دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bahar e Shariat Jild 1 | بہار شریعت جلد اول

book_icon
بہار شریعت جلد اول
            

طواف و سعی صفا و مروہ و عمرہ کا بیان

اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے : {وَ اِذْ جَعَلْنَا الْبَيْتَ مَثَابَةً لِّلنَّاسِ وَ اَمْنًا١ؕ وَ اتَّخِذُوْا مِنْ مَّقَامِ اِبْرٰهٖمَ مُصَلًّى١ؕ وَ عَهِدْنَاۤ اِلٰۤى اِبْرٰهٖمَ وَ اِسْمٰعِيْلَ اَنْ طَهِّرَا بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْعٰكِفِيْنَ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ} (2) اور یاد کرو جب کہ ہم نے کعبہ کو لوگوں کا مرجع اور امن کیا اور مقام ابراہیم سے نماز پڑھنے کی جگہ بناؤ اور ہم نے ابراہیم و اسمٰعیل کی طرف عہد کیا کہ میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور اعتکاف کرنے والوں اور رکوع سجود کرنے والوں کے لیے پاک کرو۔ اور فرماتا ہے: { وَ اِذْ بَوَّاْنَا لِاِبْرٰهِيْمَ مَكَانَ الْبَيْتِ اَنْ لَّا تُشْرِكْ بِيْ شَيْـًٔا وَّ طَهِّرْ بَيْتِيَ لِلطَّآىِٕفِيْنَ وَ الْقَآىِٕمِيْنَ۠ وَ الرُّكَّعِ السُّجُوْدِ۰۰۲۶ وَ اَذِّنْ فِي النَّاسِ بِالْحَجِّ يَاْتُوْكَ رِجَالًا وَّ عَلٰى كُلِّ ضَامِرٍ يَّاْتِيْنَ مِنْ كُلِّ فَجٍّ عَمِيْقٍۙ۰۰۲۷ لِّيَشْهَدُوْا مَنَافِعَ لَهُمْ وَ يَذْكُرُوا اسْمَ اللّٰهِ فِيْۤ اَيَّامٍ مَّعْلُوْمٰتٍ عَلٰى مَا رَزَقَهُمْ مِّنْۢ بَهِيْمَةِ الْاَنْعَامِ١ۚ فَكُلُوْا مِنْهَا وَ اَطْعِمُوا الْبَآىِٕسَ الْفَقِيْرَٞ۰۰۲۸ ثُمَّ لْيَقْضُوْا تَفَثَهُمْ وَ لْيُوْفُوْا نُذُوْرَهُمْ وَ لْيَطَّوَّفُوْا بِالْبَيْتِ الْعَتِيْقِ۰۰۲۹ ذٰلِكَ١ۗ وَ مَنْ يُّعَظِّمْ حُرُمٰتِ اللّٰهِ فَهُوَ خَيْرٌ لَّهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ } (3) اور جب کہ ہم نے ابراہیم کو پناہ دی خانہ کعبہ کی جگہ میں یوں کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کر اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام کرنے والوں اور رکوع سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک کر اور لوگوں میں حج کا اعلان کردے لوگ تیرے پاس پیدل آئیں گے اور لاغر اونٹنیوں پر کہ ہر راہِ بعید سے آئیں گی تا کہ اپنے نفع کی جگہ میں حاضر ہوں اور اللّٰہ (عزوجل)
1… ترجمہ: اے اللّٰہ (عزوجل)! تو اپنے اس گھر کی عظمت و شرافت و بزرگی و نکوئی و ہیبت زیادہ کر، اے اللّٰہ (عزوجل) !ہم کو جنت میں بلا حساب داخل کر۔ الٰہی! میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ میری مغفرت کردے اور مجھ پر رحم کر اور میری لغزش دور کر اور اپنی رحمت سے میرے گنا ہ دفع کر ،اے سب مہربانوں سے زیادہ مہربان۔ الٰہی! میں تیرا بندہ اور تیرا زائر ہوں اور جس کی زیارت کی جائے اس پر حق ہوتا ہے اور تو سب سے بہتر زیارت کیا ہوا ہے، میں یہ سوال کرتاہوں کہ مجھ پر رحم کر اور میری گردن جہنم سے آزاد کر۔۱۲ 2…پ۱، البقرہ: ۱۲۵۔ 3…پ۱۷، الحج: ۲۶۔۳۰ کے نام کو یاد کریں معلوم دنوں میں اس پر کہ انھیں چوپائے جانور عطا کیے تو اُن میں سے کھاؤ اور نا اُمید فقیر کو کھلاؤ پھر اپنے میل کچیل اُتاریں اوراپنی منتیں پوری کریں اور اس آزاد گھر (کعبہ) کا طواف کریں بات یہ ہے اور جو اللّٰہ (عزوجل) کے حُرمات کی تعظیم کرے تو یہ اس کے لیے اس کے رب کے نزدیک بہتر ہے۔ اور فرماتا ہے: [اِنَّ الصَّفَا وَ الْمَرْوَةَ مِنْ شَعَآىِٕرِ اللّٰهِ١ۚ فَمَنْ حَجَّ الْبَيْتَ اَوِ اعْتَمَرَ فَلَا جُنَاحَ عَلَيْهِ اَنْ يَّطَّوَّفَ بِهِمَا١ؕ وَ مَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا١ۙ فَاِنَّ اللّٰهَ شَاكِرٌ عَلِيْمٌ۰۰۱۵۸](1) بیشک صفا و مروہ اللّٰہ (عزوجل) کی نشانیوں سے ہیں جس نے کعبہ کا حج یا عمرہ کیا ا س پر اس میں گناہ نہیں کہ ان دونوں کا طواف کرے اور جس نے زیادہ خیر کیا تو اللّٰہ (عزوجل) بدلا دینے والا، علم والا ہے۔ حدیث ۱: صحیح بخاری و صحیح مسلم میں اُم المومنین صدّیقہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی، فرماتی ہیں کہ جب نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم حج کے لیے مکّہ میں تشریف لائے، سب کاموں سے پہلے وضو کرکے بیت اللّٰہ کا طواف کیا۔ (2) حدیث ۲: صحیح مسلم شریف میں ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے مروی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حجرِا سود سے حجرِ اسود تک تین پھیروں میں رَمَل کیا اور چار پھیرے چل کر کیے(3) اور ایک روایت میں ہے پھر صفا ومروہ کے درمیان سعی فرمائی۔(4) حدیث ۳: صحیح مسلم میں جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے ہے، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم جب مکہ میں تشریف لائے تو حجرِ اسود کے پاس آکر اُسے بوسہ دیا پھر دہنے ہاتھ کو چلے اور تین پھیروں میں رَمَل کیا۔ (5) حدیث ۴: صحیح مسلم میں ابوا لطفیل رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی، کہتے ہیں : میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بیت اللّٰہ کاطواف کرتے دیکھا اور حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) کے دستِ مبارک میں چھڑی تھی اُس چھڑی کو حجرِ اسود سے لگا کر بوسہ دیتے۔ (6)
1… پ۲، البقرہ: ۱۵۸۔ 2… ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الحج، باب من طاف بالبیت ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۶۱۴، ج۱، ص۵۴۱۔ 3… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۲۶۲، ص۶۵۹۔ 4… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب استحباب الرمل فی الطواف ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۲۶۱، ص۶۵۸۔ 5… ’’مشکاٰۃ المصابیح‘‘ کتاب المناسک، باب دخول مکۃ ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۲۵۶۶، ج۲، ص۸۶۔ 6… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الحج، باب جواز الطواف علی بعیر وغیرہ ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۲۷۵، ص۶۶۳۔   حدیث ۵: ابوداود نے ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم مکہ میں داخل ہوئے تو حجرِ اسود کی طرف متوجہ ہوئے، اُسے بوسہ دیا پھر طواف کیا پھر صفا کے پاس آئے اور اس پر چڑھے یہاں تک کہ بیت اللّٰہ نظر آنے لگا پھر ہاتھ اُٹھا کر ذکرِ الٰہی میں مشغول رہے، جب تک خُدا نے چاہا اور دُعا کی۔ (1) حدیث ۶: اما م احمد نے عبید بن عمیر سے روایت کی، کہتے ہیں : میں نے ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے پوچھا کیا وجہ ہے کہ آپ حجرِ اسود و رُکن یمانی کو بوسہ دیتے ہیں ؟ جواب دیا، کہ میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ: ان کو بوسہ دینا خطاؤ ں کو گرا دیتا ہے اور میں نے حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو فرماتے سُنا جس نے سات پھیرے طواف کیا اس طرح کہ اس کے آداب کو ملحوظ رکھا اور دو رکعت نماز پڑھی تو یہ گردن آزاد کرنیکی مثل ہے اور میں نے حضور (صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم) کو فرماتے سُنا کہ طواف میں ہر قدم کہ اُٹھاتا اور رکھتا ہے اس پر دس نیکیا ں لکھی جاتی ہیں او ردس گناہ مٹا ئے جاتے ہیں اور دس درجے بلند کیے جاتے ہیں ۔‘‘ (2) اسی کے قریب قریب ترمذی و حاکم و ابن خزیمہ وغیرہم نے بھی روایت کی۔ حدیث ۷: طبرانی کبیر میں محمد بن منکدر سے راوی، وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں ، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو بیت اللّٰہ کا سات پھیرے طواف کرے اور اُس میں کوئی لغوبات نہ کرے تو ایسا ہے جیسے گردن آزاد کی۔‘‘ (3) حدیث ۸: اصبہانی عبد اللّٰہ بن عمرو بن عاص رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں : جس نے کامل وضو کیا پھر حجرِ اسود کے پاس بوسہ دینے کو آیا وہ رحمت میں داخل ہوا، پھر جب بوسہ دیا اور یہ پڑھا بِسْمِ اللہِ وَاللہُ اَکْبَرُ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ ۔ اُسے رحمت نے ڈھانک لیا پھر جب بیت اللّٰہ کا طواف کیا تو ہر قدم کے بدلے ستر ہزار نیکیاں لکھی جائیں گی اور ستر ہزار گناہ مٹا دیے جائیں گے اور ستر ہزار درجے بلند کیے جائیں گے اور اپنے گھر والوں میں ستر کی شفاعت کرے گا پھر جب مقام ابراہیم پر آیا اور وہاں دو رکعت نماز ایمان کی وجہ سے اور طلب ثواب کے لیے پڑھی تو اس کے لیے اولادِ اسمٰعیل میں سے چار غلام آزاد کرنے کا ثواب لکھا جائیگا اور گناہوں سے ایسانکل جائے گا جیسے آج اپنی ماں سے پیدا ہوا۔ (4) حدیث ۹: بیہقی ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’بیت الحرام کے حج
1… ’’سنن أبي داود‘‘، کتاب المناسک، باب فی رفع الید إذا رأی البیت، الحدیث: ۱۸۷۲، ج۲، ص۲۵۵۔ 2… ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، الحدیث: ۴۴۶۲، ج۲، ص۲۰۲۔ 3… ’’المعجم الکبیر‘‘، الحدیث: ۸۴۵، ج۲۰، ص۳۶۰۔ 4… ’’الترغیب و الترھیب‘‘، کتاب الحج، الترغیب فی الطواف ۔۔۔إلخ، الحدیث: ۱۱، ج۲، ص۱۲۴۔   کرنے والوں پر ہر روز اللّٰہ تعالیٰ ایک سو بیس رحمت نا زل فرماتا ہے، ساٹھ طواف کرنے والوں کے لیے اور چالیس نماز پڑھنے والوں کے لیے اور بیس نظر کرنے والوں کے لیے۔‘‘ (1) حدیث ۱۰: ابن ماجہ ابو ہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی، کہ نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’رُکن یمانی پر ستر فرشتے موکل ہیں ، جو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّ فِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ ۔ وہ فرشتے آمین کہتے ہیں اور جو سات پھیرے طواف کرے اور یہ پڑھتا رہے: سُبْحَانَ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَلَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَاللہُ اَکْبَرْ وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ اُس کے دس گناہ مٹا دیے جائیں گے اور دس نیکیاں لکھی جائیں گی اور دس درجے بلند کیے جائیں گے اور جس نے طواف میں یہی کلام پڑھے، وہ رحمت میں اپنے پاؤں سے چل رہا ہے جیسے کوئی پانی میں پاؤں سے چلتا ہے۔‘‘(2) حدیث ۱۱: ترمذی نے ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جس نے پچاس مرتبہ طواف کیا، گناہوں سے ایسا نکل گیا جیسے آج اپنی ماں سے پیدا ہوا۔‘‘ (3) حدیث ۱۲: ترمذی و نسائی و دارمی انھیں سے راوی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’بیت اللّٰہ کے گرد طواف نماز کی مثل ہے، فرق یہ کہ تم اس میں کلام کرتے ہوتوجو کلام کرے خیر کے سوا ہر گزکوئی بات نہ کہے۔‘‘ (4) حدیث ۱۳: امام احمد و ترمذی انھیں سے راوی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’حجرِ اسود جب جنت سے نازل ہوا دودھ سے زیادہ سفید تھا، بنی آدم کی خطاؤں نے اُسے سیاہ کر دیا۔‘‘ (5) حدیث ۱۴: ترمذی ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہتے ہیں میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کو فرماتے سُنا کہ: ’’حجرِ اسود و مقامِ ابراہیم جنت کے یا قوت ہیں ، اللّٰہ (عزوجل) نے ان کے نور کو مٹا دیا اور اگر نہ مٹاتا تو جو کچھ مشرق و مغرب کے درمیان ہے سب کو روشن کر دیتے۔‘‘ (6)
1… ’’الترغیب و الترھیب‘‘، کتاب الحج، الترغیب فی الطواف ۔۔۔إلخ، الحدیث:۶، ج۲، ص۱۲۳۔ 2… ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب المناسک، باب فضل الطواف، الحدیث: ۲۹۵۷، ج۳، ص۴۳۹۔ 3… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الطواف، الحدیث: ۸۶۷، ج۲، ص۲۴۴۔ 4… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الحج، باب ماجاء فی الکلام فی الطواف، الحدیث: ۹۶۲، ج۲، ص۲۸۶۔ 5… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود و الرکن و المقام، الحدیث: ۸۷۸، ج۲، ص۲۴۸۔ 6… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الحج، باب ماجاء فی فضل الحجر الاسود و الرکن و المقام، الحدیث: ۸۷۹، ج۲، ص۲۴۸۔   حدیث ۱۵: ترمذی وابن ماجہ و دارمی ابن عباس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی، کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’و اللّٰہ ! حجرِاسود کو قیامت کے دن اللّٰہ تعالیٰ اس طرح اٹھائے گا کہ اس کی آنکھیں ہوں گی جن سے دیکھے گا اور زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُسے بوسہ دیا ہے اُس کے لیے شہادت دے گا۔‘‘ (1)

بیان احکام

مسجد الحرام شریف میں داخل ہونے تک کے احکام معلوم ہوچکے اب کہ مسجدالحرام شریف میں داخل ہوا اگر جماعت قائم ہو یا نماز فر ض یا وتر یا نماز جنازہ یا سنت مؤکدہ کے فوت کا خوف ہو تو پہلے اُن کو ادا کرے، ورنہ سب کاموں سے پہلے طواف میں مشغول ہو۔ کعبہ شمع ہے اور تو پروانہ ،دیکھتا نہیں کہ پروانہ شمع کے گرد کس طرح قربان ہوتا ہے تُو بھی اس شمع پر قربان ہونے کے لیے مستعد ہوجا۔ پہلے اس مقامِ کریم کا نقشہ دیکھیے کہ جو بات کہی جائے اچھی طرح ذہن میں آجائے۔ نقشے کا امیج ڈالنا ہے
1… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الحج، باب ماجاء فی الحجر الاسود، الحدیث: ۹۶۳، ج۲، ص۲۸۶۔ 2 …بہارشریعت کے نسخوں میں اس مقام پرصفا،مروہ کانقشہ جنوب کی طرف بناہواتھا جو کہ کتابت کی غلطی ہے اصل میں یہ نقشہ مشرق کی طرف ہے لہٰذا ہم نے یہاں پر نقشہ درست کردیا۔۔۔۔علمیہمسجد الحرام ایک گول وسیع احاطہ ہے، جس کے کنارے کنارے بکثرت دالان اور آنے جانے کے دروازے ہیں اور بیچ میں مطاف(طواف کرنے کی جگہ)۔ مطاف ایک گول دائرہ ہے جس میں سنگ مرمر بچھا ہے، اس کے بیچ میں کعبہ معظمہ ہے۔ حضور ِاقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے زمانہ میں مسجد الحرام اسی قدر تھی۔ اسی کی حد پر باب السّلام شرقی قدیم دروازہ واقع ہے۔ رکن مکان کا گوشہ جہاں اُس کی دو دیواریں ملتی ہیں ، جسے زاویہ کہتے ہیں ۔ اس طرح ا ح ب ا ح ۔ح ب دونوں دیواریں مقام ح پر ملی ہیں یہ رکن و زاویہ ہے، کعبہ معظمہ کے چار رکن ہیں ۔ رُکنِ اسود جنوب و شرق (1) کے گوشہ میں اسی میں زمین سے اونچا سنگ اسود شریف نصب ہے۔ رُکنِ عراقی شرق و شمال کے گوشہ میں ۔ دروازۂ کعبہ انھیں دو رکنوں کے بیچ کی شرقی دیوار میں زمین سے بہت بلند ہے۔ ملتزم اسی شرقی دیوار کا وہ ٹکڑا جو رکن اسود سے دروازۂ کعبہ تک ہے۔ رُکنِ شامی اوتر(2) اور پچھم (3)کے گوشہ میں ۔ میزابِ رحمت سونے کا پر نالہ کہ رکن عراقی و شامی کی بیچ کی شمالی دیوار پر چھت میں نصب ہے۔ حطیم بھی اسی شمالی دیوارکی طرف ہے۔ یہ زمین(4) کعبۂ معظمہہی کی تھی۔ زمانہ جاہلیت میں جب قریش نے کعبہ ازسر نو تعمیر کیا، کمی خرچ کے باعث اتنی زمین کعبۂ معظمہ سے باہرچھوڑ دی۔ اس کے گرد اگرد ایک قوسی انداز کی چھوٹی سی دیوار کھینچ دی اور دونوں طرف آمدورفت کا دروازہ ہے اور یہ مسلمانوں کی خوش نصیبی ہے اس میں داخل ہونا کعبہ معظمہ ہی میں داخل ہونا ہے جو بحمد اللّٰہ تعالیٰ بے تکلف نصیب ہوتا ہے۔ رُکنِ یمانی پچھم اور دکھن(5) کے گوشہ میں ۔ مُستجار رُکنِ یمانی و شامی کے بیچ کی غربی دیوار کا وہ ٹکڑا جو ملتزم کے مقابل ہے۔ مُستجاب رُکنِ یمانی و رُکنِ اسود کے بیچ میں جو دیوار جنوبی ہے، یہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہنے کے لیے مقرر ہیں اس لیے اس کا نام مستجاب رکھا گیا۔
1…جنوب اور مشرق۔ 2 …شمال۔ 3…مغرب ۔ وہ سمت جدھر سورج ڈوبتا ہے۔ 4…جنوباً شمالاً چھ ہاتھ کعبہ کی زمین ہے اور بعض کہتے ہیں سات ہاتھ اور بعض کا خیال ہے کہ سارا حطیم۔ ۱۲ 5…جنوب کی سمت۔  مقامِ ابراھیم دروازۂ کعبہ کے سامنے ایک قبہ میں وہ پتھر ہے جس پر کھڑے ہو کر سید نا ابراہیم خلیل اللّٰہ علیہ الصلاۃ والسلام نے کعبہ بنایا تھا، ان کے قدمِ پاک کا اس پر نشان(1) ہوگیا جو اب تک موجود ہے اورجسے اللّٰہ تعالیٰ نے اٰیٰتٌ بَیِّنٰتٌ اللہ کی کھلی نشانیاں فرمایا۔ زَم زَم شریف کا قبہ مقام ابراہیم سے جنوب کو مسجد شریف ہی میں واقع ہے اور اس قبہ کے اندر زَم زَم کا کوآں ہے۔ بابُ الصفا مسجد شریف کے جنوبی دروازوں میں ایک دروازہ ہے جس سے نکل کر سامنے کوہِ صفا ہے۔ صفا کعبہ معظمہ سے جنوب کو ہے یہاں زمانۂ قدیم میں ایک پہاڑی تھی کہ زمین میں چھپ گئی ہے۔ اب وہاں قبلہ رُخ ایک دالان سابنا ہے اور چڑھنے کی سیڑھیاں ۔ مروہ دوسری پہاڑی صفا سے پورب کو تھی یہاں بھی اب قبلہ رخ دالان سا ہے اور سیڑھیاں ، صفا سے مروہ تک جو فاصلہ ہے اب یہاں بازار ہے۔ صفا سے چلتے ہوئے دہنے ہاتھ کو دُکانیں اور بائیں ہاتھ کو احاطۂ مسجد الحرام ہے۔ مِیلین اَخضرین اس فاصلہ کے وسط میں جو صفا سے مروہ تک ہے دیوار حرم شریف میں دو سبز میل نصب ہیں جیسے میل کے شروع میں پتھر لگا ہوتا ہے۔ مسعیٰ وہ فاصلہ کہ ان دونوں میلوں کے بیچ میں ہے۔ یہ سب صورتیں رسالہ میں بار بار دیکھ کر خوب ذہن نشین کرلیجئے کہ وہاں پہنچ کر پوچھنے کی حاجت نہ ہو۔ ناواقف آدمی اندھے کی طرح کام کرتا ہے اور جو سمجھ لیاوہ انکھیارا ہے، اب اپنے رب عزوجل کا نام پاک لے کر طواف کیجئے۔

طواف کا طریقہ اور دُعائیں

(۱) جب حجراسود کے قریب پہنچے تو یہ دعا پڑھے: لَآ اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ صَدَقَ وَعْدَہٗ وَنَصَرَ عَبْدَہٗ وھَزَمَ الْاَحْزَابَ وَحْدَہٗ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ لَـہٗ الْمُلْکُ وَلَـہٗ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیٍٔ قَدِیْرٌ ۔ (2)
1 ہمارے نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم کے قدم پاک کے نشان میں بے قدرے ،بے ادب لوگ کلام کرتے ہیں یہ معجزہ ابراہیمی ہزاروں برس سے محفوظ ہے اس سے بھی انکار کر دیں ۔۱۲ 2… اللّٰہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اس نے اپنا وعدہ سچا کیا اور اپنے بندہ کی مدد کی اور تنہا اسی نے کفار کی جماعتوں کو شکست دی، اللّٰہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں ، وہ تنہا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ، اُسی کے لیے ملک ہے اور اسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔۱۲ (۲) شروع طواف سے پہلے مرد اضطباع کرلے یعنی چادر کو دہنی بغل کے نیچے سے نکالے کہ دہنا مونڈھا کھلا رہے اور دونوں کنارے بائیں مونڈھے پر ڈال دے۔ (۳) اب کعبہ کی طرف مونھ کرکے حجرِا سود کی دہنی طرف رُکنِ یمانی کی جانب سنگِ اسود کے قریب یوں کھڑا ہو کہ تمام پتھر اپنے دہنے ہاتھ کو رہے پھر طواف کی نیت کرے۔ اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اُرِیْدُ طَوَافَ بَیْتِکَ الْمُحَرَّمِ فَیَسِّرْہُ لِیْ وَتَقَبَّلْہُ مِنِّیْ ۔ (1) (۴) اس نیت کے بعد کعبہ کو مونھ کئے اپنی دہنی جانب چلو، جب سنگِ اسود کے مقابل ہو (اور یہ بات ادنیٰ حرکت میں حاصل ہو جائے گی) کانوں تک ہاتھ اس طرح اُٹھا ؤ کہ ہتھیلیاں حجرِاسود کی طرف رہیں اور کہو بِسْمِ اللہِ وَالْحَمْدُ لِلّٰہِ وَاللہُ اَکْبَرُ وَالصَّلَاۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی رَسُوْلِ اللہِط اور نیت کے وقت ہاتھ نہ اُٹھاؤ جیسے بعض مطوف کرتے ہیں کہ یہ بدعت ہے۔ (۵) میسر ہوسکے تو حجرِ اسود پر دونوں ہتھیلیاں اور اُن کے بیچ میں مونھ رکھ کر یوں بوسہ دو کہ آوازنہ پیدا ہو، تین بار ایسا ہی کرو یہ نصیب ہو تو کمالِ سعادت ہے۔ یقینا تمھارے محبوب و مولیٰ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے بوسہ دیا اور رُوئے اقدس اس پر رکھا۔ زہے خوش نصیبی کہ تمہارا مونھ وہاں تک پہنچے اور ہجوم کے سبب نہ ہوسکے تو نہ اَوروں کو ایذا دو، نہ آپ دبو کُچلو بلکہ اس کے عوض ہاتھ سے چُھو کر اسے چوم لو اور ہاتھ نہ پہنچے تو لکڑی سے چُھو کر اسے چوم لو اور یہ بھی نہ ہوسکے تو ہاتھوں سے اُس کی طرف اشارہ کرکے انھیں بوسہ دے لو، محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے مونھ رکھنے کی جگہ پر نگاہیں پڑ رہی ہیں یہی کیا کم ہے اور حجر کو بوسہ دینے یا ہا تھ یا لکڑی سے چُھو کر چوم لینے یا اشارہ کرکے ہاتھوں کو بوسہ دینے کو استلام کہتے ہیں ۔ استلام کے وقت یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ ذُنُوْبِیْ وَطَھِّرْلِیْ قَلْبِیْ وَاشْرَحْ لِیْ صَدْرِیْ ویَسِّرْلِیْ اَمْرِیْ وَعَافِنِیْ فِیْمَنْ عَافَیْتَ ۔ (2) حدیث میں ہے، ’’روزِ قیامت یہ پتھر اُٹھا یا جائے گا، اس کی آنکھیں ہو ں گی جن سے دیکھے گا، زبان ہوگی جس سے کلام کرے گا، جس نے حق کے ساتھ اُسکا بوسہ دیا اور استلام کیا اُس کے لیے گواہی دے گا۔‘‘ (۶) اَللّٰھُمَّ اِیْمَانًام بِکَ وَتَصْدِ یْقًام بِکِتَابِکَ وَوَفَاءًم بِعَھْدِکَ وَاتِّبَاعًا لِّسُنَّۃِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی
1… اے اللّٰہ (عزوجل)! میں تیرے عزت والے گھر کا طواف کرنا چاہتا ہوں اس کو تو میرے لیے آسان کر اور اس کو مجھ سے قبول کر۔۱۲ 2… الٰہی! تو میرے گناہ بخش دے اور میرے دل کو پاک کر اور میرے سینہ کو کھول دے اور میرے کام کو آسان کر اور مجھے عافیت دے ان لوگوں میں جن کو تو نے عافیت دی۔ ۱۲   اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اَشْھَدُ اَنْ لَّآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُـہٗ اٰمَنْتُ بِاللہِ وَکَفَرْتُ بِالْجِبْتِ وَالطَّاغُوْتِ ۔ (1) کہتے ہوئے دروازۂ کعبہ کی طرف بڑھو، جب حجر مبارک کے سامنے سے گزر جاؤ سیدھے ہو لو۔ خانۂ کعبہ کو اپنے بائیں ہاتھ پر لے کر یوں چلو کہ کسی کو ایذا نہ دو۔ (۷) پہلے تین پھیروں میں مرد رمل کرتا چلے یعنی جلد جلد چھوٹے قدم رکھتا، شانے ہلاتا جیسے قوی و بہادر لوگ چلتے ہیں ، نہ کُودتا نہ دوڑتا، جہاں زیادہ ہجوم ہو جائے اور رمَل میں اپنی یا دوسرے کی ایذا ہو تو اتنی دیر رمَل ترک کرے مگر رَمَل کی خاطر رُکے نہیں بلکہ طواف میں مشغول رہے پھر جب موقع مل جائے، تو جتنی دیر تک کے لیے ملے رَمَل کے ساتھ طواف کرے۔ (۸) طواف میں جس قدر خانۂ کعبہ سے نزدیک ہو بہتر ہے مگر نہ اتنا کہ پشتۂ دیوار پر جسم لگے یا کپڑا اور نزدیکی میں کثرت ہجوم کے سبب رمل نہ ہوسکے تو دُوری بہتر ہے۔ (۹) جب ملتزم کے سامنے آئے یہ دُعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ ھٰذَا الْبَیْتُ بَیْتُکَ وَالْحَرَمُ حَرَمُکَ وَالْاَمْنُ اَمْنُکَ وھٰذَا مَقَامُ الْعَائِذِ بِکَ مِنَ النَّارِ فَاَجِرْنِیْ مِنَ النَّارِ اَللّٰھُمَّ قَنِّعْنِیْ بِمَا رَزَقْـتَـنِیْ وَبارِکْ لِیْ فِـیْہِ وَاخْلُفْ عَلٰی کُلِّ غَائِبَۃٍم بِخَیْرٍ لَآ اِلٰـہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَـہٗ لَـہُ الْمُلْکُ وَلَـہُ الْحَمْدُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْیٍٔ قَدِیْرٌ ۔ (2) اورجب رُکنِ عراقی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَعُوْذُ بِکَ مِنَ الشَّکِّ وَالشِّرْکِ وَالشِّقَاقِ وَالنِّفَاقِ وَسُوْ ءِ الْاَخْلَاقِ وَسُوْ ءِ الْمُنْقَلَبِ فِی الْمَالِ وَالْاَھْلِ وَالْوَلَدِ ۔ (3)
1… اے اللّٰہ (عزوجل)! تجھ پر ایمان لاتے ہوئے اور تیری کتاب کی تصدیق کرتے ہوئے اور تیرے عہد کو پورا کرتے ہوئے اور تیرے نبی محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کا اتباع کرتے ہوئے میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں ، جو اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اورگواہی دیتا ہوں کہ محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں اللّٰہ (عزوجل) پرمیں ایمان لایا اور بُت اور شیطان سے میں نے انکار کیا۔۱۲ 2… اے اللّٰہ (عزوجل)! یہ گھر تیرا گھر ہے اور حرم تیرا حرم ہے اور ا من تیری ہی امن ہے اور جہنم سے تیری پناہ مانگنے والے کی یہ جگہ ہے تو مجھ کو جہنم سے پناہ دے۔ اے اللّٰہ (عزوجل)! جو تو نے مجھ کو دیا مجھے اس پر قانع کردے اور میرے لیے اس میں برکت دے اور ہر غائب پر خیر کے ساتھ تو خلیفہ ہو جا۔ اللّٰہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں ، جو اکیلا ہے اُس کا کوئی شریک نہیں اوراسی کے لیے ملک ہے، اُسی کے لیے حمد ہے اور وہ ہر شے پر قادر ہے۔۱۲ 3… اے اللّٰہ (عزوجل)! میں تیری پناہ مانگتا ہوں شک اور شرک اور اختلاف و نفاق سے اور مال و اہل و اولاد میں واپس ہو کر بُری بات دیکھنے سے۔۱۲   اور جب میزابِ رحمت کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ ظِلِّ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ اِلَّا ظِلُّکَ وَلَا بَاقِیَ اِلَّا وَجْھُکَ وَاسْقِنِیْ مِنْ حَوْضِ نَبِیِّکَ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَسَلَّم شَرْبَۃً ھَنِْیئَۃً لَّا اَظْمَأُ بَعْدَھَا اَبَدًا (1) اور جب رُکنِ شامی کے سامنے آئے تو یہ دعا پڑھے: اَللّٰھُمَّ اجْعَلْہٗ حَجًّا مَّبْرُوْرًا وَّسَعْیًا مَّشْکُوْرًا وّذَنْـبًام مَّغْفُوْرًا وَّتِجَارَۃً لَّنْ تَبُوْرَ یَا عَالِمَ مَا فِی الصُّدُوْرِ اَخْرِجْنِیْ مِنَ الظُّلُمٰتِ اِلَی النُّوْرِ۔ (2) (۱۰) جب رُکنِ یمانی کے پاس آؤ تو اسے دونوں ہاتھ یا دہنے سے تبرکاً چھوؤ، نہ صرف بائیں سے اور چاہو تو اُسے بوسہ بھی دو اور نہ ہوسکے تو یہاں لکڑی سے چھونا یا اشارہ کرکے ہاتھ چومنا نہیں اور یہ دعا پڑھو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْأَلُکَ الْعَفْوَ وَالْعَافِیَۃَ فِی الدِّیْنِ وَالدُّنْیَا وَالْاٰخِرَۃِ۔اور رُکنِ شامی یا عراقی کو چھونا یا بوسہ دینا کچھ نہیں ۔ (۱۱) جب اس سے بڑھو تو یہ مُستجاب ہے جہاں ستر ہزار فرشتے دعا پر آمین کہیں گے وہی دعائے جامع پڑھو ، یا رَبَّنَا اٰتِنَا فِی الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ حَسَنَۃً وَّقِنَا عَذَابَ النَّارِ۔ یا اپنے اور سب احباب ومسلمین اور اس حقیر ذلیل کی نیت سے صرف درود شریف پڑھے کہ یہ کافی و وافی ہے۔ دعائیں یاد نہ ہوں تو وہ اختیار کرے کہ محمد رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے سچے وعدہ سے تمام دعاؤ ں سے بہتر و افضل ہے یعنی یہاں اور تمام مواقع میں اپنے لیے دعا کے بدلے حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم پر درود بھیجے۔ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ایسا کرے گا تو اللّٰہ (عزوجل) تیرے سب کام بنا دے گا اورتیرے گناہ معاف فرمادے گا۔‘‘ (3) (۱۲) طواف میں دعایا درود شریف پڑھنے کے لیے رکو نہیں بلکہ چلتے میں پڑھو۔ (۱۳) دُعا ودرود چلا چلا کر نہ پڑھو جیسے مطوف پڑھایا کرتے ہیں بلکہ آہستہ پڑھو اس قدر کہ اپنے کان تک آواز آئے۔
1…الٰہی! تو مجھ کو اپنے عرش کے سایہ میں رکھ، جس دن تیرے سایہ کے سوا کوئی سایہ نہیں اور تیری ذات کے سوا کوئی باقی نہیں اور اپنے نبی محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کے حوض سے مجھے خوش گوار پانی پلا کہ اس کے بعد کبھی پیاس نہ لگے۔۱۲ 2…اے اللّٰہ (عزوجل) !تواس کو حجمبرور کر اور سعی مشکور کر اور گناہ کو بخش دے اور اُس کو وہ تجارت کردے جو ہلاک نہ ہو، اے سینوں کی باتیں جاننے والے مجھ کو تاریکیوں سے نور کی طرف نکال۔۱۲ 3…’’جامع الترمذی‘‘، ابواب صفۃ القیامۃ، ۲۳۔باب، الحدیث: ۲۴۶۵، ج۴، ص۲۰۷.   (۱۴) اب جو چاروں طرف گھوم کر حجرِ اسود کے پاس پہنچا، یہ ایک پھیرا ہوا اور اس وقت بھی حجرِ اسود کو بوسہ دے یا وہی طریقے برتے بلکہ ہر پھیرے کے ختم پر یہ کرے۔ یوہیں سات پھیرے کرے مگر باقی پھیروں میں نیت کرنا نہیں کہ نیت تو شروع میں ہو چکی اور رمل صرف اگلے تین پھیروں میں ہے، باقی چارمیں آہستہ بغیر شانہ ہلائے معمولی چال چلے۔ (۱۵) جب ساتوں پھیرے پورے ہو جائیں آخر میں پھر حجرِ اسود کو بوسہ دے یا وہی طر یقے ہاتھ یا لکڑی کے برتے اس طواف کو طواف قُدوم کہتے ہیں یعنی حاضری دربار کا مجرا۔ یہ باہر والوں کے لیے مسنون ہے یعنی ان کے لیے جو میقات کے باہر سے آئے ہیں ، مکہ والوں یا میقات کے اندر کے رہنے والوں کے لیے یہ طواف نہیں ہاں اگر مکہ والا میقات سے باہر گیا تو اسے بھی طوافِ قدوم مسنون ہے۔

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن