبضہ کی ہوئی چیز۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴۔
مسئلہ ۶۶: دو شخصوں کو کسی عورت سے نکاح کرنے کے لیے وکیل کیا یا عورت نے دو شخصوں کو نکاح کا وکیل کیا تنہا ایک وکیل نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ موکل نے مہر کا تعین بھی کر دیا ہو۔ خلع کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تنہا ایک شخص خلع نہیں کر سکتا اگرچہ بدلِ خلع بھی ذکر کر دیا ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۶۷: امانت یا عاریت یا مغصوب شے کو واپس لینے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تو تنہا ایک شخص واپس نہیں لے سکتا جب تک اس کا ساتھی بھی شریک نہ ہو فرض کرو اگر تنہاایک نے واپس لی اور ضائع ہوئی تو اُسے پوری چیز کا تاوان دینا ہو گا ۔ (2)(بحرالرائق)
مسئلہ ۶۸: دَین(3) ادا کرنے کے لیے دو وکیل کیے تو ایک تنہا بھی ادا کر سکتا ہے دوسرے کی شرکت ضروری نہیں اور دَین وصول کرنے کے لیے دو وکیل کیے تو تنہا ایک وصول نہیں کر سکتا۔(4) (بحر)
مسئلہ ۶۹: دَین وصول کرنے کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا اور موکل غائب ہو گیا اور ایک وکیل بھی غائب ہو گیا جو وکیل موجود تھا اُس نے دَین کا مطالبہ کیا مدیون دَین کا اقرار کرتا ہے مگر وکالت سے انکار کرتا ہے وکیل نے گواہوں سے ثابت کیا کہ فلاں شخص نے دَین وصول کرنے کا مجھے اور فلاں شخص کو وکیل کیا ہے اس صورت میں قاضی دونوں کی وکالت کا حکم دے گا دوسرا وکیل جو غائب ہے جب آجائے گا اُسے گواہ پیش کرنے کی ضرورت نہ ہو گی بلکہ دونوں مل کر دَین وصول کر لیں گے۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۰: واہب نے(6)دو شخصوں کو وکیل کیا کہ یہ چیز فلاں موہوب لہ(7) کو تسلیم کر دو(8) ان میں کا ایک شخص تسلیم کر سکتا ہے اور اگر موہوب لہ نے قبضہ کے لیے دو شخصوں کو وکیل کیا تو تنہا ایک شخص قبضہ نہیں کر سکتا اور اگر دو شخصوں کو وکیل کیا کہ یہ چیز کسی کو ہبہ کر دو اور موہوب لہ کو معین نہیں کیا تو ایک شخص کسی کو ہبہ نہیں کر سکتا اور اگر موہوب لہ کو معین کر دیا ہے تو ایک شخص ہبہ کر سکتا ہے۔ (9)(بحرالرائق)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴۔
2…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۶۔ 3…قرض۔
4…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۴۔ 6…ہبہ کرنے والے نے۔
7…جس کے لیے ہبہ کیا۔8…یعنی سپرد کردو ،دے دو۔9…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ، باب الوکالۃ بالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷۔
مسئلہ ۷۱: رہن ایک شخص تنہا نہیں رکھ سکتا مکان یا زمین کرایہ پر لینے کے لیے دو وکیل کیے تنہا ایک نے کرایہ پرلیا تو وکیل کے اجارہ میں ہوا پھر اگر وکیل نے موکل(1) کو دے دیا تو یہ وکیل و موکل کے مابین ایک جدید اجارہ بطور تعاطی منعقد ہوا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: یہ کہا کہ میں نے تم دونوں میں سے ایک کو فلاں چیز کے خریدنے کا وکیل کیا دونوں نے خرید لی اگر آگے پیچھے خریدی ہے تو پہلے کی چیز موکل کی ہو گی اور دوسرے نے جو خریدی ہے وہ خود اُس وکیل کی ہو گی اور اگر دونوں نے بیک وقت خریدی تو دونوں چیزیں موکل کی ہوں گی۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: ایک شخص سے کہا میری یہ چیز بیچ دو پھر دوسرے سے بھی اُسی چیز کے بیچنے کو کہا اور دونوں نے دو شخصوں کے ہاتھ بیع کر دی اگر معلوم ہے کہ کس نے پہلے بیع کی تو جس نے پہلے خریدی ہے چیز اُسی کی ہے اور معلوم نہ ہو تو دونوں مشتری اُس میں نصف نصف کے شریک ہیں اور ہر ایک کو اختیار ہے کہ نصف ثمن کے ساتھ لے یا نہ لے اور اگر دونوں نے ایک ہی شخص کے ہاتھ بیع کی اور دوسرے نے زیادہ داموں میں (4) بیچی دوسری بیع جائز ہے۔ (5)(عالمگیری)
وکیل کام کرنے پرکہاں مجبورہے کہاں نہیں
مسئلہ ۷۴: ایک شخص کو وکیل کیا ہے کہ وہ اپنے مال سے یا موکل کے مال سے دَین ادا کر دے اس کو دَین ادا کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا مگر جب کہ وکیل کے ذمہ خود موکل کا دَین ہے اور موکل نے اُس سے دوسرے کا دَین جو موکل پر ہے ادا کرنے کو کہا۔ اسی کی خصوصیت نہیں بلکہ کسی جگہ بھی وکیل اُس کام پر مجبور نہیں کیا جا سکتا جس کے لیے وکیل ہوا ہے مثلاً یہ کہا کہ میری یہ چیز بیچ کر فلاں کادَین ادا کر دو وکیل اُس کے بیچنے پرمجبور نہیں یا یہ کہہ دیا ہو کہ میری عورت کو طلاق دے دو، وکیل طلاق دینے پر مجبور نہیں اگرچہ عورت طلاق مانگتی ہو یا غلام آزاد کر دو یا فلاں شخص کو یہ چیز ہبہ کر دو یا فلاں کے ہاتھ یہ چیز بیع کر دو۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
1…وکیل کرنے والا۔ 2… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۵۔
3…المرجع السابق۔ 4…زیادہ قیمت پر۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الوکالۃ،الباب الثامن فی توکیل الرجلین،ج۳،ص۶۳۵۔
6…’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۰۔
مسئلہ ۷۵: بعض باتوں میں وکیل اُس کام کے کرنے پر مجبور کیا جائے گاانکار نہیں کر سکتا۔(۱) ایک چیز معین شخص کودینے کے لیے وکیل کیا تھا کہ یہ چیز فلاں کو دے آؤ اور موکل غائب ہو گیا وکیل کو اُسے دینا لازم ہے۔ (۲) مدعی(1) کی طلب پرمدعی علیہ(2) نے وکیل کیا اور مدعی علیہ غائب ہو گیا وکیل کو پیروی کرنی لازم ہے (۳) ایک چیز رہن رکھی ہے اور عقد رہن کے اندریا بعد میں راہن(3) نے توکیل بالبیع شرط کر دی اس صورت میں وکیل کو بیع کر کے مرتہن(4) کا دَین ادا کرنا ضروری ہے (۴)جووکیل اجرت پر کام کرتے ہوں جیسے دلال آڑھتی(5) وہ کام کرنے پر مجبور ہیں انکار نہیں کر سکتے۔(6)(درمختار)
وکیل دوسرے کو وکیل بنا سکتاہے یا نہیں
مسئلہ ۷۶: وکیل جس چیز کے بارے میں وکیل ہے بغیر اجازت موکل اُس میں دوسرے کو وکیل نہیں کر سکتا مثلاً زید نے عمروسے ایک چیز خریدنے کو کہا عمرو بکر سے کہہ دے کہ تُو خرید کر لا یہ نہیں ہو سکتا یعنی وکیل الوکیل جو کچھ کرے گا وہ موکل پر نافذ نہیں ہو گا۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۷۷: وکیل کو موکل نے اس کی اجازت دے دی ہے کہ وہ خود کر دے یا دوسرے سے کرادے تو وکیل بنانا جائز ہے یا اُس کام کے لیے اُس نے اختیار ِتام(8) دے دیا ہے مثلاً کہہ دیا ہے کہ تم اپنی رائے سے کام کرو اس صورت میں بھی وکیل بنانا جائز ہے۔(9) (درمختار)
مسئلہ ۷۸: ایک شخص کو زکوٰۃ کے روپے دے کر کہا کہ فقیروں کو دے دو اس نے دوسرے کو کہا اُس نے تیسرے کو کہا غرض یہ کہ جو بھی فقیروں کو دے دے گا زکوٰۃ ادا ہو جائے گی موکل کو اجازت دینے کی بھی ضرورت نہیں اور اگر قربانی کا جانور خریدنے کے لیے ایک کو کہا اُس نے دوسرے سے کہہ دیا دوسرے نے تیسرے سے کہا غرض آخر والے نے خریدا تو اوّل کی اجازت پر موقوف رہے گا اگر جائز کرے گا جائز ہو گا ورنہ نہیں ۔(10) (درمختار)
1…دعویٰ کرنے والا۔ 2…جس پر دعوی کیا جائے۔ 3…گروی رکھنے والا۔ 4…جس کے پاس چیز گروی رکھی جاتی ہے۔ 5…کمیشن لیکر چیز فروخت کرنے والا۔ 6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۱۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۲۔ 8…مکمل اختیار۔
9…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقدوکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۳۔ 10…المرجع السابق۔
مسئلہ ۷۹: اذن یا تفویض (کام اس کی رائے پر سپرد کرنے) کی وجہ سے وکیل نے دوسرے کو وکیل بنایا تو یہ وکیل ثانی(1) وکیل کا وکیل نہیں ہے بلکہ موکل کا وکیل ہے اگر وکیل اوّل اسے معزول (2) کرنا چاہے معزول نہیں کر سکتا نہ اُس کے مرنے سے یہ معزول ہو سکتا ہے موکل کے مرنے سے دونوں معزول ہو جائیں گے۔(3) (بحر)
مسئلہ ۸۰: وکیل نے وہ کام کیا جس کے لیے وکیل تھا اور حقوق میں اُس نے دوسرے کو وکیل بنایا یہ جائز ہے اس کے لیے نہ اذن کی ضرورت ہے نہ تفویض کی مثلاً خریدنے کا وکیل تھا اس نے خریدا اور مبیع پر قبضہ کے لیے یا عیب کی وجہ سے واپس کرنے کے لیے یا اُس کے متعلق دعویٰ کرنا پڑے اس کے لیے بغیر اذن و تفویض بھی وکیل کر سکتا ہے کہ ان سب کاموں میں وکیل اصیل ہے۔ (4)(بحرالرائق)
مسئلہ ۸۱: وکیل نے بغیر اذن و تفویض دوسرے کو وکیل کر دیا دوسرے نے پہلے کی موجودگی یا عدم موجودگی میں کام کیا اور اوّل نے اُسے جائز کر دیا تو جائز ہو گیا بلکہ کسی اجنبی نے کر دیا اُس نے جائز کر دیا جب بھی جائز ہو گیا اور اگر وکیل اوّل نے ثانی کے لیے ثمن مقرر کر دیا ہے کہ چیز اتنے میں بیچنا اور ثانی نے اوّل کی غیبت میں بیچ دی تو جائز ہے یعنی اوّل کی رائے سے کام ہوا اور یہ بیع موکل پر نافذ ہو گی کیونکہ اُس کی رائے اس صورت میں یہی ہے کہ ثمن کی مقدار متعین کر دے اور یہ کام اُس نے کر دیا۔ خریدنے کے لیے وکیل کیا تھا اور اجنبی نے خریدی اور وکیل نے جائز کر دی جب بھی اُسی اجنبی کے لیے ہے۔ (5)(درمختار، بحر)
مسئلہ ۸۲: ایسی چیزیں جو عقد نہیں ہیں جیسے طلاق ،عتاق ان میں کسی کو وکیل کیا وکیل نے دوسرے کو وکیل کر دیا ثانی نے اوّل کی موجودگی میں طلاق دی یا اجنبی نے طلاق دی وکیل نے جائز کر دی طلاق نہیں ہو گی۔(6) (درمختار)
وکالت عامہ وخاصہ
مسئلہ ۸۳: وکالت کبھی خاص ہوتی ہے کہ ایک مخصوص کام مثلاً خریدنے یا بیچنے یا نکاح یا طلاق کے لیے وکیل کیا اور کبھی عام ہوتی ہے کہ ہر قسم کے کام وکیل کوسپرد کر دیتے ہیں جس کو مختار عام کہتے ہیں مثلاً کہہ دیا کہ میں نے تجھے ہر کام میں وکیل کیا اس
1…دوسرا وکیل۔ 2…برطرف ۔ 3…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۷۔
4…المرجع السابق،ص۲۹۸۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۴۔
و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الوکالۃ،باب الوکالۃبالبیع والشراء،ج۷،ص۲۹۸۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۴۔
صورت میں وکیل کو تمام معاوضات خریدنا بیچنا اجارہ دینا لینا سب کام کا اختیار حاصل ہو جاتا ہے مگر بی بی کو طلاق دینا غلام کو آزاد کرنا یا دوسرے تبرعات مثلاً کسی کو اسکی چیز ہبہ کر دینا اس کی جائداد کو وقف کر دینا اس قسم کے کاموں کا وکیل اختیار نہیں رکھتا۔(1)(درمختار)
مسئلہ ۸۴: کسی سے کہا میں نے اپنی عورت کا معاملہ تمھیں سپرد کر دیا یہ طلاق کا وکیل ہے مگر مجلس تک اختیار رکھتا ہے بعد میں نہیں اور اگر یہ کہا کہ عورت کے معاملہ میں ،مَیں نے تم کو وکیل کیا تو مجلس تک مقتصر نہیں (2)۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸۵: جس شخص کو دوسرے پر ولایت (4)نہ ہو اُس کے حق میں اگر تصرف کرے گا جائز نہیں ہو گا مثلاً غلام یا کافر نے اپنے نابالغ بچہ حر(5) مسلمان کا مال بیچ دیا یا اُس کے بدلے میں کوئی چیز خریدی یا اپنی نابالغہ لڑکی حرہ مسلمہ (6) کا نکاح کیا یہ جائز نہیں ۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۸۶: نابالغ کے مال کی ولایت اُس کے باپ کو ہے پھر اُس کے وصی کو ہے یہ نہ ہو تو اس کے وصی کو ہے یعنی باپ کا وصی دوسرے کو وصی بنا سکتا ہے اس کے بعد دادا کو پھر دادا کے وصی کو پھر اس وصی کے وصی کو یہ بھی نہ ہو تو قاضی کو اس کے بعد وہ جس کو قاضی نے مقرر کیا ہو اس کو وصی قاضی کہتے ہیں پھر اُس کو جس کو اس وصی نے وصی کیاہو۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۸۷: ماں مر گئی یا بھائی مرا اور انھوں نے ترکہ چھوڑا اور اس مال کا کسی کو وصی کیا تو باپ یا اسکے وصی یا وصی وصی یا دادا یا اسکے وصی یا وصی وصی کے ہوتے ہوئے ماں یا بھائی کے وصی کو کچھ اختیار نہیں اور اگر ان مذکورین میں کوئی نہیں ہے تو ماں یا بھائی کے وصی کے متعلق اُس ترکہ کی حفاظت ہے اور اُس ترکہ میں سے صرف منقول چیزیں (9) بیع کر سکتا ہے غیر منقول کی بیع نہیں کر سکتا اور کھانے اورلباس کی چیزیں خرید سکتا ہے وبس۔(10)(درمختار)
مسئلہ ۸۸: وصی قاضی بھی وہ تمام اختیارات رکھتا ہے جو باپ کا وصی رکھتا ہے ہاں اگر قاضی نے اُسے کسی خاص بات کا پابند کر دیا ہے تو پابند ہو گا۔ (11)(درمختار)
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ، فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۵۔
2…یعنی مجلس تک محدود نہیں بعد میں بھی اُس کو اختیارہے۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۵۔ 4…سرپرستی،تصرف کا اختیار۔
5…آزادجو غلام نہ ہو۔ 6…آزاد مسلمان لڑکی جو لونڈی نہ ہو۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۵۔
8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۵۔
9…وہ چیزیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کی جاسکتی ہو۔
10…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الوکالۃ،فصل لایعقد وکیلالبیع والشراء۔۔۔إلخ،ج۸،ص۳۰۶۔ 11…المرجع السابق۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع