30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
خیار رویت کا بیان
کبھی ایسا ہوتا ہے کہ چیز کو بغیر دیکھے بھالے خرید لیتے ہیں اور دیکھنے کے بعد وہ چیز نا پسندہوتی ہے، ایسی حالت میں شرع مطہر(5)نے مشتری کو یہ اختیار دیا ہے کہ اگر دیکھنے کے بعد چیز کونہ لینا چاہے تو بیع کو فسخ کرد ے، اس کو خیار رویت کہتے ہیں ۔
دار قطنی و بیہقی ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ فرمایا: ’’جس نے ایسی چیز خریدی جس کو دیکھا نہ ہو تو دیکھنے کے بعد
1…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:فی المقبوض علی سوم الشراء ،ج۷،ص۱۱۴۔
2…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب:المقبوض علی سوم النظر،ج۷،ص۱۱۵۔
3…رہن رکھوانے والے۔
4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،مطلب: المقبوض علی سوم النظر ،ج۷،ص۱۱۵۔۱۱۶۔
5 …یعنی شریعتِ اسلامیہ۔
اُسے اختیار ہے لے یا چھوڑ دے۔‘‘(1)اس حدیث کی سند ضعیف ہے مگر اس حدیث کو خود امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے بھی روایت کیا ہے اور اس کی سند صحیح ہے۔ نیز یہ کہ حضرت عثمان غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے طلحہ بن عبید اللّٰہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ اپنی زمین جو بصرہ میں تھی بیع کی تھی، کسی نے طلحہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے کہا، آپ کو اس بیع میں نقصان ہے۔ اُنھوں نے کہا، مجھے اس بیع میں خیار ہے کہ بغیر دیکھے میں نے خریدی ہے اور حضرت عثمان سے بھی کسی نے کہا، آپ کو اس بیع میں ٹوٹا(2)ہے۔ اُنھوں نے بھی فرمایا: مجھے خیار ہے کیونکہ میں نے بغیر دیکھے بیع کردی ہے۔ اس معاملہ میں دونوں صاحبوں نے جبیربن مطعم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کو حکم بنایا، اُنھوں نے طلحہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے موافق فیصلہ کیا۔ یہ واقعہ گروہ صحابہ کے سامنے ہوا کسی نے اس پر انکار نہ کیا، لہٰذا بمنزلہ اجماع کے اس کو تصور کرنا چاہیے۔ (3) (ہدایہ، تبیین، درر، غرر)
مسئلہ ۱: بائع نے ایسی چیز بیچی جس کو اُس نے دیکھا نہیں مثلاً اُس کو میراث میں کوئی شے ملی ہے اور بے دیکھے بیچ ڈالی بیع صحیح ہے اور اس کو یہ اختیار نہیں کہ دیکھنے کے بعد بیع کو فسخ کردے۔(4)(درر ،غرر)
مسئلہ ۲: جس مجلس میں بیع ہوئی اُس میں مبیع موجود ہے مگر مشتری نے دیکھی نہیں مثلاً پیپے(5)میں گھی یا تیل تھا یا بوریوں میں غلہ تھا یا گٹھری میں کپڑا تھا اور کھول کر دیکھنے کی نوبت نہیں آئی یا وہاں مبیع موجود نہ ہو اس وجہ سے نہیں دیکھی بہر حال دیکھنے کے بعد خریدار کوخیار حاصل ہے چاہے بیع کو جائز کرے یا فسخ کردے۔ مبیع کو بائع نے جیسا بتایا تھا ویسی ہی ہے یا اُس کے خلاف دونوں صورتوں میں دیکھنے کے بعد بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (6) (درروغیرہ)
مسئلہ ۳: اگر مشتری نے دیکھنے سے پہلے اپنی رضا مندی کا اظہار کیا یاکہدیا کہ میں نے اپنا خیار باطل کردیا جب بھی دیکھنے کے بعد فسخ کرنے کا حق حاصل ہے کہ یہ خیار ہی دیکھنے کے وقت ملتا ہے دیکھنے سے پہلے خیار تھاہی نہیں لہذ ا اُس کو باطل کرنے کے کوئی معنٰے نہیں ۔(7)(ہدایہ وغیرہا)
1…’’سنن الدارقطنی‘‘،کتاب البیوع،الحدیث:۲۷۷۷،ج۳،ص۵۔ 2…نقصان،گھاٹا۔
3…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۴۔
و’’تبیین الحقائق‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۴،ص۳۲۱۔
و’’دررالحکام‘‘ و ’’غررالأحکام‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۶۔
4…’’دررالحکام‘‘ و ’’غررالأحکام‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۶۔
5…کنستر۔
6…’’دررالحکام شرح غررالأحکام‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۷،وغیرہ۔
7…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۴،وغیرہا۔
مسئلہ ۴: خیار رویت کے لیے کسی وقت کی تحدید نہیں (1) ہے کہ اُس کے گزرنے کے بعد خیار باقی نہ رہے، بلکہ یہ خیار دیکھنے پر ہے جب دیکھے۔(2)(درر) اور دیکھنے کے بعد فسخ کاحق اُس وقت تک باقی رہتا ہے، جب تک صراحۃًیا دلالۃً(3) رضا مندی نہ پائی جائے۔(4)(درمختار)
مسئلہ ۵: خیار رویت چارمواقع میں ثابت ہوتا ہے: (۱) کسی شے معین کی خریداری۔ (۲) اجارہ۔(۳)تقسیم۔ (۴)مال کا دعویٰ تھا اور شے معین پر مصالحت ہوگئی۔ (5)
(۱) اگر قصاص کا دعویٰ ہوا ور کسی شے پرمصالحت ہوئی(6)تو خیار رویت نہیں ۔ (۲) دین میں خیار رویت نہیں ، لہٰذا مسلم فیہ چونکہ عین نہیں بلکہ دین یعنی واجب فی الذمہ ہے (جس کا بیان ان شاء اللّٰہ تعالیٰ آئے گا) اس میں خیار رویت نہیں ۔(۳)روپے اوراشرفیوں میں بھی کہ یہ ازقبیل دین ہیں خیار رویت نہیں ہاں اگر سونے چاندی کے برتن ہوں تو خیار رویت ہے۔ بیع سلم کا راس المال اگر عین ہو تو مسلم الیہ کے لیے خیار رویت ثابت ہوگا۔(7)(درمختار)
مسئلہ ۶: اجناس مختلفہ کی تقسیم اگر شرکامیں ہوئی تو اس میں خیار رویت ،خیار شرط، خیار عیب تینوں ہوسکتے ہیں ۔ اور ذوات الا مثال(8)کی تقسیم میں صرف خیار عیب ہوگا باقی دونوں نہیں ہوں گے۔ اور غیر ذوات الامثال جب ایک جنس کے ہوں مثلاً ایک قسم کے کپڑے یا گائیں یا بکریاں ان میں بھی تینوں خیار ثابت ہوں گے۔ (9) (ردالمحتار)
مسئلہ ۷: جو عقد فسخ کرنے سے فسخ نہ ہوجیسے مہر اور قصاص کا بدل صلح اور بدل خلع یہ چیزیں اگرچہ عین ہوں ان میں خیار رویت ثابت نہیں (10) (فتح)
1… یعنی مدت مقرر نہیں ۔ 2…’’دررالحکام شرح غررالأحکام‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،الجزء الثانی،ص۱۵۷۔
3…اشارۃً۔ 4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹۔ 5…المرجع السابق،ص۱۴۵۔
6…یعنی صلح ہوئی۔ 7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۵۔
8…ایسی چیزیں جن کے افراد کی قیمتوں میں معتد بہ تفاوت نہ ہو۔
9…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۵۔
10…’’فتح القدیر‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۵،ص۵۳۳۔
مسئلہ ۸: بے دیکھی ہوئی چیز خریدی ہے دیکھنے سے پہلے بھی اس کی بیع فسخ کرسکتا ہے کیونکہ یہ بیع مشتری کے ذمہ لازم نہیں ۔ (1) (درمختار)
مسئلہ ۹: اگر مشتری نے مبیع پر قبضہ کرلیا اور دیکھنے کے بعد صراحۃًیا دلالۃًاپنی رضا مندی ظاہر کی یا اُس میں کوئی عیب پیدا ہوگیا یا ایسا تصرف کردیا جو قابل فسخ نہیں ہے مثلاً آزاد کردیا یااُس میں دوسرے کا حق پیدا ہوگیا مثلاً دوسرے کے ہاتھ بلاشرط خیار بیع کردیا یا رہن رکھدیا یا اجارہ پر دیدیا ان سب صورتوں میں خیار رویت جاتا رہا اب بیع کو فسخ نہیں کرسکتا اور اگر اُس کو بیع کیا مگر اپنے لیے خیار شرط کرلیا یا بیچنے کے لیے اُس کا نرخ کیا(2) یاہبہ کیا مگر قبضہ نہیں دیا اور یہ باتیں دیکھنے کے بعد ہوئیں تو دلالۃًرضا مندی پائی گئی اب بیع کو فسخ نہیں کرسکتا اور دیکھنے سے پہلے ہوئیں تو خیار باقی ہے دیکھنے کے بعد مبیع پر قبضہ کرلینا بھی دلیل رضا مندی ہے۔ (3) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: مبیع پر قبضہ کرکے دیکھنے سے پہلے بیع کردی پھرعیب کی وجہ سے مشتری ثانی نے واپس کردی اگرچہ یہ واپسی قضاء ے قاضی سے ہو یا رہن رکھنے کے بعد اُسے چھوڑا لیا یا اجارہ کیا تھا اُسے توڑ دیا تو خیار رویت جوان تصرفات کی وجہ سے جاچکا تھا واپس نہ ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: مبیع کا کوئی جزا س کے ہاتھ سے نکل گیا یا اُس میں کمی یازیادتی ہوئی چاہے زیادت متصلہ(5)ہو یا منفصلہ (6)خیار باطل ہوگیا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: بے دیکھے ہوئے کھیت خریدا اور اُس کو عاریت دے دیا، مستعیر(8)نے اُسے بویا خیاررویت باطل ہوگیا اور اگر مستعیرنے اب تک بویا نہیں تو خیار ساقط نہیں اور اگر اُس کھیت کا کوئی کا شتکار اجیر ہے جس نے مشتری کی رضا مندی سے
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹۔
2…قیمت لگائی۔ 3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰۔
5…ایسی زیادتی (اضافہ)جو مبیع کے ساتھ ملی ہوئی ہومثلاًکپڑا خرید کر رنگ دیا۔
6…ایسی زیادتی (اضافہ)جو مبیع سے متصل نہ ہویعنی جدا ہو مثلاً گائے خریدی اس نے بچہ جن دیا۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰۔
8…کسی سے کوئی چیز عاریتاً لینے والا۔
کاشت کی یعنی مشتری نے اُسے پہلی حالت پر چھوڑ دیا منع نہ کیا جب بھی خیار ساقط ہوگیا۔(1) کپڑوں کی ایک گٹھری خریدی اُن میں سے ایک کو پہن لیا خیار رویت باطل ہوگیا۔(2) (ردالمحتار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: ایک مکان خریدا جس کو دیکھا نہیں اُس کے پروس میں ایک مکان فروخت ہوااُس نے شفعہ میں اُسے لے لیا اس کے بعد بھی پہلے مکان کے متعلق خیار رویت باقی ہے دیکھنے کے بعد چاہے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۱۴: مشتری نے جب تک خیار رویت ساقط نہ کیا ہو بائع ثمن کا اُس سے مطالبہ نہیں کرسکتا۔(4) (فتح)
مسئلہ ۱۵: مشتری خریدنے کے بعد مرگیا تو ورثہ کو میراث میں خیار رویت حاصل نہیں ہوگا یعنی ورثہ کو یہ حق نہ ہوگا کہ بیع کو فسخ کردیں ۔ (5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: جس چیز کو پہلے دیکھ چکا ہے اگر اُس میں کچھ تغیرپیدا ہوگیا ہے(6) توخیار رویت حاصل ہے اور اگر ویسی ہی ہے توخیار حاصل نہیں ہاں اگر وقت عقد اُسے یہ معلوم نہ ہو کہ وہی چیز ہے جسے میں خریدتا ہوں تو خیار حاصل ہوگا۔ (7) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: بائع کہتا ہے کہ یہ چیز ویسی ہی ہے جیسی تو نے دیکھی تھی اس میں تغیر نہیں آیا ہے اور مشتری کہتا ہے تغیرآگیا تو مشتری کو گواہ سے ثابت کرنا پڑے گا کہ تغیر آگیا ہے گواہ نہ پیش کرے تو قسم کے ساتھ بائع کا قول معتبر ہوگا۔ یہ اُس صورت میں ہے کہ مشتری کے دیکھنے کو زیادہ زمانہ نہ گزراہوا ور معلوم ہوکہ اتنے زمانہ میں عموماًایسی چیزمیں تغیر نہیں ہوتا اور اگراتنا زیادہ زمانہ گزر گیا ہے کہ عادۃًتغیر ایسی چیز میں ہوہی جاتا ہے۔ مثلاً لونڈی ہے جس کو دیکھے ہوئے بیس برس کا زمانہ گزر چکا ہے اور وہ اُس وقت جوان تھی تومشتری کی بات مانی جائے گی۔ بائع کہتا ہے خریدنے کے وقت تونے دیکھ لیا تھامشتری کہتا ہے نہیں دیکھا تھا تو قسم کے ساتھ مشتری کی بات مانی جائے گی۔ (8)(عالمگیری)
1…اختیار ختم ہوگیا۔
2…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۰۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۱۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۴۹۔
4…’’فتح القدیر‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۵،ص۵۳۳۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۸۔ 6…یعنی تبدیلی آگئی ہے۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۸۔ 8…المرجع السابق۔
مسئلہ ۱۸: ذبح کی ہوئی بکری کی کلیجی خریدی مگر ابھی اُس کی کھال نہیں نکالی گئی ہے تو بیع صحیح ہے اور بائع پرلازم ہے کہ کلیجی نکال کر دے اورمشتری کو خیار رویت حاصل ہوگا اوراگر بکری ابھی ذبح نہیں ہوئی ہے توکلیجی کی بیع درست نہیں اگرچہ بائع کہتا ہوکہ میں ذبح کرکے نکال دیتاہوں ۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: بائع دو تھان علٰحدہ علٰحدہ دو کپڑوں میں لپیٹ کر لایا اورمشتری سے کہتا ہے یہ وہی دونوں تھان ہیں جن کو تم نے کل دیکھا تھا مشتری نے کہا اس تھان کو دس۱۰ روپے میں خریدااور اس کو دس روپے میں خریدا اور خریدتے وقت نہیں دیکھا تو خیار رویت حاصل نہیں اوراگر دونوں مختلف داموں سے خریدے تو خیار حاصل ہے۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: دوکپڑے خریدے اور دونوں کو دیکھ کر ایک کی نسبت کہتا ہے یہ مجھے پسند ہے اس سے خیار باطل نہیں ہوا اور ابھی خیار بدستور باقی ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: دوشخصوں نے ایک چیز خریدی دونوں نے اُسے دیکھا نہیں تھا اب دیکھ کر ایک نے رضا مندی ظاہر کی دوسرا واپس کرنا چاہتا ہے وہ تنہا واپس نہیں کرسکتا دونوں متفق ہوکر واپس کرنا چاہیں واپس کرسکتے ہیں اور اگرایک نے دیکھاتھا ایک نے نہیں جس نے نہیں دیکھا تھا دیکھ کر واپس کرنا چاہتا ہے جب بھی دونوں متفق ہوکر واپس کرسکتے ہیں اوراگر اس کے دیکھنے سے پہلے ہی دیکھنے والے نے کہہ دیا کہ میں راضی ہوں میں نے بیع کو نافذ کردیا تو دوسرے کا خیار باطل نہیں ہوگا مگر پوری مبیع واپس کرنی ہوگی۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: ایک تھان دیکھا تھا باقی نہیں دیکھے تھے اور سب خرید لیے تو خیارہے، مگر واپس کرنا چاہے تو سب واپس کرے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: خیار رویت کی وجہ سے بیع فسخ کرنے(6)میں نہ قاضی کی قضا درکارہے (7)نہ بائع کی رضا مندی کی حاجت۔ (8)(عالمگیری)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب اسابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۵۹۔
2…المرجع السابق۔ 3…المرجع السابق۔
4…المرجع السابق۔ 5…المرجع السابق۔ 6…سودا ختم کرنے ۔ 7…یعنی قاضی کے فیصلہ کی ضرورت نہیں ۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰۔
مسئلہ ۲۴: مشتری نے عین میں (1) کوئی ایسا تصرف کیا جس سے اُس میں نقصان پیدا ہوجائے اور اُس کو علم نہ تھا کہ یہی وہ چیز ہے جو میں نے خریدی ہے مثلاً بھیڑ کی اُون تراش لی(2)یا کپڑے کوپہنا جس سے اُس میں نقصان آگیا تو خیار جاتارہا۔ مشتری نے بے دیکھے چیز خریدی بائع نے وہی چیز مشتری کے پاس امانت رکھدی اورمشتری کویہ معلوم نہ ہوا کہ یہ وہی چیز ہے پھر وہ چیز مشتری کے پاس ہلاک ہوگئی تو مشتری کاقبضہ ہوگیا اور ثمن دینا پڑیگا۔ اور اگر مشتری نے اپنا قبضہ کرکے بائع کے پا س امانت رکھ دی اور ابھی تک اپنی رضا مندی ظاہر نہیں کی ہے اور ہلاک ہو گئی جب بھی مشتری کو ثمن دینا پڑے گا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: موزے یاجوتے خریدے تھے مشتری سورہا تھا، بائع نے اُسے سوتے میں پہنا دیا، وہ اُٹھا اور پہنے ہوئے چلا، اگراس چلنے سے کچھ نقصان آگیا خیار باطل ہوگیا۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: مرغی نے موتی نگل لیا اُسے موتی کے ساتھ بیچنا چاہے تو بیع درست نہیں اگرچہ مشتری نے موتی دیکھا ہو اور مرغی مرگئی اورموتی کو بیچاتو بیع صحیح ہے اورمشتری نے موتی نہ دیکھا ہو تو خیار رویت حاصل ہے۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: خیار کی وجہ سے بیع فسخ کرنے میں یہ شرط ہے کہ بائع کو فسخ کا علم ہوجائے کیونکہ اگرایسا نہ ہوا تووہ یہی سمجھتا رہا کہ بیع ہوگئی اور دوسرا گاہک نہیں تلاش کرے گا اور اس میں اُس کے نقصان کا احتمال ہے۔ (6)(درمختار)
مبیع میں کیاچیزدیکھی جائے گی
مسئلہ ۲۸: مبیع کے دیکھنے کایہ مطلب نہیں کہ وہ پوری پوری دیکھ لی جائے اُ س کا کوئی جزدیکھنے سے رہ نہ جائے بلکہ یہ مراد ہے کہ وہ حصہ دیکھ لیاجائے جس کا مقصود کے لیے دیکھنا ضروری تھا مثلاً مبیع بہت سی چیزیں ہے اور اُن کے افرادمیں تفاوت(7) نہ ہو سب ایک سی ہوں جیسی کی لی(8)اور وزنی(9)چیزیں یعنی جس کانمونہ پیش کیا جاتا ہو یہاں بعض کا دیکھناکافی ہے مثلاً غلہ کی ڈھیری ہے اُس کا ظاہر ی حصہ دیکھ لیا کافی ہے ہاں اگر اندرونی حصہ ویسا نہ ہوبلکہ عیب دار ہو تو خیار رویت اورخیار عیب دونوں مشتری کو حاصل ہیں اور اگر عیب دار نہ ہو کم درجہ کاہو جب بھی خیار رویت حاصل ہے اگرچہ خیار عیب نہیں ۔ یوہیں
1…یعنی نقود کے علاوہ خریدی ہوئی چیز میں ۔ 2… کاٹ لی۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۰۔ 4…المرجع السابق۔
5…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،باب الخیار،فصل فی خیارالرؤیۃ،ج۱،ص۳۶۴۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۱۔ 7…فرق۔ 8… وہ اشیاء جو ماپ کر بیچی جاتی ہیں ۔
9…وہ اشیاء جو تول کر بیچی جاتی ہیں ۔
چند بوریوں میں غلہ بھراہوا ہے۔ ایک میں سے دیکھ لینا کافی ہے جبکہ باقیوں میں اس سے کم درجہ کا نہ ہو۔(1) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۹: مشتری کہتا ہے باقی ویسا نہیں جیسا میں نے دیکھا تھا اور بائع کہتا ہے ویسا ہی ہے اگرنمونہ موجود ہو اہل بصیرت(2) کودکھا یا جائے وہ جو کہیں وہی معتبر ہے اورنمونہ موجود نہ ہو تو مشتری کو گواہ لانا پڑیگا ورنہ بائع کا قول معتبر ہے۔ یہ اُس وقت ہے کہ غلہ وہیں موجود ہو بوریوں میں بھراہوا ہواور اگر غلہ وہاں نہ ہوبائع نے نمونہ پیش کیا اور بیع ہوگئی اورنمونہ ضائع ہوگیاپھر بائع باقی غلہ لایا اور یہ اختلاف پید اہوا تومشتری کا قول معتبر ہے۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۳۰: لونڈی غلام میں چہرہ کا دیکھنا کافی ہے اور اگر باقی اعضا دیکھے چہرہ نہیں دیکھا تو کافی نہیں ۔ ان میں ہاتھ زبان دانت بالوں کا دیکھنا شرط نہیں ۔(4) (درمختاروغیرہ)
مسئلہ ۳۱: سواری کے جانور میں چہرہ اور پٹھے(5)دیکھنا کافی ہے صرف چہرہ دیکھنا کافی نہیں پاؤں اور سُم(6)اور دُم اور ایال(7)دیکھنا ضرور نہیں ۔ (8)(عالمگیری، ردالمحتار، درمختار)
مسئلہ ۳۲: پالنے کے لیے بکری خرید تا ہے اُس کا تمام بدن اور تھن کا دیکھنا ضروری ہے۔ یوہیں گائے بھینس دودھ کے لیے خریدتاہے تو تھن کا دیکھنا ضروری ہے اور گوشت کے لیے بکری خریدتا ہے تو اُسے ٹٹولنا ضروری ہے دورسے دیکھ لی ہے جب بھی خیار رویت حاصل ہوگا۔(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: کپڑاا گر اس قسم کا ہو کہ اندر باہر سب یکساں ہو، جیسے ململ(10)، لٹھا،مارکی ن(11)،سرج(12)، کشمیرہ(13)
1…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیار الرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۱۔ 2… زیادہ آگاہی رکھنے والے لوگ،تجربہ کار لوگ۔
3…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۲۔
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۵۲،وغیرہ۔
5… جانور کے چوتڑ(سرین) کا بالائی حصہ۔ 6…کُھریعنی گھوڑے یا گدھے کا پاؤں جوسخت ہوتا ہے۔
7…ہر چوپائے خصوصاًگھوڑے کی پشتِ گردن کے لٹکے ہوئے بال۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۲۔
و’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالشرط،ج۷،ص۱۵۳۔
9…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۲۔
10…ایک قسم کا باریک سوتی کپڑا۔ 11…امریکہ کا بناہوا ایسا موٹاکپڑا جس کا عرض بڑا ہو۔
12…باریک روئی کے سوت کا بناہوا ایک کپڑا جس سے عمومًا شیروانی وغیرہ بناتے ہیں ۔ 13…وادی کشمیر کا تیارکردہ گرم کپڑا۔
وغیرہ جن کا نمونہ پیش کیا جاتاہے تو تھان کو اوپر سے دیکھ لیناکافی ہے کھول کر اندر سے دیکھنے کی ضرورت نہیں بلکہ ایسے کپڑوں میں ایک تھان کادیکھ لینا کافی ہے سب تھانوں کے دیکھنے کی ضرورت نہیں البتہ اگر اندر خراب نکلے یا عیب ہو تو خیار رویت یاخیار عیب حاصل ہوگا۔اگر مبیع مختلف قسم کے تھان ہوں تو ہرایک قسم کا ایک ایک تھان دیکھ لینا ضرور ہے اور اگر اُس قسم کا ہو کہ سب حصہ ایک طرح کا نہ ہو جیسے چِکَن(1)اور گلبدن(2)کے تھان کہ اوپر کے پرت(3)میں بوٹیاں زیادہ ہوتی ہیں اور اندر کم تو کھول کر سب تہیں دیکھی جائیں گی، صرف اوپر کاپرت دیکھنا کافی نہیں ۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: قالین کے اوپر کارُخ دیکھ لیناضرورہے نیچے کا رُخ دیکھنے سے خیار رویت باطل نہ ہوگااور دری اور دیگر فروش میں کل دیکھناضروری ہے۔ رضائی لحاف اور جُبّہ یاکوٹ جس میں اَستر(5)ہے ابرا (6)دیکھنا ضروری ہے اَستر دیکھنا کافی نہیں ۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۵: مکان میں اندر باہر نیچے اوپر پاخانہ(8)باورچی خانہ سب کا دیکھنا ضروری ہے کیونکہ ان کے مختلف ہونے میں قیمت مختلف ہوجایا کرتی ہے باغ میں بھی باہر سے دیکھ لینا کافی نہیں اندرونی حصہ بھی دیکھنا ضروری ہے اورمختلف قسم کے درخت ہوں توہر ایک قسم کے درخت دیکھنااور پھلوں کا شیریں وترش(9) معلوم کرلینا بھی ضروری ہے۔(10)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۶: کھانے کی چیز ہو تو چکھنا کافی ہے اور سونگھنے کی ہو تو سونگھنا چاہیے جیسے عطر، خوشبودار تیل۔(11)(درمختار)
مسئلہ ۳۷: عددیا ت متقاربہ(12) مثلاً انڈے اخروٹ ان میں بعض کا دیکھ لینا کافی ہے جبکہ باقی اس سے خراب اورکم درجہ کے نہ ہوں ۔ جو چیزیں زمین کے اندر ہوں جیسے لہسن، پیاز، گاجر، آلو، جو چیزیں تول کر بیچی جاتی ہیں ان میں کھود کر
1…کشیدہ کاری یعنی بیل بوٹے کاکام کیا ہوا کپڑا۔ 2…مختلف ڈیزائن کا دھاری دار اورپھول دار ریشمی اور سوتی کپڑا۔
3…اوپر کا حصہ،اوپر کی تہ۔ 4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۳۔ 5… دوہرے کپڑے کے نیچے کی تہ۔
6…دوہرے کپڑے کے اوپر کی تہ ۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۳۔
8…قضاء ے حاجت کی جگہ یعنی بیت الخلائ۔ 9…میٹھا اور کھٹا، ذائقہ۔
10…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۴۔
11…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،۱۵۵۔
12… ایسی چیزیں جو گن کر بیچی جاتی ہیں اور ان کے افراد کی قیمتوں میں فرق نہیں ہوتا۔
تھوڑے سے دیکھنا کافی ہے جبکہ باقی اس سے کم درجہ کے نہ ہوں یہ جب کہ بائع نے کھود کردکھائے یامشتری نے بائع کی اجازت سے کھودے اوراگر مشتری نے بلا اجازت بائع خود کھود لیے اور اتنے کھودے جن کاکچھ ثمن ہوتوخیار رویت ساقط ہوگیا اور اگر وہ چیز گنتی سے بکتی ہو جیسے مولی تو بعض کا دیکھنا کافی نہیں جبکہ بائع نے اُکھاڑی ہو یا مشتری نے بائع کی اجازت سے۔ اوراگر مشتری نے بلا اجازت بائع اُکھاڑیں اور وہ اتنی ہیں جن کا کچھ ثمن ہے توخیار ساقط ہوگیا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۸: ایسی چیز جو زمین میں ہے بیع کی بائع کہتا ہے اگر میں کھود کر نکالتا ہوں اور تم ناپسند کردوتومیرانقصان ہوگا اورمشتری کہتا ہے اگر بغیرتمھاری اجازت میں خود کھودتا ہوں اورمیرے کام کی نہ ہوئی تو پھیر نہ سکوں گااوربیع لازم ہوجائے گی ایسی صورت میں اگردونوں میں کوئی اپنا نقصان گواراکرنے کے لیے طیار ہوجائے فبہا ورنہ قاضی بیع کو فسخ کردے گا۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: شیشی میں تیل تھا اور شیشی کو دیکھا تو یہ حقیقتہً تیل کا دیکھنا نہیں کہ شیشہ حائل ہے۔ یوہیں آئینہ دیکھ رہا ہے اور مبیع کی صورت اُس میں دکھائی دی تو مبیع کا دیکھنا نہیں ہے اور اگر مچھلی پانی میں ہے جو بلا تکلف(3)پکڑی جاسکتی ہے اُس کو خریدااور پانی ہی میں اُسے دیکھ بھی لیا بعضوں کے نزدیک خیاررویت باقی نہ رہیگاکہ مبیع دیکھ لی اور بعض فقہا ء کہتے ہیں کہ خیار باقی ہے کیونکہ پانی میں اصلی حالت معلوم نہیں ہوگی جتنی ہے اُس سے بـڑی معلوم ہوگی۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۰: مشتری نے کسی کو قبضہ کے لیے وکیل کیا تو وکیل کا دیکھنا کافی ہے وکیل نے دیکھ کر پسند کرلیا تو نہ وکیل کو فسخ کا اختیار رہا نہ مؤکل(5) کو، یہ اُس وقت ہے کہ قبضہ کرتے وقت وکیل نے مبیع کو دیکھا اور اگر قبضہ کرتے وقت وہ چیز چھپی ہوئی تھی بعد میں اُسے کھول کر دیکھا تا کہ مشتری کا خیار باطل ہوجائے تو یہ دیکھنا اور پسند کرنا مشتری کے خیار کو باطل نہیں کرے گا کہ قبضہ کرنے سے اُس کی وکالت ختم ہوگئی دیکھنے کا حق باقی نہ رہا۔ اور اگر خریدنے کے لیے وکیل کیا ہے تو وکیل کا دیکھناکافی ہے کہ وکیل نے دیکھ کر پسند کرلیا یا خریدنے سے پہلے وکیل نے دیکھ لیا تو اب نہ وکیل فسخ کرسکتا ہے نہ مؤکل یہ اُس صورت میں ہے کہ غیر معین چیز کے خریدنے کا وکیل ہو۔اور اگر مؤکل نے خریدنے کے لیے چیز کو معین کردیا ہوکہ فلاں چیز مثلاً فلاں غلام
1…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع، باب الخیار، فصل فی خیارالرؤیۃ، ج۱، ص۳۶۳۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثانی،ج۳،ص۶۴۔ 3…مشقت کے بغیر۔
4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۵۔ 5…وکیل کرنے والا۔
یافلاں گائے یا بکری تو وکیل کو خیار رویت حاصل نہیں ۔ (1)(ہدایہ، عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۱: ایک شخص نے ایک چیز خریدی مگر دیکھی نہیں دوسرے شخص کو اُس کے دیکھنے کا وکیل کیا کہ دیکھ کر پسند کرے یا نا پسند کرے وکیل نے دیکھ کر پسند کرلی بیع لازم ہوگئی اور ناپسند کی تو فسخ کرسکتا ہے۔ (2)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: کسی شخص کو مشتری نے قبضہ کے لیے قاصد بنا کر بھیجایعنی اُس سے کہا کہ بائع کے پاس جا کرکہہ کہ مشتری نے مجھے بھیجا ہے کہ مبیع مجھے دیدے اس کا دیکھنا کافی نہیں یعنی مشتری اگر دیکھ کر نا پسند کرے تو بیع کو فسخ کرسکتا ہے۔ (3)(درمختار) وکیل نے مبیع کو وکالت سے پہلے دیکھا اُس کے بعد وکیل ہوکر خریدا تو اُسے خیار رویت حاصل ہوگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: اندھے کی بیع وشرا(5)دونوں جائز ہیں اگر کسی چیز کو بیچے گا تو خیار حاصل نہ ہوگا اور خریدے گاتو خیار حاصل ہوگا اور مبیع کو اُلٹ پلٹ کر ٹٹولنا دیکھنے کے حکم میں ہے کہ ٹٹول لیا اورپسند کرلیا تو خیار ساقط ہوگیا اور کھانے کی چیز کا چکھنا اور سونگھنے کی چیز کا سونگھنا کافی ہے اور جو چیز نہ ٹٹولنے سے معلوم ہونہ چکھنے سونگھنے سے جیسے زمین ،مکان، درخت، لونڈی غلام وہاں اُ س چیز کے اوصاف بیان کرنے ہوں گے جو اوصاف بیان کردیے گئے مبیع اُن کے مطابق ہے تو فسخ نہیں کرسکتا ورنہ فسخ کرسکتا ہے۔ اندھا مشتری یہ بھی کرسکتا ہے کہ کسی کو قبضہ یا خریدنے کے لیے وکیل کردے وکیل کا دیکھ لینا اُس کے قائم مقام ہوجائے گا۔اندھا کسی چیز کو اپنے لیے خریدے یا دوسرے کے لیے مثلاً کسی نے اندھے کو وکیل کردیا دونوں صورتوں میں خیارحاصل ہوگا۔ (6) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۴۴: اندھے کے لیے مبیع کے اوصاف بیان کر دیے گئے یا اُس نے ٹٹول کر معلوم کرلیا اور چیز پسند کرلی پھر وہ بینا ہوگیا تو اب اُسے خیار رویت حاصل نہیں ہوگا جو خیار اُسے حاصل تھا ختم کرچکا۔ انکھیار ے(7)نے خریدی تھی اور مبیع کو دیکھنے
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۶۔
و’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۲،ص۳۵۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶۔
2…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۶۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۶۔
5…خریدوفروخت۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۵۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۵۷۔ 7…آنکھوں والے۔
سے پہلے نا بینا ہوگیا تو اب اُس کے لیے وہی حکم ہے جو اُس مشتری کا ہے کہ خریدتے وقت نا بینا تھا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: شے معین کی شے معین سے بیع ہوئی مثلاً کتاب کو کپڑے کے بدلے میں بیع کیا تو ایسی صورت میں بائع و مشتری دونوں کو خیار رویت حاصل ہے کیونکہ یہاں دونوں مشتری بھی ہیں ۔ (2)(درمختار)
خیار عیب کا بیان
حدیث (۱): ابن ماجہ نے واثلہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی ، کہ حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے فرمایا: ’’جس نے عیب والی چیز بیع کی اور اُس کو ظاہر نہ کیا، وہ ہمیشہ اللّٰہ تعالیٰ کی ناراضی میں ہے یا فرمایا کہ ہمیشہ فرشتے اُس پرلعنت کرتے ہیں ۔‘‘ (3)
حدیث (۲): امام احمد و ابن ماجہ وحاکم نے عقبہ بن عامر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی کہ حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ارشاد فرمایا: ’’ایک مسلمان دوسرے مسلمان کا بھائی ہے اور جب مسلمان اپنے بھائی کے ہاتھ کوئی چیز بیچے جس میں عیب ہو تو جب تک بیان نہ کرے، اسے بیچنا حلال نہیں ۔‘‘ (4)
حدیث (۳): صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور اقدسصلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم غلہ کی ڈھیری کے پاس گزرے اُس میں ہاتھ ڈال دیا، حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو اُنگلیوں میں تری محسوس ہوئی، ارشاد فرمایا: ’’اے غلہ والے(۱) یہ کیا ہے؟ اُس نے عرض کی یارسول اللّٰہ (۱) ( صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) اس پر بارش کا پانی پڑگیا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ ’’تو نے بھیگے ہوئے کو اوپر کی وں نہیں کر دیا کہ لوگ دیکھتے جو دھوکا دے وہ ہم میں سے نہیں ۔‘‘ (5)
حدیث (۴): شرح سنہ میں مخلدبن خفاف سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں ، میں نے ایک غلام خریدا تھا اور اُس کو کسی کام میں لگا دیا تھا پھر مجھے اُس کے عیب پر اطلاع ہوئی، اس کا مقدمہ میں نے عمر بن عبدالعزیز رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کے پاس پیش کیا، اُنھوں نے یہ فیصلہ کیا کہ غلا م کو میں واپس کر دوں اور جو کچھ آمدنی ہوئی ہے، وہ بھی واپس کردوں پھر میں عروہ سے ملا اور اُنکو واقعہ سُنایا اُنھوں نے کہا، شام کو میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس جاؤں گا اُن سے جاکر یہ کہا کہ مجھ کوعائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا نے یہ خبر دی ہے
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب السابع فی خیارالرؤیۃ،الفصل الثالث،ج۳،ص۶۵۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالرؤیۃ،ج۷،ص۱۶۲۔
3…’’سنن ابن ماجہ‘‘،کتاب التجارات،باب من باع عیبًا فلیبینہ،الحدیث:۲۲۴۷،ج۳،ص۵۹۔
4…المرجع السابق،الحدیث:۲۲۴۶،ص۵۸۔
5…’’صحیح مسلم‘‘،کتاب الإیمان،باب قول النبی صلی اللّٰہ علیہ وسلم من غشنا فلیس منَّا،الحدیث:۱۶۴۔(۱۰۱)،(۱۰۲)،ص۶۵۔
کہ ایسے معاملہ میں رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے یہ فیصلہ فرمایا ہے کہ ’’آمدنی ضمان کے ساتھ ہے یعنی جس کے ضمان میں چیز ہو وہی آمدنی کا مستحق ہے۔یہ سن کر عمر بن عبدالعزیز نے یہ فیصلہ کیا کہ آمدنی مجھے واپس ملے۔ (1)
حدیث (۵): دارقطنی و حاکم و بیہقی ابو سعید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’نہ خود کو ضرر پہنچنے دے، نہ دوسرے کو ضرر پہنچائے، جو دوسرے کو ضرر پہنچائے گا اللّٰہ تعالیٰ اُس کو ضرر دے گااور جو دوسرے پر مشقت ڈالے گا اللّٰہ تعالیٰ اُس پر مشقت ڈالے گا۔‘‘ (2)
حدیث (۶): بیہقی ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی کہ ارشاد فرمایا: ’’بیچنے کے لیے جو دودھ ہو اُس میں پانی نہ ملاؤ۔‘‘ ایک شخص (امم سابقہ(3)میں سے جبکہ شراب حرام نہ تھی) ایک بستی میں شراب لے گیا، پانی ملا کر اُسے دوچند کر دیا پھر اُس نے ایک بندر خریدا اور دریا کا سفر کیا، جب پانی کی گہرائی میں پہنچا بندر اشرفیوں کی تھیلی اُٹھا کر مستول(4)پرچڑھ گیا اور تھیلی کھول کر ایک اشرفی پانی میں پھینکتا اور ایک کشتی میں ، اس طرح اُس نے اشرفیوں کی نصف نصف تقسیم کر دی۔ (5)
مسائل فقہیّہ(خیار عیب کا بیان)
عرف شرع میں عیب جس کی وجہ سے مبیع کو واپس کرسکتے ہیں وہ ہے جس سے تاجر وں کی نظر میں چیز کی قیمت کم ہوجائے۔ (6)
مسئلہ ۱: مبیع میں عیب ہوتواُس کا ظاہرکردینا بائع پر واجب ہے چھپانا حرام و گناہ کبیرہ ہے۔ یوہیں ثمن کا عیب مشتری پر ظاہر کر دینا واجب ہے اگر بغیر عیب ظاہر کیے چیز بیع کردی تو معلوم ہونے کے بعدواپس کرسکتے ہیں اس کو خیار عیب کہتے ہیں خیار عیب کے لیے یہ ضروری نہیں کہ وقت عقد یہ کہہ دے کہ عیب ہوگاتو پھیر دینگے(7)کہا ہو یا نہ کہاہوبہر حال عیب معلوم ہونے پر مشتری کوواپس کرنے کا حق حاصل ہوگالہٰذا اگرمشتری کو نہ خریدنے سے پہلے عیب پر اطلاع تھی نہ وقت خریداری اُس کے علم میں یہ بات آئی بعد میں معلوم ہواکہ اس میں عیب ہے تھوڑا عیب ہو یا زیادہ خیار عیب حاصل ہے کہ مبیع کو لینا چاہے تو
1…’’شرح السنۃ‘‘،کتاب البیوع،باب فیمن اشتری عبدًا۔۔۔إلخ،ج۴،ص۳۲۱۔
2…’’المستدرک‘‘للحاکم،کتاب البیوع،باب النھی عن المحاقلۃ۔۔۔إلخ،الحدیث:۲۳۹۲،ج۲،ص۳۶۹۔
3…گزشتہ اُمتوں ۔ 4…جہاز یا کَشتی کاستون۔
5…’’شعب الإیمان‘‘للبیہقی،الباب الخامس والثلاثون۔۔۔إلخ،الحدیث:۵۳۰۸،ج۴،ص۳۳۳۔
6…’’تنویرالأبصار‘‘،کتاب البیوع،باب خیار العیب،ج۷،ص۱۶۴۔ 7… واپس کردینگے۔
پورے دام پرلے لے واپس کرنا چاہے واپس کردے یہ نہیں ہوسکتاکہ واپس نہ کرے بلکہ دام (1)کم کردے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲: عیب پر مشتری کو اطلاع قبضہ سے پہلے ہی ہوگئی تومشتری بطور خود عقد کوفسخ کرسکتا ہے، اس کی ضرورت نہیں کہ قاضی فسخ کاحکم دے تو فسخ ہوسکے بائع کے سامنے اتنا کہدینا کافی ہے کہ میں نے عقد کو فسخ کردیا یا رد کر دیا یا باطل کر دیا بائع راضی ہویا نہ ہو عقد فسخ ہوجائے گااور اگر مبیع پر قبضہ کرچکا ہے تو بائع کی رضا مندی یا قضاء ے قاضی کے بغیر(3) عقد فسخ نہیں ہوسکتا۔ (4)(ہدایہ، عالمگیری)
مسئلہ ۳: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرلیا تھاپھر عیب معلوم ہوااور بائع کی رضا مندی سے عقد فسخ ہوا توان دونوں کے حق میں فسخ ہے مگر تیسرے کے حق میں یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے کہ اس فسخ کے بعد اگر مبیع مکان یازمین ہے تو شفعہ کرنے والا شفعہ کرسکتا ہے اور اگر قضاء ے قاضی سے فسخ ہوا توسب کے حق میں فسخ ہی ہے شفعہ کا حق نہیں پہنچے گا۔(5) (ہدایہ)
مسئلہ ۴: خیار عیب کی صورت میں مشتری مبیع کا مالک ہوجاتا ہے مگر ملک لازم نہیں ہوتی اور اس میں وراثت بھی جاری ہوتی ہے یعنی اگر مشتری کو عیب کا علم نہ ہوااورمرگیااور وارث کو عیب پر اطلاع ہوئی تو اُسے عیب کی وجہ سے فسخ کا حق حاصل ہوگا۔خیار عیب کے لیے کسی وقت کی تحدید نہیں (6)جب تک موانع رد(7)نہ پائے جائیں (جن کابیان آئے گا) یہ حق باقی رہتا ہے۔(8) (عالمگیری)
خیارِعیب کے شرائط
مسئلہ ۵: خیار عیب کے لیے یہ شرط ہے کہ(۱) مبیع میں وہ عیب عقد بیع کے وقت موجود ہویا بعد عقد، مشتری کے قبضہ سے پہلے پیدا ہو، لہٰذا مشتری کے قبضہ کرنے کے بعد جو عیب پیدا ہوا اُس کی وجہ سے خیار حاصل نہ ہوگا۔ (۲)مشتری نے قبضہ کرلیا ہو تو اس کے پاس بھی وہ عیب باقی رہے اگر یہاں وہ عیب نہ رہا تو خیار بھی نہیں ۔ (۳)مشتری کو عقد یا قبضہ کے وقت عیب پر اطلاع نہ ہوعیب دار جانکرلیا یا قبضہ کیا خیار نہ رہا۔(۴)بائع نے عیب سے براء ت نہ کی ہو اگر اُس نے کہدیاکہ میں اس کے کسی
1… قیمت۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶،۶۷۔
3…قاضی کے فیصلے کے بغیر۔ 4…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۶۔۳۷۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶۔
5…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۹۔
6…مدت مقررنہیں ۔ 7…یعنی واپسی سے روکنے والے اسباب ۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶۔
عیب کا ذمہ دار نہیں خیار ثابت نہیں ۔(1) (عالمگیری وغیرہ)
عیب کی صورتیں
مسئلہ ۶: لونڈی غلام کا مالک کے پاس سے بھاگنا عیب ہے اور اگر بھاگنا اس وجہ سے ہے کہ مالک اُس پر ظلم کرتا ہے تو عیب نہیں ۔ مالک نے اُسے امانت رکھ دیا ہے یا عاریت دیدیا ہے یا اُجرت پر دیا ہے امین یا مستعیر(2)یا مستاجر(3)کے پاس سے بھاگنابھی عیب ہے مگر جبکہ یہ ظلم کرتے ہوں ۔ بھاگنے کے لیے یہ ضرور نہیں کہ شہر سے نکل جائے بلکہ اُسی شہر میں رہے جب بھی عیب ہے اور بھاگنا اسی وقت عیب ہے جب مشتری کے یہاں سے بھی بھاگا ہو۔(4) (درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۷: مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں آیا اور چھپا نہیں جب کہ بائع اُسی شہر میں ہو تو عیب نہیں اور یہاں آکر پوشیدہ ہوگیا تو عیب ہے۔ غاصب(5)کے یہاں سے بھاگ کر مالک کے پاس آیا یہ عیب نہیں ۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸: بیل وغیرہ جانور دو تین دفعہ بھاگیں تو عیب نہیں اس سے زیادہ بھاگنا عیب ہے۔ (7)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: بِچھو نے پر پیشاب کرنا عیب ہے چوری کرنا عیب ہے چاہے اتنا چُرایا جس سے ہاتھ کا ٹا جائے یا اس سے کم۔ یوہیں کفن چُرانا جیب کاٹنا بھی عیب ہے بلکہ نقب لگانا(8)بھی عیب ہے۔ کھانے کی چیز کھانے کے لیے مالک کی چُرائی تو عیب نہیں اور بیچنے کے لیے چُرائی یا دوسرے کی چیز چُرائی تو عیب ہے۔ بعض فقہانے فرمایاکہ مالک کا پیسہ دوپیسے چُرانا عیب نہیں۔(9)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۰: بھاگنا، چوری کرنا،بچھونے پر پیشاب کرنا ان تینوں کے اسباب بچپن میں اور بڑے ہونے پر مختلف ہیں ۔ بچپن سے مراد پانچ سال کی عمر ہے اس سے کم عمر میں یہ چیزیں پائی جائیں تو عیب نہیں ۔بچپن میں ان کا سبب کم عقلی
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۶،۶۷،وغیرہ۔
2…عاریۃًلینے والا۔ 3…اجرت پرلینے والا۔ 4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰،وغیرہ۔
5…ناجائز قبضہ کرنے والا۔ 6…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰۔
7…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰۔ 8…دیوار میں چوری کرنے کے لیے سوراخ کرنا۔
9…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۰۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹۔
اورضعف مثانہ(1)ہے اور بڑے ہونے کے بعد ان کا سبب سوء اختیاراور باطنی بیماری ہے لہٰذا اگر یہ عیوب مشتری وبائع دونوں کے یہاں بچپن میں پائے گئے یا دونوں کے یہاں جوانی کے بعد پائے گئے تو مشتری رد کرسکتا ہے کہ یہ وہی عیب ہے جوبائع کے یہاں تھا اور اگر بائع کے یہاں یہ عیب بچپن میں تھا اور مشتری کے یہاں بلوغ کے بعد تو رد نہیں کرسکتا کہ یہ وہ عیب نہیں بلکہ دوسرا عیب ہے جو مشتری کے یہاں پیدا ہوا جس طرح بائع کے یہاں اُسے بخار آتا تھا اگر مشتری کے یہاں بھی وہی بخار اُسی وقت آیا تو واپس کرسکتا ہے اور مشتری کے یہاں دوسری قسم کا بخار آیا تو واپس نہیں کرسکتا۔(2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: نا بالغ غلام کو خریدا جو بچھونے پر پیشاب کرتا تھا مشتری(3) کے یہاں بھی یہ عیب موجود تھا مگر کوئی دوسرا عیب اس کے علاوہ بھی پیدا ہوگیا جس کی وجہ سے واپس نہ کرسکااور بائع سے اس عیب کانقصان لے لیا بالغ ہونے پر پیشاب کرنا جاتارہا تو جو معاوضۂ عیب بائع نے ادا کیا ہے چونکہ وہ عیب جاتا رہا وہ رقم واپس لے سکتا ہے۔(4)(فتح)
مسئلہ ۱۲: جنون بھی عیب ہے اور بچپن اور جوانی دونوں میں اس کا سبب ایک ہی ہے یعنی اگر بائع کے یہاں بچپن میں پاگل ہواتھا اورمشتری کے یہاں جوانی میں تو واپس کرنے کا حق ہے کیونکہ یہ وہی عیب ہے دوسرا نہیں ۔جنون کی مقدار یہ ہے کہ ایک دن رات سے زیادہ پاگل رہے اس سے کم میں عیب نہیں ۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: کنیز کا ولدالزنا(6)ہونا عیب ہے۔ یوہیں اُس کا زنا کرنا بھی عیب ہے، لونڈی سے بچہ پیدا ہوجانا بھی عیب ہے، جبکہ وہ بچہ مولیٰ(7)کے علاوہ دوسرے سے ہو اور اگراُ س کا بچہ مولیٰ سے ہو تو وہ ام ولدہے اُس کا بیچنا ہی جائز نہیں ۔ زنا اور ولادت میں مشتری کے یہاں اس عیب کا پایاجانا ضرور نہیں ۔ولدالزنا ہونا، زنا کرنا، غلام میں عیب نہیں اگرچہ زنا کرنا گناہ کبیرہ ہے اُس پر توبہ واستغفار واجب ہے اور شرعاً سخت عیب ہے اور اگر زنا کرنا اُس کی عادت ہو یعنی دو مرتبہ سے زیادہ ایساکیا تو یہ بیع میں عیب شمار کیا جائے گا۔ لونڈی اور غلام میں فرق اس وجہ سے ہے کہ لونڈی سے اکثر یہ مقصود ہوتا ہے کہ اُس سے وطی کرے اگر وہ ایسی ہے تو طبیعت کو کراہت آئے گی نیز اگر اولاد پیدا ہوئی تو زانیہ کی اولاد کہلائے گی اور یہ سخت عار ہے اور غلام سے مقصود
1…جسم کے اندر پیشاب کی تھیلی کا کمزور ہونا۔
2…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۶۔
3…خریدار۔ 4…’’فتح القدیر‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۴،۵۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۷۰۔
6…زنا سے پیدا ہونے والی۔ 7…آقا ،مالک۔
خدمت لینا ہوتا ہے اوران باتوں سے خدمت میں کوئی فرق نہیں آتا، جب تک زنا کی عادت نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: غلام اگر ایسا ہو کہ مفت اغلام کراتا ہو، یہ اُس میں عیب ہے۔ غلام مخنث(2)ہے بایں معنے کہ آواز میں نرمی ہے اور رفتار میں لچک، اگر یہ بات کمی کے ساتھ ہے تو عیب نہیں اور زیادتی کے ساتھ ہے تو عیب ہے، واپس کردیا جائے گا اور اگر مخنث بایں معنیٰ ہو کہ برے افعال کرتا ہے تو عیب ہے۔ (3)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۱۵: لونڈی کا حاملہ ہونا یا شوہر والی ہونا عیب ہے کیونکہ اُس کو فراش نہیں بنایا جاسکتا۔(4)یوہیں غلام کا شادی شدہ ہونا بھی عیب ہے، مگر غلام نے واپسی سے پہلے اپنی زوجہ کو طلاق دیدی تو واپس نہیں کیا جاسکتا اور لونڈی کو اُس کے شوہر نے طلاق دیدی اگر رجعی طلاق ہے واپس کی جاسکتی ہے اور بائن ہے تو نہیں اور شوہروالی لونڈی اگرمشتری کے محرمات میں سے ہو مثلاً اس کی رضاعی بہن یا ماں ہے یا اس کی عورت کی ماں ہے توشوہر والی ہونا عیب نہیں ۔ (5)(عالمگیری، درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: جذام(6)، برص(7)، اندھا ہونا، کانا ہونا، بھینگا ہونا(8)، گونگا ہونا، بہرا ہونا، اُنگلی زیادہ یاکم ہونا، کُبڑا(9)ہونا، پھوڑے، بیماری، خصیہ کا بڑا ہونا، نامردی، خصی ہونا، یہ سب چیزیں عیب ہیں اگر خصی کہکر خریدا اور خصی نہ تھا توواپس کرنے کا حق نہیں ہے۔(10) (عالمگیری، درمختار) جو غلام دارالاسلام میں پید ا ہوا ہے اور بالغ ہوگیا مگر اُس کا ختنہ نہیں ہوا
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷۔
2…ہیجڑہ۔3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵۔
4…یعنی اس سے جماع،ہمبستری نہیں کی جا سکتی۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷،۶۸۔
و’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵۔
6…کوڑھ ، ایک موذی بیماری۔7…سفید کوڑھ ، ایک بیماری جس کی وجہ سے جسم پرسفید دھبے پڑجاتے ہیں ۔8…آنکھ کاٹیڑھا پن۔
9… وہ شخص جس کی پیٹھ جھک گئی ہو۔
10…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۴۔
ہے یہ عیب ہے اور ابھی نا بالغ ہے یا دارالحرب سے اُسے لائے اس میں یہ عیب نہیں ۔ (1)(فتح)
مسئلہ ۱۷: غلام امرد(2)خریدا پھر معلوم ہواکہ اس نے داڑھی مُنڈائی تھی یا داڑھی کے بال نوچ ڈالے تھے یہ عیب ہے واپس کردیا جائے گا۔(3)(خانیہ)
مسئلہ ۱۸: گندہ دہنی(4)یا بغل میں بو ہونا لونڈی میں عیب ہے غلام میں نہیں ، مگر جبکہ بہت زیادہ ہو تو غلام میں بھی عیب ہے اوراگر دانت مانجھے نہیں (5)اس وجہ سے مونھ سے بو آتی ہے، منجن(6)مسواک سے بو زائل ہو جائے گی، یہ عیب نہیں ۔(7)(عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۹: ناف کے نیچے پیڑو(8)کا پھولا ہونا ، لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے(9) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: لونڈی کی شرمگاہ میں گوشت یا ہڈی کا پیدا ہوجاناجس کی وجہ سے وطی نہ ہوسکے، عیب ہے۔ یوہیں آگے کا مقام بند ہونا بھی عیب ہے۔(10)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: کافر ہونا لونڈی غلام دونوں میں عیب ہے۔ یوہیں بدمذہب ہونا بھی عیب ہے۔(11)(درمختار)
مسئلہ ۲۲: لونڈی کی عمر پندرہ سال کی ہو اور حیض نہ آئے یہ عیب ہے اور اگر صغر سنی یا کبر سنی کی وجہ سے حیض نہ آتا ہو تو عیب نہیں ۔ یہ بات کہ حیض نہیں آتا یہ خود اُسی لونڈی کے کہنے سے معلوم ہوگی اور اگر بائع کہتا ہے کہ اسے حیض آتا ہے تو اُسے قسم دیں گے، اگر قسم کھالے بائع کا قول معتبر ہے اور قسم سے انکار کرے تو عیب ثابت ہے۔ استحاضہ بھی عیب ہے۔(12)(درمختار)
1…’’فتح القدیر‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۸۔ 2…یعنی خوبصورت لڑکا۔
3…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،فصل فی العیوب،ج۱،ص۳۶۷۔ 4…یعنی منہ سے بدبو آنے کی بیماری۔ 5…دانت صاف نہیں کئے۔
6…دانت صاف کرنے کاپاؤڈر۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۷۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۴۔ 8…ناف کے نیچے کا حصہ۔
9…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹۔ 10…المرجع السابق۔
11…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۵۔ 12…المرجع السابق،ص۱۷۶۔
مسئلہ ۲۳: پرانی کھانسی عیب ہے، معمولی کھانسی عیب نہیں ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: مدیون ہونا بھی عیب ہے جبکہ اُس دین کا مطالبہ فی الحال ہوسکتا ہو اور اگرایسا دَین ہے جو آزاد ہونے کے بعد واجب الادا ہوگا تو عیب نہیں ۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۲۵: شراب خواری کی عادت، جوا کھیلنا، جھوٹ بولنا، چغلی کھانا، نماز چھوڑ دینا، بائیں ہاتھ سے کام کرنا(3)، آنکھ میں پربال ہونا(4) ، پانی بہنا، رتوند ہونا،(5) یہ سب عیوب ہیں ۔(6) (عالمگیری، درمختار)
جانوروں کے بعض عیوب
مسئلہ ۲۶: گائے، بھینس، بکری دودھ نہیں دیتی یا اپنا دودھ خو دپی جاتی ہے یہ عیب ہے۔ اور جانور کا کم کھانا بھی عیب ہے بیل کام کے وقت سو جاتا ہے یہ عیب ہے۔ گدھا خریدا، وہ سُست چلتا ہے واپس نہیں کرسکتا مگر جبکہ تیز رفتاری کی شرط کرلی ہو۔ گدھے کا نہ بولنا عیب ہے۔ مُرغ خریدا جو نا وقت بولتا ہے، واپس کرسکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: بکری خریدی ،دیکھا تو اُس کے کان کٹے ہوئے ہیں ، یہ عیب ہے۔ یوہیں قربانی کے لیے کوئی جانور خریدا جس کے کان کٹے ہوئے ہیں یا اُس میں کوئی عیب ایسا ہے جس کی وجہ سے قربانی نہیں ہوسکتی اُسے واپس کرسکتا ہے اور اگر قربانی کے لیے نہ ہو تو واپس نہیں کرسکتا مگر جبکہ عرف میں وہ عیب قرار دیا جائے۔ اگر بائع ومشتری میں اختلاف ہوا مشتری کہتا ہے میں نے قربانی کے لیے خریدا ہے بائع انکار کرتا ہے اگروہ زمانہ قر بانی کا ہواور مشتری اہل قربانی سے ہو تو مشتری کا قول معتبر ہے۔ (8)(خانیہ)
مسئلہ ۲۸: گائے یا بکری نجاست خورہے اگر یہ اُ س کی عادت ہے عیب ہے اور اگر ہفتہ میں ایک دو بار ایسا ہوا تو
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۸۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۹۔
3…یعنی دایاں ہاتھ درست ہونے کے باوجود ہر کام کے لیے صرف بایاں ہاتھ استعمال کرتاہو۔
4…آنکھ کی ایک بیماری جس میں پلکوں کے اندر سے مڑے ہوئے بال نکل آتے ہیں اور آنکھ کے ڈھیلے میں چُبتے رہتے ہیں ۔
5…شب کوری ،آنکھ کی ایک بیماری جس کے سبب رات کو دکھائی نہیں دیتا۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الاول،ج۳،ص۶۹۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۷۹۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۱،۷۲۔
8…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،فصل فی العیوب،ج۱،ص۳۶۹۔
عیب نہیں ۔ کوئی جانور مکھی کھاتا ہے اگر احیاناً (1)ایسا ہو تو عیب نہیں اور اکثر کھاتا ہو تو عیب ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: جانور کے دونوں پاؤں قریب قریب ہیں مگر رانوں میں زیادہ فاصلہ ہے یہ عیب ہے۔ رسی توڑانا یا کسی ترکیب سے گلے سے پگھا (3) نکال لینا عیب ہے۔ گھوڑا سرکش ہے کھڑا ہوجاتا ہے اَڑجاتا ہے لگام لگاتے وقت شوخی(4) کرتا ہے لگانے نہیں دیتا چلنے میں دونوں پنڈلیاں یا پاؤں رگڑکھاتے ہوں یہ سب عیب ہیں ۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: گھوڑا خریدا ،دیکھا کہ اُس کی عمر زیادہ ہے خیار عیب کی وجہ سے اُسے واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر کم عمر کی شرط کرلی ہے تو واپس کرسکتا ہے۔ گائے خریدی وہ مشتری کے یہاں سے بھاگ کر بائع کے یہاں چلی جاتی ہے یہ عیب نہیں ۔(6)(عالمگیری) یعنی جب کہ زیادہ نہ بھاگتی ہو۔
دوسری چیزوں کے عیوب
مسئلہ ۳۱: موزے یا جوتے خریدے وہ اس کے پاؤں میں نہیں آتے واپس کرسکتا ہے اگرچہ خریدتے وقت یہ نہ کہا ہو کہ پہننے کے لیے خریدتاہوں کیونکہ عادۃً (7)ایک جوڑا جوتایاموزہ پہننے ہی کے لیے خریداجاتا ہے۔ جو تاخریدا جو تنگ تھا بائع نے کہہ دیا پہنو ٹھیک ہو جائے گاایک دن پہنا مگر ٹھیک نہ ہوا اب واپس نہیں کرسکتا۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۲: نجس کپڑا خریدا مگر مشتری کو ناپاک ہونا معلوم نہ تھا اب معلوم ہوااگراُس قسم کا کپڑا ہے کہ دھونے سے خراب نہیں ہوگا تو واپس نہیں کرسکتا اور خراب ہوجائے گاتو واپس کرسکتا ہے۔ اُس میں تیل کی چکنائی لگی ہے تو بہر حال واپس کرسکتا ہے۔ (9)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۳: مکان خریدااُس کے دروازہ پر لکھا ہوا پایا یہ فلاں مسجد پر وقف ہے محض اتنی بات سے واپس نہیں
1… کبھی کبھی۔ 2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۲۔
3…وہ لمبی رسی جو جانور کے گلے میں باندھ کرپچھلے پاؤں میں باندھ دیتے ہیں ۔ 4…اچھل کود۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۲۔ 6…المرجع السابق۔
7…عام طورپر۔ 8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳۔
9…المرجع السابق۔
کرسکتاجب تک وقف کا ثبوت نہ ہو۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۴: مکان یا زمین خریدی لوگ اُسے منحوس کہتے ہیں واپس کرسکتا ہے کیونکہ اگر چہ اس قسم کے خیالات کا اعتبار نہیں مگر بیچناچاہے گا تو اس کے لینے والے نہیں ملیں گے اور یہ ایک عیب ہے۔ (2)(عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۳۵: گیہوں (3) خریدے بائع نے اشارہ کرکے بتادیاتھا کہ یہ ہیں اُس کے دانے پتلے یا چھوٹے ہیں تو خیار عیب سے واپس نہیں کرسکتا اور اگر گُھنے ہوئے(4) ہیں یابو دار(5) ہیں تو واپس کرسکتا ہے۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۶: پھل یا ترکاری کی ٹوکری خریدی اُس میں نیچے گھاس بھر ی ہوئی نکلی واپس کرسکتا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: مکان خریدا جس کا پرنالہ دوسرے کے مکان میں گرتا ہے یا اس کی نالی دوسرے کے مکان میں جاتی ہے اور معلوم ہوا کہ اس کا حق نہیں ہے مگر خریداری کے وقت اس کا علم نہیں تھاتو واپس کرسکتا ہے یا اس کی وجہ سے جو کچھ قیمت میں کمی پیدا ہووہ بائع سے واپس لے سکتاہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قرآن مجید یا کتاب خریدی اور اُس کے اندر بعض بعض جگہ الفاظ لکھنے سے رہ گئے ہیں واپس کرسکتا ہے۔(9)(عالمگیری)
موانع ردکیاہیں اورکس صورت میں نقصان لے سکتاہے
مسئلہ ۳۹: عیب پر اطلاع پانے کے بعد مشتری نے اگر مبیع میں مالکانہ تصرف کیا تو واپس کرنے کا حق جاتارہا۔جانور خریدا تھا وہ بیمار تھا اُس کا علاج کیا یا اپنے کام کے لیے اُ س پرسوارہواواپس نہیں کر سکتااور اگر ایک بیماری تھی جس کی بائع نے ذمہ داری نہیں کی تھی اُس کا علاج کیا اور دوسری بیماری جس کا ذکر نہیں آیا تھا وہ ظاہر ہوئی تو اس کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے۔(10) (عالمگیری)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱۔3…گندم۔
4…گھن(ایک کی ڑا جو غلے کو کھاتا ہے)لگے ہوئے۔5…بدبودار۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۳۔
7…المرجع السابق۔ 8…المرجع السابق،ص۷۴۔ 9…المرجع السابق۔ 10…المرجع السابق،ص۷۵۔
مسئلہ ۴۰: جانور پر اُس کو واپس کرنے کی غرض سے سوار ہوا یا سوار ہو کر اُسے پانی پلانے لے گیا یا چارہ خریدنے گیااگر مجبور تھا تو عیب پر رضا مندی نہیں ورنہ ہے۔ عیب پر مطلع ہونے کے بعدمکان خریدکردہ میں (1)سکونت کی (2) یا اُس کی مرمت کی یا اُس کو ڈھادیا اب واپس نہیں کرسکتا۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۱: مبیع کو مشتری نے بیع کردیایا آزاد کردیا یا ہبہ کرکے قبضہ دیدیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: بکری یا گائے خریدی اُ سکا دودھ دوہ کر استعمال کیا پھر عیب پر اطلاع ہوئی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے۔ اور گائے بکری کو مع بچہ کے خریدا ہے اور عیب پر مطلع ہوااس کے بعد بچہ نے دودھ پی لیا واپس کرسکتا ہے چاہے بچہ نے خود ہی پی لیا ہو یا اس نے اُسے چھوڑاتھا کہ پی لے۔ اور اگر مشتری نے دودھ دوہا تو واپس نہیں کرسکتا چاہے خود پی لے یا اُس کے بچہ کو پلادے کہ عیب پر مطلع ہو کر دوہنادلیل رضامندی ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: کنیز(6) خرید کر اُس سے وطی کی اس کے بعد عیب پر مطلع ہواواپس نہیں کرسکتا عیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگربائع نقصان دینا نہیں چاہتا کنیز واپس لینے کے لیے راضی ہے تو واپسی ہوسکتی ہے۔ یوہیں شہوت کے ساتھ چھونایا بوسہ دینا بھی مانع رد ہے۔ اور عیب پر مطلع ہونے کے بعدیہ افعال کیے تونقصان بھی نہیں لے سکتا۔ اور اگراُس کے ساتھ کسی نے زنا کیا جب بھی واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے مگر جبکہ بائع واپس لینے پرطیار ہے۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: غلہ خریدا اُس میں سے کچھ کھالیا یا بیچ دیا پھر عیب پر مطلع ہوا جو کھا چکا ہے اُس کا نقصان لے لے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے جو بیچ چکا ہے اُ س کانقصا ن نہیں لے سکتا۔ آٹا خریدااُس میں سے کچھ گوندھ کر روٹی پکائی معلوم ہوا کہ کڑوا ہے جوپکا چکا ہے اُس کا نقصان لے سکتا ہے اور باقی کو واپس کرسکتا ہے۔ (8)(خانیہ وغیرہ)
1…خریدے ہوئے مکان میں ۔ 2… رہائش اختیار کی ۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۷۵۔
4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:فی أنواع زیادۃ المبیع،ج۷،ص۱۸۷۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث ، ج۳ ،ص۷۵۔ 6… لونڈی۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۷۵۔۷۶۔
8…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۱،وغیرہ۔
مسئلہ ۴۵: کپڑا خریدا اُسے قطع کرایا اور ابھی سلانہیں اُس میں عیب معلوم ہوااُسے واپس نہیں کرسکتا بلکہ نقصان لے سکتا ہے ہاں اگر بائع قطع کیے ہوئے کو واپس لینے پر راضی ہے تو اب نقصان نہیں لے سکتا اور خریدکر بیع کردیا ہے توکچھ نہیں کرسکتا۔ اور اگر قطع کے بعدسِل بھی گیا اور عیب معلوم ہواتو نقصان لے سکتا ہے بائع بجائے نقصان دینے کے واپس لینا چاہے تو واپس نہیں لے سکتا۔(1) (ہدایہ وغیرہ)
مسئلہ ۴۶: کپڑا خریدکر اپنے نا بالغ بچہ کے لیے قطع کرایا(2) اور عیب معلوم ہو اتو نہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر بالغ لڑکے کے لیے قطع کرایا تو نقصان لے سکتا ہے۔ (3)(ہدایہ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۷: مبیع میں مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب(4)پیدا ہوگیا مشتری(5)کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا یا آفت سماوی(6)سے ہواواپس نہیں کرسکتانقصان کا معاوضہ لے سکتا ہے۔ اور اگر بائع کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی واپس نہیں کرسکتا بلکہ دونوں عیبوں سے جونقصان ہے اُن کا معاوضہ لے سکتا ہے۔ اور اگر اجنبی کے فعل سے دوسرا عیب پیدا ہوا تو عیب اول کا نقصان بائع سے لے اور دوسرے عیب کا اُس اجنبی سے۔ اوراگر بیع کے بعد(7) مگر قبضہ سے پہلے بائع کے فعل سے یا خود مبیع کے فعل سے(8) یا آفت سماوی سے عیب جدید پیدا ہوا تو مشتری کو اختیار ہے کہ بیع کو رد کردے یعنی نہ لے یا لے لے اور جو نقصان ہو اہے اُس کے عوض میں ثمن سے کم کردے۔ اور اگر اجنبی کے فعل سے وہ عیب پیدا ہوا ہے جب بھی اختیارہے کہ مبیع کو لے یا نہ لے، اگر مبیع کولیتا ہے تونقصان کا معاوضہ اُس اجنبی سے لے سکتا ہے۔ اور اگرخود مشتری کے فعل سے عیب پیدا ہوا ہے تو پورے ثمن کے ساتھ لینا پڑے گااورنقصان کامطالبہ نہیں کرسکتا۔ (9)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۸: جو چیز ایسی ہو کہ اُس کی واپسی میں مزدوری صرف کرنی پڑے تو جہاں عقد بیع ہوا ہے وہاں پہنچانا مشتری کے ذمہ ہے یعنی مزدوری وغیرہ مشتری کو دینی پڑے گی۔(10) (درمختار)
مسئلہ ۴۹: جانور خریدا اُسے ذبح کردیا اب معلوم ہوا کہ اسکی آنتیں خراب ہوگئی تھیں تو نقصان نہیں لے سکتا
1…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۸،وغیرہ۔ 2…کٹوایا۔
3…’’الھدایۃ‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۲،ص۳۸۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۴۔
4… نیا عیب۔ 5…خریدار۔ 6…قدرتی آفت جیسے جلنا،ڈوبنا وغیرہ۔7…سودا طے ہونے کے بعد۔
8…خریدی ہوئی چیز کے اپنے فعل سے مثلاًگائے خریدی اس نے اونچی جگہ سے چھلانگ لگائی تو ٹانگ ٹوٹ گئی۔
9…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱۔
10…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۱و۱۴۸۔
اوراگرذبح سے پہلے عیب پر مطلع ہوچکا تھا پھر ذبح کردیا جب بھی نقصان نہیں لے سکتا مگر جبکہ یہ معلوم ہو کہ ذبح نہ کیا جائے گا تومرجائے گا اس صورت میں نقصان لے سکتا ہے۔ (1)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: مبیع میں کچھ زیادتی کردی مثلاً کپڑے کو سی دیا یا رنگ دیا یا ستو میں گھی شکر وغیرہ ملا دیا یا زمین میں پیڑ نصب کردیے(2)یا تعمیر کرائی یا اُس کو بیع کردیا اگرچہ بیچنا عیب پر مطلع ہونے کے بعدہو یا مبیع ہلا ک ہوگئی ان سب صورتوں میں نقصان لے سکتا ہے واپس نہیں کرسکتا ہے اگر وہ دونوں واپسی پر رضا مند بھی ہو جائیں جب بھی قاضی حکم واپسی کا نہیں دے سکتا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: انڈا خریدا، توڑا تو گندہ نکلا، کل دام واپس ہونگے کہ وہ بیکار چیز ہے بیع (4)کے قابل نہیں ہاں شتر مرغ کا انڈا جس میں چھلکا مقصود ہوتا ہے اکثر لوگ اُسے زینت کی غرض سے رکھتے ہیں اُس کی بیع باطل نہیں عیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ خربزہ۔ تر بز ۔ کھیرا خریدااور کاٹا تو خراب نکلایا بادام، اخروٹ خریدا توڑنے پر معلوم ہوا کہ خراب ہے مگر باوجود خرابی کا م کے لائق ہے کم سے کم یہ کہ جانور ہی کے کھلانے میں کام آسکتا ہے تو واپس نہیں کرسکتا نقصان لے سکتا ہے اور اگر بائع کٹے ہوئے یا ٹوٹے ہوئے کو واپس لینے پر طیار ہے تو واپس کردے نقصان نہیں لے سکتا۔ اور اگر عیب معلوم ہو جانے کے بعد کچھ بھی کھا لیا تو نقصان بھی نہیں لے سکتا ۔ اور اگر چکھا اور عیب معلوم ہونے کے بعد چھوڑدیا کچھ نہ کھایا تو نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے سے پہلے ہی مشتری کو عیب معلوم ہوگیا تو اُسی حالت میں واپس کردے کاٹے توڑے گا تونہ واپس کرسکتا ہے نہ نقصان لے سکتا ہے۔ اور اگر کاٹنے توڑنے کے بعد معلوم ہواکہ یہ چیزیں بالکل بیکار ہیں مثلاً کھیرا کڑو اہے یا بادام۔ اخروٹ میں گری نہیں ہے۔ تر بز یا خربزہ سٹرا ہوا ہے تو پورے دام(5) واپس لے بیع باطل ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: گیہوں (7)وغیرہ غلہ خریدا اُس میں خاک ملی ہوئی نکلی اگر خاک اُتنی ہی ہے جتنی عادۃًہواکر تی ہے واپس نہیں کرسکتا اور عادت سے زیادہ ہے توکل واپس کردے اور اگرگیہوں رکھناچاہتا ہے خاک کو الگ کرکے واپس کرنا چاہتاہے یہ نہیں کرسکتا۔(8)(عالمگیری، ردالمحتار)
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۷،وغیرہ۔ 2…درخت لگادیئے۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۱۸۸۔ 4… یعنی فروخت۔5…پوری قیمت۔
6…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:یرجح القیاس،ج۷،ص۱۹۵۔7… گندم۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثانی،ج۳،ص۷۴۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجدفی الحنطۃترابًا،ج۷،ص۱۹۷۔
مسئلہ ۵۳: گیہوں میں کچھ خاک ملی تھی اُڑگئی اور وزن کم ہوگیا یا گیہوؤں میں نمی تھی خشک ہو کر وزن کم ہوگیا واپس نہیں کرسکتا۔ (1)(خانیہ)
مسئلہ ۵۴: مشتری(2)نے مبیع کو بیع کردیااور اُسے عیب کی خبر نہ تھی مشتری ثانی(3)نے عیب کی وجہ سے حکم قاضی سے واپس کیا تومشتری اول بائع اول کو وہ چیز واپس کرسکتا ہے۔ یہ اُس وقت ہے جب مشتری ثانی نے گواہوں سے یہ ثابت کیاہو کہ اس چیز میں اُس وقت سے عیب ہے جب بائع اول کے پاس تھی اور اگر گواہوں سے مشتری کے پاس عیب ثابت کیا ہو تو بائع اول پر رد نہیں کرسکتا اور اگر واپس کرنے کے بعدمشتری اول نے یہ کہدیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے تو واپس نہیں کرسکتا۔ یہ تمام باتیں اُس وقت ہیں جب مبیع پر قبضہ ہوچکا ہواور قبضہ نہ ہوا ہو تو مطلقاًواپس کرسکتا ہے چاہے قضاء ے قاضی سے واپسی ہو یا اس کے بغیر کیونکہ بیع ثانی اس صورت میں صحیح ہی نہیں مگر جائداد غیر منقولہ(4)میں بغیر قبضہ بھی بیع ہوسکتی ہے، اس میں قبضہ اور غیر قبضہ کا فرق نہیں ۔ (5)(درمختا، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۵: مشتری ثانی نے مشتری اول کو اس کی رضا مندی سے چیز واپس کردی تو یہ بائع اول کو واپس نہیں کرسکتا اگرچہ وہ عیب ایسا نہ ہو جومشتری اول کے یہاں پیدا ہوسکتا ہومثلاً غلام کے پانچ کی جگہ چھ اُنگلیاں ہیں کہ یہ واپسی حق ثالث میں بیع جدید قرار پائے گی۔ یوہیں بائع کے وکیل نے اگر مبیع کی واپسی اپنی رضا مندی سے کرلی تو مؤکل کو واپس نہیں کرسکتا کہ مؤکل کے لحاظ سے یہ فسخ نہیں بلکہ بیع جدید ہے اور اگر قضاء ے قاضی(6)سے واپسی ہوئی تو مؤکل پر بھی واپسی ہوگئی کہ جب بیع فسخ ہوگئی وہ چیز مؤکل کی ہوگئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار) ۔
مسئلہ ۵۶: مشتری نے مبیع پر قبضہ کرنے کے بعد عیب کا دعویٰ کیا تو ثمن دینے پر مجبور نہیں کیا جاسکتا بلکہ مشتری سے اثبات عیب کے گواہ طلب کیے جائیں گے اور گواہ نہ ہوں تو بائع پر حلف دیا جائے گا اور بائع قسم کھاجائے کہ عیب نہیں تھا تو ثمن دینے کا حکم ہوگا اور اگر مشتری نے پہلے یہ کہا کہ میرے گواہ نہیں ہیں پھر کہتا ہے گواہ پیش کروں گاتو گواہ قبول کرلیے
1…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۳۔
2…خریدار۔3…دوسرا خریدار۔4…وہ جائداد جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہ کی جاسکتی ہو۔
5…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجد فی الحنطۃ ترابًا،ج۷،ص۱۹۷۔
6…قاضی کا فیصلہ۔
7…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:وجد فی الحنطۃ ترابًا،ج۷،ص۱۹۷۔
جائیں گے۔ اور اگر مشتری کے پاس گواہ نہیں ہیں او ر بائع قسم سے انکار کرتا ہے تو عیب کا حکم ہوگا۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۷: گواہ مشتری یا حلف بائع کی اُس وقت ضرورت ہے جب وہ عیب مخفی(2) ہو مثلاً بھاگنا چوری کرنا اور اگر عیب ظاہر ہو مثلاً کانا، بہرا، گونگا ہے یا اُس کی اُنگلیاں زائد یا کم ہیں تو نہ گواہ کی حاجت نہ قسم کی ضرورت ہاں اگر بائع یہ کہے کہ مشتری کو خریدنے کے وقت عیب کا علم تھا یا بعد خریدنے کے عیب پر راضی ہوگیا یا میں عیب سے بری الذمہ ہوچکا تھا تو بائع کو ان امورپر(3) گواہ پیش کرنے پڑیں گے گواہ نہ لاسکے تو مشتری پر حلف دیا جائے گا قسم کھالے گاواپس کردیا جائے گا ورنہ واپس نہیں کرسکتا۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: وہ عیوب جن میں طبیب کی ضرورت ہوتی ہے مثلاً ورم جگر،(5)ورم طحال(6) یا کوئی دوسری پوشیدہ بیماری ان میں ایک طبیب عادل نے اس بیماری کا ہونا بیان کردیا تو دعوٰے قابل سماعت ہے رہا یہ امر کہ یہ بیماری بائع کے یہاں موجود تھی اس کے لیے دو ۲ عادل طبیب کی شہادت درکا ر ہوگی۔ اور جو عیوب ایسے ہیں جن پر عورتوں ہی کو اطلاع ہوتی ہے ان میں ایک عورت کے قول سے عیب کا ثبوت ہوگا مگر بیع فسخ کرنے کے لیے یہ ضرور ہے کہ بائع کو حلف دیں اگر وہ قسم کھالے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو واپس نہیں کرسکتا قسم سے انکار کرے تو واپس کردے گا۔ (7)(درمختار)
مسئلہ ۵۹: جو عیب ظاہر ہے اور اتنی مدت میں پیدا نہیں ہوسکتا جب سے بیع ہوئی ہے تو یہاں بھی گواہ یا حلف کی حاجت نہیں ہاں اگر اس مدت میں پیدا ہوسکتاہے اور بائع یہ کہتا ہے کہ میرے یہاں یہ عیب نہ تھا تو گواہ یا حلف کی حاجت ہوگی۔ (8)(عالمگیری)
مسئلہ ۶۰: مبیع کے کسی جز کے متعلق کسی نے دعوے کرکے اپنا حق ثابت کردیا اگر مشتری نے قبضہ نہیں کیا ہے تو اختیار ہے کہ باقی کو لے یا نہ لے اور قبضہ کرچکا ہے اور وہ چیز قیمی ہے جب بھی اختیارہے کہ لے یا واپس کردے اور وہ چیزمثلی ہے تو باقی کو واپس نہیں کرسکتا بلکہ جوکچھ اسکا حصہ ہے یہ لے لے اور جو دوسرے حقدار کاہے وہ لے لے گا۔ اور دو چیزیں خریدی ہیں
1…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:قبض من غریمہ دراھم۔۔۔إلخ،ج۷،ص۲۰۱۔
2…پوشیدہ۔ 3… یعنی ان باتوں پر۔
4…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:قبض من غریمہ دراھم۔۔۔إلخ،ج۷،ص۲۰۴۔
5…جگر کی سوجن،جگر کی بیماری وغیرہ۔ 6…تلی کی سوجن،تلی کی بیماری وغیرہ۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۴۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الرابع،ج۳،ص۸۶۔
اور ایک پر قبضہ کرلیا یا اب تک کسی پر قبضہ نہیں کیا ہے اور ایک میں کسی نے اپنا حق ثابت کردیا تومشتری کو اختیار ہے کہ دوسری کو لے لے یا چھوڑ دے اور دونوں پر قبضہ کرچکا ہے تو اختیار نہیں یعنی دوسری کولینا ضروری ہے واپس نہیں کرسکتا۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶۱: قبضہ کے بعد مبیع میں اختلاف ہوا کہ ایک ہے یا زیادہ تاکہ عیب کی صورت میں واپسی ہو تو یہ معلوم ہوسکے ثمن کتنا واپس کیا جائے گایا مبیع میں اختلاف نہیں مگر کتنے پر قبضہ ہوااس میں اختلاف ہے ان دونوں صورتوں میں مشتری کا قول معتبر ہے اور اگر خیار عیب میں مبیع کی واپسی کے وقت بائع کہتا ہے یہ وہ چیز نہیں ہے مشتری کہتا ہے وہی ہے تو بائع کا قول معتبر ہے اور خیار شرط یا خیار رویت میں مشتری کا قول معتبر ہے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: مشتری جانور کو پھیرنے(3) لایا کہ اس کے زخم ہے میں نہیں لوں گا بائع کہتا ہے کہ یہ وہ زخم نہیں ہے جو میرے یہاں تھا وہ اچھا ہوگیا یہ دوسرا ہے تو مشتری کا قول معتبر ہے۔(4) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۳: دوچیزیں ایک عقد میں خریدیں اگر ہر ایک تنہا کام میں آتی ہو جیسے دوغلام دو کپڑے اور ابھی دونوں پر قبضہ نہیں کیا ہے کہ ایک کے عیب پر مطلع ہوا تو اختیار ہے لینا ہو تو دونوں لے، پھیرنا ہو تو دونوں پھیرے مگر جبکہ بائع ایک کے پھیرنے پر راضی ہو تو فقط ایک کوبھی واپس کرسکتا ہے اور اگر دونوں پر قبضہ کرلیاہے توجس میں عیب ہے اُسے واپس کردے دونوں کو واپس کرنا چاہے تو بائع کی رضا مندی درکار ہے اور اگر قبضہ سے پہلے ایک کا عیب دار ہونا معلوم ہوگیا اور اسی پر قبضہ کرلیا تو دوسری کو لینا بھی ضروری ہے اور دوسری پر قبضہ کیا تو اختیار ہے دونوں کو لے یا دونوں کو پھیر دے اوراگر دونوں ایک ساتھ کام میں لائی جاتی ہوں تنہا ایک کام کی نہ ہو جیسے موزے اورجوتے کے جوڑے۔ چوکھٹ بازو(5) یا بیلوں کی جوڑی جبکہ وہ آپس میں ایسا اتحاد رکھتے ہوں کہ ایک کے بغیر دوسرا کام ہی نہ کرے تو دونوں پر قبضہ کیا ہویا ایک پر قبضہ کیا ہو دونوں حال میں ایک ہی حکم ہے کہ لینا چاہے تو دونوں لے اور پھیرے(6) تودونوں پھیرے۔ (7)(درمختار، فتح، خانیہ)
مسئلہ ۶۴: مبیع میں نیا عیب پیدا ہوگیا تھا جس کی وجہ سے بائع کو واپس نہیں کرسکا تھا اب یہ عیب جاتا رہا تو اُس
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۶،۲۰۷۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۱۳۔
3…واپس کرنے۔
4…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:مھم فی اختلاف البائع والمشتری۔۔۔إلخ،ج۷،ص۲۱۴۔
5…چوکھٹ کے دونوں پہلو،چوکھٹ کی لمبی لکڑیاں ۔ 6…واپس کرے۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۰۷۔
و’’فتح القدیر‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۶،ص۲۹۔
و’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،فصل فیمایرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۲۔
پُرانے عیب کی وجہ سے واپس کرسکتا ہے اور جونقصان لیا ہے اُسے بھی واپس کرنا ہوگا۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۶۵: غلام خریدا تھا اور اُس پرقبضہ بھی کرلیا وہ کسی ایسے جُرم کی وجہ سے قتل کیا گیا جو بائع کے یہاں اُس نے کیا تھا تو پورا ثمن بائع سے واپس لے گا اور اگر اُس کاہاتھ کاٹا گیا اور جرم بائع کے یہاں کیا تھا تومشتری کو اختیار ہے کہ اُس کوواپس کردے یا رکھ لے اور آدھا ثمن واپس لے۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۶۶: کوئی چیز بیع کی اور بائع نے کہدیا کہ میں ہر عیب سے بری الذمہ ہوں (3)یہ بیع صحیح ہے اور اس مبیع کے واپس کرنے کا حق باقی نہیں رہتا۔ یوہیں اگر بائع نے کہدیا کہ لینا ہو تو لو اس میں سو طرح کے عیب ہیں یا یہ مٹی ہے یا اسے خوب دیکھ لو کی سی بھی ہو میں واپس نہیں کروں گا یہ عیب سے براء ت ہے۔ (4)جب ہر عیب سے براء ت کرلے تو جو عیب وقت عقد موجود ہے یا عقد کے بعد قبضہ سے پہلے پیدا ہوا سب سے براء ت ہوگئی۔(5) (درمختار، ردالمحتاروغیرہما)
مسئلہ ۶۷: کوئی چیز خریدی اس کا کوئی خریدار آیا اُس سے کہا اسے لے لو اس میں کو ئی عیب نہیں ہے اور اتفاق سے اُس نے نہیں خریدی پھر مشتری نے اُس میں کوئی عیب دیکھا تو واپس کرسکتا ہے اور اُس کا پہلے یہ کہنا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے مضر(6) نہیں کہ اس سے مقصود تر غیب ہے اور اگر اُس نے کسی عیب کا نام لے کر کہا کہ یہ عیب اس میں نہیں ہے اور بعد میں وہی عیب اُس میں موجود ملا تو واپس نہیں کرسکتا ہاں اگر ایسے عیب کا نام لیا جو اس دوران میں پیدا نہیں ہوسکتا جیسے اُنگلی کا زائد ہونا تو واپس کرسکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۶۸: بکری یا گائے یا بھینس کا دودھ بائع نے دو ایک وقت نہیں دوہا اور اُسے یہ کہکر بیچا کہ اس کے دودھ زیادہ ہے اور دودھ دوہ کر دکھا بھی دیا مشتری نے دھوکا کھا کر خریدلیا اب دوہتا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اُتنا دودھ نہیں ہے اس کو واپس نہیں کرسکتا ہاں جو نقصان ہے بائع سے لے سکتا ہے۔(8) (درمختار)
مسئلہ ۶۹: مشتری نے واپس کرنا چاہا بائع نے کہا واپس نہ کرومجھ سے اتنا روپیہ لے لو اور اس پر مصالحت ہوگئی یہ
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۱۹۔
2…المرجع السابق،ص۲۲۰۔ 3…یعنی میں ہرعیب کی ذمہ داری سے بری ہوں ۔
4…یعنی اگراب عیب نکلاتوبیچنے والے پرلازم نہیں کہ وہ چیزواپس لے ۔
5…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،با ب خیارالعیب،مطلب:فی البیع بشرط البراء ۃ۔۔۔إلخ،ج۷،ص۲۲۱،وغیرہما۔
6… نقصان دہ۔ 7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۲۲۔ 8…المرجع السابق،ص۲۲۳۔
جائز ہے اور اس کا مطلب یہ ہوا کہ بائع نے ثمن میں سے اتنا کم کردیا۔ اور بائع اگر واپس کرنے سے انکار کرتا ہے مشتری نے یہ کہا کہ اتنے روپے مجھ سے لے لو اور مبیع کو واپس کرلو،یوں مصالحت(1)نا جائز ہے اوریہ روپے جو بائع لے گاسود اور رشوت ہے مگر جب کہ مشتری کے یہاں کوئی جدید عیب پیدا ہوگیا ہو یا بائع اس سے منکر ہے کہ وہ عیب اُ س کے یہاں مبیع میں تھا تویہ مصالحت بھی جائز ہے۔ (2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۷۰: ایک شخص نے دوسرے کو کسی چیز کے خریدنے کا وکیل کیا تھا وکیل نے مبیع میں عیب دیکھ کر رضامندی ظاہر کردی اگر ثمن اتنا ہے کہ اُس عیب والی چیز کا اُتنا ہی ہونا چاہیے تو مؤکل کو لینا پڑیگااور اگر ثمن زیادہ ہے تو موکل پر یہ بیع لازم نہیں ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۷۱: کوئی چیز خریدی پھر اُ س کی بیع کے لیے دوسرے کو وکیل کردیا ا س کے بعد اُس کے عیب پر اطلاع ہوئی اگرمؤکل کے سامنے وکیل نے بیچنا چاہا یااُ س کو خبر دی گئی کہ وکیل اُسکا دام کررہا ہے اورمؤکل نے منع نہ کیا تو عیب پر رضا مندی ہوگئی فرض کیا جائے کہ نہ بکی تو واپس نہیں کرسکتا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۲: یہ جا بجا کہا گیا ہے کہ عیب سے جو نقصان ہے وہ لے گا اس کی صورت یہ ہے کہ اُس چیز کوجانچنے والوں کے پاس پیش کیا جائے اُس کی قیمت کا وہ اندازہ کریں کہ اگر عیب نہ ہوتا تویہ قیمت تھی اور عیب کے ہوتے ہوئے یہ قیمت ہے دونوں میں جوفرق ہے وہ مشتری(5) بائع(6) سے لے گا مثلاً عیب ہے تو آٹھ روپے قیمت ہے نہ ہوتا تو دس روپے تھی دوروپے بائع سے لے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۳: جانور خریداتھا قبضہ کے بعد عیب پر مطلع ہوا اُسے واپس کرنے بائع کے پاس لے جارہاتھاراستہ میں مرگیاتومشتری کا جانور مرا البتہ اگر گواہوں سے عیب ثابت کردے گاتوعیب کا نقصان لے سکتا ہے۔ (8)(عالمگیری)
1…آپس میں صلح کرنا۔
2…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،مطلب:فی الصلح عن العیب،ج۷،ص۲۲۸۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب خیارالعیب،ج۷،ص۲۲۹۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴۔
5…خریدار۔ 6…فروخت کرنے والا۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴۔ 8…المرجع السابق۔
مسئلہ ۷۴: ایک شخص نے گابھن گائے(1) کے بدلے میں بیل خریدا اور ہر ایک نے قبضہ بھی کرلیا گائے کے بچہ پیدا ہوا اور دوسرے نے دیکھا کہ بیل میں عیب ہے بیل کو اُس نے واپس کردیا تو گائے میں چونکہ بچہ پیدا ہونے کی وجہ سے زیادتی ہوچکی ہے وہ واپس نہیں کی جاسکتی گائے کی قیمت جو ہو وہ واپس دلائی جائے گی۔(2)(عالمگیری)
مسئلہ ۷۵: زمین خرید کر اُس کو مسجد کردیا پھر عیب پر مطلع ہواتو واپس نہیں کرسکتا نقصان جوکچھ ہے لے لے۔ زمین کو وقف کیا ہے جب بھی یہی حکم ہے کہ واپس نہیں کرسکتا ہے نقصان لے لے۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۷۶: کپڑا خرید کر مُردہ کاکفن کیا اس کے بعد عیب پر مطلع ہوا اگر وارث نے ترکہ سے کفن خریدا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر کسی اجنبی نے اپنی طرف سے خرید کر دیا تو نہیں لے سکتا۔ (4) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۷: درخت خریدا تھا کہ اُس کی لکڑی کی چیزیں بنائے گامثلاً چوکھٹ(5) ، کی واڑ(6) ، تخت وغیرہ مگر کاٹنے کے بعد معلوم ہوا کہ یہ ایندھن ہی کے کام آسکتا ہے تو نقصان لے سکتا ہے اور اگر ایندھن ہی کے لیے خریدا تھا تو نقصان نہیں لے سکتا۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۷۸: روٹی خریدی اور جو نرخ اُس کا معروف ومشہور ہے اُس سے کم دی ہے توجو کمی(8) ہے بائع سے وصول کرے اسی طرح ہر وہ چیز جس کا نرخ مشہور ہے اُس سے کم ہو تو بائع سے کمی پوری کرائے۔(9) (عالمگیری)
1…وہ گائے جس کے پیٹ میں بچہ ہو،حاملہ گائے۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵ ۔
3…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب البیع،فصل فیما یرجع بنقصان العیب،ج۱،ص۳۷۱۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیارالعیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵۔
5…دروازے کا چکور گھیرا جس میں پٹ لگائے جاتے ہیں ۔ 6…دروازہ ،کھڑکی یا روشندان وغیرہ کو بند کرنے یا کھولنے کا پٹ۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۵۔
8…یہ حکم اُس وقت ہے کہ بائع نے مشتری پر یہ ظاہر نہ کیا ہو کہ مثلاً ایک آنے کی اتنی روٹیاں دوں گا بلکہ اس نے کہا، اتنے کی روٹی دو اس نے دیدی اور اگر بائع نے ظاہر کر دیا کہ اتنی دوں گا اور مشتری راضی ہوگیا تو اب کمی پوری کرنے کا حق نہیں ہے۔ ۱۲ منہ
9…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب البیوع،الباب الثامن فی خیار العیب۔۔۔إلخ،الفصل الثالث،ج۳،ص۸۴۔
غبن فاحش میں ردکے احکام
مسئلہ ۷۹: کوئی چیز غبن فاحش کے ساتھ خریدی ہے اس کی دوصورتیں ہیں دھوکا دیکر نقصان پہنچایا ہے یانہیں اگر غبن فاحش کے ساتھ دھوکا بھی ہے تو واپس کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔ غبن فاحش کا یہ مطلب ہے کہ اتنا ٹوٹا(1)ہے جو مقومین (2) کے اندازہ سے باہر ہو مثلاً ایک چیز دس روپے میں خریدی کوئی اس کی قیمت پانچ بتاتا ہے کوئی چھ کوئی سات تو یہ غبن فاحش ہے اور اگر اس کی قیمت کوئی آٹھ بتاتا کوئی نو کوئی دس تو غبن یسیرہوتا۔ دھوکے کی تین صورتیں ہیں کبھی بائع مشتری(3) کو دھوکادیتا ہے پانچ کی چیز دس میں بیچ دیتا ہے اور کبھی مشتری بائع کو کہ دس کی چیز پانچ میں خریدلیتا ہے کبھی دلال(4) دھوکا دیتا ہے ان تینوں صورتوں میں جس کو غبن فاحش کے ساتھ نقصان پہنچاہے واپس کرسکتا ہے اور اگر اجنبی شخص نے دھوکا دیا ہو تو واپس نہیں کرسکتا۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۸۰: ایک شخص نے زمین یا مکان خریدا اور بائع کو دھوکادیکر نقصان پہنچادیا مثلاً ہزار روپے کی چیز کو پانسو میں خریدا مگر شفیع(6)نے شفعہ کرکے وہ چیز مشتری سے لے لی تو بائع شفیع سے واپس نہیں لے سکتا کیونکہ شفیع نے اس کو دھوکا نہیں دیا ہے دھوکا دینے والا مشتری ہے۔ (7) (ردالمحتار)
مسئلہ ۸۱: جس چیز کو غبن فاحش کے ساتھ خریدا ہے اور اُسے دھوکا دیا گیا ہے اُس چیزکو کچھ صرف (8) کر ڈالنے کے بعد اس کا علم ہوا تو اب بھی واپس کرسکتا ہے یعنی جو کچھ وہ چیز بچی وہ اور جو خرچ کرلی ہے اُس کی مثل واپس کرے اور پورا ثمن واپس لے۔ (9) (درمختار)
مسئلہ ۸۲: ایک شخص نے لوگوں سے کہہ دیا کہ یہ میرا غلام یا لڑکا ہے اس سے خرید فروخت کرو میں نے اس
1…گھاٹا،نقصان۔ 2…مقوم کی جمع ،قیمت لگانے والے۔ 3…خریدار۔ 4…سوداکرانے والا۔
5…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع، باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:فی الکلام ۔۔۔إلخ،ج۷ ،ص۳۷۶۔۳۷۷۔
6…شفعہ کاحق رکھنے والا ۔ 7…’’ردالمحتار‘‘،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،مطلب:فی الکلام۔۔۔إلخ،ج۷،ص۳۷۷۔
8… خرچ۔ 9…’’الدرالمختار‘‘،کتاب البیوع،باب المرابحۃ والتولیۃ،ج۷،ص۳۷۷۔۳۷۸۔
کواجازت دیدی ہے اُس کی نسبت بعد میں معلوم ہواکہ غلام نہیں بلکہ حُر(1) ہے یا اُس کا لڑکا نہیں ہے دوسرے شخص کا ہے توجوکچھ لوگوں کے مطالبے ہیں اُس کہنے والے سے وصول کرسکتے ہیں کہ اُس نے دھوکا دیا ہے۔ (2) (درمختار)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع