30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رجعت کا بیان
اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے :
{ وَ بُعُوْلَتُهُنَّ اَحَقُّ بِرَدِّهِنَّ فِيْ ذٰلِكَ اِنْ اَرَادُوْۤا اِصْلَاحًا{ (5)
1… ’’الدر المختار‘‘ و’’رد المحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب طلاق المریض،مطلب:حال فشوالطاعون۔۔۔الخ،ج۵،ص۱۹۔
2… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الخامس في طلاق المریض، ج۱، ص۴۶۴۔
3… المرجع السابق،ص۴۶۴،۴۶۵۔
4…’’الدر المختار‘‘، کتاب الطلاق،باب طلاق المریض ،ج۵،ص۲۴۔
5…پ ۲،البقرۃ: ۲۲۸۔
مطلقات رجعیہ کے شوہروں کو عدّت میں واپس کرلینے کا حق ہے، اگر اصلاح مقصود ہو۔
اور فرماتا ہے:
{ وَ اِذَا طَلَّقْتُمُ النِّسَآءَ فَبَلَغْنَ اَجَلَهُنَّ فَاَمْسِكُوْهُنَّ بِمَعْرُوْفٍ { (1)
جب عورتوں کو طلاق دو اور اُن کی عدّت پوری ہونے کے قریب پہنچ جائے تو اُن کو خوبی کی ساتھ روک سکتے ہو۔
حدیث ۱: حضرت عبداللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنہما نے اپنی زوجہ کو طلاق دی تھی حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو جب اسکی خبر پہنچی تو حضرت عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ارشاد فرمایا: کہ ’’ اُن کو حکم کرو کہ رجعت کر لیں ۔‘‘ (2)
مسئلہ ۱: رجعت کے یہ معنیٰ ہیں کہ جس عورت کو رجعی طلاق دی ہو، عدّت کے اندر اُسے اُسی پہلے نکاح پر باقی رکھنا۔(3)
مسئلہ ۲: رجعت اُسی عورت سے ہو سکتی ہے جس سے وطی کی ہو، اگر خلوت صحیحہ ہوئی مگر جماع نہ ہوا تو نہیں ہوسکتی اگرچہ اُسے شہوت کے ساتھ چُھوا یا شہوت کے ساتھ فرجِ داخل (4)کی طرف نظر کی ہو۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ یہ عورت میری مدخولہ ہے تو اگر خلوت ہوچکی ہے رجعت کرسکتا ہے ورنہ نہیں ۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: رجعت کو کسی شرط پر معلق کیا یا آئندہ زمانہ کی طرف مضاف کیا مثلاً اگر تو گھر میں گئی تو میرے نکاح میں واپس ہو جائے گی یا کل تو میرے نکاح میں واپس آجائے گی تو یہ رجعت نہ ہوئی اور اگر مذاق یا کھیل یا غلطی سے رجعت کے الفاظ کہے تو رجعت ہوگئی۔(7) (بحر)
مسئلہ ۵: کسی اور نے رجعت کے الفاظ کہے اور شوہر نے جائز کر دیا تو ہوگئی۔ (8)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: رجعت کا مسنون طریقہ یہ ہے کہ کسی لفظ سے رجعت کرے اور رجعت پر دو عادل شخصوں کو گواہ کرے اور
1…پ۲، البقرۃ:۲۳۱۔
2…’’سنن النسائي‘‘، کتاب الطلاق، باب وقت الطلاق للعدۃ۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۳۳۸۶، ص۵۵۲۔
3… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۶۔
4…عورت کی شرمگاہ کااندرونی حصہ۔
5… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘، المرجع السابق۔
6… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۷۰۔
7…’’البحرالرائق‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۸۳۔
8… ’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۷۔
عورت کو بھی اس کی خبر کردے کہ عدّت کے بعد کسی اور سے نکاح نہ کرلے اور اگر کرلیا تو تفریق کردی جائے اگرچہ دخول کر چکا ہو کہ یہ نکاح نہ ہوا۔ اور اگر قول سے رجعت کی مگر گواہ نہ کیے یا گواہ بھی کیے مگر عورت کو خبر نہ کی تو مکروہ خلافِ سنت ہے مگر رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر فعل سے رجعت کی مثلاً اُس سے وطی کی یا شہوت کے ساتھ بوسہ لیا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کی تو رجعت ہو گئی مگر مکروہ ہے۔ اُسے چاہیے کہ پھر گواہوں کے سامنے رجعت کے الفاظ کہے۔(1) (جوہرہ)
مسئلہ ۷: شوہر نے رجعت کرلی مگر عورت کو خبر نہ کی اُس نے عدّت پوری کرکے کسی سے نکاح کرلیا اور رجعت ثابت ہوجائے تو تفریق کردی جائے گی اگرچہ دوسر ا دخول بھی کر چکا ہو۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۸: رجعت کے الفاظ یہ ہیں میں نے تجھ سے رجعت کی یا اپنی زوجہ سے رجعت کی یا تجھ کو واپس لیا۔ یا روک لیا یہ سب صریح الفاظ ہیں کہ اِن میں بِلا نیت بھی رجعت ہو جائیگی۔ یا کہا تو میرے نزدیک ویسی ہی ہے جیسی تھی یا تو میری عورت ہے تو اگر بہ نیت رجعت یہ الفاظ کہے ہوگئی ورنہ نہیں اور نکاح کے الفاظ سے بھی رجعت ہو جاتی ہے۔ (3)(عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۹: مطلقہ سے کہا تجھ سے ہزار روپے مہر پر میں نے رجعت کی ، اگر عورت نے قبول کیا تو ہو گئی، ورنہ نہیں ۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: جس فعل سے حرمت مصاہرت ہوتی ہے اُس سے رجعت ہوجائیگی مثلاً وطی کرنا یا شہوت کے ساتھ مونھ یا رخسار یا ٹھوڑی یا پیشانی یا سر کا بوسہ لینا یا بلاحائل (5) بدن کو شہوت کے ساتھ چھونا یا حائل ہو تو بدن کی گرمی محسوس ہو یا فرج داخل کی طرف شہوت کے ساتھ نظر کرنا اور اگر یہ افعال شہوت کے ساتھ نہ ہوں تو رجعت نہ ہوگی اور شہوت کے ساتھ بلا قصد رجعت (6) ہوں جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ اور بغیر شہوت بوسہ لینا یا چھونا مکروہ ہے جبکہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں اُسے برہنہ(7) دیکھنا بھی مکروہ ہے۔(8) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۱: عورت نے مرد کا بوسہ لیا یا چھوا خواہ مرد نے عورت کو اس کی قدرت دی تھی یا غفلت میں یا زبردستی عورت
1… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الرجعۃ ، الجزء الثانی، ص۶۵۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۰۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۶۸، وغیرہ۔
4… المرجع السابق، ص۴۶۹۔
5…بغیر آڑکے۔ 6…رجعت کے ارادہ کے بغیر۔ 7…بے لباس۔
8… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،المرجع السابق، و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۲۷،۲۸۔
نے ایسا کیایا مرد سورہا تھا یا بوہرا یا مجنون ہے اور عورت نے ایسا کیا جب بھی رجعت ہوگئی جبکہ مرد تصدیق کرتا ہو کہ اُس وقت شہوت تھی اوراگر مرد شہوت ہونے یا نفسِ فعل ہی سے انکار کرتا ہو تو رجعت نہ ہوئی اور مرد مرگیا ہو تو اُس کے ورثہ کی تصدیق یا انکار کا اعتبارہے۔(1) (درمختار)
مسئلہ ۱۲: مجنون کی رجعت فعل سے ہوگی قول سے نہیں اوراگر مرد سورہا تھا یا مجنون ہے اور عورت نے اپنی شرمگاہ میں اُس کا عضو داخل کرلیا تو رجعت ہوگئی۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت نے مرد سے کہا میں نے تجھ سے رجعت کرلی تو یہ رجعت نہ ہوئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: محض خلوت سے رجعت نہ ہوگی اگرچہ صحیحہ ہواور پیچھے کے مقام میں وطی کرنے سے بھی رجعت ہو جائے گی اگرچہ یہ حرام اور سخت حرام ہے اور اس کی طرف بشہوت (4) نظر کرنے سے نہ ہوگی۔ (5)(عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ ۱۵: عدّت میں اُس سے نکاح کر لیا جب بھی رجعت ہو جائے گی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۱۶: رجعت میں عورت کی رضا کی ضرورت نہیں بلکہ اگر وہ انکار بھی کرے جب بھی ہو جائے گی بلکہ اگر شوہر نے طلاق دینے کے بعد کہہ دیا ہو کہ میں نے رجعت باطل کردی یا مجھے رجعت کا اختیار نہیں جب بھی رجعت کر سکتا ہے۔(7) (درمختار)
مسئلہ ۱۷: عورت کا مہر مؤجل بطلاق تھا (یعنی طلاق ہونے کے بعد مہر کا مطالبہ کریگی) ایسی صورت میں اگر شوہر نے طلاق رجعی دی تواب میعاد پوری ہوگئی، عورت عدّت کے اندر مہر کا مطالبہ کرسکتی ہے اور رجعت کرلینے سے مطالبہ ساقط نہ ہوگا۔ (8)(درمختار)
مسئلہ ۱۸: زوج و زوجہ(9) دونوں کہتے ہیں کہ عدّت پوری ہوگئی مگر رجعت میں اختلاف ہے ایک کہتا ہے کہ رجعت
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، ج۵،ص۲۸۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃوفیماتحل بہ المطلّقۃوما یتصل بہ،ج۱،ص۴۶۹،۴۷۰۔
3…المرجع السابق،ص۴۶۹۔ 4… شہوت کے ساتھ۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃوفیماتحل بہ المطلّقۃوما یتصل بہ،ج۱،ص۴۶۹،۴۷۰۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۶،۲۸۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۸۔
7…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۹۔
8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۲۹۔
9…میاں اوربیوی۔
ہوئی اور دوسرا منکرہے (1)تو زوجہ کا قول معتبر ہے اور قسم کھلانے کی حاجت نہیں اور عدّت کے اندر یہ اختلاف ہوا تو زوج کا قول معتبر ہے اور اگر عدّت کے بعد شوہر نے گواہوں سے ثابت کیا کہ میں نے عدّت میں کہا تھا کہ میں نے اُسے واپس لیا یا کہا تھا کہ میں نے اُس سے جماع کیا تو رجعت ہوگئی۔(2) (ہدایہ ،بحر وغیرہما)
مسئلہ ۱۹: عدّت پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ میں نے عدّت میں رجعت کرلی ہے اور عورت تصدیق کرتی ہے تو رجعت ہوگئی اور تکذیب کرتی ہے تو نہیں ۔ (3)(ہدایہ)
مسئلہ ۲۰: زوج و زوجہ متفق ہیں کہ جمعہ کے دن رجعت ہوئی مگر عورت کہتی ہے میری عدت جمعرات کو پوری ہوئی تھی اورشوہر کہتا ہے ہفتہ کے دن، تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۱: عورت سے عدت میں کہا میں نے تجھے واپس لیا اُس نے فوراً کہا میری عدت ختم ہو چکی اور طلاق کو اتنا زمانہ ہو چکا ہے کہ اتنے دنوں میں عدت پوری ہوسکتی ہے تو رجعت نہ ہوئی مگر عورت سے قسم لی جائے گی کہ اُس وقت عدت پوری ہوچکی تھی اگر قسم کھانے سے انکار کریگی تو رجعت ہو جائے گی۔ اور اگر طلاق کو اتنا زمانہ نہیں ہو ا کہ عدت پوری ہو سکے تو رجعت ہوگئی البتہ اگر عورت کہتی ہے کہ میرے بچہ پیدا ہوا اور اسے ثابت بھی کردے تو مدت کا لحاظ نہ کیا جائے گا اور اگر جس وقت شوہر نے رجعت کے الفاظ کہے عورت چُپ رہی پھر بعد میں کہا کہ میری عدت پوری ہوچکی تو رجعت ہوگئی۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۲: باندی کے شوہر نے عدت گزرنے کے بعد کہا میں نے عدت میں رجعت کرلی تھی مولیٰ (6) اس کی تصدیق کرتا ہے اور باندی تکذیب اور شوہر کے پاس گواہ نہیں یا باندی کہتی ہے میری عدت گزر چکی تھی اور شوہر و مولیٰ دونوں انکار کرتے ہیں تو ان دونوں صورتوں میں باندی کا قول معتبر ہے اور اگر مولیٰ شوہر کی تکذیب کرتا ہے اور باندی تصدیق تو مولیٰ کا قول معتبر ہے۔ اور اگر دونوں شوہر کی تصدیق کرتے ہیں تو کوئی اختلاف ہی نہیں ۔ اور دونوں تکذیب کرتے ہوں تو رجعت نہیں ہوئی۔(7) (درمختار، ردالمحتار) اور اگر مولیٰ کہتا ہے تو نے رجعت کی ہے اور شوہر منکر ہے تو مولیٰ کا قول معتبر نہیں ۔(1) (جوہرہ)
1…انکارکرتاہے۔
2… ’’الھدایۃ‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج ۲، ص۲۵۴،۲۵۵۔
و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۸۵،۸۶، وغیرہما۔
3… ’’الھدایۃ‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج ۲، ص۲۵۴۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۰۔
5…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۲۔
6… مالک۔
7… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘، المرجع السابق،ص۳۳۔
مسئلہ ۲۳: عورت نے پہلے یہ کہاکہ میری عدت پوری ہو چکی اب کہتی ہے کہ پوری نہیں ہوئی تو شوہر کو رجعت کا اختیار ہے۔ (2)(تنویر)
مسئلہ ۲۴: عورت عدت پوری ہونا بتائے تو مدت کا لحاظ ضروری ہے یعنی اتنا زمانہ گزر چکا ہو کہ عدت پوری ہوسکتی ہو یعنی اُس زمانہ میں تین حیض پورے ہو سکی ں اوراگر وضع حمل سے عدت ہو تو اُس کے لیے کوئی مدّت نہیں اگر کچا بچہ ہوا جس کے اعضا بن چکے ہوں جب بھی عدت پوری ہو جائیگی مگر اس میں عورت سے قسم لی جائیگی کہ اُس کے اعضا بن چکے تھے اوراگر ولادت کا دعویٰ کرتی ہے تو گواہ ہونے چاہیے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۲۵: عورت سے کہا اگرمیں تجھے چھوؤں تو تجھ کو طلاق ہے اور چھوا تو طلاق ہوگئی پھر دوبارہ چھوا تو رجعت ہوگئی جبکہ یہ شہوت کے ساتھ ہو۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: اپنی عورت سے کہا اگر میں تجھ سے رجعت کروں تو تجھ کو طلاق ہے تو مراد رجعت حقیقی ہے یعنی اگر اُسے طلاق دی پھر نکاح کیا تو طلاق واقع نہ ہوگی اوراگر رجعت کی تو ہو جائے گی۔ اور طلاق رجعی کی عدت میں اُس سے کہا کہ اگر میں رجعت کروں تو تجھ کو تین طلاقیں اور عدت پوری ہونے کے بعد اُس سے نکاح کیا تو طلاق نہیں ہوگی اور بائن کی عدت میں کہا تو ہو جائے گی۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۷: رجعت اُس وقت تک ہے کہ پچھلے حیض سے پاک نہ ہوئی ہو اُس کے بعد نہیں ہوسکتی یعنی اگر باندی ہے تودوسرے حیض سے پاک ہونے تک اور آزاد عورت ہے تو تیسرے سے پاک ہونے تک رجعت ہے اب اگر پچھلا حیض پورے دس دن پر ختم ہوا ہے تو دس دن رات پورے ہوتے ہی رجعت کا بھی خاتمہ ہے اگرچہ غسل ابھی نہ کیا ہو اور دس دن رات سے کم میں پاک ہوئی تو جب تک نہا نہ لے یا نماز کا ایک وقت نہ گزرلے رجعت ختم نہیں ہوئی اور اگر گدھے کے جھوٹے پانی سے نہائی جب بھی رجعت نہیں کر سکتا مگر اُس غسل سے نماز نہیں پڑھ سکتی نہ ابھی دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے
1… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الرجعۃ، الجزء الثانی، ص۶۷۔
2…’’تنویرالابصار‘‘،کتاب الطلاق باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۳۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۳، وغیرہ۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۶۹۔
5…المرجع السابق۔
جب تک غیر مشکوک پانی (1)سے نہا نہ لے یا نماز کا وقت نہ گزر لے اور اگر وقت اتنا باقی ہے کہ نہا کر تحریمہ باندھ لے تو اُس وقت کے ختم ہونے پر رجعت بھی ختم ہے اور اگر اتناخفیف (2)وقت باقی ہے کہ نہانہیں سکتی یا نہاسکتی ہے مگر غسل اور کپڑا پہننے کے بعد اللّٰہ اکبر کہنے کا بھی وقت نہ رہے گا تو اُس وقت کا اعتبار نہیں بلکہ یا نہالے یا اس کے بعد کا دوسرا وقت گزرلے۔ اور اگر ایسے وقت میں خون بند ہوا کہ وہ وقت فرض نماز کا نہیں یعنی آفتاب نکلنے سے ڈھلنے تک تو اس کا بھی اعتبار نہیں بلکہ اسکے بعد کا وقت ختم ہوجائے یعنی ظہر کا۔ اور اگر دس دن رات سے کم میں خون بند ہوا اور عورت نے غسل کرلیا پھر خون جاری ہوگیا اور دس دن سے متجاوز نہ ہوا تو ابھی رجعت ختم نہ ہوئی تھی اور اگر عورت نے دوسرے سے نکاح کرلیا تھا تو نکاح صحیح نہ ہوا۔ یوہیں اگر غسل یا نمازکا وقت گزرنے سے پہلے اس صورت میں نکاح دوسرے سے کیا جب بھی نکاح نہ ہوا۔(3) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۲۸: کسی عورت کو کبھی پانچ دن خون آتا ہے اور کبھی چھ ۶ دن اور اس بار استحاضہ ہوگیا یعنی دس ۱۰دن سے زیادہ آیا تو رجعت کے حق میں پانچ دن کااعتبار ہے کہ پانچ دن پورے ہونے پر رجعت نہ ہوگی اور دوسرے سے نکاح کرنا چاہتی ہے تو اس حیض کے چھ۶ دن پورے ہونے پر کر سکتی ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: عورت اگر کتابیہ ہے تو پچھلا حیض ختم ہوتے ہی رجعت ختم ہو گئی غسل و نماز کا وقت گزرنا شرط نہیں ۔ (5)(عالمگیری) مجنونہ اور معتوہہ کا بھی یہی حکم ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۰: دس۱۰ دن رات سے کم میں منقطع ہوا اور نہ نہائی نہ نماز کا وقت ختم ہوا بلکہ تیمم کرلیا تو رجعت منقطع نہ ہوئی ہاں اگر اس تیمم سے پوری نماز پڑھ لی تو اب رجعت نہیں ہو سکتی اگرچہ وہ نماز نفل ہواور اگر ابھی نماز پوری نہیں ہوئی ہے، بلکہ شروع کی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور اگر تیمم کرکے قرآن مجید پڑھا یا مصحف شریف چھوایا مسجد میں گئی تو رجعت ختم نہ ہوئی۔ (7)(فتح وغیرہ)
مسئلہ ۳۱: غسل کیا اور کوئی جگہ ایک عضو سے کم مثلاً بازو یا کلائی کا کچھ حصہ یا دو ایک اونگلی بھول گئی جہاں پانی پہنچنے نہ پہنچنے میں شک ہے تو رجعت ختم ہوگئی مگر دوسرے سے نکاح اُس وقت کر سکتی ہے کہ اُس جگہ کو دھولے یا نماز کا وقت گزر جائے اور
1…یعنی وہ پانی جس کے پاک ہونے اورپاک کرنے میں شک نہ ہو۔ 2…تھوڑا۔
3… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۴۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۱۔
5… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۱۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۵۔
7… ’’فتح القدیر‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۴، ص۲۱، وغیرہ۔
اگر یقین ہے کہ وہاں پانی نہیں پہنچاہے یا قصداً اُس جگہ کو چھوڑ دیا تو رجعت ہو سکتی ہے اور اگر پورا عضو جیسے ہاتھ یا پاؤں بھولی تو رجعت ہوسکتی ہے، کُلّی کرنا اور ناک میں پانی چڑھانا دونوں ملکر ایک عضو ہیں اور ہر ایک ایک عضو سے کم۔(1) (درمختار، ردالمحتار وغیرہما)
مسئلہ ۳۲: حاملہ کو طلاق دی اور اُس کی وطی سے منکر ہے اور رجعت کرلی پھر چھ مہینے سے کم میں بچہ پیدا ہو مگر وقت نکاح سے چھ ۶مہینے یا زیادہ میں ولادت ہوئی تو رجعت ہوگئی۔(2) (شرح وقایہ)
مسئلہ ۳۳: نکاح کے بعد چھ مہینے یا زیادہ کے بعد بچہ پیدا ہوا پھر اُسے طلاق دی اور وطی سے انکار کرتا ہے تو رجعت کر سکتا ہے کہ جب بچہ پیدا ہو چکا شرعاً وطی ثابت ہے اُس کا انکار بیکار ہے۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۳۴: اگر خلوت ہوچکی ہے مگر وطی سے انکار کرتا ہے پھر طلاق دی تو رجعت نہیں کرسکتا اور اگر شوہر وطی کا اقرار کرتا ہے مگر عورت منکر ہے اور خلوت ہوچکی ہے تو رجعت کر سکتا ہے اور خلوت نہیں ہوئی تو نہیں ۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۳۵: عورت سے کہا اگر تو جنے تو تجھ کو طلاق ہے اُس کے بچہ پیدا ہوا طلاق ہوگئی پھر چھ ۶ مہینے یا زیادہ میں دوسرا بچہ پیدا ہوا تو رجعت ہوگئی اگرچہ دوسرا بچہ دو۲ برس (5)سے زیادہ میں پیدا ہوا کہ اکثر مدت حمل دو ۲برس ہے اور اِس صورت میں عدت حیض سے ہے تو ہو سکتا ہے کہ زیادہ زیادہ دنوں کے بعد حیض آیا اور عدت ختم ہونے سے پیشتر شوہر نے وطی کی ہو۔ ہاں اگر عورت عدت گزرنے کا اقرار کرچکی ہو تو مجبوری ہے۔ اور اگر دوسرا بچہ پہلے بچہ سے چھ۶ مہینے سے کم میں پیدا ہوا تو بچہ پیدا ہونے کے بعد رجعت نہیں۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۳۶: طلاق رجعی کی عدت میں عورت بناؤ سنگار کرے جبکہ شوہر موجود ہو اور عورت کو رجعت کی امید ہو اور اگر شوہر موجودنہ ہو یا عورت کو معلوم ہو کہ رجعت نہ کریگا تو تزیُّن(7)نہ کرے۔ اور طلاق بائن اور وفات کی عدت میں زینت حرام ہے اور مطلَّقہ رجعیہ کو سفر میں نہ لیجائے بلکہ سفر سے کم مسافت تک بھی نہ لیجائے جب تک رجعت پر گواہ نہ قائم کرلے یہ اُس وقت ہے کہ شوہر نے صراحۃً رجعت کی نفی کی ہو ورنہ سفر میں لے جانا ہی رجعت ہے۔ (8)(درمختار وغیرہ)
1… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۵، وغیرہما۔
2… ’’شرح الوقایۃ‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ،ج۱، الجزء الثاني، ص۱۱۲۔۱۱۴۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۳۶۔
4… المرجع السابق، ص۳۹۔
5…غالباً یہاں کتابت کی غلطی ہے۔اصل کتاب میں دوبرس کے بجائے دس برس کاذکرہے۔۔۔۔عِلْمِیہ
6…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۰۔
7…بناؤسنگار۔
8…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۱، وغیرہ۔
مسئلہ ۳۷: شوہر کو چاہیے کہ جس مکان میں عورت ہے جب وہاں جائے تو اُسے خبر کردے یا کھنکار کر جائے یا اس طرح چلے کہ جوتے کی آوازعورت سُنے یہ اُس صورت میں ہے کہ رجعت کا ارادہ نہ ہو۔ یوہیں جب رجعت کا ارادہ نہ ہو تو خلوت بھی مکروہ ہے اور رجعت کا ارادہ ہے تو مکروہ نہیں اور رجعت کا ارادہ ہو تو اس کی باری بھی ہے ورنہ نہیں ۔ (1)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۳۸: عورت باندی تھی اُسے طلاق دیدی اور حرہ سے نکاح کر لیا تو اُس سے رجعت کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: جس عورت کو تین سے کم طلاق بائن دی ہے اُس سے عدت میں بھی نکاح کر سکتاہے اور بعد عدت بھی اور تین طلاقیں دی ہوں یا لونڈی کو دو تو بغیر حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگرچہ دخول نہ کیا ہو البتہ اگر غیر مدخولہ ہو (3) تو تین طلاق ایک لفظ سے ہوگی تین لفظ سے ایک ہی ہوگی جیسا پہلے معلوم ہو چکا اور دوسرے سے عدت کے اندر مطلقاً نکاح نہیں کر سکتی تین طلاقیں دی ہوں یا تین سے کم۔(4) (عامہ کتب)
حلالہ کے مسائل
مسئلہ ۴۰: حلالہ کی صورت یہ ہے کہ اگر عورت مدخولہ ہے(5) تو طلاق کی عدت پوری ہونے کے بعد عورت کسی اور سے نکاح صحیح کرے اور یہ شوہر ثانی (6) اُس عورت سے وطی بھی کرلے اب اس شوہر ثانی کے طلاق یا موت کے بعد عدت پوری ہونے پر شوہر اول سے نکاح ہو سکتا ہے اور اگر عورت مدخولہ نہیں ہے تو پہلے شوہر کے طلاق دینے کے بعد فوراًدوسرے سے نکاح کر سکتی ہے کہ اس کے لیے عدت نہیں ۔(7) (عامہ کتب)
مسئلہ ۴۱: پہلے شوہر کے لیے حلال ہونے میں نکاح ِصحیح نافذ کی شرط ہے اگر نکاح فاسد ہوا یا موقوف اور وطی بھی ہوگئی تو حلالہ نہ ہوامثلاًکسی غلام نے بغیر اجازت مولیٰ اُس سے نکاح کیا اور وطی بھی کر لی پھر مولیٰ نے جائز کیا تو اجازت مولیٰ کے بعد
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۴۲، وغیرہما۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ وفیماتحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲۔
3…جس سے جماع،دخول نہ کیا گیاہو۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، الباب السادس في الرجعۃ وفیما تحل بہ المطلقۃ وما یتصل بہ، ج۱، ص۴۷۲، وغیرہ۔
5…جس سے جماع،دخول کیا گیاہو۔ 6…دوسراشوہر۔
7… ’’البحرالرائق‘‘،کتاب الطلاق، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ، ج۴، ص۹۷،۹۸۔
وطی کرکے چھوڑے گا تو پہلے شوہر سے نکاح کر سکتی ہے اور بلا وطی طلاق دی تو وہ پہلے کی وطی کافی نہیں ۔ یوہیں زنا یا وطی بالشبہ سے بھی حلالہ نہ ہوگا۔ یوہیں اگر وہ عورت کسی کی باندی تھی عدت پوری ہونے کے بعد مولیٰ نے اُس سے جماع کیا تو شوہر اول کے لیے اب بھی حلال نہ ہوئی اور اگر زوجہ باندی تھی اُسے دو۲ طلاقیں دیں پھر اُس کے مالک سے خریدلی یا اور کسی طرح سے اُس کا مالک ہوگیا تو اُس سے وطی نہیں کرسکتا جب تک دوسرے سے نکاح نہ ہولے اوروہ دوسراوطی بھی نہ کرلے۔ یوہیں اگر عورت معاذاللّٰہ مُرتدہ ہوکر دارالحرب میں چلی گئی پھر وہاں سے جہاد میں پکڑ آئی اور شوہر اُس کا مالک ہوگیا تو اس کے لیے حلال نہ ہوئی۔ حلالہ میں جو وطی شرط ہے، اس سے مراد وہ وطی ہے جس سے غسل فرض ہو جاتا ہے یعنی دخول حشفہ(1) اور انزال (2)شرط نہیں ۔ (3)(درمختار، عالمگیری وغیرہما)
مسئلہ ۴۲: عورت حیض میں ہے یا احرام باندھے ہوئے ہے اس حالت میں شوہر ثانی نے وطی کی تو یہ وطی حلالہ کے لیے کافی ہے اگرچہ حیض کی حالت میں وطی کرنا بہت سخت حرام ہے۔ (4)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: دوسرا نکاح مراہق سے ہوا (یعنی ایسے لڑکے سے جو نا بالغ ہے مگر قریب بلوغ ہے اور اُس کی عمر والے جماع کرتے ہیں ) اور اُس نے وطی کی اور بعد بلوغ طلاق دی تو وہ وطی کہ قبل بلوغ کی تھی حلالہ کے لیے کافی ہے مگر طلاق بعد بلوغ ہونی چاہیے کہ نابالغ کی طلاق واقع ہی نہ ہوگی مگر بہتر یہ ہے کہ بالغ کی وطی ہو کہ امام مالک رحمہ اللّٰہ تعالیٰ کے نزدیک انزال شرط ہے اور نا بالغ میں انزال کہاں ۔ (5)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: اگر مطلقہ چھوٹی لڑکی ہے کہ وطی کے قابل نہیں تو شوہر ثانی اُس سے وطی کر بھی لے جب بھی شوہر ِاول کے لیے حلال نہ ہوئی اور اگر نابالغہ ہے مگر اُس جیسی لڑکی سے وطی کی جاتی ہے یعنی وہ اس قابل ہے تو وطی کافی ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۵: اگر عورت کے آگے اور پیچھے کا مقام ایک ہوگیا ہے تو محض وطی کافی نہیں بلکہ شرط یہ ہے کہ حاملہ ہو جائے۔ یوہیں اگر ایسے شخص سے نکاح ہوا جس کا عضو تناسل کٹ گیا ہے تو اس میں بھی حمل شرط ہے۔(7) (عالمگیری)
1…آلہ تناسل کی سپاری کاداخل ہونا۔ 2…منی کانکلنا۔
3… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ۴۵ ۔ ۴۸۔
و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ، فصل فیما تحل بہ المطلقۃ ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۷۳، وغیرہما۔
4…’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، مطلب: حیلۃ اسقاط عدۃ المحلل، ج۵، ۵۰۔
5…’’الدرالمختار‘‘ و’’رد المحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، مطلب: فی العقدعلی المبانۃ،ج۵، ص۴۴۔
6…’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق،باب الرجعۃ، مطلب: فی العقدعلی المبانۃ،ج۵، ص۴۷۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطلاق، الباب السادس في الرجعۃ ،فصل فیما تحل بہ المطلقۃ۔۔۔الخ، ج۱، ص۴۷۳۔
مسئلہ ۴۶: مجنون یا خصی (1)سے نکاح ہوا اور وطی کی تو شوہر اول کے لیے حلال ہوگئی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۴۷: کتا بیہ عورت مسلمان کے نکاح میں تھی اُسے طلاق دی اور اُس نے کسی کتابی سے نکاح کیا اور حلالہ کے تمام شرائط پائے گئے تو شوہر اول کے لیے حلال ہو گئی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: پہلے شوہر نے تین طلاقیں دیں عورت نے دوسرے سے نکاح کیا بغیر وطی اُس نے بھی تین طلاقیں دیدیں پھر عورت نے تیسرے سے نکاح کیا اس نے وطی کرکے طلاق دی تو پہلے اور دوسرے دونوں کے لیے حلال ہو گئی یعنی اب پہلے یا دوسرے جس سے چاہے نکاح کر سکتی ہے۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: بہت زیادہ عمر والے سے نکاح کیا جو وطی پر قادر نہیں ہے اُس نے کسی ترکیب سے عضو تناسل داخل کر دیا تو یہ وطی حلالہ کے لیے کافی نہیں ہا ں اگر آلہ میں کچھ انتشار پایا گیا اور دخول ہوگیا تو کافی ہے۔ (5)(فتح وغیرہ)
مسئلہ ۵۰: عورت سورہی تھی یا بیہوش تھی شوہر ثانی نے اس حالت میں اُس سے وطی کی تویہ وطی حلالہ کے لیے کافی ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۵۱: عورت کو تین طلاقیں دی تھیں اب وہ آکر شوہر اول سے یہ کہتی ہے کہ عدت پوری ہونے کے بعد میں نے نکاح کیااور اُس نے جماع بھی کیا اور طلاق دیدی اور یہ عدت بھی پوری ہوچکی اور پہلے شوہر کو طلاق دیے اتنا زمانہ گزر چکا ہے کہ یہ سب باتیں ہو سکتی ہیں تو اگر عورت کو اپنے گمان میں سچی سمجھتا ہے تو اُس سے نکاح کر سکتا ہے۔ (7)(ہدایہ) اور اگر عورت فقط اتنا ہی کہے کہ میں حلال ہو گئی تو اُس سے نکاح حلال نہیں ، جب تک سب باتیں پوچھ نہ لے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: عورت کہتی ہے کہ شوہر ثانی نے جماع کیا ہے اور شوہر ثانی انکار کرتا ہے تو شوہر اول کو نکاح جائز ہے اور شوہر ثانی کہتا ہے کہ میں نے جماع کیا ہے اور عورت انکار کرتی ہے تو نکاح جائز نہیں اور اگر عورت اقرار کرتی ہے اور شوہر اول
1…جس کے خصیے نہ ہوں یا نکال دئیے گئے ہوں ۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۴۵۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ۔۔۔إلخ،ج۱،ص۴۷۳۔
4…المرجع السابق۔
5…’’فتح القدیر‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل لہ بہ المطلَّقۃ،ج۴،ص۳۳،وغیرہ۔
6…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۰۔
7…’’الہدایۃ‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ،ج۲،ص۲۵۸،۲۵۹۔
8…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ۔۔۔إلخ،ج۱،ص۴۷۴۔
نے نکاح کے بعد کہا کہ شوہر ثانی نے جماع نہیں کیا ہے تو دونوں میں تفریق کردی جائے اور اگر شوہر اول سے نکاح ہو جانے کے بعد عورت کہتی ہے میں نے دوسرے سے نکاح کیا ہی نہ تھا اور شوہر کہتا ہے کہ تو نے دوسرے سے نکاح کیا اور اُس نے وطی بھی کی تو عورت کی تصدیق نہ کی جائے اور اگر شوہر ثانی عورت سے کہتا ہے کہ میرا نکاح تجھ سے فاسد ہوا کہ میں نے تیری ماں سے جماع کیا ہے اگر عورت اُسکے کہنے کو سچ سمجھتی ہے تو عورت شوہر اول کے لیے حلال نہ ہوئی۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: کسی عورت سے نکاح فاسد کرکے تین طلاقیں دے دیں تو حلالہ کی حاجت نہیں بغیر حلالہ اُس سے نکاح کر سکتا ہے۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: نکاح بشرط التحلیل (3) جس کے بارے میں حدیث میں لعنت آئی وہ یہ ہے کہ عقد ِنکاح یعنی ایجاب و قبول میں حلالہ کی شرط لگائی جائے اور یہ نکاح مکروہ تحریمی ہے زوج اول و ثانی (4) اور عورت تینوں گنہگار ہوں گے مگر عورت اِس نکاح سے بھی بشرائط حلالہ شوہر اول کے لیے حلال ہو جائیگی۔ اور شرط باطل ہے۔ اور شوہر ثانی طلاق دینے پر مجبور نہیں ۔ اور اگر عقد میں شرط نہ ہو اگرچہ نیت میں ہو تو کراہت اصلاً نہیں بلکہ اگر نیت خیر ہو تو مستحق اجر ہے۔ (5)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۵۵ـ: اگر نکاح اس نیت سے کیا جارہا ہے کہ شوہر اول کے لیے حلال ہو جائے اور عورت یا شوہر اول کو یہ اندیشہ ہے کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ نکاح کرکے طلاق نہ دے تو دقّت (6) ہوگی تو اس کے لیے بہتر حیلہ یہ ہے کہ اُس سے یہ کہلوالیں کہ اگر میں اس عورت سے نکاح کرکے جماع کروں یا نکاح کرکے ایک رات سے زیادہ رکھوں تو اس پر بائن طلاق ہے اب عورت سے جماع کرتے ہی یا رات گزرنے پر طلاق پڑجائے گی یا یوں کرے کہ عورت یا اُسکا وکیل یہ کہے کہ میں نے یا میری مؤکلہ نے اپنے نفس کو تیرے نکاح میں دیا اس شرط پر کہ مجھے یا اُسے اپنے نفس کااختیار ہے کہ جب چاہے اپنے کو طلاق دے لے وہ کہے میں نے قبول کیا اب عورت کو طلاق دینے کا خود اختیار ہے۔ اور اگر پہلے زوج کی جانب سے الفاظ کہے گئے کہ میں نے اُس عورت سے نکاح کیا اِس شرط پر کہ اُسے اُس کے نفس کا اختیار ہے تو یہ شرط لغو (7) ہے عورت کو اختیار نہ ہوگا۔ (8)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۶: دوسرے سے عورت نے نکاح کیا اور اُس نے دخول بھی کیا پھر اس کے مرنے یا طلاق دینے کے بعد
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس فيالرجعۃ،فصل فیما تحل بہ۔۔۔الخ،ج۱،ص۴۷۴۔
2…المرجع السابق۔
3…حلالہ کی شرط کے ساتھ نکاح کرنا۔ 4…یعنی پہلاشوہرجس نے طلاق دی اوردوسراجس سے نکاح کیا۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ، ج۵، ص۵۱، وغیرہ۔
6…پریشانی۔ 7…فضول۔
8…’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، باب الرجعۃ، مطلب:حیلۃ اسقاط عدۃالمحلل،ج۵، ص۵۱۔
شوہر اول سے اسکا نکاح ہوا تو اب شوہر اول تین طلاقوں کا مالک ہوگیا پہلے جو کچھ طلاق دے چکا تھا اُس کا اعتبار اب نہ ہوگا۔ اور اگر شوہر ثانی نے دخول نہ کیا ہواور شوہر اول نے تین طلاقیں دی تھیں جب تو ظاہر ہے کہ حلالہ ہواہی نہیں پہلے شوہر سے نکاح ہی نہیں ہو سکتا اور تین سے کم دی تھی تو جو باقی رہ گئی ہے اُسی کا مالک ہے تین کا مالک نہیں اور زوجہ لونڈی ہو تو اس کی دو طلاقیں حرہ کی تین کی جگہ ہیں ۔(1) (عالمگیری، درمختار)
مسئلہ ۵۷: عورت کے پاس دوشخصوں نے گواہی دی کہ اُس کے شوہر نے اُسے تین طلاقیں دیدیں اور شوہر غائب ہے توعورت بعد عدت دوسرے سے نکاح کر سکتی ہے بلکہ اگر ایک شخص ثقہ نے طلاق کی خبر دی ہے جب بھی عورت نکاح کرسکتی ہے بلکہ اگر شوہر کا خط آیا جس میں اسے طلاق لکھی ہے اور عورت کا غالب گمان ہے کہ خط اُسی کا ہے تو نکاح کرنے کی عورت کے لیے گنجائش ہے اور اگر شوہر موجود ہے اور دونوں میاں بی بی کی طرح رہتے ہیں تو اب نکاح نہیں کرسکتی۔ (2)(عالمگیری ،ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: شوہر نے عورت کو تین طلاقیں دیدیں یا بائن طلاق دی مگر اب انکار کرتا ہے اور عورت کے پاس گواہ نہیں تو جس طرح ممکن ہو عورت اُس سے پیچھا چھڑائے، مہر معاف کرکے یا اپنا مال دیکر اُس سے علیحدہ ہو جائے، غرض جس طرح بھی ممکن ہو اُس سے کنارہ کشی کرے اور کسی طرح وہ نہ چھوڑے تو عورت مجبور ہے مگر ہر وقت اِسی فکر میں رہے کہ جس طرح ممکن ہو رہائی حاصل کرے اور پوری کو شش اس کی کرے کہ صحبت نہ کرنے پائے یہ حکم نہیں کہ خود کشی کرلے(3)۔ عورت جب اِن باتوں پر عمل کرے گی تو معذور ہے اور شوہر بہر حال گنہگار ہے۔ (4)(درمختار مع زیادۃ)
مسئلہ ۵۹: عورت کو اب تین طلاقیں دیں اور کہتا یہ ہے کہ اس سے پیشتر ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت بھی ہو چکی تھی یعنی اُس کا مقصد یہ ہے کہ چونکہ عدت گزرنے پر عورت اجنبیہ ہوگئی لہٰذا یہ طلاقیں واقع نہ ہوئیں اور عورت بھی تصدیق کرتی ہے تو کسی کی تصدیق نہ کی جائے دونوں جھوٹے ہیں کہ ایسا تھا تو میاں بی بی کی طرح رہتے کی ونکر تھے ہاں اگر لوگوں کو اُسکا طلاق دینا
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ۔۔۔إلخ،ج۱،ص۴۷۵۔
و’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۵۔
2…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیماتحل بہ المطلَّقۃ۔۔۔إلخ،ج۱،ص۴۷۵۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الرجعۃ ،مطلب: الاقدام علی النکاح۔۔۔الخ ، ج۵، ص۶۰۔
3…امیراہلسنت حضرت علامہ مولاناابوبلال محمدالیاس عطارقادری دامت برکاتھم العالیہ لکھتے ہیں ’’خودکشی گناہ کبیرہ حرام اورجہنم میں لے جانے والاکام ہے۔نبی کریم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کاارشادہے ’’تم سے پہلی امتوں میں سے ایک شخص کے بدن میں پھوڑا نکلا(جب اس میں سخت تکلیف ہونے لگی) تو اس نے اپنے ترکش (یعنی تیردان )سے تیرنکالااورپھوڑے کوچیردیاجس سے خون بہنے لگااوررک نہ سکایہاں تک کہ اس سبب سے وہ ہلاک ہوگیاتمھارے رب عزوجل نے فرمایامیں نے اس پرجنت حرام کردی ‘‘ (صحیح مسلم ،حدیث ۱۸۰،ص۱۷)
(مزیدمعلومات کے لیے دیکھیے رسالہ’’ خودکشی کاعلاج ‘‘ص۶)۔۔۔۔عِلْمِیہ
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۵۹،مع زیادۃ۔
اور عدت گزرجانا معلوم ہو تو اور بات ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۶۰: شوہر تین طلاقیں دے کر انکاری ہوگیا عورت نے گواہ پیش کیے اور تین طلاق کا حکم دیا گیا اب کہتا ہے کہ پہلے ایک طلاق دے چکا تھا اور عدت گزر چکی تھی اور گواہ بھی پیش کرتا ہے تو گواہ بھی مقبول نہیں ۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۶۱: غیر مدخولہ کو دو ۲ طلاقیں دیں اور کہتا ہے کہ ایک پہلے دے چکا ہے تو تین قرار پائیں گی۔(3) (درمختار)
مسئلہ ۶۲: تین طلاقیں کسی شرط پر معلق تھیں اور وہ شرط پائی گئی لہٰذا تین طلاقیں پڑگئیں عورت ڈرتی ہے کہ اگر اُس سے کہے گی تو وہ سرے سے تعلیق ہی سے انکار کر جائے گا تو عورت کو چاہیے خفیہ حلالہ کرائے اور عدت پوری ہونے کے بعد شوہر سے تجدید نکاح کی درخواست کرے۔(4)(عالمگیری)
ایلا کا بیان
اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے:
{ لِلَّذِيْنَ يُؤْلُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ تَرَبُّصُ اَرْبَعَةِ اَشْهُرٍ١ۚ فَاِنْ فَآءُوْ فَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۲۶وَ اِنْ عَزَمُوا الطَّلَاقَ فَاِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌ عَلِيْمٌ۰۰۲۲۷{ (5)
جو لوگ اپنی عورتوں کے پاس جانے کی قسم کھالیتے ہیں اُن کے لیے چار مہینے کی مدت ہے پھر اگر اِس مدت میں واپس ہوگئے (قسم توڑ دی) تو اللّٰہ (عزوجل) بخشنے والا مہربان ہے اور اگر طلاق کا پکا ارادہ کرلیا (رجوع نہ کی ) تو اللّٰہ (عزوجل) سننے والا، جاننے والا ہے (طلاق ہو جا ئے گی)۔
مسئلہ ۱: ایلا کے معنی یہ ہیں کہ شوہر نے یہ قسم کھائی کہ عورت سے قربت (6) نہ کریگا یا چار مہینے قربت نہ کریگا عورت باندی ہے تو اس کے ایلا کی مدت دو ۲ماہ ہے۔ (7)
مسئلہ ۲: قسم کی دوصورت ہے ایکی ہ کہ اللّٰہ تعالیٰ یا اُس کے اُن صفات کی قسم کھائی جن کی قسم کھائی جاتی ہے مثلاً اُس
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۶۰۔
2…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،مطلب:الاقدام علی النکاح۔۔۔إلخ،ج۵،ص۶۱۔
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الرجعۃ،ج۵،ص۶۱۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السادس في الرجعۃ،فصل فیما تحل بہ المطلَّقۃ۔۔۔إلخ،ج۱،ص۴۷۵۔
5…پ۲،البقرۃ:۲۲۶،۲۲۷۔
6…جماع ، ہمبستری۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السابع فی الایلاء،ج۱،ص۴۷۶۔
کی عظمت و جلال کی قسم، اُس کی کبریائی کی قسم، قرآن کی قسم، کلام اللّٰہ کی قسم، دوسری تعلیق مثلاً یہ کہ اگر اِس سے وطی کروں تو میرا غلام آزاد ہے یا میری عورت کو طلاق ہے یا مُجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج ہے۔(1) (عامہ کتب)
مسئلہ ۳: ایلادو۲ قسم ہے ایک موقت یعنی چار مہینے کا، دوسرا مؤبد یعنی چار مہینے کی قید اُس میں نہ ہو بہر حال اگر عورت سے چار ماہ کے اندر جماع کیا تو قسم ٹوٹ گئی اگرچہ مجنون ہواور کفارہ لازم جبکہ اللّٰہ تعالیٰ یا اُس کے اُن صفات کی قسم کھائی ہو۔ اور جماع سے پہلے کفارہ دے چکا ہے تو اُس کا اعتبار نہیں بلکہ پھر کفارہ دے۔ اور اگر تعلیق تھی تو جس بات پرتھی وہ ہوجائے گی مثلاً یہ کہا کہ اگر اس سے صحبت کروں تو غلام آزاد ہے اور چار مہینے کے اندر جماع کیا تو غلام آزاد ہوگیا اور قربت نہ کی یہاں تک کہ چار مہینے گزر گئے تو طلاق بائن ہوگئی۔ پھر اگر ایلا ئے موقت تھا یعنی چار ماہ کا تو یمین (2) ساقط ہوگئی یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو اُسکا کچھ اثر نہیں ۔ اور اگر مؤبد تھا یعنی ہمیشہ کی اُس میں قید تھی مثلاً خدا کی قسم تجھ سے کبھی قربت نہ کرونگایا اس میں کچھ قید نہ تھی مثلاًخدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا تو اِن صورتوں میں ایک بائن طلاق پڑگئی پھر بھی قسم بدستور باقی ہے یعنی اگر اُس عورت سے پھر نکاح کیا تو پھر ایلا بدستور آگیا اگر وقت نکاح سے چارماہ کے اندر جماع کرلیا تو قسم کا کفارہ دے اور تعلیق تھی تو جزا واقع ہو جائیگی۔ اور اگر چار مہینے گزرلیے اور قربت نہ کی تو ایک طلاق بائن واقع ہوگئی مگر یمین بدستور باقی ہے سہ بارہ (3) نکاح کیاتو پھر ایلاآگیا اب بھی جماع نہ کرے تو چار ماہ گزر نے پر تیسری طلاق پڑجائیگی اور اب بے حلالہ نکاح نہیں کر سکتا اگر حلالہ کے بعد پھر نکاح کیا تو اب ایلا نہیں یعنی چار مہینے بغیر قربت گزرنے پر طلاق نہ ہوگی مگر قسم باقی ہے اگر جماع کریگا کفارہ واجب ہوگا۔ اور اگر پہلی یا دوسری طلاق کے بعد عورت نے کسی اور سے نکاح کیا اُس کے بعد پھر اس سے نکاح کیا تو مستقل طور پر اب سے تین طلاق کا مالک ہوگا مگر ایلا رہے گا یعنی قربت نہ کرنے پر طلاق ہوجائے گی پھر نکاح کیا پھر وہی حکم ہے پھر ایکی ا دو طلاق کے بعد کسی سے نکاح کیا پھر اس سے نکاح کیا پھر وہی حکم ہے یعنی جب تک تین طلاق کے بعد دوسرے شوہر سے نکاح نہ کرے ایلا بدستور باقی رہے گا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: ذمی نے ذات وصفات (5) کی قسم کے ساتھ ایلا کیا یا طلاق و عتاق(6) پر تعلیق کی تو ایلا ہے اور حج و روزہ و دیگر عبادات پر تعلیق کی تو ایلا نہ ہوا اور جہاں ایلا صحیح ہے وہاں مسلمان کے حکم میں ہے، مگر صحبت کرنے پر کفارہ واجب نہیں ۔(7) (عالمگیری)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السابع فی الایلاء،ج۱،ص۴۷۶۔
و’’البحرالرائق‘‘،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۴،ص۱۰۰۔
2…قسم۔ 3…یعنی تیسری مرتبہ۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱،ص۴۷۶۔
5…یعنی اللّٰہ عزوجل کی ذات وصفات۔ 6…یعنی غلام آزاد کرنے ۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱، ص۴۷۶۔
مسئلہ ۵: یوں ایلا کیا کہ اگر میں قربت کروں تو میرا فلاں غلام آزاد ہے اسکے بعد غلام مر گیا تو ایلا ساقط ہوگیا۔ یوہیں اگر اُس غلام کو بیچ ڈالا جب بھی ساقط ہے مگر وہ غلام اگر قربت سے پہلے پھر اس کی مِلک میں آگیا تو ایلا کا حکم لوٹ آئیگا۔ (1)(ردالمحتار)
مسئلہ ۶: ایلا صرف منکوحہ سے ہوتا ہے یا مطلقہ رجعی سے کہ وہ بھی منکوحہ ہی کے حکم میں ہے اجنبیہ(2)سے اور جسے بائن طلاق دی ہے اُس سے ابتداء ً نہیں ہو سکتا۔ یوہیں اپنی لونڈی سے بھی نہیں ہو سکتا ہاں دوسرے کی کنیز اس کے نکاح میں ہے تو ایلا کر سکتا ہے یوہیں اجنبیہ کا ایلا اگر نکاح پر معلق کیا تو ہو جائیگا مثلاً اگر میں تجھ سے نکاح کر وں تو خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا۔ (3)(ردالمحتار)
مسئلہ ۷: ایلا کے لیے یہ بھی شرط ہے کہ شوہر اہل طلاق ہو یعنی وہ طلاق دے سکتا ہو لہٰذا مجنون و نابالغ کا ایلا صحیح نہیں کہ یہ اہل طلاق نہیں ۔(4) (درمختار)
مسئلہ ۸: غلام نے اگر قسم کی ساتھ ایلا کیا مثلاًخدا کی قسم میں تجھ سے قُربت نہ کروں گا یا ایسی چیز پر معلق کیا جسے مال سے تعلق نہیں مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر اتنے دنوں کا روزہ ہے یا حج یا عمرہ ہے یا میری عورت کو طلاق ہے تو ایلا صحیح ہے۔ اور اگر مال سے تعلق ہے تو صحیح نہیں مثلاً مجھ پر ایک غلام آزاد کرنا یا اِتنا صدقہ دینا لازم ہے تو اِیلا نہ ہوا کہ وہ مال کا مالک ہی نہیں ۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۹: یہ بھی شرط ہے کہ چار مہینے سے کم کی مدت نہ ہو اور زوجہ کنیز ہے تو دو ماہ سے کم کی نہ ہو اور زیادہ کی کوئی حد نہیں اور زوجہ کنیز تھی اس کے شوہر نے ایلا کیا تھا اور مدت پوری نہ ہوئی تھی کہ آزاد ہوگئی تو اب اس کی مدت آزاد عورتوں کی ہے۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ جگہ معین نہ کرے اگر جگہ معین کی مثلاً واللّٰہ فلاں جگہ تجھ سے قربت نہ کروں گا تو ایلا نہیں ۔ اور یہ بھی شرط ہے کہ زوجہ کے ساتھ کسی باندی یا اجنبیہ کو نہ ملائے مثلاً تجھ سے اور فلاں عورت سے قربت نہ کرونگا۔ اور یہ کہ بعض مدت کا استثنا نہ ہو مثلاً چار مہینے تجھ سے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن۔ اور یہ کہ قربت کے ساتھ کسی اور چیز کو نہ ملائے مثلاً اگر میں تجھ سے قربت کروں یا تجھے اپنے بچھونے پر بُلاؤں تو تجھ کو طلاق ہے تو یہ ایلا نہیں ۔ (6)(خانیہ، درمختار، ردالمحتار)
1…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲۔
2…یعنی نا محرمہ عورت۔
3… ’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲۔
4… ’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲۔
5… ’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۲۔
6… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۱، ص۲۶۵۔۲۶۶۔
و ’’الدر المختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۴۔
مسئلہ ۱۰: اس کے الفاظ بعض صریح ہیں بعض کنا یہ صریح وہ الفاظ ہیں جن سے ذہن معنی جماع کی طرف سبقت (1) کرتا ہو اس معنی میں بکثرت استعمال کیا جاتا ہو اس میں نیت در کار نہیں بغیر نیت بھی ایلا ہے اور اگر صریح لفظ میں یہ کہے کہ میں نے معنی جماع کا ارادہ نہ کیا تھا تو قضاء اُس کا قول معتبر نہیں دیانۃً معتبر ہے۔ کنا یہ وہ جس سے معنی جماع متبادر نہ ہوں دوسرے معنی کابھی احتمال ہواس میں بغیر نیت ایلا نہیں اور دوسرے معنی مراد ہونا بتا تا ہے تو قضاء بھی اس کا قول مان لیا جائیگا۔(2)(ردالمحتاروغیرہ)
مسئلہ ۱۱: صریح کے بعض الفاظ یہ ہیں واللّٰہ میں تجھ سے جماع نہ کرونگا، قربت نہ کرونگا، صحبت نہ کروں گا، وطی (3)نہ کرونگا اور اُردو میں بعض اور الفاظ بھی ہیں جو خاص جماع ہی کے لیے بولے جاتے ہیں اُن کے ذکر کی حاجت نہیں ہر شخص اُردوداں جانتا ہے۔ علامہ شامی نے اس لفظ کو کہ میں تیرے ساتھ نہ سوؤں گا صریح کہا ہے اور اصل یہ ہے کہ مدار(4)عرف پر ہے عرفاً جس لفظ سے معنی جماع متبادرہوں (5) صریح ہے، اگرچہ یہ معنی مجازی ہوں ۔ کنا یہ کے بعض الفاظ یہ ہیں : تیرے بچھونے کے قریب نہ جاؤنگا، تیرے ساتھ نہ لیٹو ں گا، تیرے بدن سے میرا بدن نہ ملے گا، تیرے پاس نہ رہوں گا، وغیرہا۔(6)
مسئلہ ۱۲: ایسی بات کی قسم کھائی کہ بغیر جماع کیے قسم ٹوٹ جائے تو ایلا نہیں مثلاً اگر میں تجھ کو چھوؤں تو ایسا ہے کہ محض بد ن پر ہاتھ رکھنے ہی سے قسم ٹوٹ جائیگی۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: اگر کہا میں نے تجھ سے ایلا کیا ہے اب کہتا ہے کہ میں نے ایک جھوٹی خبر دی تھی تو قضاء ایلا ہے اور دیانۃً اُس کا قول مان لیا جائیگا اور اگر یہ کہے کہ اس لفظ سے ایلا کرنا مقصود تھا تو قضاء و دیانۃً ہر طرح ایلا ہے۔(8) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۴: یہ کہا کہ واللّٰہ تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تو یہ کام نہ کرلے اور وہ کام چار مہینے کے اندر کرسکتی ہے تو ایلا نہ ہوا اگرچہ چار مہینے سے زیادہ میں کرے۔(9) (ردالمحتار)
1…یعنی پہلے پہل،ابتداء ً ذہن جماع کے معنی کی طرف جاتاہو۔
2…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۵، وغیرہ۔
3…جماع ۔ 4…انحصار۔ 5… ذہن میں فوراً آجاتا ہو۔
6…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۶۵،۶۷،وغیرہا۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۷۔
8… المرجع السابق، ص۴۷۸۔
9…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۶۔
مسئلہ ۱۵: ایلا اگر تعلیق سے ہو تو ضرور ہے کہ جماع پر کسی ایسے فعل کو معلق کرے جس میں مشقت ہو لہٰذا اگر یہ کہا کہ اگر میں قربت کروں تو مجھ پر دورکعت نفل ہے تو ایلا نہ ہوا اور اگر کہا کہ مجھ پر سو رکعتیں نفل کی ہیں تو ایلا ہوگیا اور اگر وہ چیز ایسی ہے جس کی منت نہیں جب بھی ایلا نہ ہوامثلاً تلاوت قرآن، نماز جنازہ، تکفین میّت(1)، سجدۂ تلاوت، بیت المقدس میں نماز۔(2)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۱۶: اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر فلاں مہینے کا روزہ ہے اگر وہ مہینہ چار مہینے پورے ہونے سے پہلے پورا ہوجائے تو ایلا نہیں ، ورنہ ہے۔ (3)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۷: اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر ایک مسکی ن کا کھانا ہے یا ایک دن کا روزہ تو ایلا ہوگیا یا کہا خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کروں گا جب تک اپنے غلام کو آزاد نہ کروں یا اپنی فلاں عورت کو طلاق نہ دوں یا ایک مہینے کا روزہ نہ رکھ لوں تو ان سب صورتوں میں ایلا ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: تو مجھ پر ویسی ہے جیسے فلاں کی عورت اور اُس نے ایلا کیا ہے اور اِس نے بھی ایلا کی نیت کی تو ایلا ہے ورنہ نہیں ۔ یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو تُو مجھ پر حرام ہے اور نیت ایلا کی ہے تو ہو گیا۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: ایک عورت سے ایلا کیا پھر دوسری سے کہا تجھے میں نے اُس کے ساتھ شریک کردیا تو دوسری سے ایلا نہ ہوا۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: دوعورتوں سے کہا واللّٰہ میں تم دونوں سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہوگیا اب اگر چار مہینے گزر گئے اور دونوں سے قربت نہ کی تو دونوں بائن ہوگئیں اور اگر ایک سے چار مہینے کے اندر جماع کرلیا تو اس کا ایلا باطل ہوگیا اور دوسری کا باقی ہے، مگر کفارہ واجب نہیں اور اگر مدت کے اندر ایک مر گئی تو دونوں کا ایلا باطل ہے اور کفارہ نہیں اور اگر ایک کو طلاق دی تو ایلا باطل نہیں اور اگر مدت میں دونوں سے جماع کیا تو دونوں کا ایلا باطل ہوگیا اور ایک کفارہ واجب ہے۔ (7)(عالمگیری)
1…میت کوکفن دینا۔
2…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۶۷۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۸۔
4… المرجع السابق۔ 5… المرجع السابق۔
6… المرجع السابق۔ 7… المرجع السابق، ص۴۷۹۔
مسئلہ ۲۱: اپنی چار عورتوں سے کہا خداکی قسم میں تم سے قربت نہ کرونگا مگر فلانی یا فلانی سے، تو ان دونوں سے ایلا نہ ہوا۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۲: اپنی دوعورتوں کو مخاطب کرکے کہا خدا کی قسم تم میں سے ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایک سے ایلا ہوا۔ پھر اگر ایک سے وطی کرلی ایلا باطل ہوگیا اورکفارہ واجب ہے۔ اور اگر ایک مر گئی یا مرتد ہ ہوگئی یا اُس کو تین طلاقیں دیدیں تو دوسری ایلا کے لیے معیَّن ہے۔ اور اگر کسی سے وطی نہ کی یہاں تک کہ مدت گزر گئی تو ایک کو بائن طلاق پڑگئی اُسے اختیار ہے جسے چاہے اس کے لیے معین کرے۔ اور اگر چار مہینے کے اندر ایک کو معین کرنا چاہتا ہے تو اسکا اُسے اختیار نہیں اگر معین کر بھی دے جب بھی معین نہ ہوئی مدت کے بعد معین کرنے کا اُسے اختیار ہے۔ اگر ایک سے بھی جماع نہ کیا اور چارمہینے اور گزر گئے تو دونوں بائن ہوگئیں اس کے بعد اگر پھر دونوں سے نکاح کیا ایک ساتھ یا آگے پیچھے تو پھر ایک سے ایلا ہے مگر غیر معین اور دونوں مدتیں گزرنے پر دونوں بائن ہو جائیں گی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: اگر کہا تم دونوں میں کسی سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے چار مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو دونوں کو طلاق بائن ہوگئی اور ایک سے وطی کرلی تو ایلا باطل ہے اور کفارہ واجب۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۴: اپنی عورت اور باندی سے کہا تم میں ایک سے قربت نہ کرونگا تو ایلا نہیں ہاں اگر عورت مراد ہے تو ہے اور ان میں ایک سے وطی کی تو قسم ٹوٹ گئی کفارہ دے۔ پھر اگر لونڈی کو آزاد کرکے اُس سے نکاح کیا جب بھی ایلا نہیں اور اگر دو زوجہ ہوں ایک حرہ (4) دوسری باندی اور کہا تم دونوں سے قربت نہ کرونگا تو دونوں سے ایلا ہے دو۲ مہینے گزر گئے اور کسی سے قربت نہ کی تو باندی کو بائن طلاق ہوگئی اسکے بعد دو ۲ مہینے اور گزر ے تو حرہ بھی بائن۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۵: اپنی دو عورتوں سے کہا کہ اگر تم میں ایک سے قربت کروں تو دوسری کو طلاق ہے اور چار مہینے گزر گئے مگرکسی سے وطی نہ کی تو ایک بائن ہوگئی اور شوہر کو اختیار ہے جس کو چاہے طلاق کے لیے معین کرے اور اب دوسری سے ایلا ہے اگر پھر چار مہینے گزر گئے اور ہنوز(6) پہلی عدت میں ہے تو دوسری بھی بائن ہوگئی ورنہ نہیں اور اگر معین نہ کیا یہاں تک کہ اور چار
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۹۔
2… المرجع السابق۔ 3… المرجع السابق۔
4…آزادعورت جولونڈی نہ ہو۔
5… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۷۹۔
6…ابھی تک۔
مہینے گزر گئے تو دونوں بائن ہوگئیں ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۶: جس عورت کو طلاق بائن دی ہے اُس سے ایلا نہیں ہوسکتا اور رجعی دی ہے تو عدت میں ہوسکتا ہے مگر وقت ایلا سے چار مہینے پورے نہ ہوئے تھے کہ عدت ختم ہوگئی تو ایلا ساقط ہوگیا اور اگر ایلا کرنے کے بعد طلاق بائن دی تو طلاق ہوگئی اور وقت ایلا سے چار مہینے گزرے اور ہنوز طلاق کی عدت پوری نہ ہوئی تو دوسری طلاق پھر پڑی اور اگر عدت پوری ہونے پر ایلا کی مدت پوری ہوئی تو اب ایلا کی وجہ سے طلاق نہ پڑے گی۔ اور اگر ایلا کے بعد طلاق دی اور عدت کے اندر اُس سے پھر نکاح کرلیا تو ایلا بدستور باقی ہے یعنی وقت ایلا سے چار مہینے گزرنے پر طلاق واقع ہوجائے گی اور عدت پوری ہونے کے بعد نکاح کیا جب بھی ایلا ہے مگر وقت نکاح ثانی سے چار ماہ گزرنے پر طلاق ہوگی۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۲۷: یہ کہا کہ خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا دومہینے اور دو مہینے تو ایلا ہوگیا۔ اور اگر یہ کہا کہ واللّٰہ دو مہینے تجھ سے قربت نہ کروں گا پھر ایک دن بعد بلکہ تھوڑی دیر بعد کہا واللّٰہ اُن دومہینوں کے بعد دومہینے قربت نہ کرونگا تو ایلا نہ ہوا مگر اس مدت میں جماع کریگا تو قسم کا کفارہ لازم ہے۔ اگر کہا قسم خدا کی تجھ سے چار مہینے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن ،پھر فوراًکہا واللّٰہ اُس دن بھی قربت نہ کرونگا تو ایلا ہو گیا۔ (3)(عالمگیری ،درمختار)
مسئلہ ۲۸: اپنی عورت سے کہا تجھ کو طلاق ہے قبل اس کے کہ تجھ سے قربت کروں تو ایلا ہوگیا اگر قربت کی تو فوراً طلاق ہوگئی اور چار مہینے تک نہ کی تو ایلا کی وجہ سے بائن ہوگئی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۹: یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو مجھ پر اپنے لڑکے کو قربانی کر دینا ہے تو ایلا ہوگیا۔(5)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۰: یہ کہا کہ اگر میں تجھ سے قربت کروں تو میرا یہ غلام آزاد ہے، چار مہینے گزر گئے اب عورت نے قاضی کے یہاں دعویٰ کیا قاضی نے تفریق کردی(6) پھر اُس غلام نے دعویٰ کیا کہ میں غلام نہیں بلکہ اصلی آزاد ہوں اور گواہ بھی پیش کردیے
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱،ص۴۸۰۔
2…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۱، ص۲۶۶،۲۶۷۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۱،۴۸۲۔
و ’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰ ۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ، ص۴۸۲۔
5… المرجع السابق۔ 6…یعنی جدائی ڈال دی ۔
قاضی فیصلہ کریگا کہ وہ آزاد ہے اور ایلا باطل ہو جائیگا اور عورت واپس ملے گی کہ ایلا تھا ہی نہیں ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۱: اپنی عورت سے کہا خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کروں گا ایک دن بعد پھر یہی کہا ایک دن اور گزرا پھر یہی کہا تو یہ تین ایلا ہوئے اور تین قسمیں ۔ چار مہینے گزرنے پر ایک بائن طلاق پڑی پھر ایک دن اور گزرا تو ایک اور پڑی، تیسرے دن پھر ایک اور پڑی اب بغیر حلالہ اس کے نکاح میں نہیں آسکتی، حلالہ کے بعد اگر نکاح اور قربت کی تو تین کفارے ادا کرے اور اگر ایک ہی مجلس میں یہ لفظ تین بار کہے اور نیت تاکی د کی ہے تو ایک ہی ایلا ہے اور ایک ہی قسم اور اگر کچھ نیت نہ ہویا بار بار قسم کھانا تشدد کی نیت سے ہو تو ایلا ایک ہے مگر قسم تین، لہٰذا اگر قربت کریگا تو تین کفارے دے اور قربت نہ کرے تو مدت گزرنے پر ایک طلاق واقع ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۳۲: خدا کی قسم میں تجھ سے ایک سال تک قربت نہ کرونگا مگر ایک دن یا ایک گھنٹا تو فی الحال ایلا نہیں مگر جبکہ سال میں کسی دن جماع کرلیا اور ابھی سال پورا ہونے میں چار ماہ یا زیادہ باقی ہیں تو اب ایلا ہوگیا۔ اور اگر جماع کرنے کے بعد سال میں چار مہینے سے کم باقی ہے یا اُس سال قربت ہی نہ کی تو اب بھی ایلا نہ ہوا۔ اوراگر صورت مذکورہ میں ایک دن کی جگہ ایک بار کہا جب بھی یہی حکم ہے فرق صرف اتنا ہے کہ اگر ایک دن کہا ہے تو جس دن جماع کیا ہے اُس دن آفتاب ڈوبنے کے بعد سے اگر چار مہینے باقی ہیں تو ایلا ہے ورنہ نہیں اگرچہ وقت جماع سے چارمہینے ہوں اور اگر ایک بار کا لفظ کہا تو جماع سے فارغ ہونے سے چار ماہ باقی ہیں تو ایلا ہوگیا۔ اور اگر یوں کہا کہ میں ایک سال تک جماع نہ کرونگا مگر جس دن جماع کروں تو ایلاکسی طرح نہ ہوا اور اگر یہ کہا کہ تجھ سے قربت نہ کرونگا مگر ایک دن یعنی سال کا لفظ نہ کہا تو جب کبھی جماع کریگا اُسوقت سے ایلا ہے۔ (3)(درمختار وغیرہ)
مسئلہ ۳۳: عورت دوسرے شہر یا دوسرے گاؤں میں ہے شوہر نے قسم کھائی کہ میں وہاں نہیں جاؤنگا تو ایلا نہ ہوا اگرچہ وہاں تک چار مہینے یا زیادہ کی راہ ہو۔(4) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۴: جماع کرنے کو کسی ایسی چیز پر موقوف کیا جسکی نسبت یہ امید نہیں ہے کہ چار مہینے کے اندر ہوجائے تو ایلا ہوگیا مثلاً رجب کے مہینے میں کہے واللّٰہ میں تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک محرم کا روزہ نہ رکھ لوں یا میں تجھ سے جماع نہ
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۲۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰۔
3…المرجع السابق، ص۷۲، وغیرہ۔
4… ’’الدر المختار‘‘ و’’رد المحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۰۔
کرونگامگر فلاں جگہ اور وہاں تک چار مہینے سے کم میں نہیں پہنچ سکتا یا جب تک بچہ کے دودھ چُھڑانے کا وقت نہ آئے اور ابھی دو ۲ برس پورے ہونے میں چار ماہ یا زیادہ باقی ہے تو ان سب صورتوں میں ایلا ہے۔ یوہیں اگر وہ کام مدت کے اندر تو ہوسکتا ہے مگر یوں کہ نکاح نہ رہیگا جب بھی ایلا ہے مثلاً قربت نہ کرونگا یہاں تک کہ تو مرجائے یا میں مرجاؤں یا تو قتل کی جائے یا میں مار ڈالا جاؤں یا تو مجھے مار ڈالے یامیں تجھے مار ڈالوں یا میں تجھے تین طلاقیں دیدوں ۔(1) (جوہرہ وغیرہا)
مسئلہ ۳۵: یہ کہا کہ تجھ سے قیامت تک قربت نہ کرونگا یا یہاں تک کہ آفتاب مغرب سے طلوع کرے یا دجال لعین کا خروج ہو (2)یا دابۃ الا رض (3)ظاہر ہو یا اونٹ سوئی کے ناکے میں چلا جائے یہ سب ایلا ئے مؤبد ہے۔ (4)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۳۶: عورت نا بالغہ ہے اُس سے قسم کھا کر کہا کہ تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تجھے حیض نہ آجائے، اگر معلوم ہے کہ چار مہینے تک نہ آئیگا تو ایلا ہے۔ یوہیں اگر عورت آئسہ ہے اُس سے کہا جب بھی ایلا ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۷: قسم کھا کر کہا تجھ سے قربت نہ کرونگا جب تک تو میری عورت ہے پھر اسے بائن طلا ق دیکر نکاح کیا تو ایلا نہیں اور اب قربت کریگا تو کفارہ بھی نہیں ۔(6) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: قربت کرنا ایسی چیز پر معلق کیا جو کر نہیں سکتا مثلاً یہ کہا جب تک آسمان کو نہ چھولوں توایلا ہوگیا اور اگر کہا کہ جماع نہ کرونگا جب تکی ہ نہر جاری ہے اور وہ نہر بارہوں مہینے جاری رہتی ہے تو ایلا ہے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: صحت کی حالت میں ایلا کیا تھا اور مدت کے اندر وطی کی مگر اس وقت مجنون ہے تو قسم ٹوٹ گئی اور ایلا ساقط۔ (8)(فتح)
مسئلہ ۴۰: ایلا کیا اور مدت کے اندر قسم توڑنا چاہتا ہے مگر وطی کرنے سے عاجز ہے کہ وہ خود بیمار ہے یا عورت بیمار ہے یا عورت صغیر سن (9)ہے یا عورت کا مقام بند ہے کہ وطی ہونہیں سکتی یا یہی نا مرد ہے یا اسکا عضو کاٹ ڈالا گیا ہے یا عورت اتنے فاصلہ پر ہے کہ چار مہینے میں وہاں نہیں پہنچ سکتا یا خودقید ہے اور قید خانہ میں وطی نہیں کر سکتا اور قید بھی ظلماً ہو یا عورت جما ع نہیں
1…’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الایلاء ،الجزء الثانی ص۷۱، وغیرہا۔
2…ظہور ہو، دجال لعین نکلے ۔
3… ایک جانورہے ،جوقرب قیامت میں نکلے گا۔دیکھیے بہارشریعت جلداول ، حصہ اول،ص۱۲۶۔
4…’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘ ، کتاب الایلاء ،الجزء الثانی ص۷۱۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۵۔
6…المرجع السابق۔ 7…المرجع السابق۔
8…’’فتح القدیر‘‘ ،کتاب الطلاق،باب الایلاء ،ج۴،ص۵۷۔ 9… چھوٹی عمروالی۔
کرنے دیتی یا کہیں ایسی جگہ ہے کہ اسکو اُسکا پتا نہیں تو ایسی صورتوں میں زبان سے رجوع کے الفاظ کہہ لے مثلاً کہے میں نے تجھے رجوع کرلیا یا ایلا کو باطل کر دیا یا میں نے اپنے قول سے رجوع کیا یا واپس لیا تو ایلا جاتا رہیگا یعنی مدت پوری ہونے پر طلاق واقع نہ ہوگی اور احتیاط یہ ہے کہ گواہوں کے سامنے کہے مگر قسم اگر مطلق ہے یا مؤبد تو وہ بحالہٖ (1)باقی ہے جب وطی کریگاکفارہ لازم آئیگا۔ اور اگر چار مہینے کی تھی اور چار مہینے کے بعد وطی کی تو کفارہ نہیں مگر زبان سے رجوع کرنے کے لیے یہ شرط ہے کہ مدت کے اندر یہ عجز(2) قائم رہے اور اگر مدت کے اندر زبانی رجوع کے بعد وطی پر قادر ہوگیا تو زبانی رجوع نا کافی ہے وطی ضرورہے۔(3)(درمختار، جوہرہ وغیرہما)
مسئلہ ۴۱: اگر کسی عذر شرعی کی وجہ سے وطی نہیں کرسکتا مثلاً خود یا عورت نے حج کا احرام باندھا ہے اور ابھی حج پورے ہونے میں چار مہینے کا عرصہ ہے تو زبان سے رجوع نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر کسی کے حق کی وجہ سے قید ہے تو زبانی رجوع کافی نہیں کہ یہ عاجز نہیں کہ حق ادا کرکے قید سے رہائی پا سکتا ہے اور اگر جہاں عورت ہے وہاں تک چار مہینے سے کم میں پہنچے گا مگر دشمن یا بادشاہ جانے نہیں دیتا تو یہ عذر نہیں ۔ (4)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۲: وطی سے عاجز نے دل سے رجوع کرلیا مگر زبان سے کچھ نہ کہا تو رجوع نہیں ۔ (5)(ردالمحتار)
مسئلہ ۴۳: جس وقت ایلا کیا اُس وقت عاجز نہ تھا پھر عاجز ہوگیا تو زبانی رجوع کافی نہیں مثلاً تندرست نے ایلا کیا پھر بیمار ہوگیا تو اب رجوع کے لیے وطی ضرور ہے، مگر جبکہ ایلا کرتے ہی بیمار ہوگیا اتنا وقت نہ ملا کہ وطی کرتا تو زبان سے کہہ لینا کافی ہے اور اگر مریض نے ایلا کیا تھا اور ابھی اچھا نہ ہوا تھا کہ عورت بیمار ہوگئی، اب یہ اچھا ہوگیا تو زبانی رجوع ناکافی ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۴۴: زبان سے رجوع کے لیے ایک شرط یہ بھی ہے کہ وقت رجوع نکاح باقی ہواور اگر بائن طلاق دیدی تو رجوع نہیں کر سکتا یہاں تک کہ اگر مدت کے اندر نکاح کرلیا پھر مدت پوری ہوئی تو طلاق بائن واقع ہوگئی۔ (7)(درمختار، ردالمحتار)
1…اسی طرح۔ 2…عذر،مجبوری
3…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الایلاء، ج۵، ص۷۴،۷۶۔
و’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الایلاء ، الجزء الثانی،ص۷۵، وغیرہما۔
4…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘ ،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۴۔
5…’’رد المحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۵۔
6…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘ ،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۷۶،۷۷۔
7… المرجع السابق، ص۷۷۔
مسئلہ ۴۵: شہوت کے ساتھ بوسہ لینا یا چھونا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا یا آگے کے مقام کے علاوہ کسی اور جگہ وطی کرنا رجوع نہیں ۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۶: اگر حیض میں جماع کرلیا تو اگرچہ یہ بہت سخت حرام ہے مگر ایلا جاتا رہا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: اگر ایلا کسی شرط پر معلق تھا اور جس وقت شرط پائی گئی اُس وقت عاجز ہے تو زبانی رجوع کافی ہے ورنہ نہیں ،تعلیق کے وقت کا لحاظ نہیں ۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۸: مریض نے ایلا کیا پھر دس دن کے بعد دوبارہ ایلا کے الفاظ کہے تو دو۲ ایلا ہیں اور دو ۲ قسمیں اور دونوں کی دو مدتیں اگر دونوں مدتیں پوری ہونے سے پہلے زبانی رجوع کرلیا اور دونوں مدتیں پوری ہونے تک بیمار رہا تو زبانی رجوع صحیح ہے دونوں ایلا جاتے رہے۔ اور اگر پہلی مدت پوری ہونے سے پہلے اچھا ہوگیا تو وہ رجوع کرنا بیکار گیا اور اگر زبانی رجوع نہ کیا تھاتو دونوں مدتیں پوری ہونے پر دو ۲ طلاقیں واقع ہونگی اور اگر جماع کرلے گا تو دونوں قسمیں ٹوٹ جائیں گی اور دو کفارے لازم اور اگر پہلی مدت پوری ہونے سے پہلے زبانی رجوع کیا اور مدت پوری ہونے پر اچھا ہوگیا تو اب دوسرے کے لیے وہ کافی نہیں بلکہ جماع ضرور ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: مدت میں اگر زوج و زوجہ کا اختلاف ہو تو شوہر کا قول معتبر ہے مگر عورت کو جب اُس کا جھوٹا ہونا معلوم ہو تو اُسے اجازت نہیں کہ اُس کے ساتھ رہے جس طرح ہوسکے مال وغیرہ دیکر اُس سے علیحدہ ہو جائے۔ اور اگر مدت کے اندر جماع کرنا بتاتا ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور پوری ہونے کے بعد کہتا ہے کہ اثنائے مدت (5)میں جماع کیا ہے تو جب تک عورت اُس کی تصدیق نہ کرے اُس کا قول نہ مانیں ۔ (6)(عالمگیری ، جوہرہ)
مسئلہ ۵۰: عورت سے کہا اگر تو چاہے تو خدا کی قسم تجھ سے قربت نہ کرونگا اُسی مجلس میں عورت نے کہامیں نے چاہا تو ایلا ہوگیا۔ یوہیں اگر اور کسی کے چاہنے پر ایلا معلق کیا تو مجلس میں اُس کے چاہنے سے ایلا ہو جائیگا۔ (7)(عالمگیری)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۵۔
2…المرجع السابق، ص۴۸۶۔ 3…المرجع السابق، ص۴۸۶۔
4… المرجع السابق، ص۴۸۶۔ 5…مدت کے دوران۔
6… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، المرجع السابق، ص۴۸۷۔
و’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘، کتاب الایلاء، الجزء الثانی،ص۷۵۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب السابع في الایلاء، ج۱، ص۴۸۷۔
مسئلہ ۵۱: عورت سے کہا تو مجھ پر حرام ہے اس لفظ سے ایلا کی نیت کی تو ایلا ہے اور ظہار کی ،تو ظہار ورنہ طلاق بائن اور تین کی نیت کی تو تین۔ اور اگر عورت نے کہا کہ میں تجھ پر حرام ہوں تو یمین ہے شوہر نے زبر دستی یا اُس کی خوشی سے جماع کیا تو عورت پرکفارہ لازم ہے۔ (1)(درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۲: اگر شوہر نے کہا تو مجھ پر مثل مردار یا گوشتِ خنزیر یا خون یا شراب کے ہے اگر اس سے جھوٹ مقصود ہے تو جھوٹ ہے اور حرام کرنا مقصود ہے تو ایلا ہے اور طلاق کی نیت ہے تو طلاق۔ (2)(جوہرہ)
مسئلہ ۵۳: عورت کو کہا تو میری ماں ہے اور نیت تحریم کی ہے تو حرام نہ ہوگی، بلکہ یہ جھوٹ ہے۔(3) (جوہرہ)
مسئلہ ۵۴: اپنی دوعورتوں سے کہا تم دونوں مجھ پر حرام ہو اور ایک میں طلاق کی نیت ہے، دوسری میں ایلا کی یا ایک میں ایک طلاق کی نیت کی ، دوسری میں تین کی تو جیسی نیت کی ، اُس کے موافق حکم دیا جائے گا۔(4) (درمختار ،عالمگیری)
خلع کا بیان
اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
[ وَ لَا يَحِلُّ لَكُمْ اَنْ تَاْخُذُوْا مِمَّاۤ اٰتَيْتُمُوْهُنَّ شَيْـًٔا اِلَّاۤ اَنْ يَّخَافَاۤ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ؕ فَاِنْ خِفْتُمْ اَلَّا يُقِيْمَا حُدُوْدَ اللّٰهِ١ۙ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِمَا فِيْمَا افْتَدَتْ بِهٖ١ؕ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ فَلَا تَعْتَدُوْهَا١ۚ وَ مَنْ يَّتَعَدَّ حُدُوْدَ اللّٰهِ فَاُولٰٓىِٕكَ هُمُ الظّٰلِمُوْنَ۰۰۲۲۹](5)
تمھیں حلال نہیں کہ جو کچھ عورتوں کو دیا ہے اُس میں سے کچھ واپس لو، مگر جب دونوں کو اندیشہ ہو کہ اللّٰہ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے پھر اگر تمھیں اندیشہ ہو کہ وہ دونوں اللّٰہ (عزوجل) کی حدیں قائم نہ رکھیں گے تو اُن پر کچھ گناہ نہیں ، اِس میں کہ بدلا دیکر عورت چھٹی لے، یہ اللّٰہ (عزوجل) کی حدیں ہیں ان سے تجاوز نہ کرو اورجو اللّٰہ (عزوجل) کی حدوں سے تجاوز کریں تو وہ لوگ ظالم ہیں ۔
1…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الایلاء،مطلب فی قولہ:أنت علیَّ حرام،ج۵،ص۷۷۔۸۱ ۔
2…’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الایلاء،الجزء الثانی،ص۷۶۔
3…المرجع السابق۔
4…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الایلاء،ج۵،ص۸۵۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب السابع في الایلاء،ج۱،ص۴۸۷۔
5…پ۲،البقرۃ:۲۲۹۔
حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت عبداللّٰہ بن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی کہ ثا بت بن قیس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ کی زوجہ نے حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کی ، کہ یا رسول اللّٰہ! ( صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) ثابت بن قیس کے اخلاق و دین کی نسبت مجھے کچھ کلام نہیں (یعنی اُن کے اخلاق بھی اچھے ہیں اور دیندار بھی ہیں ) مگر اسلام میں کفران نعمت کو میں پسند نہیں کرتی (یعنی بوجہ خوبصورت نہ ہونے کے میر ی طبیعت ان کی طرف مائل نہیں ) ارشار فرمایا: ’’اُس کا باغ (جو مہر میں تجھ کو دیا ہے) تو واپس کر دیگی؟‘‘ عرض کی ، ہاں ۔ حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) نے ثابت بن قیس سے فرمایا: ’’باغ لے لو اور طلاق دیدو۔‘‘ (1)
مسئلہ ۱: مال کے بدلے میں نکاح زائل کرنے کو خلع کہتے ہیں عورت کا قبول کرنا شرط ہے بغیر اُس کے قبول کیے خلع نہیں ہو سکتا اور اس کے الفاظ معین ہیں ان کے علاوہ اور لفظوں سے نہ ہو گا۔
مسئلہ ۲: اگر زوج و زوجہ میں نا اتفاقی رہتی ہو اور یہ اندیشہ ہو کہ احکام شرعیہ کی پابندی نہ کرسکی ں گے تو خلع میں مضایقہ نہیں اور جب خلع کر لیں تو طلاق بائن واقع ہو جائے گی اور جو مال ٹھہرا ہے عورت پر اُس کا دینا لازم ہے۔ (2)(ہدایہ)
مسئلہ ۳: اگر شوہر کی طرف سے زیادتی ہو تو خلع پر مطلقاً عوض لینا مکروہ ہے اور اگر عورت کی طرف سے ہو تو جتنا مہر میں دیا ہے اُس سے زیا دہ لینا مکروہ پھر بھی اگر زیادہ لے لے گا تو قضاء جائز ہے۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴: جو چیز مہر ہو سکتی ہے وہ بدل خلع بھی ہو سکتی ہے اور جو چیز مہرنہیں ہو سکتی وہ بھی بدل خلع ہو سکتی ہے مثلاً دس درہم سے کم کو بدل خلع کر سکتے ہیں مگر مہر نہیں کر سکتے۔ (4)(درمختار)
مسئلہ ۵: خلع شوہر کے حق میں طلاق کو عورت کے قبول کرنے پر معلق کرنا ہے کہ عورت نے اگر مال دینا قبول کر لیا تو طلاق بائن ہو جائے گی لہٰذا اگر شوہر نے خلع کے الفاظ کہے اور عورت نے ابھی قبول نہیں کیا تو شوہر کو رجوع کا اختیار نہیں نہ شوہر کو شرط خیار حاصل اور نہ شوہر کی مجلس بدلنے سے خلع باطل۔ (5)(خانیہ)
مسئلہ ۶: خلع عورت کی جانب میں اپنے کو مال کے بدلے میں چھڑانا ہے تو اگر عورت کی جانب سے ابتدا ہوئی مگر
1…’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع وکی ف الطلاق فیہ، الحدیث: ۵۲۷۳،ج۳، ص۴۸۷۔
2… ’’الھدایۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۲، ص۲۶۱۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸۔
4… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۸۹۔
5… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۶۔
ابھی شوہر نے قبول نہیں کیا تو عورت رجوع کر سکتی ہے اور اپنے لیے اختیار بھی لے سکتی ہے اور یہاں تین دن سے زیادہ کا بھی اختیار لے سکتی ہے۔ بخلاف بیع (1) کے کہ بیع میں تین دن سے زیادہ کا اختیار نہیں اور دونوں میں سے ایک کی مجلس بدلنے کے بعد عورت کا کلام باطل ہو جائیگا۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۷: خلع چونکہ معاوضہ ہے لہٰذا یہ شرط ہے کہ عورت کا قبول اُس لفظ کے معنٰے سمجھ کر ہو، بغیر معنٰے سمجھے اگر محض لفظ بول دے گی تو خلع نہ ہوگا۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۸: چونکہ شوہر کی جانب سے خلع طلاق ہے لہٰذا شوہر کا عاقل بالغ ہونا شرط ہے نا بالغ یامجنون خلع نہیں کر سکتا کہ اہل طلاق نہیں (4) اور یہ بھی شرط ہے کہ عورت محل طلاق ہو لہٰذا اگر عورت کو طلاق بائن دیدی ہے تو اگرچہ عدت میں ہو اُس سے خلع نہیں ہوسکتا۔ یوہیں اگر نکاح فاسد ہواہے یا عورت مرتدہ ہوگئی جب بھی خلع نہیں ہو سکتا کہ نکاح ہی نہیں ہے خلع کس چیز کا ہو گا اور رجعی کی عدت میں ہے تو خلع ہو سکتا ہے۔(5) (درمختار، ردالمحتار)
مسئلہ ۹: شوہر نے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا اور مال کا ذکر نہ کیا تو خلع نہیں بلکہ طلاق ہے اور عورت کے قبول کرنے پر موقوف نہیں ۔(6) (بدائع)
مسئلہ ۱۰: شوہر نے کہامیں نے تجھ سے اتنے پر خلع کیا عورت نے جواب میں کہا ہاں تو اس سے کچھ نہیں ہوگا جب تکی ہ نہ کہے کہ میں راضی ہوئی یا جائز کیا یہ کہا تو صحیح ہوگیا۔ یوہیں اگر عورت نے کہا مجھے ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق دیدے شوہر نے کہا ہاں تو یہ بھی کچھ نہیں اور اگر عورت نے کہا مجھ کو ہزار روپیہ کے بدلے میں طلاق ہے شوہر نے کہا ہاں تو ہوگئی۔(7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: نکاح کی وجہ سے جتنے حقوق ایک کے دوسرے پر تھے وہ خلع سے ساقط ہو جاتے ہیں اور جو حقوق کہ نکاح سے علاوہ ہیں وہ ساقط نہ ہوں گے۔ عدت کا نفقہ اگرچہ نکاح کے حقوق سے ہے مگر یہ ساقط نہ ہوگا ہاں اگر اس کے ساقط ہونے کی
1…خریدوفروخت۔
2… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۶۔
3…’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۱۔
4…یعنی طلاق دینے کی اہلیت نہیں رکھتا۔
5…’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۸۷،۸۹۔
6…’’بدائع الصنائع‘‘، کتاب الطلاق، فصل رکن الخلع، ج۳، ص۲۲۹۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸۔
شرط کر دی گئی تو یہ بھی ساقط ہو جائیگا۔ یوہیں عورت کے بچہ ہو تو اُس کا نفقہ اور دودھ پلانے کے مصارف (1)ساقط نہ ہوں گے اور اگر ان کے ساقط ہونے کی بھی شرط ہے اور اس کے لیے کوئی وقت معین کر دیا گیا ہے تو ساقط ہو جائیں گے ورنہ نہیں اور بصورت وقت معین کرنے کے اگر اُس وقت سے پیشتر بچہ کا انتقال ہوگیا تو باقی مدت میں جو صرف ہوتا وہ عورت سے شوہر لے سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ عورت اپنے مال سے دس برس تک بچہ کی پرورش کریگی تو بچہ کے کپڑے کا عورت مطالبہ کر سکتی ہے۔ اور اگر بچہ کا کھانا کپڑا دونوں ٹھہرا ہے تو کپڑے کا مطالبہ بھی نہیں کر سکتی اگرچہ یہ معین نہ کیا ہو کہ کس قسم کا کپڑا پہنائے گی اور بچہ کو چھوڑ کر عورت بھاگ گئی تو باقی نفقہ کی قیمت شوہر وصول کر سکتا ہے۔ اور اگر یہ ٹھہرا ہے کہ بلوغ تک اپنے پاس رکھے گی تو لڑکی میں ایسی شرط ہو سکتی ہے لڑکے میں نہیں ۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: خلع کسی مقدار معین پر ہوا اور عورت مدخولہ ہے اور مہر پر عورت نے قبضہ کر لیا ہے تو جو ٹھہرا ہے شوہر کو دے اور اس کے علاوہ شوہر کچھ نہیں لے سکتا ہے۔ اور مہرعورت کو نہیں ملا ہے تو اب عورت مہر کا مطالبہ نہیں کرسکتی اورجو ٹھہرا ہے شوہر کو دے۔ اور اگر غیر مدخولہ ہے اور پورا مہر لے چکی ہے تو شوہر نصف مہر کا دعویٰ نہیں کر سکتا اور مہرعورت کو نہیں ملاہے تو عورت نصف مہر کا شوہر پر دعویٰ نہیں کرسکتی اور دونوں صورتوں میں جو ٹھہرا ہے دینا ہوگا اور اگر مہر پر خلع ہوا اور مہر لے چکی ہے تو مہر واپس کرے اور مہر نہیں لیا ہے توشوہر سے مہر ساقط ہوگیا اور عورت سے کچھ نہیں لے سکتا۔ اور اگر مثلاً مہر کے دسویں حصہ پر خلع ہوا اور مہر مثلاً ہزار روپے کا ہے اور عورت مدخولہ ہے اور کل مہر لے چکی ہے تو شوہر اُس سے سوروپے لے گا اور مہر بالکل نہیں لیا ہے تو شوہر سے کل مہر ساقط ہوگیا اور اگر عورت غیر مدخولہ ہے اور مہر لے چکی ہے تو شوہر اُس سے پچاس روپے لے سکتا ہے اور عورت کو کچھ مہر نہیں ملا ہے تو کل ساقط ہو گیا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۳: عورت کا جو مہر شوہر پر ہے اُسکے بدلے میں خلع ہوا پھر معلوم ہوا کہ عورت کا کچھ مہر شوہر پر نہیں تو عورت کو مہر واپس کرنا ہوگا۔ یوہیں اگر اُس اسباب (4)کے بدلے میں خلع ہوا جو عورت کا مرد کے پاس ہے پھر معلوم ہوا کہ اُس کا اسباب اسکے پاس کچھ نہیں ہے تو مہر کے بدلے میں خلع قرار پائیگا مہر لے چکی ہے تو واپس کرے اور شوہر پر باقی ہے تو ساقط۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۱۴: جو مہر عورت کا شوہر پر ہے اُس کے بدلے میں خلع ہوا یا طلاق اور شوہر کو معلوم ہے کہ اُس کا کچھ مجھ پر نہیں
1…اخراجات۔
2… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الاول، ج۱، ص۴۸۸ ۔۴۹۰۔
3… المرجع السابق، ص۴۸۹۔ 4…سامان۔
5…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷۔
چاہیے تو اُس سے کچھ نہیں لے سکتا ہے خلع کی صورت میں طلاق بائن ہوگی اور طلاق کی صورت میں رجعی۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۱۵: یوں خلع ہوا کہ جو کچھ شوہر سے لیا ہے واپس کرے اور عورت نے جو کچھ لیا تھا فروخت کر ڈالا یاہبہ کر کے قبضہ دلا دیا کہ وہ چیز شوہر کو واپس نہیں کر سکتی تو اگر وہ چیز قیمتی ہے تو اُس کی قیمت دے اور مثلی ہے تو اُس کی مثل۔ (2)(خانیہ)
مسئلہ ۱۶: عورت کو طلاق بائن دے کر پھر اُس سے نکاح کیا پھر مہر پر خلع ہوا تو دوسرا مہر ساقط ہوگیا پہلا نہیں ۔ (3)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۷: بغیر مہرنکاح ہوا تھا اور دخول سے پہلے خلع ہوا تو متعہ (4)ساقط اور اگر عورت نے مال معین پر خلع کیا اس کے بعد بدل خلع میں زیادتی کی (5)تو یہ زیا دتی باطل ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۸: خلع اس پر ہوا کہ کسی عورت سے زوجہ اپنی طرف سے نکاح کرا دے اور اُسکا مہر زوجہ دے تو زوجہ پر صرف وہ مہر واپس کرنا ہوگا جو زوج سے لے چکی ہے اور کچھ نہیں ۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۹: شراب وخنزیر و مردار وغیرہ ایسی چیز پر خلع ہوا جو مال نہیں تو طلاق بائن پڑگئی اور عورت پر کچھ واجب نہیں اور اگر ان چیزوں کے بدلے میں طلاق دی تو رجعی واقع ہوئی۔ یوہیں اگر عورت نے یہ کہا میرے ہاتھ میں جو کچھ ہے اُس کے بدلے میں خلع کر اور ہا تھ میں کچھ نہ تھا تو کچھ واجب نہیں اور اگر یوں کہا کہ اُس مال کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو اگر مہر لے چکی ہے تو واپس کرے ورنہ مہر ساقط ہو جائیگا اور اس کے علاوہ کچھ دینا نہیں پڑیگا۔ یوہیں اگر شوہر نے کہا میں نے خلع کیا اُس کے بدلے میں جو میرے ہاتھ میں ہے اور ہاتھ میں کچھ نہ ہو تو کچھ نہیں اور ہاتھ میں جواہرات ہوں تو عورت پر دینا لازم ہو گااگرچہ عورت کو یہ معلوم نہ تھا کہ اُس کے ہاتھ میں کیا ہے۔ (8)(درمختار، جوہرہ)
مسئلہ ۲۰: میرے ہاتھ میں جو روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور ہاتھ میں کچھ نہیں تو تین روپے دینے ہوں گے۔(9)(درمختار وغیرہ) مگر اُردو میں چونکہ جمع دوپر بھی بولتے ہیں لہٰذا دوہی روپے لازم ہوں گے اور صورت مذکور ہ میں اگر ہاتھ
1…’’الفتاوی الخانیۃ‘‘ کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷۔
2… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۸۔
3… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الخلع، الجزء الثانی، ص۸۱۔
4… کپڑوں کاجوڑا(قمیض،شلوار،چادر)۔ 5…اضافہ کیا۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن فيالخلع ومافيحکمہ،الفصل الاول،ج۱،ص۴۹۰۔
7 …المرجع السابق۔
8…’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۶۔
و’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘، کتاب الخلع،الجزء الثاني،ص۷۹۔
9… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۹۷، وغیرہ۔
میں ایک ہی روپیہ ہے، جب بھی دو دے۔
مسئلہ ۲۱: اگر یہ کہا کہ اِس گھر میں یا اس صندوق میں جو مال یا روپے ہیں اُن کے بدلے میں خلع کر اور حقیقتہً ان میں کچھ نہ تھا تو یہ بھی اُسی کے مثل ہے کہ ہاتھ میں کچھ نہ تھا۔ یوہیں اگر یہ کہا کہ اس جاریہ(1) یا بکری کے پیٹ میں جو ہے اُس کے بدلے میں اور کمتر مدت حمل میں نہ جنی تو مفت طلاق واقع ہوگئی اور کمتر مدت حمل میں جنی تو وہ بچہ خلع کے بدلے ملے گا۔ کمتر مدت حمل عورت میں چھ مہینے ہے اور بکری میں چار مہینے اور دوسرے چوپایوں میں بھی وہی چھ ۶ مہینے۔ یوہیں اگر کہا اس درخت میں جو پھل ہیں اُن کے بدلے اور درخت میں پھل نہیں تو مہر واپس کرنا ہوگا۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۲۲: کوئی جانور گھوڑا خچر بیل وغیرہ بدل خلع قرار دیا اور اُس کی صفت بھی بیان کر دی تو اوسط (3) درجہ کا دینا واجب آئیگا اور عورت کو یہ بھی اختیار ہے کہ اُس کی قیمت دیدے اور جانور کی صفت نہ بیان کی ہو تو جو کچھ مہر میں لے چکی ہے وہ واپس کرے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۳: عورت سے کہا میں نے تجھ سے خلع کیا عورت نے کہا میں نے قبول کیا تو اگر وہ لفظ شوہر نے بہ نیت طلاق کہا تھا طلاق بائن واقع ہوگئی اور مہر ساقط نہ ہوگابلکہ اگر عورت نے قبول نہ کیا ہو جب بھی یہی حکم ہے اور اگر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے طلاق کی نیت سے نہ کہا تھا تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک عورت قبول نہ کرے۔ اور اگر یہ کہا تھا کہ فلاں چیز کے بدلے میں نے تجھ سے خلع کیا تو جب تک عورت قبول نہ کرے گی طلاق واقع نہ ہوگی اور عورت کے قبول کرنے کے بعد اگر شوہر کہے کہ میری مراد طلاق نہ تھی تو اُس کی بات نہ مانی جائے۔(5) (خانیہ وغیرہ)
مسئلہ ۲۴: بھاگے ہوئے غلام کے بدلے میں خلع کیا اور عورت نے یہ شرط لگادی کہ میں اُس کی ضامن نہیں یعنی اگر مل گیا تو دیدوں گی اور نہ ملا تو اس کا تاوان میرے ذمّہ نہیں تو خلع صحیح ہے اور شرط باطل یعنی اگر نہ ملا تو عورت اُس کی قیمت دے اور اگر یہ شرط لگائی کہ اگر اُس میں کوئی عیب ہو تو میں بَری ہوں تو شرط صحیح ہے۔(6) (درمختار، ردالمحتار) جانور گم شدہ کے بدلے میں ہو جب بھی یہی حکم ہے۔
1…لونڈی۔
2… ’’الدر المختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الخلع، ج۵، ص۹۸۔
3…درمیانہ ۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثانی،ج۱، ص۴۹۵۔
5… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۷، وغیرہ۔
6…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب: فی معنی المجتھد فیہ، ج۵، ص۹۹۔
مسئلہ ۲۵: عورت نے شوہر سے کہا ہزارروپے پر مجھ سے خلع کر شوہر نے کہا تجھ کو طلاق ہے تو یہ اُس کا جواب سمجھا جائیگا۔ ہاں اگر شوہر کہے کہ میں نے جواب کی نیت سے نہ کہا تھا تو اُس کا قول مان لیا جا ئیگا اور طلاق مفت واقع ہوگی۔ اور بہتر یہ ہے کہ پہلے ہی شوہر سے دریافت کر لیا جائے۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے میں نے خلع طلب کیا تھا اور شوہر کہتا ہے میں نے تجھے طلاق دی تھی تو شوہرسے دریافت کریں اگر اُس نے جواب میں کہا تھا تو خلع ہے ورنہ طلاق۔(1) (خانیہ)
مسئلہ ۲۶: خرید وفروخت کے لفظ سے بھی خلع ہوتا ہے مثلاً مرد نے کہا میں نے تیرا امر یا تیری طلاق تیرے ہاتھ اتنے کو بیچی عورت نے اُسی مجلس میں کہا میں نے قبول کی طلاق واقع ہو گئی۔ یوہیں اگر مہر کے بدلے میں بیچی اور اُس نے قبول کی ہاں اگر اُس کا مہر شوہر پر باقی نہ تھا اور یہ بات شوہر کو معلوم تھی پھر مہر کے بدلے بیچی تو طلاق رجعی ہوگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۲۷: لوگوں نے عورت سے کہا تو نے اپنے نفس کو مہرو نفقۂ عدّت (3) کے بدلے خریدا عورت نے کہا ہاں خریدا پھر شوہر سے کہا تو نے بیچا اُس نے کہا ہاں تو خلع ہوگیا اور شوہر تما م حقوق سے بَری ہوگیا۔ اور اگر خلع کرانے کے لیے لوگ جمع ہوئے اور الفاظ مذکورہ دونوں سے کہلائے اب شوہر کہتا ہے میرے خیال میں یہ تھا کہ کسی مال کی خرید و فروخت ہورہی ہے جب بھی طلاق کا حکم دیں گے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۲۸: لفظ بیع سے خلع ہو تو اُس سے عورت کے حقوق ساقط نہ ہوں گے جب تکی ہ ذکر نہ ہو کہ اُن حقوق کے بدلے بیچا۔(5) (خانیہ)
مسئلہ ۲۹: شوہر نے عورت سے کہا تو نے اپنے مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریدیں عورت نے کہا خریدیں تو طلاق واقع نہ ہوگی جب تک مرد اس کے بعد یہ نہ کہے کہ میں نے بیچیں اور اگر شوہر نے پہلے یہ لفظ کہے کہ مہر کے بدلے مجھ سے تین طلاقیں خریداور عورت نے کہا خریدیں تو واقع ہوگئیں ، اگرچہ شوہر نے بعد میں بیچنے کا لفظ نہ کہا۔ (6)(خانیہ)
مسئلہ ۳۰: عورت نے شوہر سے کہا میں نے اپنا مہر اور نفقۂ عدّت تیرے ہاتھ بیچا تونے خریدا، شوہر نے کہا میں
1… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۵۹۔
2…المرجع السابق، فصل فی الخلع بلفظ۔۔۔الخ، ص۲۶۲۔
3…نفقۂ عدتیعنی وہ اخراجات جودورانِ عدت شوہر کی طرف سے عورت کودیے جاتے ہیں ۔
4…’’الفتاوی الہندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ ،الفصل الاول،ج۱، ص۴۹۳۔
5…’’ الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب الطلاق، فصل فی الخلع بلفظ البیع والشراء ، ج۱،ص۲۶۲-۲۶۳۔
6…المرجع السابق، ص۲۶۲۔
نے خریدا، اُٹھ جا، وہ چلی گئی تو طلاق واقع نہ ہوئی مگر احتیاط یہ ہے کہ اگر پہلے دوطلاقیں نہ دے چکا ہو تو تجدیدِ نکاح کرے۔(1)(خانیہ)
مسئلہ ۳۱: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ ایک طلاق بیچی اور عوض کا ذکر نہ کیا عورت نے کہا میں نے خریدی تو رجعی پڑے گی اور اگر یہ کہا کہ میں نے تجھے تیرے ہاتھ بیچا اور عورت نے کہا خریدا تو بائن پڑیگی۔(2) (خانیہ)
مسئلہ ۳۲: عورت سے کہا میں نے تیرے ہاتھ تین ہزار کو طلا ق بیچی اس کو تین بار کہا آخر میں عورت نے کہا میں نے خریدی پھر شوہر یہ کہتا ہے کہ میں نے تکرار کے ارادہ سے تین بار کہا تھا تو قضاء اُس کا قول معتبر نہیں اور تین طلاقیں واقع ہو گئیں اور عورت کو صرف تین ہزار دینے ہونگے نو ۹ ہزار نہیں کہ پہلی طلاق تین ہزار کے عوض ہوئی اور اب دوسری اور تیسری پر مال واجب نہیں ہوسکتا اور چونکہ صریح ہیں ، لہٰذا بائن کو لاحق ہونگی۔(3) (خانیہ)
مسئلہ ۳۳: مال کے بدلے میں طلاق دی اور عورت نے قبول کر لیا تو مال واجب ہوگا اور طلاق بائن واقع ہوگی۔(4)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۴ : عورت نے کہا ہزار روپے کے عوض مجھے تین طلاقیں دیدے شوہر نے اُسی مجلس میں ایک طلاق دی تو بائن واقع ہوئی اور ہزار کی تہائی کا مستحق ہے اور مجلس سے اُٹھ گیا پھر طلاق دی تو بلا معاوضہ واقع ہوگی۔ اوراگر عورت کے اس کہنے سے پہلے دو۲طلاقیں دے چکا تھا اور اب ایک دی تو پورے ہزار پائیگا۔ اور اگر عورت نے کہا تھا کہ ہزار روپے پر تین طلاقیں دے اور ایک دی تو رجعی ہوئی اور اگر اس صورت میں مجلس میں تین طلاقیں متفرق کرکے دیں تو ہزار پائے گا اور تین مجلسوں میں دیں تو کچھ نہیں پائیگا۔ (5)(درمختار ، ردالمحتار)
مسئلہ ۳۵: شوہر نے عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تو اپنے کو تین طلاقیں دیدے عورت نے ایک طلاق دی تو واقع نہ ہوئی۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۳۶ : عورت سے کہا ہزار کے عوض یا ہزار روپے پر تجھ کو طلاق ہے عورت نے اُسی مجلس میں قبول کر لیا تو ہزار
1… ’’الفتاوی الخانیۃ‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۱، ص۲۶۲۔
2… المرجع السابق۔ 3… المرجع السابق۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما فيحکمہ، الفصل الاول،ج۱، ص۴۹۵۔
5… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب: فی معنی المجتھد فیہ ،ج۵، ص۹۹۔
6… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۰۰۔
روپے واجب ہوگئے اور طلاق ہو گئی۔ ہاں اگر عورت سفیہہ(1)ہے یا قبول کرنے پر مجبور کی گئی تو بغیر مال طلاق پڑجائے گی اور اگر مریضہ ہے تو تہائی سے یہ رقم ادا کی جائے گی۔(2) (درمختار)
مسئلہ ۳۷: اپنی دو عورتوں سے کہا تم میں ایک کو ہزار روپے کے عوض طلاق ہے اور دوسری کو سو اشرفیوں کے بدلے اور دونوں نے قبول کرلیاتو دونوں مطلَّقہ ہوگئیں اور کسی پر کچھ واجب نہیں ہاں اگر شوہر دونوں سے روپے لینے پر راضی ہو تو روپے لازم ہوں گے اور راضی نہ ہو تو مفت مگر اس صورت میں رجعی ہوگی۔(3) (درمختار، ردالمحتار) اور اگر یوں کہا کہ ایک کو ہزار روپے پر طلاق اور دوسری کو پانسو روپے پر تو دونوں مطلقہ ہوگئیں اور ہر ایک پر پان پانسو لازم۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۳۸: عورت غیر مدخولہ کو ہزار روپے پر طلاق دی اور اُس کامہر تین ہزار کا تھا جو سب ابھی شوہر کے ذمہ ہے تو ڈیڑھ ہزار تو یوں ساقط ہوگئے کہ قبل دخول (5) طلاق دی ہے باقی رہے ڈیڑھ ہزار ان میں ہزار طلاق کے بدلے وضع ہوئے اور پانسو شوہرسے واپس لے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۳۹: مہر کی ایک تہائی کے بدلے ایک طلاق دی اور دوسری تہائی کے بدلے دوسری اور تیسری کے بدلے تیسری تو صرف پہلی طلاق کے عوض ایک تہائی ساقط ہو جائے گی اور دو تہائیاں شوہر پر واجب ہیں ۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۰: عورت کو چار طلاقیں ہزار روپے کے عوض دیں اُس نے قبول کر لیں تو ہزار کے بدلے میں تین ہی واقع ہونگی اور اگر ہزار کے بدلے میں تین قبول کی ں تو کوئی واقع نہ ہوگی۔ اور اگر عورت نے شوہر سے ہزار کے بدلے میں چار طلاقیں دینے کو کہا اور شوہر نے تین دیں تو یہ تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہو گئیں اور ایک دی تو ایک ہزارکی تہائی کے بدلے میں ۔ (8)(فتح)
مسئلہ ۴۱: عورت نے کہا ہزار روپے پر یا ہزار کے بدلے میں مجھے ایک طلاق دے شوہر نے کہا تجھ پر تین طلاقیں اور بدلے کو ذکر نہ کیا تو بلا معاوضہ تین ہوگئیں ۔ اور اگر شوہر نے ہزار کے بدلے میں تین دیں تو عورت کے قبول کرنے پر موقوف ہے
1…بیوقوف،کم عقل۔
2…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۵،ص۱۰۰،۱۱۷۔
3…’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الخلع،مطلب:تستعمل ((علی))۔۔۔إلخ،ج۵،ص۱۰۱۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۴۹۸۔
5…جماع سے پہلے۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۴۹۵۔
7…المرجع السابق،ص۴۹۵۔
8…’’فتح القدیر‘‘،کتاب الطلاق،باب الخلع،ج۴،ص۶۹۔
قبول نہ کیا تو کچھ نہیں اور قبول کیا تو تین طلاقیں ہزار کے بدلے میں ہوئیں ۔ (1)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۲: عورت سے کہا تجھ پر تین طلاقیں ہیں جب تو مجھے ہزار روپے دے تو فقط اس کہنے سے طلاق واقع نہ ہوگی بلکہ جب عورت ہزار روپے دے گی یعنی شوہر کے سامنے لاکر رکھ دیگی اُس وقت طلاقیں واقع ہونگی اگرچہ شوہر لینے سے انکار کرے اور شوہر روپے لینے پر مجبور نہیں کیا جائیگا۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۳: دونوں راہ چل رہے ہیں اور خلع کیا اگر ہر ایک کا کلام دوسرے کے کلام سے متصل ہے تو خلع صحیح ہے ورنہ نہیں اور اِس صورت میں طلاق بھی واقع نہیں ہوگی۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۴: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے تین طلاقوں کو کہا تھا اور تونے ایک دی اور شوہر کہتا ہے تو نے ایک ہی کو کہا تھا تو اگر شوہر گواہ پیش کرے فبہا (4) ورنہ عورت کا قول معتبر ہے۔(5) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۵: شوہر کہتا ہے میں نے ہزارروپے پر تجھے طلاق دی تو نے قبول نہ کیا عورت کہتی ہے میں نے قبول کیا تھا تو قسم کے ساتھ شوہر کا قول معتبر ہے اور اگر شوہر کہتا ہے میں نے ہزار روپے پر تیرے ہاتھ طلاق بیچی تو نے قبول نہ کی عورت کہتی ہے میں نے قبول کی تھی تو عورت کا قول معتبر ہے۔ (6)(درمختار)
مسئلہ ۴۶: عورت کہتی ہے میں نے سوروپے میں طلاق دینے کو کہا تھا شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار کے بدلے تو عورت کا قول معتبر ہے اور دونوں نے گواہ پیش کیے تو شوہر کے گواہ قبول کیے جائیں ۔ یوہیں اگر عورت کہتی ہے بغیر کسی بدلے کے خلع ہوا اور شوہر کہتا ہے نہیں بلکہ ہزار روپے کے بدلے میں تو عورت کا قول معتبر ہے اور گواہ شوہر کے مقبول۔ (7)(عالمگیری)
مسئلہ ۴۷: عورت کہتی ہے میں نے ہزار کے بدلے میں تین طلاق کو کہا تھا تونے ایک دی شوہر کہتا ہے میں نے تین دیں اگر اُسی مجلس کی بات ہے تو شوہر کا قول معتبر ہے اور وہ مجلس نہ ہو تو عورت کا اور عورت پر ہزار کی تہائی واجب مگر عدت پوری نہیں ہوئی ہے تو تین طلاقیں ہو گئیں ۔(8) (عالمگیری)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث،ج۱، ص۴۹۶۔
2… المرجع السابق،ص۴۹۷۔ 3…المرجع السابق، ص۴۹۹۔
4…توٹھیک ہے۔
5…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، المرجع السابق،ص۴۹۹۔
6…’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۰۱۔
7…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث ، ج۱، ص۴۹۹۔
8… ’’الفتاوی الہندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۴۹۹۔
مسئلہ ۴۸: عورت نے خلع چاہا پھر یہ دعویٰ کیا کہ خلع سے پہلے بائن طلاق دے چکا تھا اور اس کے گواہ پیش کیے تو گواہ مقبول ہیں اور بدلِ خلع واپس کیا جائے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۴۹: شوہر دعویٰ کرتا ہے کہ اتنے پر خلع ہوا عورت کہتی ہے خلع ہوا ہی نہیں تو طلاق بائن واقع ہوگئی رہا مال اُس میں عورت کا قول معتبر ہے کہ وہ منکر ہے اور اگر عورت خلع کا دعویٰ کرتی ہے اور شوہر منکر ہے تو طلاق واقع نہ ہوگی۔ (2)(درمختار)
مسئلہ ۵۰: زن و شو میں (3) اختلاف ہوا عورت کہتی ہے تین بار خلع ہو چکا اور مرد کہتا ہے کہ دوبار اگر یہ اختلاف نکاح ہو جانے کے بعد ہوا اور عورت کا مطلب یہ ہے کہ نکاح صحیح نہ ہوا اس واسطے کہ تین طلاقیں ہو چکی ں اب بغیر حلالہ نکاح نہیں ہو سکتا اور مرد کی غرض یہ ہے کہ نکاح صحیح ہوگیا اس واسطے کہ دوہی طلاقیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں مرد کا قول معتبر ہے اور اگر نکاح سے پہلے عدت میں یا بعد عدت یہ اختلاف ہوا تو اس صورت میں نکاح کر نا جائز نہیں دوسرے لوگوں کو بھی یہ جائز نہیں کہ عورت کو نکاح پر آمادہ کریں نہ نکاح ہونے دیں ۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۱: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت سے خلع کر تو اُس کو یہ اختیار نہیں کہ بغیر مال خلع کرے۔ (5) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۲: عورت نے کسی کو ہزار روپے پر خلع کے لیے وکیل بنایا تو اگر وکیل نے بدل خلع مطلق رکھا مثلاً یہ کہا کہ ہزار روپے پر خلع کریا اس ہزار پر یا وکیل نے اپنی طرف اضافت(6) کی مثلاً یہ کہا کہ میرے مال سے ہزار روپے پر یا کہا ہزار روپے پر اور میں ہزار روپے کا ضامن ہوں تو دونوں صورتوں میں وکیل کے قبول کرنے سے خلع ہو جائیگا پھر اگر روپے مطلق ہیں جب تو شوہر عورت سے لے گا ورنہ وکیل سے بدل خلع کا مطالبہ کرے گا عورت سے نہیں پھر وکیل عورت سے لے گا اور اگر وکیل کے اسباب کے بدلے خلع کیا اور اسباب ہلاک ہوگئے تو وکیل اُن کی قیمت ضمان دے۔(7) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۳: مرد نے کسی سے کہا کہ تو میری عورت کو طلاق دیدے اُس نے مال پر خلع کیا یا مال پر طلاق دی اور عورت
1…’’الفتاوی الہندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۴۹۹۔
2… ’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الخلع،ج۵،ص۱۰۲۔ 3… بیوی اورشوہر۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث،ج۱،ص۵۰۰۔
5…المرجع السابق، ص۵۰۱۔ 6… نسبت۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، الفصل الثالث، ج۱،ص۵۰۱۔
مدخولہ ہے تو جائز نہیں اور غیر مدخولہ ہے تو جائز ہے۔(1) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۴: عورت نے کسی کو خلع کے لیے وکیل کیا پھر رجوع کر گئی اور وکیل کو رجوع کا حال معلوم نہ ہوا تو رجوع صحیح نہیں اور اگر قاصد بھیجا تھا اور اُس کے پہنچنے سے قبل رجوع کر گئی تو رجوع صحیح ہے اگرچہ قاصد کو اس کی اطلاع نہ ہوئی۔(2) (عالمگیری)
مسئلہ ۵۵: لوگوں نے شوہر سے کہا تیری عورت نے خلع کا ہمیں وکیل بنایا شوہر نے دوہزار پر خلع کیا عورت وکیل بنانے سے انکار کرتی ہے تو اگر وہ لوگ مال کے ضامن ہوئے تھے تو طلاق ہوگئی اور بدل خلع اُنھیں دینا ہوگا اور اگر ضامن نہ ہوئے تھے اور زوج مُدَّعِی ہے(3) کہ عورت نے اُنھیں وکیل کیا تھا تو طلاق ہو گئی مگر مال واجب نہیں اور اگر زوج مدعی وکالت نہ ہو تو طلاق نہ ہوگی۔ (4)(عالمگیری)
مسئلہ ۵۶: باپ نے لڑکی کا اُس کے شوہر سے خلع کرایا اگر لڑکی بالغہ ہے اور باپ بدل خلع کا ضامن ہوا(5) تو خلع صحیح ہے اور اگر مہر پر خلع ہوا اور لڑکی نے اذن دیا تھاجب بھی صحیح ہے اور اگر بغیر اذن (6)ہوا اور خبر پہنچنے پر جائز کر دیا جب بھی ہوگیا اور اگر جائز نہ کیا نہ باپ نے مَہر کی ضمانت کی تو نہ ہوا اور مہر کی ضمانت کی ہے تو ہوگیا۔ پھر جب لڑکی کو خبر پہنچی اُس نے جائز کر دیا تو شوہر مہر سے بری ہے اور جائز نہ کیا تو عورت شوہر سے مَہر لے گی اور شوہر اُس کے باپ سے۔ اور اگر نا بالغہ لڑکی کا اُس لڑکی کے مال پر خلع کرایا تو صحیح یہ ہے کہ طلاق ہو جائے گی مگر نہ تومَہر ساقط ہوگا نہ لڑکی پر مال واجب ہوگا اور اگر ہزار روپے پر نا بالغہ کا خلع ہوا اور باپ نے ضمانت کی تو ہوگیا اور روپے باپ کو دینے ہوں گے اور اگر باپ نے یہ شرط کی کہ بدل خلع لڑکی دیگی تو اگر لڑکی سمجھ وال ہے یہ سمجھتی ہے کہ خلع نکاح سے جدا کر دیتا ہے تو اُس کے قبول پر موقوف ہے قبول کرلے گی تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہو گا اور اگر نا بالغہ کی ماں نے اپنے مال سے خلع کرایا یا ضامن ہوئی تو خلع ہو جائیگا اور لڑکی کے مال سے کرایا تو طلاق نہ ہوگی۔ یوہیں اگر اجنبی نے خلع کر ایا تو یہی حکم ہے۔ (7)(عالمگیری، درمختار وغیرہما)
1…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث، ص۵۰۱۔
2… المرجع السابق۔ 3… دعویٰ کرتاہے۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث،ص۵۰۱ ۔ ۵۰۲۔
5…یعنی جس مال پر خلع ہواہے اُس کا ضامن ہوا۔ 6…اجازت کے بغیر۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، الفصل الثالث، ص۵۰۳۔
و’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، ج۵، ص۱۱۲،۱۱۶، وغیرہما۔
مسئلہ ۵۷: نا بالغہ نے اپنا خلع خود کرایا اور سمجھ وال ہے تو طلاق واقع ہو جائے گی مگر مال واجب نہ ہوگا اور اگر مال کے بدلے طلاق دلوائی تو طلاق رجعی ہوگی۔(1) (عالمگیری، ردالمحتار)
مسئلہ ۵۸: نابالغ لڑکا نہ خود خلع کر سکتا ہے، نہ اُس کی طرف سے اُس کا باپ۔(2) (ردالمحتار)
مسئلہ ۵۹: عورت نے اپنے مرض الموت میں خلع کرایا اور عدت میں مر گئی تو تہائی مال اور میراث اور بدل خلع ان تینوں میں جو کم ہے شوہر وہ پائیگا۔ اور اگر اُس بدلِ خلع کے علاوہ کوئی مال ہی نہ ہو تو اُس کی تہائی اور میراث میں جو کم ہے وہ پائیگا۔ اور اگر عدت کے بعد مری تو بدلِ خلع لے لیگا جبکہ تہائی مال کے اندر ہو اور عورت غیر مدخولہ ہے اور مرض الموت میں پور ے مہرکے بدلے خلع ہوا تو نصف مہر بوجہ طلاق کے ساقط ہے رہا نصف اب اگر عورت کے اور مال نہیں ہے تو اس نصف کی چوتہائی کا شوہر حقدار ہے۔(3) (عالمگیری، ردالمحتار)
ظہار کا بیان
اللّٰہ تعالیٰ فرماتا ہے:
{ اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ١ؕ اِنْ اُمَّهٰتُهُمْ اِلَّا الّٰٓـِٔيْ وَلَدْنَهُمْ١ؕ وَ اِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا١ؕ وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ۰۰۲ {(4)
جو لوگ تم میں سے اپنی عورتوں سے ظہار کرتے ہیں (اُنھیں ماں کی مثل کہہ دیتے) وہ اُن کی مائیں نہیں ، اُنکی مائیں تو وہی ہیں جن سے پیدا ہوئے اور وہ بیشک بُری اور نری جھوٹی بات کہتے ہیں اور بیشک اللّٰہ (عزوجل) ضرور معاف کرنے والا، بخشنے والا ہے۔
مسائل فقہیّہ(ظہار کا بیان)
مسئلہ ۱: ظہار کے یہ معنے ہیں کہ اپنی زوجہ یا اُس کے کسی جزوِ شائع یا ایسے جز کو جو کُل سے تعبیر کیا جاتا ہو ایسی عورت سے تشبیہ دینا جو اس پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو یا اسکے کسی ایسے عضو سے تشبیہ دینا جس کی طرف دیکھنا حرام ہو مثلاً کہا تو مجھ پر میری
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب الثامن في الخلع وما في حکمہ، ج۱، ص۵۰۴۔
و’’رد المحتار‘‘،کتاب الطلاق،باب الخلع،مطلب: فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۲،۱۱۳۔
2…’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵، ص۱۱۳۔
3…’’الفتاوی الہندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب الثامن فی الخلع ومافی حکمہ،الفصل الثالث،ج۱،ص۵۰۵۔
و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطلاق، باب الخلع، مطلب : فی خلع الصغیرۃ،ج۵،ص۱۱۷۔4…پ ۲۸، المجادلۃ :۲۔
ماں کی مثل ہے یا تیرا سر یا تیری گردن یا تیرا نصف میری ماں کی پیٹھ کی مثل ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: ظہار کے لیے اسلام و عقل و بلوغ شرط ہے کافر نے اگر کہا تو ظہار نہ ہوا یعنی اگر کہنے کے بعد مشرف با سلام ہوا تواُس پر کفارہ لازم نہیں ۔ یوہیں نا بالغ و مجنون یا بوہرے یا مدہوش یا سر سام و برسام کے بیمار نے یا بیہوش یا سونے والے نے ظہار کیا تو ظہار نہ ہوا اور ہنسی مذاق میں یا نشہ میں یا مجبور کیا گیا اس حالت میں یا زبان سے غلطی میں ظہار کا لفظ نکل گیا تو ظہار ہے۔ (2)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۳: زوجہ کی جانب سے کوئی شرط نہیں ، آزاد ہو یا باندی، مدبرہ یا مکاتبہ یا ام ولد، مدخولہ ہو یا غیر مدخولہ، مسلمہ ہو یا کتابیہ، نا بالغہ ہو یا بالغہ، بلکہ اگر عورت غیر کتا بیہ ہے اور اُسکا شوہر اسلام لایا مگر ابھی عورت پر اسلام پیش نہیں کیا گیا تھا کہ شوہر نے ظہار کیا تو ظہار ہوگیا عورت مسلمان ہوئی تو شوہر پرکفارہ دینا ہو گا۔(3) (عالمگیری ، ردالمحتار)
مسئلہ ۴: اپنی باندی سے ظہار نہیں ہو سکتا موطؤہ ہو یا غیر موطؤہ(4)۔ یوہیں اگر کسی عورت سے بغیر اذن لیے نکاح کیا اور ظہار کیا پھر عورت نے نکاح کو جائز کر دیا تو ظہار نہ ہواکہ وقتِ ظہار وہ زوجہ نہ تھی۔ یوہیں جس عورت کو طلاق بائن دے چکا ہے یا ظہار کو کسی شرط پر معلق کیا اور وہ شرط اُس وقت پائی گئی کہ عورت کو بائن طلاق دیدی تو ان صورتوں میں ظہارنہیں ۔(5)(ردالمحتار)
مسئلہ۵: جس عورت سے تشبیہ دی اگر اُس کی حرمت عارضی ہے ہمیشہ کے لیے نہیں تو ظہار نہیں مثلاً زوجہ کی بہن یا جس کو تین طلاقیں دی ہیں یا مجوسی یا بُت پرست عورت کہ یہ مسلمان یا کتابیہ ہوسکتی ہیں اور اُنکی حرمت دائمی نہ ہو نا ظاہر۔(6) (درمختار)
مسئلہ ۶: اجنبیہ سے کہا کہ اگر تو میری عورت ہو یا میں تجھ سے نکاح کروں تو تُو ایسی ہے تو ظہار ہو جائیگا کہ ملک
1… ’’الدرالمختار‘‘و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۵،۱۲۹۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۵۔
2… ’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۸۔
3…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۵۔
و’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶۔
4…یعنی اس سے وطی کی ہویانہ کی ہو۔ 5…’’ردالمحتار‘‘،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۲۶۔
6…’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطلاق، باب الظھار، ج۵ ،ص۱۲۷۔
یاسبب ملک کی طرف اضافت ہوئی اور یہ کافی ہے۔ (1)(درمختار)
مسئلہ ۷: عورت مرد سے ظہار کے الفاظ کہے تو ظہار نہیں بلکہ لغو ہیں ۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۸: عورت کے سر یا چہرہ یا گردن یا شرمگاہ کو محارِم سے تشبیہ دی تو ظہار ہے اور اگر عورت کی پیٹھ یا پیٹ یا ہاتھ یا پاؤں یا ران کو تشبیہ دی تو نہیں ۔ یوہیں اگر محارم کے ایسے عضو سے تشبیہ دی جسکی طرف نظر کرنا حرام نہ ہو مثلاً سر یا چہرہ یا ہاتھ یا پاؤں یا بال تو ظہار نہیں اور گھٹنے سے تشبیہ دی تو ہے۔(3) (جوہرہ، خانیہ وغیرہما)
مسئلہ ۹: محارم سے مراد عام ہے نسبی ہوں یا رضاعی یا سُسرالی رشتہ سے لہٰذا ماں بہن پھوپھی لڑکی اور رضاعی ماں اور بہن وغیرہما اور زوجہ کی ماں اور لڑکی جبکہ زوجہ مدخولہ ہواور مدخولہ نہ ہو تو اُس کی لڑکی سے تشبیہ دینے میں ظہار نہیں کہ وہ محار م میں نہیں ۔ یوہیں جس عورت سے اُس کے باپ یا بیٹے نے معاذاللّٰہ زنا کیا ہے اُس سے تشبیہ دی یا جس عورت سے اس نے زنا کیا ہے اُس کی ماں یا لڑکی سے تشبیہ دی تو ظہار ہے۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۰: محارم کی پیٹھ یا پیٹ یا ران سے تشبیہ دی یا کہا میں نے تجھ سے ظہار کیا تو یہ الفاظ صریح ہیں ان میں نیت کی کچھ حاجت نہیں کچھ بھی نیت نہ ہو یا طلاق کی نیت ہو یا اکرام کی نیت ہو، ہر حالت میں ظہار ہی ہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ مقصود جھوٹی خبر دینا تھا یا زمانۂ گزشتہ کی خبر دینا ہے تو قضاء تصدیق نہ کرینگے اور عورت بھی تصدیق نہیں کر سکتی۔ (5)(درمختار، عالمگیری)
مسئلہ ۱۱: عورت کو ماں یا بیٹی یا بہن کہا تو ظہار نہیں ، مگر ایسا کہنا مکروہ ہے۔ (6)(عالمگیری)
مسئلہ ۱۲: عورت سے کہا تو مجھ پر میری ماں کی مثل ہے تو نیت دریافت کی جائے اگر اُس کے اِعزاز (7)کے لیے کہا تو کچھ نہیں اور طلاق کی نیت ہے تو بائن طلاق واقع ہوگی اور ظہار کی نیت ہے تو ظہار ہے اور تحریم (8)کی نیت ہے تو ایلا ہے اور کچھ
1…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الظھار،ج۵،ص۱۲۸۔
2…’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الظہار،الجزء الثانی،ص۸۳۔
3…المرجع السابق،ص۸۴۔
و’’الفتاوی الخانیۃ‘‘،کتاب الطلاق،باب الظھار،ج۲،ص۲۶۵،وغیرہما۔
4…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۵،۵۰۶۔
5…’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق،باب الظہار،ج۵،ص۱۲۹۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۷۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق،الباب التاسع في الظہار،ج۱،ص۵۰۷۔
7…عزت واحترام۔ 8… حرام کرنے۔
نیت نہ ہو تو کچھ نہیں ۔ (1)(جوہرہ نیرہ)
مسئلہ ۱۳: اپنی چند عورتوں کو ایک مجلس یا متعدد مجالس میں محارم کے ساتھ تشبیہ دی تو سب سے ظہار ہوگیا ہر ایک کے لیے الگ الگ کفارہ دینا ہوگا۔(2) (جوہرہ)
مسئلہ ۱۴: کسی نے اپنی عورت سے ظہار کیا تھا دوسرے نے اپنی عورت سے کہا تو مجھ پر ویسی ہے جیسی فلاں کی عورت تو یہ بھی ظہار ہوگیا یا ایک عورت سے ظہار کیا تھا دوسری سے کہا تو مجھ پر اس کی مثل ہے یا کہا میں نے تجھے اُسکے ساتھ شریک کر دیا تو دوسری سے بھی ظہار ہو گیا۔(3) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۵: ظہار کی تعلیق بھی ہو سکتی ہے مثلاً اگر فلاں کے گھر گئی تو ایسی ہے تو ظہار ہو جائیگا۔(4) (عالمگیری)
مسئلہ ۱۶: ظہار کا حکم یہ ہے کہ جب تک کفارہ نہ دیدے اُس وقت تک اُس عورت سے جماع کرنا یا شہوت کے ساتھ اُس کا بوسہ لینا یا اُس کو چھونا یا اُس کی شرمگاہ کی طرف نظر کرنا حرام ہے اور بغیر شہوت چھونے یا بوسہ لینے میں حرج نہیں مگرلب کا بوسہ بغیر شہوت بھی جائز نہیں کفارہ سے پہلے جماع کرلیا تو توبہ کرے اور اُس کے لیے کو ئی دوسرا کفارہ واجب نہ ہوا مگر خبر دار پھر ایسا نہ کرے اور عورت کو بھی یہ جائز نہیں کہ شوہر کو قربت کرنے دے۔(5) (جوہرہ ،درمختار)
مسئلہ ۱۷: ظہار کے بعد عورت کو طلاق دی پھر اُس سے نکاح کیا تو اب بھی وہ چیزیں حرام ہیں اگرچہ دوسرے شوہرکے بعد اسکے نکاح میں آئی بلکہ اگرچہ اُسے تین طلاقیں دی ہوں ۔ یوہیں اگر زوجہ کسی کی کنیز تھی ظہار کے بعد خرید لی اور اب نکاح باطل ہوگیا مگر بغیر کفارہ وطی وغیرہ نہیں کرسکتا۔ یوہیں اگر عورت مرتدہ ہوگئی اور دارالحرب کو چلی گئی پھر قید کر کے لائی گئی اور شوہرنے خریدی یا شوہر مرتد ہوگیا غرض کسی طرح کفارہ سے بچاؤ نہیں ۔(6) (عالمگیری وغیرہ)
مسئلہ ۱۸: اگر ظہار کسی خاص وقت تک کے لیے ہے مثلاً ایک ماہ یا ایک سال اور اس مدت کے اندر جماع کرنا چاہے
1… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘، کتاب الظہار،الجزء الثانی، ص۸۴۔
2…المرجع السابق،ص۸۵۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۹۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۹۔
5… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘،کتاب الظہار، الجزء الثانی، ص۸۲۔
و ’’الدرالمختار‘‘،کتاب الطلاق، باب الظہار، ج۵، ص۱۳۰۔
6…’’الفتاوی الھندیۃ‘‘،کتاب الطلاق، الباب التاسع في الظہار، ج۱، ص۵۰۶، وغیرہ۔
تو کفارہ دے اور اگر مدت گزر گئی اور قربت نہ کی تو کفارہ ساقط اور ظہار باطل۔ (1)(جوہرہ)
مسئلہ ۱۹: شوہر کفارہ نہیں دیتا تو عورت کو یہ حق ہے کہ قاضی کے پاس دعویٰ کرے قاضی مجبور کرے گا کہ یا کفارہ دیکر قربت کرے یا عورت کو طلاق دے اور اگر کہتا ہے کہ میں نے کفارہ دے دیا ہے تو اُس کا کہنا مان لیں جبکہ اُس کا جھوٹا ہونا معروف نہ ہو۔ (2)(عالمگیری)
مسئلہ ۲۰: ایک عورت سے چند بار ظہار کیا تو اُتنے ہی کفارے دے اگرچہ ایک ہی مجلس میں متعدد بار الفاظ ظہار کہے اور اگر یہ کہتا ہے کہ بار بار لفظ بولنے سے متعدد ظہار مقصود نہ تھے بلکہ تا کی د مقصود تھی تو اگر ایک ہی مجلس میں ایسا ہوا مان لیں گے ورنہ نہیں ۔ (3)(درمختار)
مسئلہ ۲۱: پورے رجب اور پورے رمضان کے لیے ظہار کیا تو ایک ہی کفارہ واجب ہو گا خواہ رجب میں کفارہ دے یا رمضان میں ، شعبان میں نہیں دے سکتا کہ شعبان میں ظہار ہی نہیں ۔ یوہیں اگر ظہار کیا اور کسی دن کا استثنا کیا تو اُس دن کفارہ نہیں دے سکتا اُس کے علاوہ جس دن چاہے دے سکتا ہے۔(4) (درمختار)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع