30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
طہارت کے مسائل کابیان
بہار شریعت
حصہ دوم (2)
(…تسہیل وتخریج شدہ…)
صدر الشریعہ بدر الطریقہ حضرت علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی علیہ رحمۃ اللہ الغنی
پیشکش
مجلسالمدینۃ العلمیۃ (دعوت اسلامی)
شعبہ تخریج
ناشر
مکتبۃ المدینہ باب المدینہ کراچی
بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْم
الحمد للّٰہ الواحد الاحد الصمد۔ المتفرد فی ذاتہ و صفاتہ فلا مثل لہ ولا ضد لہ ولم یکن لہ کفوا احد۔ والصلوۃ والسلام الاتمان الاکملان علی رسولہ و حبیبہ سید الانس و الجان۔ الذی انزل علیہ القراٰن۔ ھدی للناس و بینات من الھدیٰ والفرقان وعلٰی اٰلہ وصحبہ ما تعاقب الملوان۔ وعلٰی من تبعھم باحسان الٰی یوم الدین۔ لاسیما الائمۃ المجتھدین خصوصا علٰی افضلھم و اعلٰھم الامام الاعظم۔ والھمام الافخم۔ الذی سبق فی مضمار الاجتھاد کل فارس۔ وصدق علیہ لو کان العلم عند الثریا لنالہ رجل من ابناء فارس۔ سیدنا ابی حنیفۃ النعمان بن ثابت۔ ثبتنا اللہ بہ بالقول الثابت۔ فی الحیوۃ الدنیا وفی الاخرۃ۔ واعطانا الحسنٰی وزیادۃ فاخرۃ۔ وعلینا لھم و بھم یا ارحم الرٰحمین۔ والحمد للّٰہ رب العلمین۔
تمہید
ایک وہ زمانہ تھا کہ ہر مسلمان اتنا علم رکھتاجو اس کی ضروریات کو کافی ہو بفضلہ تعالیٰ علماء بکثرت موجود تھے جو نہ معلوم ہوتا ان سے بآسانی دریافت کر لیتے حتیٰ کہ حضرت فاروق اعظم رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے حُکْم فرمادیا تھا کہ ہمارے بازار میں وہی خریدوفروخت کریں جو دین میں فقیہ ہوں ۔ (1) رواہ الترمذی عن العلاء بن عبدالرحمٰن بن یعقوب عن ابیہ عن جدہ ۔پھر جس قدرعہدِ نبوت سے بُعد ہوتا گیا اسی قدر علم کی کمی ہوتی رہی اب وہ زمانہ آگیا کہ عوام تو عوام بہت وہ جو علما کہلاتے ہیں روزمرہ کے ضروری جزئیات حتّٰی کہ فرائض و واجبات سے ناواقف اور جتنا جانتے ہیں ا س پر بھی عمل سے منحرف کہ ان کو دیکھ کر عوام کو سیکھنے اور عمل کرنے کا موقع ملتا اسی قلّتِ علم و بے پروائی کا نتیجہ ہے کہ بہت ایسے مسائل کا جن سے واقف نہیں انکار کر بیٹھتے ہیں حالانکہ نہ خود علم رکھتے ہیں کہ جان سکیں نہ سیکھنے کا شوق کہ جاننے والوں سے دریافت کریں نہ علما کی خدمت میں حاضر رہتے کہ اُن کی صحبت باعثِ برکت بھی ہے اور مسائل جاننے کا ذریعہ بھی اور اُردو میں کوئی ایسی کتاب کہ سلیس،عام فہم،قابل اعتماد ہو اب تک شائع نہ ہوئی بعض میں بہت تھوڑے مسائل کہ روزمرّہ کی ضرور ی باتیں بھی ان میں کافی طور پر نہیں اور بعض میں اغلاط کی کثرت۔ لاجَرم ایک ایسی کتاب کی بے حد ضرورت ہے کہ کم پڑھے اس سے فائدہ اٹھائیں ۔ لہٰذا فقیر بہ نظرِ خیر خواہی مسلمانان بمقتضائے الدین النصح لکل مسلم۔ مَولیٰ تعالیٰ پر بھروسہ کر کے اس امرِ اہم و اعظم کی طرف متوجہ ہوا حالانکہ میں خوب
1… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الوتر، باب ماجاء في فضل الصلاۃ علی النبي صلی اللّٰہ علیہ وسلم،الحدیث: ۴۸۷،ج۲ ،ص۲۹۔
جانتا ہوں کہ نہ میرا یہ منصب نہ میں اس کام کے لائق نہ اتنی فرصت کہ پورا وقت صرف کرکے اس کا م کو انجام دوں ۔
وحسبنا اللہ ونعم الوکیل ولا حول ولا قوۃ الا باللہ العلی العظیم۔
(۱) اس کتاب میں حتَّی الوَسع یہ کوشش ہو گی کہ عبارت بہت آسان ہو کہ سمجھنے میں دقت نہ ہو اور کم علم اور عورتیں اور بچے بھی اس سے فائدہ حاصل کرسکیں ۔ پھر بھی علم بہت مشکل چیز ہے یہ مُمکِن نہیں کہ علمی دشواریاں بالکل جاتی رہیں ضرور بہت مَواقِع ایسے بھی رہیں گے کہ اہلِ علم سے سمجھنے کی حاجت ہوگی کم از کم اتنا نفع ضرور ہو گا کہ اس کا بیان انھیں متنبہ کرے گا اور نہ سمجھنا سمجھ والوں کی طرف رجوع کی توجہ دلائے گا۔
(۲) اس کتاب میں مسائل کی دلیلیں نہ لکھی جائیں گی کہ اوّل تو دلیلوں کاسمجھنا ہر شخص کا کام نہیں ، دوسرے دلیلوں کی وجہ سے اکثرایسی الجھن پڑ جاتی ہے کہ نفسِ مسئلہ سمجھنا دشوار ہوجاتاہے لہٰذاہر مسئلے میں خالص منقح حُکْم بیان کر دیا جائے گا اور اگر کسی صاحب کو دلائل کا شوق ہو تو فتاویٰ رضویہ شریف کا مطالعہ کریں کہ اُس میں ہر مسئلہ کی ایسی تحقیق کی گئی ہے جس کی نظیر آج دنیا میں موجود نہیں اور اس میں ہزار ہا ایسے مسائل ملیں گے جن سے علما کے کان بھی آشنا نہیں ۔
(۳) اس کتاب میں حتَّی الوَسع اختلافات کا بیان نہ ہوگا کہ عوام کے سامنے جب دو مختلف باتیں پیش ہوں تو ذہن متحیر ہو گا کہ عمل کس پر کریں اور بہت سے خواہش کے بندے ایسے بھی ہوتے ہیں کہ جس میں اپنا فائدہ دیکھتے ہیں اُسے اختیار کر لیتے ہیں ،یہ سمجھ کر نہیں کہ یہی حق ہے بلکہ یہ خیال کر کے کہ اس میں اپنا مطلب حاصل ہو تا ہے پھر جب کبھی دوسرے میں اپنا فائدہ دیکھا تو اُسے اختیار کر لیا اور یہ ناجائز ہے کہ اتباعِ شریعت نہیں بلکہ اتباعِ نفس ہے لہٰذا ہر مسئلہ میں مفتیٰ بہ صحیح اَصح راجح قول بیان کیا جائے گا کہ بلا دِقت ہر شخص عمل کرسکے۔ اللّٰہ تعالیٰ توفیق دے اور مسلمانوں کو اس سے فائدہ پہنچائے اور اس بے بضاعت کی کوشش قبول فرمائے۔
وما توفیقی الا باللہ علیہ توکلت والیہ انیب و صلی اللہ تعالیٰ علٰی حبیبہ المختار۔ والہ الاطھار۔ وصحبہ المھاجرین والانصار۔ وخلفائہ الاختان منھم والاصھار۔ والحمد للّٰہ العزیز الغفار۔ وھا انا اشرع فی المقصود بتوفیق الملک المعبود۔
اللّٰہ عزوجل ارشاد فرماتا ہے:
{ وَ مَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَ الْاِنْسَ اِلَّا لِيَعْبُدُوْنِ۰۰۵۶} (1)
جن اور آدمی میں نے اسی لیے پیدا کیے کہ وہ میری عبادت کریں ۔
1… پ۲۷، الذّٰریٰت: ۵۶۔
ہر تھوڑی سی عقل والا بھی جانتا ہے کہ جو چیز جس کام کے لیے بنائی جائے اگر اُس کام میں نہ آئے تو بے کار ہے، تَو جو انسان اپنے خالق و مالک کو نہ پہچانے، اُس کی بندگی و عبادت نہ کرے وہ نام کا آدمی ہے حقیقۃً آدمی نہیں بلکہ ایک بے کار چیز ہے تَو معلوم ہوا کہ عبادت ہی سے آدمی، آدمی ہے اور اسی سے فلاحِ دنیوی و نجات ِاخروی ہے لہٰذا ہر انسان کے لیے عبادت کے اقسام و ارکان و شرائط و احکام کا جاننا ضروری ہے کہ بے عِلم عمل نامُمکِن، اسی وجہ سے علم سیکھنا فرض ہے۔ عبادت کی اصل ایمان ہے بغیر ایمان عبادت بے کار، کہ جڑ ہی نہ رہی تو نتائج کہاں سے مترتب ہوں ۔ درخت اسی وقت پھول پھل لاتا ہے کہ اس کی جڑ قائم ہو جڑ جدا ہونے کے بعد آگ کی خوراک ہو جاتا ہے۔ اسی طرح کافر لاکھ عبادت کرے اس کا سارا کیا دھرا برباد اور وہ جہنم کا ایندھن۔
قال اللّٰہ تعالیٰ: { وَ قَدِمْنَاۤ اِلٰى مَا عَمِلُوْا مِنْ عَمَلٍ فَجَعَلْنٰهُ هَبَآءً مَّنْثُوْرًا۰۰۲۳} (1)
کافروں نے جو کچھ کیا ہم اس کے ساتھ یوں پیش آئے کہ اسے بکھرے ہوئے ذرّے کی طرح کر دیا۔
جب آدمی مسلمان ہو لیا تو اس کے ذمہ دو قسم کی عبادتیں فرض ہوئیں ایک وہ کہ جَوَارِح سے متعلق ہے دوسری جس کا تعلق قَلْب سے ہے۔ قسمِ دوم کے احکام و اصناف علمِ سلوک میں بیان ہوتے ہیں اور قسمِ اوّل سے فقہ بحث کرتا ہے اور میں اس کتاب میں بالفعل قسمِ اوّل ہی کو بیان کرناچاہتا ہوں پھر جس عبادت کو جَوَارِح یعنی ظاہرِ بدن سے تعلق ہے، دو قسم ہے یا وہ معاملہ کہ بندے اور خاص اُس کے رب کے درمیان ہے۔ بندوں کے باہمی کسی کام کا بناؤ بگاڑ نہیں عام اَزِیں کہ ہرشخص اس کی ادا میں مستقل ہو جیسے نماز پنجگانہ و روزہ کہ ہر ایک بلا شرکتِ غیرے انھیں ادا کر سکتا ہے خواہ دوسروں کی شرکت کی ضرورت ہو، جیسے نمازجماعت و جمعہ و عیدین میں کہ بے جماعت نا مُمکِن ہیں مگر اس سے سب کا مقصودمحض عبادتِ معبود ہے نہ کہ آپس کے کسی کام کا بنانا۔
دوسری قسم وہ کہ بندوں کے باہمی تعلقات ہی کی اِصلاح اس میں مدّنظر ہے جیسے نکاح یا خریدوفروخت وغیرہا۔ پہلی قسم کو عبادات، دوسری کو معاملات کہتے ہیں ۔ پہلی قسم میں اگرچہ کوئی دنیوی نفع بظاہر مترتب نہ ہو اور معاملات میں ضرور دنیوی فائدے ظاہر موجود ہیں بلکہ یہی پہلو غالب ہے مگر عبادت دونوں ہیں کہ معاملات بھی اگر خدا و رَسول کے حُکْم کے موافق کیے جائیں تو استحقاقِ ثواب ہے ورنہ گناہ اور سببِ عذاب۔
قسم اول یعنی عبادات چار ہیں ۔ نماز، روزہ، حج، زکوۃ، ان سب میں اہم و اعظم نماز ہے اور یہ عبادت اللّٰہ عزوجل کو بہت محبوب ہے لہٰذا ہم کو چاہیئے کہ سب سے پہلے اسی کو بیان کریں مگر نماز پڑھنے سے پہلے نمازی کا طاہِر اور پاک ہو لینا ضرور ہے کہ طہارت نماز کی کنجی ہے لہٰذا پہلے طہارت کے مسائل بیان کیے جائیں اس کے بعد نماز کے مسائل بیان ہوں گے۔
1… پ۱۹، الفرقان: ۲۳۔
کتاب الطھارۃ
نماز کے لیے طہارت ایسی ضروری چیزہے کہ بے اس کے نماز ہوتی ہی نہیں بلکہ جان بوجھ کر بے طہارت نماز ادا کرنے کو علما کفر لکھتے ہیں اور کیوں نہ ہو کہ اس بے وُضو یا بے غسل نماز پڑھنے والے نے عبادت کی بے ادبی اور توہین کی۔ نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ جنت کی کنجی نماز ہے اورنماز کی کنجی طہارت(1)۔ اس حدیث کو امام احمد نے جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کیا: ’’ایک روز نبی صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم صبح کی نماز میں سورۂ رُوم پڑھتے تھے اور متشابہ لگا۔ بعد نماز ارشاد فرمایا کیا حال ہے ان لوگوں کا جو ہمارے ساتھ نماز پڑھتے ہیں اور اچھی طرح طہارت نہیں کرتے انھیں کی وجہ سے امام کو قراء ت میں شبہہ پڑتا ہے‘‘۔(2) اس حدیث کو نَسائی نے شبیب بن ابی روح سے، انہوں نے ایک صحابی سے روایت کیا۔جب بغیر کامل طہارت نماز پڑھنے کا یہ وبال ہے تو بے طہارت نماز پڑھنے کی نحوست کا کیا پوچھنا۔ ایک حدیث میں فرمایا: ’’طہارت نصف ایمان ہے‘‘۔ (3) اس حدیث کو تِرمذی نے روایت کیا اور کہا کہ یہ حدیث حسن ہے۔ طہارت کی دو قسمیں ہیں ۔
(۱) صُغریٰ (۲) کُبریٰ
طہارتِ صُغریٰ وُضو ہے اور کُبریٰ غسل۔ جن چیزوں سے صرف وُضو لازم ہوتا ہے ان کو حدثِ اَصغَر کہتے ہیں اور جن سے غسل فرض ہو ان کو حدثِ اَکبَر۔ ان سب کا اور ان کے متعلقات کاتفصیلاً ذکر کیا جائے گا۔
تنبیہ: چند ضروری اصطلاحات قابلِ ذکر ہیں کہ ان سے ہر جگہ کام پڑتا ہے۔
فرضِ اعتقادی: جودلیلِ قطعی سے ثابت ہو (یعنی ایسی دلیل سے جس میں کوئی شبہہ نہ ہو) اس کا انکار کرنے والا آئمۂ حنفیہ کے نزدیک مطلقاً کافر ہے اور اگر اسکی فرضیت دین ِ اسلام کا عام خاص پر روشن واضح مسئلہ ہو جب تو اس کے منکر کے کفر پر اِجماعِ قطعی ہے ایسا کہ جو اس منکر کے کفر میں شک کرے خود کافر ہے اور بہرحال جو کسی فرضِ اعتقادی کو بلا عذرِ صحیح شَرْعی قَصْداً ایک بار بھی چھوڑے فاسق و مرتکبِ کبیرہ و مستحقِ عذاب نار ہے جیسے نماز ، رکوع، سجود۔
فرضِ عملی: وہ جس کا ثبوت تو ایسا قطعی نہ ہو مگر نظرِ مجتہد میں بحکمِ دلائل شَرْعیہ جزم ہے کہ بے اس کے کیے آدمی بری الذمہ نہ ہو گا یہاں تک کہ اگر وہ کسی عبادت کے اندر فرض ہے تو وہ عبادت بے اس کے باطل و کالعدم ہوگی۔ اس کا بے وجہ انکار
1… ’’ المسند ‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند جابر بن عبد اللّٰہ، الحدیث: ۱۴۶۶۸، ج۵، ص۱۰۳۔
2… ’’سنن النسائي‘‘، کتاب الافتتاح، باب القراء ۃ في الصبح بالروم، الحدیث: ۹۴۴، ص۱۶۵۔
3… ’’جامع الترمذي‘‘، کتاب الدعوات،۸۵۔ باب، الحدیث: ۳۵۲۸،ج۵، ص۳۰۷۔
فسق و گمراہی ہے ،ہاں اگر کوئی شخص کہ دلائلِ شَرْعیہ میں نظرکا اہل ہے دلیلِ شَرْعی سے اس کا انکار کرے تو کر سکتا ہے۔ جیسے آئمۂ مجتہدین کے اختلافات کہ ایک امام کسی چیز کو فرض کہتے ہیں اور دوسرے نہیں مَثَلاًحنفیہ کے نزدیک چوتھائی سر کا مسح وُضو میں فرض ہے اور شافعیہ کے نزدیک ایک بال کا اور مالکیہ کے نزدیک پورے سر کا ، حنفیہ کے نزدیک وُضو میں بسم اللہ کہنا اور نیّت سنت ہے اور حنبلیہ و شافعیہ کے نزدیک فرض اور ان کے سوا اور بہت سی مثالیں ہیں ۔اس فرضِ عملی میں ہر شخص اُسی کی پیروی کرے جس کا مقلّد ہے اپنے امام کے خلاف بلا ضرورت ِ شَرْعی دوسرے کی پیروی جائز نہیں ۔
واجبِ اعتقادی: وہ کہ دلیلِ ظنی سے اس کی ضرورت ثابت ہو۔ فرضِ عملی و واجبِ عملی اسی کی دو قسمیں ہیں اور وہ انھیں دو میں منحصر۔
واجبِ عملی: وہ واجبِ اعتقادی کہ بے اس کے کیے بھی بری الذمہ ہونے کا احتمال ہو مگر غالب ظن اس کی ضرورت پر ہے اور اگر کسی عبادت میں اس کا بجا لانا درکار ہو تو عبادت بے اس کے ناقص رہے مگر ادا ہو جائے ۔مجتہد دلیلِ شَرْعی سے واجب کا انکار کر سکتا ہے اور کسی واجب کا ایک بار بھی قَصْداً چھوڑنا گناہِ صغیرہ ہے اور چند بار ترک کرنا کبیرہ۔
سنّتِ مؤ کَّدہ: وہ جس کو حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ہمیشہ کیا ہو ،البتہ بیانِ جواز کے واسطے کبھی ترک بھی فرمایا ہو یا وہ کہ اس کے کرنے کی تاکید فرمائی ہو مگر جانبِ ترک باِلکل مسدود نہ فرمادی ہو، اس کا ترک اساء ت اور کرنا ثواب اور نادراً ترک پر عتاب اور اس کی عادت پر استحقاقِ عذاب ۔
سنّتِ غیر مؤکَّدہ: وہ کہ نظرِ شرع میں ایسی مطلوب ہو کہ اس کے ترک کو ناپسند رکھے مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے عام ازیں کہ حضور سیّد عالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اس پر مداومت فرمائی یا نہیں ،اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنا اگرچہ عادۃً ہو مو جبِ عتاب نہیں ۔
مُستَحب: وہ کہ نظرِ شرع میں پسند ہو مگر ترک پر کچھ ناپسندی نہ ہو، خواہ خود حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے اسے کیا یا اس کی ترغیب دی یا علمائے کِرام نے پسند فرمایا اگرچہ احادیث میں اس کا ذکر نہ آیا۔ اس کا کرنا ثواب اور نہ کرنے پر مطلقاً کچھ نہیں ۔
مُباح: وہ جس کا کرنا اور نہ کرنا یکساں ہو۔
حَرامِ قَطعی: یہ فرض کا مُقابِل ہے ،اس کا ایک بار بھی قَصْداً کرنا گناہِ کبیرہ و فِسق ہے اور بچنا فرض و ثواب۔
مَکروہ تَحْرِیمی: یہ واجب کا مقابل ہے اس کے کرنے سے عبادت ناقص ہو جاتی ہے اور کرنے والا گنہگار ہوتا ہے اگرچہ اس کا گناہ حرام سے کم ہے اور چند بار اس کا ارتکاب کبیرہ ہے۔
اِساءَت: جس کا کرنا بُرا ہو اور نادراً کرنے والا مستحقِ عِتاب اور اِلتزامِ فعل پر استحقاقِ عذاب۔ یہ سنّتِ مؤ کدہ کے مقابل ہے۔
مَکروہِ تَنزِیہی: جس کا کرنا شرع کو پسند نہیں مگر نہ اس حد تک کہ اس پر وعیدِ عذاب فرمائے ۔یہ سنّتِ غیر مؤ کدہ کے مقابل ہے۔
خِلافِ اَولیٰ: وہ کہ نہ کرنا بہتر تھا ، کیا توکچھ مضایقہ و عتاب نہیں ، یہ مستحب کا مقابل ہے۔ ان کے بیان میں عبارتیں مختلف ملیں گی مگر یہی عطرِ تحقیق ہے۔
وللّٰہ الحمد حمدًا کثیرًا مبارکًا فیہ مبارکًا علیہ کما یحب ربنا و یرضٰی۔
وُضو کا بیان
اللّٰہ عزوجل فرماتا ہے: {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قُمْتُمْ اِلَى الصَّلٰوةِ فَاغْسِلُوْا وُجُوْهَكُمْ وَ اَيْدِيَكُمْ اِلَى الْمَرَافِقِ وَ امْسَحُوْا بِرُءُوْسِكُمْ وَ اَرْجُلَكُمْ اِلَى الْكَعْبَيْنِ١ؕ } (1)
یعنی اے ایمان والو جب تم نماز پڑھنے کا ارادہ کرو (اور وضو نہ ہو) تو اپنے مونھ اور کُہنیوں تک ہاتھوں کو دھوؤ اور سروں کا مسح کرو اور ٹخنوں تک پاؤں دھوؤ۔
مناسب معلوم ہوتا ہے کہ فضائلِ وُضو میں چند اَحادیث ذِکر کی جائیں پھر اُس کے متعلق اَحکام فِقہی کا بیان ہو۔
حدیث ۱: امام بُخاری وا مام مسلِم ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی ،حضور اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم ارشاد فرماتے ہیں :’’قیامت کے دن میری امت اس حالت میں بلائی جائے گی کہ مونھ اور ہاتھ پاؤں آثارِ وُضوسے چمکتے ہوں گے تو جس سے ہو سکے چمک زیادہ کرے۔‘‘ (2)
حدیث ۲: صحیح مسلِم میں ابوہریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ حضور سیّدِ عالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے صحابۂ کِرام سے ارشاد فرمایا: ’’کیا میں تمہیں ایسی چیز نہ بتادوں جس کے سبب اللّٰہ تعالیٰ خطائیں محو فرما دے اور درجات بلند کرے۔ عرض کی ہاں یا رسول اللہ! فرمایا: جس وقت وُضو ناگوار ہوتا ہے اس وقت وضوئے کامل کرنا اور مسجدوں کی طرف قدموں کی کثرت اور ایک نماز
1… پ۶، المآئدۃ: ۶۔
2… ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب الوضوئ، باب فضل الوضو ء۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۳۶،ج۱، ص۷۱۔
کے بعد دوسری نماز کا انتظار اس کا ثواب ایسا ہے جیسا کفار کی سرحد پر حمایت بلادِ اسلام کے لیے گھوڑا باندھنے کا۔‘‘ (1)
حدیث ۳: اِمام مالِک و نَسائی عبد اللّٰہ صنابحی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول ا للہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ: ’’مسلمان بندہ جب وُضو کرتا ہے تو کُلّی کرنے سے مونھ کے گناہ گر جاتے ہیں اور جب ناک میں پانی ڈال کر صاف کیا تو ناک کے گناہ نکل گئے اور جب مونھ دھویا تو اس کے چِہرہ کے گناہ نکلے یہاں تک کہ پلکوں کے نکلے اور جب ہاتھ دھوئے تو ہاتھوں کے گناہ نکلے یہاں تک کہ ہاتھوں کے ناخنوں سے نکلے اور جب سر کا مسح کیا تو سر کے گناہ نکلے یہاں تک کہ کانوں سے نکلے اور جب پاؤں دھوئے تو پاؤں کی خطائیں نکلیں یہاں تک کہ ناخنوں سے پھر اس کا مسجد کو جانا اور نماز مزید براں ۔ (2)
حدیث ۴: بزّار نے باسناد حسن روایت کی کہ’’ حضرتِ عثمانِ غنی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے اپنے غلام حمران سے وُضو کے لیے پانی مانگا اور سردی کی رات میں باہر جانا چاہتے تھے حمران کہتے ہیں : میں پانی لایا، انہوں نے مونھ ہاتھ دھوئے تو میں نے کہا اللّٰہ آپ کو کفایت کرے رات تو بہت ٹھنڈی ہے اس پر فرمایا کہ: میں نے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم سے سنا ہے کہ جو بندہ وضوئے کامل کرتا ہے اللّٰہ تعالیٰ اس کے اگلے پچھلے گناہ بخش دیتا ہے۔‘‘ (3)
حدیث ۵: طَبَرانی نے اوسط میں حضرت امیر المومنین مولیٰ علی کرّم اللّٰہ تعالیٰ وجہہ سے روایت کی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا’’ جو سَخْت سردی میں کامل وُضو کرے ا س کے لیے دونا ثواب ہے۔‘‘ (4)
حدیث ۶: امام احمد بن حنبل نے اَنَس رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت کی حضور سیّدِ عالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’جو ایک ایک بار وُضو کرے تو یہ ضرور ی بات ہے اور جو دو دو بار کرے اس کو دونا ثواب اور جو تین تین بار دھوئے تویہ میرا اور اگلے نبیوں کا وُضو ہے۔‘‘ (5)
حدیث ۷: صحیح مسلِم میں عُقبہ بن عامِر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’جو مسلمان وُضو کرے اور اچھا وُضو کرے پھر کھڑا ہو اور باطن و ظاہرسے متوجہ ہو کر دو رکعت نمازپڑھے اس کے لیے جنت واجب ہوتی ہے۔‘‘ (6)
1… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الطھارۃ، باب فضل إسباغ الوضوء علی المکارہ، الحدیث: ۲۵۱، ص۱۵۱۔
2… ’’سنن النسائي‘‘، کتاب الطھارۃ، باب مسح الاذنین مع الرأس۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۰۳، ص۲۵۔
3… ’’البحر الزخار المعروف بمسند البزار‘‘، مسند عثمان بن عفان، الحدیث: ۴۲۲، ج۲، ص۷۵۔
4… ’’ المعجم الأوسط ‘‘ للطبراني، باب المیم، الحدیث: ۵۳۶۶، ج۴، ص۱۰۶۔
5… ’’ المسند ‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبداللّٰہ بن عمر بن الخطاب، الحدیث: ۵۷۳۹، ج۲، ص۴۱۷۔
6… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوئ، الحدیث:۲۳۴، ص۱۴۴۔
حدیث ۸: مسلِم میں حضرتِ امیر المومنین فاروقِ اعظم عُمر بن خَطّاب رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’تم میں سے جو کوئی وُضو کرے اور کامل وُضو کرے پھر پڑھے۔ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اللہُ وَحْدَہٗ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ اس کے لیے جنت کے آٹھوں دروازے کھول دیے جاتے ہیں جس دروازے سے چاہے داخِل ہو۔‘‘ (1)
حدیث ۹: تِرمذی نے حضرتِ عبدُ اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے روایت کی رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا:’’ جو شخص وُضو پر وُضو کرے اس کے لیے دس نیکیاں لکھی جائیں گی۔‘‘ (2)
حدیث ۱۰: ابنِ خُزیمہ اپنی صحیح میں راوی کہ عبدُ اللّٰہ بن بُرَیدہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں :’’ ایک دن صبح کو حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے حضرتِ بِلال کوبلایا اور فرمایا:’’ اے بِلال کس عمل کے سبب جنت میں تو مجھ سے آگے آگے جارہا تھا میں رات جنت میں گیا تو تیرے پاؤں کی آہٹ اپنے آگے پائی۔‘‘ بِلال رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ نے عرض کی: ’’یا رسول اللہ! میں جب اذان کہتا اس کے بعد دو رکعت نماز پڑھ لیتا اور میرا جب کبھی وُضو ٹوٹتا وُضو کر لیا کرتا۔ حضو ر صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا اسی سبب سے۔‘‘ (3)
حدیث ۱۱: تِرمذی و ابنِ ماجہ سعید بن زید رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ــ’’جس نے بسم اللہ نہ پڑھی اس کا وُضو نہیں یعنی وضوئے کامل نہیں اس کے معنے وہ ہیں جو دوسری حدیث میں ارشاد فرمایا۔ (4)
حدیث ۱۲: دارقُطنی اور بَیہقی اپنی سُنَن میں عبد اللّٰہ بن مسعود رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی ،کہ حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ:’’ جس نے بسم اللہ کہہ کر وُضو کیا سر سے پاؤں تک اس کا سارا بدن پاک ہو گیا اور جس نے بغیر بسم اللہ وُضو کیا اس کا اتنا ہی بدن پاک ہو گا جتنے پر پانی گزرا۔‘‘ (5)
حدیث ۱۳: امام بُخاری و مسلِم ابو ہُریرہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ’’جب کوئی خواب سے بیدار ہو تو وُضو کرے اور تین بار ناک صاف کرے کہ شیطان اس کے نتھنے پر رات گزارتا ہے۔‘‘(6)
1… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الطھارۃ با ب الذکر المستحب عقب الوضوئ، الحدیث: ۲۳۴، ص۱۴۴۔
2… ’’جامع الترمذي‘‘، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء أنہ یصلي الصلوات بو ضوء واحد، الحدیث:۶۱، ج۱، ص ۱۲۴۔
3… صحیح ابن خزیمۃ، باب استحبا ب الصلاۃ عند الذنب۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۱۲۰۹، ج۲، ص۲۱۳۔
4… ’’سنن ابن ماجہ‘‘، أبواب الطھارۃ، باب ماجا ء في التسمیۃ في الوضوئ، الحدیث: ۳۹۸، ج۱، ص۲۴۲۔
5… ’’سنن الدار قطني‘‘، کتاب الطھارۃ، باب التسمیۃ علی الوضوئ، الحدیث: ۲۲۸، ج۱، ص۱۰۸۔
6… ’’صحیح البخاري‘‘، کتاب بدء الخلق، باب صفۃ ابلیس وجنودہ، الحدیث: ۳۲۹۵، ج۲، ص۴۰۳۔
حدیث ۱۴: طَبَرانی باسناد حسن حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی، حضورِ اقدس صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’ اگر یہ بات نہ ہوتی کہ میری امّت پر شاق ہو گا تو میں ان کو ہر وُضو کے ساتھ مِسواک کرنے کا امر فرما دیتا۔‘‘ (1) (یعنی فرض کر دیتا اور بعض روایتوں میں لفظ فرض بھی آیا ہے) ۔ (2)
حدیث ۱۵: اسی طَبَرانی کی ایک روایت میں ہے کہ’’ سیّد عالم صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کسی نماز کے لیے تشریف نہ لے جاتے تاوقتیکہ مِسواک نہ فرمالیتے۔‘‘ (3)
حدیث ۱۶: صحیح مسلِم میں عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی ، کہ ’’حضور صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم باہر سے جب گھر میں تشریف لاتے تو سب سے پہلا کام مِسواک کرنا ہوتا۔‘‘ (4)
حدیث ۱۷: امام احمد ابن عمر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہما سے راوی کہ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’ مِسواک کا التزام رکھو کہ وہ سبب ہے مونھ کی صفائی اور رب تبارک وتعالیٰ کی رضا کا۔‘‘ (5)
حدیث ۱۸: ابو نُعَیم جابر رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے راوی ،رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’دو رکعتیں جو مِسواک کر کے پڑھی جائیں افضل ہیں بے مِسواک کی ستّر رکعتوں سے۔‘‘ (6)
حدیث ۱۹: اور ایک روایت میں ہے کہ: ’’ جو نماز مِسواک کر کے پڑھی جائے وہ اس نماز سے کہ بے مِسواک کیے پڑھی گئی ستّر حصّے افضل ہے۔‘‘ (7)
حدیث ۲۰: مِشکوٰۃ میں عائشہ رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہا سے مروی کہ: ’’دس چیزیں فطرت سے ہیں ( یعنی ان کا حُکْم ہر شریعت میں تھا) مونچھیں کترنا، داڑھی بڑھانا، مِسواک کرنا، ناک میں پانی ڈالنا، ناخن تراشنا، اُنگلیوں کی چنٹیں دھونا، بغل کے بال دور کرنا، موئے زیرناف مونڈنا، استنجا کرنا، کُلّی کرنا۔ (8)
حدیث ۲۱: حضرتِ علی رضی اللّٰہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم نے فرمایا کہ: ’’بندہ جب مِسواک
1… ’’المعجم الأوسط‘‘ للطبراني، الحدیث: ۱۲۳۸، ج۱، ص۳۴۱۔
2… ’’المستدرک‘‘ للحاکم، کتاب الطہارۃ، باب لو لا ان أشق۔۔۔ إلخ، الحدیث: ۵۳۱، ج۱، ص۳۶۴۔
3… ’’المعجم الکبیر‘‘ للطبراني، الحدیث: ۴۴۔(۲۵۳)، ج۵، ص۱۵۲۔
4… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الطھارۃ، باب السواک، الحدیث: ۴۴۔(۲۵۳)، ص۱۵۲۔
5… ’’المسند‘‘ للإمام أحمد بن حنبل، مسند عبد اللّٰہ بن عمر رضی اللّٰہ عنھما، الحدیث: ۵۸۶۹، ج۲، ص۴۳۸۔
6… ’’الترغیب والترھیب‘‘ للمنذري، کتا ب الطھارۃ، الترغیب فيالسواک، الحدیث: ۱۸، ج۱، ص۱۰۲۔
7… ’’شعب الإیمان‘‘، باب فيالطھارات، الحدیث: ۲۷۷۴، ج۳، ص۲۶۔
8… ’’صحیح مسلم‘‘، کتاب الطھارۃ، باب خصال الفطرۃ، الحدیث: ۲۶۱، ص۱۵۴۔
کرلیتا ہے پھر نماز کو کھڑا ہوتا ہے تو فرشتہ اس کے پیچھے کھڑا ہو کر قراء ت سنتا ہے پھر اس سے قریب ہوتا ہے یہاں تک کہ اپنا مونھ اس کے مونھ پر رکھ دیتا ہے۔‘‘ (1)
مشایخِ کِرا م فرماتے ہیں کہ:’’ جو شخص مِسواک کا عادی ہو مرتے وقت اسے کلمہ پڑھنا نصیب ہوگا۔ اور جو افیون کھاتا ہو مرتے وقت اسے کلمہ نصیب نہ ہوگا۔‘‘
اَحکامِ فِقہی: وہ آیۂ کریمہ جو اوپر لکھی گئی اس سے یہ ثابت کہ وُضو میں چار فرض ہیں :
(۱) مونھ دھونا
(۲) کُہنیوں سمیت دونوں ہاتھوں کا دھونا
(۳) سر کا مسح کرنا
(۴) ٹخنوں سمیت دونوں پاؤں کا دھونا
فائدہ: کسی عُضْوْ کے دھونے کے یہ معنی ہیں کہ اس عُضْوْ کے ہرحصہ پر کم سے کم دو بوند پانی بہ جائے۔ بھیگ جانے یا تیل کی طرح پانی چُپَڑلینے یا ایک آدھ بوند بہ جانے کو دھونا نہیں کہیں گے نہ اس سے وُضو یا غسل ادا ہو (2) ، اس امر کا لحاظ بہت ضروری ہے لوگ اس کی طرف توجہ نہیں کرتے اور نمازیں اکارت جاتی ہیں ۔ بدن میں بعض جگہیں ایسی ہیں کہ جب تک ان کاخاص خیال نہ کیا جائے ان پر پانی نہ بہے گا جس کی تشریح ہر عُضْوْ میں بیان کی جائے گی ۔کسی جگہ َموضَعِ حَدَث پر تری پہنچنے کو مسح کہتے ہیں ۔
۱۔ مونھ دھونا: شروعِ پیشانی سے (یعنی جہاں سے بال جمنے کی انتہا ہو) ٹھوڑی (3) تک طول میں اور عرض میں ایک کان سے دوسرے کان تک مونھ ہے اس حد کے اندر جِلد کے ہر حصہ پر ایک مرتبہ پانی بہانا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۱: جس کے سر کے اگلے حصہ کے بال گرگئے یا جَمے نہیں اس پر وہیں تک مونھ دھونا فرض ہے جہاں تک عادۃً بال ہوتے ہیں اور اگر عادۃً جہاں تک بال ہوتے ہیں اس سے نیچے تک کسی کے بال جمے تو ان زائد بالوں کا جڑ تک دھونا فرض ہے۔ (5)
1… ’’البحر الزخار المعروف بمسند البزار‘‘، مسند علي بن أبي طالب، الحدیث: ۶۰۳، ج۲، ص۲۱۴۔
2… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في الفرض القطعی والظنی، ج۱، ص۲۱۷۔
و ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، باب الوضوئ، ج۱، ص۲۱۸۔ 3… یعنی نیچے کے دانت جمنے کی جگہ۔
4… ’’الدرالمختار‘‘معہ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۱۶ ۔ ۲۱۹۔
5… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، الباب الأول في الوضو، الفصل الأول، ج۱، ص۴۔
مسئلہ ۲: مونچھوں یا بھووں یا بچی (1) کے بال گھنے ہوں کہ کھال باِلکل نہ دکھائی دے تو جِلد کا دھونا فرض نہیں بالوں کا دھونا فرض ہے اور اگر ان جگہوں کے بال گھنے نہ ہوں تو جِلد کا دھونا بھی فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: اگر مونچھیں بڑھ کر لَبوں کو چھپالیں تو اگرچہ گھنی ہوں ،مونچھیں ہٹا کر لَب کا دھونا فرض ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: داڑھی کے بال اگر گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے اور اگر گھنے ہوں تو گلے کی طرف دبانے سے جس قدر چہرے کے گردے میں آئیں ان کا دھونا فرض ہے اور جڑوں کا دھونا فرض نہیں اور جو حلقے سے نیچے ہوں ان کا دھونا ضرور نہیں اور اگر کچھ حصہ میں گھنے ہوں اور کچھ چَھدرے، تو جہاں گھنے ہوں وہاں بال اور جہاں چھدرے ہیں اس جگہ جلد کا دھونا فرض ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: لَبوں کا وہ حصہ جو عادۃً لب بند کرنے کے بعد ظاہر رہتا ہے ،اس کا دھونا فرض ہے تو اگر کوئی خوب زور سے لب بند کرلے کہ ا س میں کاکچھ حصہ چُھپ گیا کہ اس پر پانی نہ پہنچا، نہ کُلّی کی کہ دُھل جاتا تو وُضو نہ ہوا ،ہاں وہ حصہ جو عادۃً مونھ بند کرنے میں ظاہر نہیں ہوتا اس کا دھونا فرض نہیں ۔ (5)
مسئلہ ۶: رُخسار اور کان کے بیچ میں جو جگہ ہے جسے کنپٹی کہتے ہیں اس کا دھونا فرض ہے ہاں اس حصہ میں جتنی جگہ داڑھی کے گھنے بال ہوں وہاں بالوں کا اور جہاں بال نہ ہوں یا گھنے نہ ہوں تو جلد کا دھونا فرض ہے۔ (6)
مسئلہ ۷: نَتھ کا سوراخ اگر بند نہ ہو تو اس میں پانی بہانا فرض ہے اگر تنگ ہو تو پانی ڈالنے میں نتھ کو حرکت دے ورنہ ضرور ی نہیں ۔ (7)
1… یعنی وہ چند بال جو نیچے کے ہونٹ اور ٹھوڑی کے بیچ میں ہوتے ہیں ۔
2… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۲۱۴۔
و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۲۰۔
3… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۴۴۶۔ 4… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۱۴، ۴۴۶۔
5… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۱۹۔
و ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ، ج۱، ص۲۱۴۔ 6… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۲۱۶۔
و’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۲۰۔
7… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۴۴۵۔
مسئلہ ۸: آنکھوں کے ڈھیلے اور پپوٹوں کی اندرونی سَطح کا دھوناکچھ درکار نہیں بلکہ نہ چاہیئے کہ مُضر ہے۔(1)
مسئلہ ۹: مونھ دھوتے وقت آنکھیں زور سے مِیچ لِیں کہ پَلک کے مُتّصل ایک خَفیف سی تحریر بند ہوگئی اور اس پر پانی نہ بہا اور وہ عادۃً بند کرنے سے ظاہر رہتی ہو تو وُضو ہو جائیگا مگر ایسا کرنا نہیں چاہیئے اور اگر کچھ زیادہ دُھلنے سے رہ گیا تو وُضو نہ ہو گا۔ (2)
مسئلہ ۱۰: آنکھ کے کوئے (3) پر پانی بہانا فرض ہے مگر سرمہ کا جرم کوئے یا پَلک میں رہ گیا اور وُضو کرلیا اور اِطلاع نہ ہوئی اور نماز پڑھ لی تو حَرج نہیں نماز ہوگئی، وُضو بھی ہو گیا اور اگر معلوم ہے تو اسے چُھڑا کر پانی بہانا ضرور ہے۔
مسئلہ ۱۱: پَلک کا ہر بال پُورا دھونا فرض ہے اگر اس میں کیچڑ وغیرہ کوئی سَخْت چیز جم گئی ہو تو چُھڑا نا فرض ہے۔ (4)
۲۔ہاتھ دھونا: اس حُکْم میں کہنیاں بھی داخِل ہیں ۔ (5)
مسئلہ ۱۲: اگر کُہنیوں سے ناخن تک کوئی جگہ ذَرّہ بھر بھی دھلنے سے رہ جائے گی وُضو نہ ہو گا۔ (6)
مسئلہ ۱۳: ہر قسم کے جائز ، ناجائز گہنے ، چَھلّے، انگوٹھیاں ، پُہنچیاں (7) ، کنگن، کانچ، لاکھ وغیرہ کی چوڑیاں ، ریشم کے لچھّے وغیرہ اگر اتنے تنگ ہوں کہ نیچے پانی نہ بَہے تو اُتار کر دھونا فرض ہے اور اگرصرف ہِلا کر دھونے سے پانی بہ جاتا ہو تو حرکت دینا ضرور ی ہے اور اگر ڈِھیلے ہوں کہ بے ہلائے بھی نیچے پانی بہ جائے گا تو کچھ ضرور ی نہیں ۔ (8)
مسئلہ ۱۴: ہاتھوں کی آٹھوں گھائیاں (9) ،اُنگلیوں کی کروٹیں ، ناخنوں کے اندر جو جگہ خالی ہے، کلائی کا ہر بال جڑ سے نوک تک ان سب پر پانی بہ جانا ضروری ہے اگر کچھ بھی رہ گیا یا بالوں کی جڑوں پر پانی بہ گیا کسی ایک بال کی نوک پر نہ بہا وُضو نہ ہوا مگر ناخنوں کے اندر کا میل معاف ہے۔ (10)
مسئلہ ۱۵: بجائے پانچ کے چھ انگلیاں ہیں تو سب کا دھونا فرض ہے اور اگر ایک مُونڈھے پر دو ہاتھ نکلے تو جو پُورا ہے
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في معنی الاشتقاق۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۲۰۔
2… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۲۰۰۔ 3… یعنی ناک کی طرف آنکھ کا کونہ۔
4… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج ۱، ص۴۴۴۔ 5… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الأول، ج۱، ص۴۔ 6… المرجع السابق ۔ 7… پُہنچی کی جمع، ایک زیور جو کلائی میں پہنا جاتا ہے۔
8… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ئ، ج۱، ص۲۱۶۔ و’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۱۷۔
9… یعنیانگلیوں کے درمیان کی جگہ۔ 10… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۴۴۵ ۔
اس کا دھونا فرض ہے اوراس دوسرے کادھونا فرض نہیں مستحب ہے مگر اس کا وہ حصہ کہ اس ہاتھ کے موضعِ فرض سے متصل ہے اتنے کا دھونا فرض ہے۔ (1)
۳۔ سرکا مسح کرنا:
چوتھائی سر کا مسح فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۱۶: مسح کرنے کے لیے ہاتھ تَر ہونا چاہیئے، خواہ ہاتھ میں تَری اعضا کے دھونے کے بعد رہ گئی ہو یا نئے پانی سے ہاتھ تر کر لیا ہو۔ (3)
مسئلہ ۱۷: کِسی عُضو کے مسح کے بعد جو ہاتھ میں تَری باقی رہ جائے گی وہ دوسرے عُضْوْ کے مسح کے لیے کافی نہ ہوگی۔(4)
مسئلہ ۱۸: سر پر بال نہ ہوں تو جِلد کی چوتھائی اور جو بال ہوں تو خاص سر کے بالوں کی چَوتھائی کا مسح فرض ہے اور سر کا مسح اسی کو کہتے ہیں ۔ (5)
مسئلہ ۱۹: عمامے، ٹوپی، دُوپٹے پر مسح کافی نہیں ۔ ہاں اگر ٹوپی، دُوپٹا اتنا باریک ہو کہ تَری پُھوٹ کر چوتھائی سر کو تَر کردے تو مسح ہو جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۲۰: سر سے جو بال لٹک رہے ہوں ان پر مسح کرنے سے مسح نہ ہوگا۔ (7)
۴۔پاؤں کو گٹوں (8) سمیت ایک دفعہ دھونا: (9)
مسئلہ ۲۱: چَھلّے اور پاؤں کے گہنوں کا وہی حُکْم ہے جو اوپر بیان کیا گیا۔ (10)
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطھارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الأول، ج۱، ص۴۔
2… المرجع السابق، ص۵۔ 3… المرجع السابق، ص۶۔
4… المرجع السابق۔ 5… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۱۶۔
6… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الأول، ج۱، ص۶۔
7… المرجع السابق، ص۵۔ 8… یعنی ٹخنوں ۔ 9… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الأول، ج۱، ص۵۔ 10… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۱۸۔
مسئلہ ۲۲: بعض لوگ کسی بیماری کی وجہ سے پاؤں کے اَنگوٹھوں میں اس قدر کھینچ کر تاگا باندھ دیتے ہیں کہ پانی کا بہنا درکنار تاگے کے نیچے تر بھی نہیں ہوتا ان کو اس سے بچنا لازم ہے کہ اس صورت میں وُضو نہیں ہوتا۔
مسئلہ ۲۳: گھائیاں اور اُنگلیوں کی کروَٹیں ، تلوے، ایڑیاں ، کونچیں (1) ، سب کا دھونا فرض ہے۔ (2)
مسئلہ ۲۴: جن اَعضا کا دھونا فرض ہے ان پر پانی بہ جانا شرط ہے یہ ضرور نہیں کہ قَصْداًپانی بہائے اگر بِلاقَصْد و اِختیار بھی ان پر پانی بہ جائے (مثلاً مِینھ برسا اور اَعضائے وُضو کے ہر حصہ سے دو دو قطرے مِینھ کے بہ گئے وہ اعضا دُھل گئے اور سر کا چوتھائی حصہ نم ہو گیایا کسی تالاب میں گِر پڑا اور اعضائے وُضو پر پانی گزر گیاوُضو ہو گیا)۔
مسئلہ ۲۵: جس چیز کی آدمی کو عُموماً یا خُصوصاً ضرورت پڑتی رہتی ہے اور اس کی نگِہداشت و اِحتیاط میں حَرج ہو، ناخنوں کے اندر یا اُوپریا اور کسی دھونے کی جگہ پر اس کے لگے رہ جانے سے اگرچہ جرم دارہو،اگرچہ اس کے نیچے پانی نہ پہنچے، اگرچہ سَخْت چیز ہو وُضو ہو جائے گا ،جیسے پکانے، گوندھنے والوں کے لیے آٹا، رنگریز کے لیے رنگ کا جرم،عورتوں کے لیے مہندی کا جرم، لکھنے والوں کے لیے روشنائی کا جرم،مزدور کے لیے گارا مٹی،عام لوگوں کے لیے کوئے یا پلک میں سُرمہ کا جرم،اسی طرح بدن کا میل، مٹی، غبار، مکھی، مچھر کی بیٹ وغیرہا۔ (3)
مسئلہ ۲۶: کسی جگہ چھالا تھا اور وہ سوکھ گیا مگراس کی کھال جدا نہ ہوئی تو کھال جدا کر کے پانی بہانا ضروری نہیں بلکہ اسی چھالے کی کھال پر پانی بہالینا کافی ہے۔ پھر اس کو جدا کر دیا تو اب بھی اس پر پانی بہانا ضروری نہیں ۔ (4)
مسئلہ ۲۷: مچھلی کا سِنّا اعضائے وُضو پر چِپکارہ گیا وُضو نہ ہو گا کہ پانی اس کے نیچے نہ بہے گا۔ (5)
وُضو کی سنتیں
مسئلہ ۲۸: و ضو پر ثواب پا نے کے لیے حُکمِ الٰہی بجا لانے کی نیّت سے وُضو کرنا ضرور ہے ورنہ وُضو ہو جائے گا ثواب نہ پائے گا۔ (6)
1… یعنی ایڑیوں کے اوپر موٹے پٹھے۔ 2… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘ ، ج۱، ص۴۴۵۔
3… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۰۳۔ 4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الأول، ج۱، ص۵۔ 5… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۲۰۔
6… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: الفرق بین النیۃ والقصد والعزم، ج۱، ص۲۳۵-۲۳۸۔
مسئلہ ۲۹: بسم اللہ سے شروع کرے اور اگر وضوسے پہلے اِستنجا کرے تو قبل استنجے کے بھی بسم اللہ کہے مگر پاخانہ میں جانے یا بدن کھولنے سے پہلے کہے کہ نجاست کی جگہ اور بعد ستر کھولنے کے زَبان سے ذکرِ الٰہی منع ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۰: اور شروع یوں کرے کہ پہلے ہاتھوں کو گٹوں تک تین تین بار دھوئے۔ (2)
مسئلہ ۳۱: اگر پانی بڑے برتن میں ہو اور کوئی چھوٹا برتن بھی نہیں کہ اس میں پانی اونڈیل کر ہاتھ دھوئے، تو اسے چاہیئے کہ بائیں ہاتھ کی انگلیاں ملا کر صرف وہ انگلیاں پانی میں ڈالے، ہتھیلی کا کوئی حصہ پانی میں نہ پڑے اور پانی نکال کردہنا ہاتھ گٹے تک تین بار دھوئے پھر دہنے ہاتھ کو جہاں تک دھویا ہے بلا تَکلّف پانی میں ڈال سکتا ہے اور اس سے پانی نکال کر بایاں ہاتھ دھوئے۔(3)
مسئلہ ۳۲: یہ اس صورت میں ہے کہ ہاتھ میں کوئی نجاست نہ لگی ہو ورنہ کسی طرح ہاتھ ڈالنا جائز نہیں ، ہاتھ ڈالے گا تو پانی ناپاک ہو جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۳۳: اگر چَھوٹے برتن میں پانی ہے یا پانی تو بڑے برتن میں ہے مگر وہاں کوئی چَھوٹا برتن بھی موجود ہے اور اس نے بے دھویا ہاتھ پانی میں ڈال دیا بلکہ اُنگلی کا پَورایا ناخن ڈالا تو وہ سارا پانی وُضو کے قابل نہ رہا مائے مُستَعمَل ہو گیا۔ (5)
مسئلہ ۳۴: یہ اس وقت ہے کہ جتنا ہاتھ پانی میں پہنچا اس کا کوئی حصہ بے دُھلا ہو ورنہ اگر پہلے ہاتھ َدھو چکا اور اس کے بعد حَدَث نہ ہوا تو جس قدرحصہ دُھلا ہوا ہو،اتنا پانی میں ڈالنے سے مُستَعمَل نہ ہو گا اگرچہ کُہنی تک ہوبلکہ غیرِجُنب نے اگرکُہنی تک ہاتھ دھولیا تو اس کے بعد بغل تک ڈال سکتا ہے کہ اب اس کے ہاتھ پر کوئی حدث باقی نہیں ، ہاں جُنب کُہنی سے اوپر
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: سائر بمعنی باقی۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۴۱۔
2… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثاني، ج۱، ص۶۔
3… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۶۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثاني، ج۱، ص۶۔ و’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۷۔ 5… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۲، ص۱۱۳۔
یہ مسئلہ معرکۃ الآرا ہے اور صحیح یہی ہے جو یہاں مذکور ہوا جیسا کہ ہدایہ و فتح القدیر و تبیین و فتاوٰے قاضی خاں و کافی و خلاصہ و غنیہ و حلیہ و کتاب الحسن عن ابی حنیفہ و کتب امام محمد رحمہم اللّٰہ تعالیٰ و دیگر کتب فقہ میں مصرح ہے اور اس کی کامل تحقیق منظور ہو تو رسالۂ مبارکہ ’’النمیقۃ الانقے فی الفرق بین الملاقی و الملقے‘‘ کا مطالعہ کیا جائے۔ ۱۲منہ
اتنا ہی حصہ ڈال سکتا ہے جتنا دھو چکا ہے کہ اس کے سارے بدن پر حَدَث ہے۔
مسئلہ ۳۵: جب سو کر اُٹھے تو پہلے ہاتھ دھوئے ، اِستنجے کے قبل بھی اور بعد بھی۔ (1)
مسئلہ ۳۶: کم سے کم تین تین مرتبہ داہنے بائیں ، اوپر نیچے کے دانتوں میں مِسواک کرے اور ہر مرتبہ مِسواک کو دھولے اور مِسواک نہ بہت نرم ہو نہ سَخْت اور پیلو یا زیتون یا نیم وغیرہ کَڑوِی لکڑی کی ہو۔ میوے یا خوشبودار پھول کے درخت کی نہ ہو۔ چُھنگلِیا کے برابر موٹی اور زیادہ سے زیادہ ایک بالشت لنبی ہواور اتنی چھوٹی بھی نہ ہو کہ مِسواک کرنا دشوار ہو ۔جو مِسواک ایک بالشت سے زیادہ ہو اس پر شیطان بیٹھتا ہے۔ (2) مِسواک جب قابلِ استعمال نہ رہے تو اسے دفن کر دیں یا کسی جگہ اِحْتِیاط سے رکھ دیں کہ کسی ناپاک جگہ نہ گرے کہ ایک تو وہ آلۂ ادائے سنت ہے اس کی تعظیم چاہیئے ،دوسرے آبِ دَہنِ مسلِم ناپاک جگہ ڈالنے سے خود محفوظ رکھنا چاہیئے ،اسی لیے پاخانہ میں تُھوکنے کو علما نے نامناسب لکھا ہے۔
مسئلہ ۳۷: مِسواک داہنے ہاتھ سے کرے اور اس طرح ہاتھ میں لے کہ چھنگلیا مِسواک کے نیچے اور بیچ کی تین انگلیاں اوپر اور انگوٹھا سرے پر نیچے ہو اور مُٹھی نہ باندھے۔ (3)
مسئلہ ۳۸: دانتوں کی چوڑائی میں مِسواک کرے لنبائی میں نہیں ، چِت لیٹ کر مِسواک نہ کرے۔ (4)
مسئلہ ۳۹: پہلے داہنی جانب کے اوپر کے دانت مانجھے ، پھر بائیں جانب کے اوپر کے دانت ، پھر داہنی جانب کے نیچے کے ، پھر بائیں جانب کے نیچے کے۔ (5)
مسئلہ ۴۰: جب مِسواک کرنا ہو تواسے دھولے۔ یوہیں فارغ ہونے کے بعد دھو ڈالے اور زمین پر پَڑی نہ چھوڑ دے بلکہ کھڑی رکھے (6) اور ریشہ کی جانب اوپر ہو۔ (7)
مسئلہ ۴۱: اگر مِسواک نہ ہو تو اُنگلی یا سنگین کپڑے سے دانت مانجھ لے۔ یوہیں اگر دانت نہ ہوں تو اُنگلی یا کپڑا مسوڑوں پر پھیر لے۔ (8)
1… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ارکان الوضوء أربعۃ، ج۱، ص۲۴۳۔
2… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۰۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثاني، ج۱، ص۷۔
و ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۰۔
4… ’’الدرالمختار‘‘کتاب الطہارۃ،ج۱، ص۲۵۱۔ 5… المرجع السابق، ص۲۵۰۔
6…لیکن بلند جگہ پر لٹا کر رکھنے میں حرج نہیں جیسا کہ امام اہلسنت اعلی حضرت امام احمد رضا خانعلیہ رحمۃ الرحمٰن فرماتے ہیں :یعنی زمین پر لٹا
کر نہ رکھے کہ گندگی سے آلودہ ہو گی ہاں اگر کسی بلند جگہ پر رکھے تو لٹا کر رکھنے میں حرج نہیں ۔( ماخوذ از’’جد الممتار‘‘،کتاب الطہارۃ، مطلب
من النصوص۔۔۔الخ،ج۱،ص۱۵۲)۔۔۔۔علمیہ 7… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۵۱۔
8… ’’الجوہرۃ النیرۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، ص۶، و ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ارکان الوضوء أربعۃ، ج۱، ص۲۵۳۔
مسئلہ ۴۲: مِسواک نماز کے لیے سنت نہیں بلکہ وُضو کے لیے ،تو جو ایک وُضو سے چند نمازیں پڑھے، اس سے ہر نماز کے لیے مِسواک کا مطالبہ نہیں ، جب تک تَغَیّرِ رائِحہ (1) نہ ہو گیاہو،ورنہ اس کے دفع کے لیے مستقل سنت ہے البتہ اگر وُضو میں مِسواک نہ کی تھی تو اب نماز کے وقت کر لے (2) ۔
مسئلہ ۴۳: پھر تین چُلّو پانی سے تین کُلّیاں کرے کہ ہر بار مونھ کے ہر پُرزے پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو غَرغَرہ کرے۔ (3)
مسئلہ ۴۴: پھر تین چُلّو سے تین بار ناک میں پانی چڑھائے کہ جہاں تک نرم گوشت ہوتا ہے ہر بار اس پر پانی بہ جائے اور روزہ دار نہ ہو تو ناک کی جڑ تک پانی پہنچائے اور یہ دونوں کام داہنے ہاتھ سے کرے، پھر بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرے۔ (4)
مسئلہ ۴۵: مونھ دھوتے وقت داڑھی کا خِلال کرے بشرطیکہ اِحرام نہ باندھے ہو، یوں کہ اُنگلیوں کو گردن کی طرف سے داخِل کرے اور سامنے نکالے۔ (5)
مسئلہ ۴۶: ہاتھ پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال کرے ،پاؤں کی اُنگلیوں کا خِلال بائیں ہاتھ کی چھنگلیا سے کرے اس طرح کہ داہنے پاؤں میں چھنگلیا سے شروع کرے اور انگوٹھے پر ختم کرے اور بائیں پاؤں میں انگوٹھے سے شروع کرکے چھنگلیا پر ختم کرے اور اگر بے خِلال کیے پانی اُنگلیوں کے اندر سے نہ بہتا ہو تو خلال فرض ہے یعنی پانی پہنچانا اگرچہ بے خِلال ہو مثلاً گھائیاں کھول کر اوپر سے پانی ڈال دیا یا پاؤں حوض میں ڈال دیا۔ (6)
مسئلہ ۴۷: جو اعضا دھونے کے ہیں ان کو تین تین با ر دھوئے ہر مرتبہ اس طرح دھوئے کہ کوئی حصہ رہ نہ جائے ورنہ سنت ادا نہ ہوگی۔ (7)
1… یعنی سانس بدبودار۔ 2… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في دلالۃ المفہوم، ج۱، ص۲۴۸۔
مسواک وضو کی سنّتِ قبلیہ ہے البتہ سنّتِ مؤکدہ اس وقت ہے جبکہ منہ میں بدبو ہو۔ (’’فتاوی رضویہ‘‘، ج۱، ص۶۲۳)
3… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۳۔
4… المرجع السابق۔ 5… المرجع السابق، ص۲۵۵۔
6… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۶۔
7… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۷۔
و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثاني، ج۱، ص۷۔
مسئلہ ۴۸: اگر یوں کیا کہ پہلی مرتبہ کچھ دُھل گیا اور دوسری بار کچھ اور تیسری دفعہ کچھ کہ تینوں بار میں پورا عُضْوْ دُھل گیا تو یہ ایک ہی بار دھونا ہو گا اور وُضو ہو جائے گا مگر خلاف سنت، اس میں چُلّوؤں کی گنتی نہیں بلکہ پورا عُضْوْ دھونے کی گنتی ہے کہ وہ تین مرتبہ ہواگرچہ کتنے ہی چلوؤں سے۔ (1)
مسئلہ ۴۹: پُورے سر کا ایک بار مسح کرنا اور کانوں کامسح کرنا اور ترتیب کہ پہلے مونھ، پھر ہاتھ دھوئیں ،پھر سر کا مسح کریں ،پھر پاؤں دھوئیں اگر خلافِ ترتیب وُضو کیا یا کوئی اور سنت چھوڑ گیا تو وُضو ہو جائے گا مگر ایک آدھ دفعہ ایسا کرنا بُرا ہے اور ترکِ سنّتِ مؤکّدہ کی عادت ڈالی تو گنہگار ہے اور داڑھی کے جو بال مونھ کے دائرے سے نیچے ہیں ا ن کا مسح سنّت ہے اور دھونا مستحب ہے اور اعضا کو اس طرح دھونا کہ پہلے والا عُضْوْ سوکھنے نہ پائے۔ (2)
وُضو کے مستحبات
بہت سے مستحبات ضمناً اوپر ذکر ہوچکے، بعض باقی رہ گئے وہ لکھے جاتے ہیں ۔
مسئلہ ۵۰: (۱) داہنی جانب سے ابتدا کریں مگر
(۲) دونوں رخسارے کہ ان دونوں کو ساتھ ہی ساتھ دھوئیں گے ایسے ہی
(۳) دونوں کانوں کا مسح ساتھ ہی ساتھ ہو گا۔
(۴) ہاں اگر کسی کے ایک ہی ہاتھ ہوتومونھ دھونے اور
(۵) مسح کرنے میں بھی دہنے کو مقدم کرے
(۶) اُنگلیوں کی پُشت سے
(۷) گردن کا مسح کرنا
(۸) وُضو کرتے وقت کعبہ رو
(۹) اونچی جگہ
(۱۰) بیٹھنا۔
(۱۱) وُضو کا پانی پاک جگہ گرانا اور
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في منافع السواک، ج۱، ص۲۵۷۔
2… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۲۔۲۶۴۔ و ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۱۴۔
(۱۲) پانی بہاتے وقت اعضا پر ہاتھ پھیرنا خاص کر جاڑے میں ۔
(۱۳) پہلے تیل کی طرح پانی چُپڑ لینا خُصُوصاً جاڑے میں ۔
(۱۴) اپنے ہاتھ سے پانی بھرنا۔
(۱۵) دوسرے وقت کے لیے پانی بھر کر رکھ چھوڑنا۔
(۱۶) وُضو کرنے میں بغیر ضرورت دوسرے سے مدد نہ لینا۔
(۱۷) انگوٹھی کو حرکت دینا جب کہ ڈھیلی ہو کہ اس کے نیچے پانی بہ جانا معلوم ہو ورنہ فرض ہو گا۔
(۱۸) صاحبِ عُذر نہ ہو تو وقت سے پہلے وُضو کر لینا۔
(۱۹) اطمینان سے وُضو کرنا۔ عوام میں جو مشہور ہے کہ وُضو جَوان کا سا، نماز بوڑھوں کی سی یعنی وُضو جلد کریں ایسی جلدی نہ چاہیے جس سے کوئی سنت یا مستحب ترک ہو۔
(۲۰) کپڑوں کو ٹپکتے قطروں سے محفوظ رکھنا۔
(۲۱) کانوں کا مسح کرتے وقت بھیگی چھنگلیا کانوں کے سوراخ میں داخِل کرنا
(۲۲) جو وُضو کامل طور پر کرتا ہو کہ کوئی جگہ باقی نہ رہ جاتی ہو، اسے کوؤں ، ٹخنوں ، ایڑیوں ، تلوؤں ، کُونچوں ، گھائیوں ، کُہنیوں کابالتخصیص خیال رکھنا مستحب ہے اور بے خیالی کرنے والوں کو تو فرض ہے کہ اکثر دیکھا گیا ہے کہ یہ مَوَاضِع خشک رہ جاتے ہیں یہ نتیجہ ان کی بے خیالی کا ہے۔ ایسی بے خیالی حرام ہے اور خیال رکھنا فرض۔
(۲۳) وُضو کا برتن مٹی کا ہو، تانبے وغیرہ کا ہو تو بھی حرج نہیں مگر
(۲۴) قلعی کیا ہوا۔
(۲۵) اگر وُضو کا برتن لوٹے کی قِسم سے ہو تو بائیں جانب رکھے اور
(۲۶) طشت کی قسم سے ہو تو دہنی طرف
(۲۷) آفتابہ میں دستہ لگا ہو تو دستہ کو تین بار دھو لیں
(۲۸) ا ور ہاتھ اس کے دستہ پر رکھیں اس کے مونھ پر نہ رکھیں
(۲۹) دہنے ہاتھ سے کُلّی کرنا، ناک میں پانی ڈالنا
(۳۰) بائیں ہاتھ سے ناک صاف کرنا
(۳۱) بائیں ہاتھ کی چھنگلیا ناک میں ڈالنا
(۳۲) پاؤں کو بائیں ہاتھ سے دھونا
(۳۳) مونھ دھونے میں ماتھے کے سرے پر ایسا پھیلا کر پانی ڈالنا کہ اوپر کا بھی کچھ حصہ دھل جائے۔
تنبیہ: بہت سے لوگ یوں کیاکرتے ہیں کہ ناک یا آنکھ یا بھوؤں پر چُلّو ڈال کر سارے مونھ پر ہاتھ پھیرلیتے ہیں اور یہ سمجھتے ہیں کہ مونھ دُھل گیا حالانکہ پانی کا اوپر چڑھنا کوئی معنی نہیں رکھتا اس طرح دھونے میں مونھ نہیں دُھلتا اور وُضو نہیں ہوتا۔
(۳۴) دونوں ہاتھ سے مونھ دھونا
(۳۵) ہاتھ پاؤں دھونے میں اُنگلیوں سے شروع کرنا
(۳۶) چہرے اور
(۳۷) ہاتھ پاؤں کی روشنی وسیع کرنا یعنی جتنی جگہ پر پانی بہانا فرض ہے اس کے اَطراف میں کچھ بڑھانا مثلاً نصف بازوو نصف پنڈلی تک دھونا
(۳۸) مسحِ سر میں مستحب طریقہ یہ ہے کہ انگوٹھے اور کلمے کی اُنگلی کے سوا ایک ہاتھ کی باقی تین اُنگلیوں کا سرا، دوسرے ہاتھ کی تینوں اُنگلیوں کے سرے سے ملائے اور پیشانی کے بال یا کھال پر رکھ کر گُدّی تک اس طرح لے جائے کہ ہتھیلیاں سر سے جدا رہیں وہاں سے ہتھیلیوں سے مسح کرتا واپس لائے اور
(۳۹) کلمہ کی اُنگلی کے پیٹ سے کان کے اندرونی حصہ کا مسح کرے اور
(۴۰) انگوٹھے کے پیٹ سے کان کی بیرونی سَطح کا اور اُنگلیوں کی پُشت سے گردن کا مسح۔
(۴۱) ہر عُضْوْ دھو کر اس پر ہاتھ پھیردینا چاہیئے کہ بُو ندیں بدن یا کپڑے پر نہ ٹپکیں ، خُصُوصاً جب مسجد میں جانا ہو کہ قطروں کا مسجد میں ٹپکنا مکروہِ تَحْرِیمی ہے۔
(۴۲) بہت بھاری برتن سے وُضو نہ کرے خُصُوصاً کمزور کہ پانی بے اِحْتِیاطی سے گرے گا
(۴۳) زَبان سے کہہ لینا کہ وُضو کرتا ہوں
(۴۴) ہر عُضْوْ کے دھوتے یا مسح کرتے وقت نیّتِ وُضو حاضر رہنا اور
(۴۵) بسم اللہ کہنا اور (۴۶) درود اور
(۴۷) اَشْھَدُ اَنْ لاَّ اِلٰہَ اِلاَّ اللہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہٗ وَاَشْھَدُ اَنَّ سَیِّدَنَا مُحَمَّدًا عَبْدُہٗ وَرَسُوْلُہٗ (1)
1… میں گواہی دیتا ہوں کہ اللّٰہ (عزوجل) کے سوا کوئی معبود نہیں وہ اکیلا ہے اس کا کوئی شریک نہیں اور گواہی دیتا ہوں کہ ہمارے سردار محمد صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم اس کے بندے اور رسول ہیں ۔ ۱۲
(صلی اللہ تعالٰی علیہ وسلّم) اور (۴۸) کُلّی کے وقت اَللّٰھُمَّ اَعِنِّیْ عَلٰی تِلَاوۃِ الْقُرْاٰنِ وَذِکْرِکَ وَشُکْرِکَ وَحُسْنِ عِبَادَتِکَ(1) اور
(۴۹) ناک میں پانی ڈالتے وقت اَللّٰھُمَّ اَرِحْنِیْ رَائِحَۃَ الْجَنَّۃِ وَلَا تُرِحْنِیْ رَائِحَۃَ النَّارِ(2) اور
(۵۰) مونھ دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ بَیِّضْ وَجْھِیْ یَوْمَ تَبْیَضُّ وُجُوْہٌ وَ تَسْوَدُّ وُجُوْہٌ (3) اور
(۵۱) داہنا ہاتھ دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ اَعْطِنِيْ کِتَابِیْ بِیَمِیْنِیْ وَحَاسِبْنِیْ حِسَابًا یَّسِیْراً (4) اور
(۵۲) بایاں ہاتھ دھوتے وقت اَللّٰھُمََّ لَا تُعْطِنِیْ کِتَابِیْ بِشِمَالِیْ وَلَا مِنْ وَّرَآءِ ظَھْرِیْ(5) اور
(۵۳) سر کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اَظِلَّنِیْ تَحْتَ عَرْشِکَ یَوْمَ لَا ظِلَّ الِاَّ ظِلَّ عَرْشِکَ (6) اور
(۵۴) کانوں کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اجْعَلْنِیْ مِنَ الَّذِیْنَ یَسْتَمِعُوْنَ الْقَوْلَ فَیَتَّبِعُوْنَ اَحْسَنَہٗ (7) اور
(۵۵) گردن کا مسح کرتے وقت اَللّٰھُمَّ اَعْتِقْ رَقَبَتِیْ مِنَ النَّارِ (8) اور
(۵۶) داہنا پاؤں دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ ثَبِّتْ قَدَمِیْ عَلَی الصِّرَاطِ یَوْمَ تَزِلُّ الْاَقْدَامُ (9) اور
(۵۷) بایاں پاؤں دھوتے وقت اَللّٰھُمَّ اجْعَلْ ذَنْبِیْ مَغْفُوْرًا وَسَعْیِیْ مَشْکُورًا وَ تِجَارَتِیْ لَنْ تَبُوْرَ (10) پڑھے یا سب جگہ دُرود شریف ہی پڑھے اور یہی افضل ہے۔ اور
(۵۸) وُضو سے فارغ ہوتے ہی یہ پڑھے اَللّٰھُمََّ اجْعَلْنِیْ مِنَ التَّوَّابِیْنَ وَاجْعَلْنِیْ مِنَ الْمُتَطَھِّرِیْنَ (11) اور
(۵۹) بچا ہوا پانی کھڑے ہو کر تھوڑا پی لے کہ شفائے امراض ہے اور
1… اے اللّٰہ (عزوجل) تو میری مدد کر کہ قرآن کی تلاوت اور تیرا ذکر و شکر کروں اور تیری اچھی عبادت کروں ۔ ۱۲
2… اے اللّٰہ (عزوجل) تو مجھ کو جنت کی خوشبو سُونگھا اور جہنم کی بُو سے بچا۔ ۱۲
3… اے اللّٰہ (عزوجل) تو میرے چہرے کو اجالا کر جس دن کہ کچھ مونھ سفید ہوں گے اور کچھ سیاہ۔ ۱۲
4… اے اللّٰہ (عزوجل) میرا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دے اور مجھ سے آسان حساب کرنا۔ ۱۲
5… اے اللّٰہ (عزوجل) میرا نامۂ اعمال نہ بائیں ہاتھ میں دے اور نہ پیٹھ کے پیچھے سے۔ ۱۲
6… اے اللّٰہ (عزوجل) تو مجھے اپنے عرش کے سایہ میں رکھ جس دن تیرے عرش کے سایہ کے سوا کہیں سا یہ نہ ہو گا۔ ۱۲
7… اے اللّٰہ (عزوجل) مجھے ان میں کر دے جو بات سنتے ہیں اور اچھی بات پر عمل کرتے ہیں ۔ ۱۲
8… اے اللّٰہ (عزوجل) میری گردن آگ سے آزاد کر دے۔ ۱۲
9… اے اللّٰہ (عزوجل) میرا قدم پل صراط پر ثابت قدم رکھ جس دن کہ اس پر قدم لغزش کریں گے۔ ۱۲
10… اے اللّٰہ (عزوجل) میرے گناہ بخش دے اور میری کوشش بار آور کر دے اور میری تجارت ہلاک نہ ہو۔ ۱۲
11… الٰہی تو مجھے توبہ کرنے والوں اور پاک لوگوں میں کر دے۔ ۱۲
(۶۰) آسمان کی طرف مونھ کرکے سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ اَشْھَدُ اَنْ لَّا اِلٰہَ اِلَّا اَنْتَ اَسْتَغْفِرُکَ وَ اَتُوْبُ اِلَیْکَ(1) اور کلمہ شہادت اور سورۂ اِنَّا اَنْزَلْنَا پڑھے۔
(۶۱) اعضائے وُضو بغیر ضرورت نہ پُونچھے اور پُونچھے تو بے ضرورت خُشک نہ کرلے ۔
(۶۲) قدرے نم باقی رہنے دے کہ روزِ قیامت پلۂ حَسنات میں رکھی جائے گی ۔اور
(۶۳) ہاتھ نہ جھٹکے کہ شیطان کا پنکھا ہے۔
(۶۴) بعدِ وُضو مِیانی (2) پر پانی چِھڑک لے۔ (3) اور
(۶۵) مکروہ وقت نہ ہو تو دو رکعت نماز نفل پڑھے اس کو تحیۃ الوُضو کہتے ہیں ۔ (4)
وُضو میں مکروہات
(۱) عورت کے غسل یا وُضو کے بچے ہوئے پانی سے وُضو کرنا۔
(۲) وُضو کے لیے نجس جگہ بیٹھنا۔
(۳) نجس جگہ وُضو کا پانی گرانا۔
(۴) مسجد کے اندر وُضو کرنا۔
(۵) اعضائے وُضو سے لوٹے وغیرہ میں قطرہ ٹپکانا۔
(۶) پانی میں رینٹھ یا کھنکار ڈالنا۔
(۷) قبلہ کی طرف تھوک یا کھنکار ڈالنا یا کُلّی کرنا۔
1… تو پاک ہے اے اللّٰہ (عزوجل) اور میں تیری حمد کرتا ہوں میں گواہی دیتا ہوں کہ تیرے سوا کوئی معبود نہیں تجھ سے معافی چاہتا ہوں اور تیری طرف توبہ کرتا ہوں ۔ ۱۲
2… پاجامہ کا وہ حصہ جو پیشاب گاہ کے قریب ہوتا ہے۔
3… شیخِ طریقت، عاشقِ اعلیٰ حضرت، امیرِ اہلسُنت، بانیٔ دعوتِ اسلامی حضرت علامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطار قادری رضوی دامت برکاتہم العالیہ ’’نماز کے اَحکام‘‘ صفحہ 19پر فرماتے ہیں کہ: ’’پانی چھڑکتے وقت میانی کو کُرتے کے دامن میں چھپائے رکھنا مناسب ہے، نیز وُضو کرتے وقت بھی بلکہ ہر وقت میانی کو کُرتے کے دامن یا چادر وغیرہ کے ذریعہ چھپائے رکھنا حیا کے قریب ہے۔
4… ’’غنیۃ المتملي شرح منیۃ المصلي‘‘، آداب الوضوئ، ص۲۸ ۔ ۳۷۔
و ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۶۶ ۔ ۲۸۰۔
و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثالث، ج ۱، ص ۸۔
(۸) بے ضرورت دنیا کی بات کرنا۔
(۹) زیادہ پانی خرچ کرنا۔
(۱۰) اتنا کم خرچ کرنا کہ سنت ادا نہ ہو۔
(۱۱) مونھ پر پانی مارنا ۔ یا
(۱۲) مونھ پر پانی ڈالتے وقت پھونکنا۔
(۱۳) ایک ہاتھ سے مونھ دھونا کہ رِفاض و ہنود کا شعار ہے۔
(۱۴) گلے کا مسح کرنا۔
(۱۵) بائیں ہاتھ سے کُلّی کرنا یا ناک میں پانی ڈالنا۔
(۱۶) داہنے ہاتھ سے ناک صاف کرنا۔
(۱۷) اپنے لیے کوئی لوٹا وغیرہ خاص کر لینا۔
(۱۸) تین جدید پانیوں سے تین بار سر کا مسح کرنا۔
(۱۹) جس کپڑے سے استنجے کا پانی خشک کیا ہو اس سے اعضائے وُضو پونچھنا۔
(۲۰) دھوپ کے گرم پانی سے وُضو کرنا۔ (1)
(۲۱) ہونٹ یا آنکھیں زور سے بند کرنا اور اگر کچھ سوکھا رہ جائے تو وُضو ہی نہ ہو گا۔
ہر سنت کا ترک مکروہ ہے۔ یوہیں ہر مکروہ کا ترک سنت۔ (2)
وُضو کے متفرق مسائل
مسئلہ ۵۱: اگر وُضو نہ ہو تو نماز اور سجدۂ تلاوت اور نمازِجنازہ اور قرآنِ عظیم چُھونے کے لیے وُضو کرنا فرض ہے۔ (3)
1… جو پانی دھوپ سے گرم ہوگیا اس سے وُضو کرنا مطلقاً مکروہ نہیں بلکہ اس میں چند قیود ہیں ، جن کا ذکر پانی کے باب میں آئیگا اور اس سے وُضو کی کراہت تنزیہی ہے تحریمی نہیں ۔ ۱۲ منہ حفظہ ربہ
2… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في تعریف المکروہ۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۲۶۹، ۲۸۰ ۔ ۲۸۳۔
و’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، الباب الأول في الوضو ء، الفصل الرابع، ج۱، ص۴، ۹،وغیرہما۔
3… ’’نور الإیضاح‘‘، کتاب الطہارۃ، فصل: الوضوء علی ثلاثۃ أقسام، ص۱۸۔
مسئلہ ۵۲: طواف کے لیے وُضو واجب ہے۔ (1)
مسئلہ ۵۳: غسلِ جَنابت سے پہلے اور جُنب کو کھانے، پینے، سونے اور اذان و اقامت اور خطبۂ جمعہ و عیدَین اور روضۂ مبارکۂ رسول اللّٰہ صلی اللّٰہ تعالیٰ علیہ وسلم کی زیارت اور وُقوفِ عرفہ اور صَفا و مَروہ کے درمیان سَعی کے لیے وُضو کر لینا سنّت ہے۔
مسئلہ ۵۴: سونے کے لیے اور سونے کے بعد اور میت کے نہلانے یا اٹھانے کے بعد اور جِماع سے پہلے اور جب غصہ آجائے اس وقت اور زبانی قرآنِ عظیم پڑھنے کے لیے اور حدیث اور علمِ دین پڑھنے پڑھانے اور علاوہ جمعہ و عیدین باقی خطبوں کے لیے اور کتبِ دِینیہ چھونے کے لیے اور بعد ستر غلیظ چھونے اور جھوٹ بولنے ، گالی دینے، فحش لفظ نکالنے، کافر سے بدن چھو جانے، صلیب یا بُت چھونے، کوڑھی یا سپید داغ والے سے مس کرنے، بغل کھجانے سے جب کہ اس میں بدبو ہو، غیبت کرنے، قہقہہ لگانے، لغو اشعار پڑھنے اور اونٹ کا گوشت کھانے، کسی عورت کے بدن سے اپنا بدن بے حائل مس ہو جانے سے اور باوُضو شخص کے نماز پڑھنے کے لیے ان سب صورتوں میں وُضو مستحب ہے۔ (2)
مسئلہ ۵۵: جب وُضو جاتا رہے وُضو کرلینا مستحب ہے۔ (3)
مسئلہ ۵۶: نابالغ پر وُضو فرض نہیں (4) مگر ان سے وُضو کرانا چاہیئے تاکہ عادت ہو اور وُضو کرنا آجائے اور مسائلِ وُضو سے آگاہ ہو جائیں ۔
مسئلہ ۵۷: لوٹے کی ٹُونٹی نہ ایسی تنگ ہو کہ پانی بدقّت گرے، نہ اتنی فراخ کہ حاجت سے زیادہ گرے بلکہ متوسط ہو۔(5)
مسئلہ ۵۸: چُلّو میں پانی لیتے وقت خیال رکھیں کہ پانی نہ گرے کہ اِسراف ہو گا۔ ایسا ہی جس کام کے لیے چُلّو میں پانی لیں اُس کا اندازہ رکھیں ضرورت سے زیادہ نہ لیں مثلاً ناک میں پانی ڈالنے کے لیے آدھا چُلّو کافی ہے تو پورا چُلّو نہ لے کہ
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۰۵۔
و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثالث، ج۱، ص۹۔
2… ’’نورالإیضاح‘‘، کتاب الطہارۃ، فصل: الوضوء علی ثلاثۃ أقسام، ص۱۹۔و’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۷۱۵۔۷۲۴۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الثالث، ج۱، ص۹۔
4… ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في اعتبارات المرکب التام، ج۱، ص۲۰۲۔
5… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۷۶۵۔
اِسراف ہوگا۔ (1)
مسئلہ ۵۹: ہاتھ، پاؤں ، سینہ ،پُشت پر بال ہوں تو ہرتال وغیرہ سے صاف کر ڈالے یا تَرَشْوالے، نہیں تو پانی زیادہ خرچ ہو گا۔ (2)
فائدہ: ولہان ایک شیطان کا نام ہے جو وُضو میں وسوسہ ڈالتا ہے اس کے وسوسہ سے بچنے کی بہترین تدابیر یہ ہیں :
(۱) رجوع الی اللہ و
(۲) اَعُوْذُ بِاللہِ
(۳) وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللہِ و
(۴) سورۂ ناس، اور
(۵) اٰمَنْتُ بِاللہ وَ رَسُوْلِہٖ، اور
(۶) ھُوَ الْاَوَّلُ وَالْاٰخِرُ وَالظَّاھِرُ وَالْبَاطِنُج وَھُوَ بِکُلِّ شَیْئٍ عَلِیْمٍ، اور
(۷) سُبْحَانَ الْمَلِکِ الْخَلَّاقِ اِنْ یَّشَأ یُذْہِبْکُمْ وَیَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ لا وَمَا ذٰلِکَ عَلَی اللہِ بِعَزِیْزٍ ط پڑھنا کہ وسوسہ جڑ سے کٹ جائے گا اور (۸) وسوسہ کا بالکل خیال نہ کرنابلکہ اس کے خلاف کرنا بھی دافعِ وسوسہ ہے۔ (3)
وُضو توڑنے والی چیزوں کا بیان
مسئلہ ۱: پاخانہ ۱ ، پیشاب ۲ ، وَدِی ۳ ، مَذِی ۴ ، مَنی ۵ ، کیڑا ۶ ، پتھری ۷ مرد یا عورت کے آگے یا پیچھے سے نکلیں وُضو جاتا رہے گا۔ (4)
مسئلہ ۲: اگر مرد کا خَتنہ نہیں ہوا ہے اور سوراخ سے ان چیزوں میں سے کوئی چیز نکلی مگر ابھی ختنہ کی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وُضو ٹوٹ گیا۔ (5)
مسئلہ ۳: یوہیں عورت کے سوراخ سے نکلی مگر ہُنوز (6) اُوپر والی کھال کے اندر ہی ہے جب بھی وُضو جاتا رہا۔ (7)
1… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۷۶۵۔
2… المرجع السابق، ص۷۶۹۔ 3… المرجع السابق، ص۷۷۰۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۹۔
5… المرجع السابق، ص۹-۱۰۔ 6… یعنی ابھی تک۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰۔
مسئلہ ۴: عورت کے آگے سے جو خالص رطوبت بے آمیزشِ خون نکلتی ہے ناقضِ وُضو نہیں (1) ، اگر کپڑے میں لگ جائے تو کپڑا پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۵: مرد یا عورت کے پیچھے سے ہَوا ۸ خارِج ہوئی وُضو جاتا رہا۔ (3)
مسئلہ ۶: مر د یا عورت کے آگے سے ہَوا نکلی یا پیٹ میں ایسا زخم ہوگیا کہ جِھلّی تک پہنچا ،اس سے ہَوا نکلی تو وُضو نہیں جائے گا۔ (4)
مسئلہ ۷: عورت کے دونوں مقام پردہ پَھٹ کر ایک ہوگئے اسے جب رِیح آئے اِحْتِیاط یہ ہے کہ وُضو کرے اگرچہ یہ احتمال ہو کہ آگے سے نکلی ہوگی۔ (5)
مسئلہ ۸: اگر مرد نے پیشاب کے سوراخ میں کوئی چیز ڈالی پھر وہ اس میں سے لوٹ آئی تو وُضو نہیں جائے گا۔ (6)
مسئلہ ۹: حُقنہ لیا اور دوا باہر آگئی یا کوئی چیز پاخانہ کے مقام میں ڈالی اور باہر نکل آئی وُضو ٹوٹ گیا۔ (7)
مسئلہ ۱۰: مرد نے سوراخِ ذَکَر میں رُوئی رکھی اور وہ اُوپر سے خشک ہے مگر جب نکالی ،تو تَر نکلی تو نکالتے ہی وُضو ٹوٹ گیا۔ (8) یوہیں عورت نے کپڑا رکھا اور فرجِ خارِج میں اس کپڑے پر کوئی اثر نہیں مگر جب نکالا تو خون یا کسی اور نجاست سے تَر نکلااب وُضو جاتا رہا۔
مسئلہ ۱۱: خون ۹ یا پیپ ۱۰ یا زرد ۱۱ پانی کہیں سے نکل کر بہا اور اس بہنے میں ایسی جگہ پہنچنے کی صلاحیت تھی جس کا وُضو یا غسل میں دھونا فرض ہے تو وُضو جاتا رہا اگر صرف چمکا یا اُبھرا اور بہا نہیں جیسے سوئی کی نوک یا چاقو کا کنارہ لگ جاتا ہے اور خون اُبھر یا چمک جاتا ہے یا خِلال کیا یا مِسواک کی یااُنگلی سے دانت مانجھے یا دانت سے کوئی چیز کاٹی اس پر خون کا اثر پایایاناک میں اُنگلی ڈالی اس پر خون کی سُرخی آگئی مگر وہ خون بہنے کے قابل نہ تھا تووُضو نہیں ٹوٹا۔ (9)
1… ’’جد الممتار‘‘ علی ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، فصل الوضوئ، ج۱، ص۱۸۸۔
2… ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، فصل الإستنجائ، مطلب في الفرق بین الاستبراء والاستنقائ۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۶۲۱۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۹۔
4… المرجع السابق، و ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۸۷۔
5… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، المرجع السابق ۔
6… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰۔
7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰۔
8… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰۔
9… المرجع السابق، و ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۸۰۔
مسئلہ ۱۲: اور اگر بہا مگر ایسی جگہ بہ کر نہیں آیا جس کا دھونافرض ہو تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ مثلاً آنکھ میں دانہ تھا اور ٹوٹ کر آنکھ کے اندر ہی پھیل گیا باہر نہیں نکلا یا کان کے اندر دانہ ٹوٹا اور اس کا پانی سوراخ سے باہر نہ نکلا تو ان صورتوں میں وُضو باقی ہے۔(1)
مسئلہ ۱۳: زخم میں گڑھا پڑ گیا اور اس میں سے کوئی رطوبت چمکی مگر بہی نہیں تو وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2)
مسئلہ ۱۴: زخم سے خون وغیرہ نکلتا رہا اور یہ بار بار پونچھتا رہا کہ بہنے کی نوبت نہ آئی تو غور کرے کہ اگر نہ پونچھتا تو، بہ جاتا یا نہیں اگر بہ جاتا تو وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ۔یوہیں اگر مٹی یا راکھ ڈال ڈال کر سکھاتا رہا اس کابھی وہی حُکْم ہے۔ (3)
مسئلہ ۱۵: پھوڑا یا پھنسی نچوڑنے سے خون بہا ،اگرچہ ایسا ہو کہ نہ نچوڑتا تو نہ بہتا جب بھی وُضو جاتا رہا۔ (4)
مسئلہ ۱۶: آنکھ، کان، ناف، پِستان وغیرہا میں دانہ یا ناصُور یاکوئی بیماری ہو، ان وُجوہ سے جو آنسو یا پانی بہے وُضو توڑ دے گا۔ (5)
مسئلہ ۱۷: زخم یا ناک یا کان یا مونھ سے کیڑا یا زخم سے کوئی گوشت کا ٹکڑا (جس پر خون یا پیپ کوئی نجس رطوبت قابل سیلان نہ تھی) کَٹ کر گرا وُضو نہیں ٹوٹے گا۔ (6)
مسئلہ ۱۸: کان میں تیل ڈالا تھا اور ایک دن بعد کان یا ناک سے نکلا وُضو نہ جائے گا یوہیں اگر مونھ سے نکلا جب بھی ناقض نہیں ہاں اگر یہ معلوم ہو کہ دماغ سے اتر کر معدہ میں گیا اور معدہ سے آیا ہے تو وُضو ٹوٹ گیا۔ (7)
مسئلہ ۱۹: چھالا نوچ ڈالا اگر اس میں کا پانی بہ گیا وُضو جاتا رہا ورنہ نہیں ۔ (8)
مسئلہ ۲۰: مونھ سے خون نکلا اگر تھوک پر غالب ہے وُضو توڑ دے گا ورنہ نہیں ۔
فائدہ: غلبہ کی شناخت یوں ہے کہ تھوک کا رنگ اگر سرخ ہو جائے تو خون غالب سمجھا جائے اور اگر زرد ہو تو مغلوب۔ (9)
مسئلہ ۲۱: جونک یا بڑی کلّی نے خون چوسا اور اتنا پی لیا کہ اگر خود نکلتا تو بہ جاتا وُضو ٹوٹ گیا ورنہ نہیں ۔ (10)
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۸۶۔
2… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۸۰۔ 3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔
و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۸۶، و’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۸۱۔
4… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، المرجع السابق ۔ 5… المرجع السابق، ص۱۰۔
6… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۸۸۔ 7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۰۔ 8… المرجع السابق، ص۱۱۔ 9… المرجع السابق۔
10… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔ و ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۲۔
مسئلہ ۲۲: اگر چھوٹی کلّی یا جُوں یا کھٹمل، مچھر، مکھی، پِسّو نے خون چُوسا تو وُضو نہیں جائے گا۔ (1)
مسئلہ ۲۳: ناک صاف کی اس میں سے جما ہوا خون نکلا وُضو نہیں ٹوٹا۔ (2)
مسئلہ ۲۴: نارو (3) سے رطوبت بہے وُضو جاتا رہے گا اور ڈورا نکلا تو وُضو باقی ہے۔ (4)
مسئلہ ۲۵: اندھے کی آنکھ سے جو رطوبت بوجہِ مرض نکلتی ہے ناقضِ وُضو ہے۔ (5)
مسئلہ ۲۶: مونھ ۱۲ بھر قے کھانے یا پانی یا صفرا (6) کی وُضو توڑ دیتی ہے۔ (7)
فائدہ: مونھ بَھر کے یہ معنے ہیں کہ اسے بے تکلّف نہ روک سکتا ہو۔ (8)
مسئلہ ۲۷: بلغم کی قے وُضو نہیں توڑتی جتنی بھی ہو۔ (9)
مسئلہ ۲۸: بہتے خون کی قے وُضو توڑ دیتی ہے جب تھوک سے مغلوب نہ ہو اور جما ہوا خون ہے تو وُضو نہیں جائے گا جب تک مونھ بھر نہ ہو۔ (10)
مسئلہ ۲۹: پانی پیا اور معدے میں اُتر گیا ،اب وہی پانی صاف شفّاف قے میں آیا اگرمونھ بَھرہے وُضو ٹوٹ گیا اور وہ پانی نجس ہے اور اگر سینہ تک پہنچا تھا کہ اچّھو (11) لگا اور نکل آیا تو نہ وہ ناپاک ہے نہ اس سے وُضو جائے۔ (12)
مسئلہ ۳۰: اگر تھوڑی تھوڑی چند بار قے آئی کہ اس کا مجموعہ مونھ بھر ہے تو اگر ایک ہی متلی سے ہے تو وُضو توڑدے گی اور اگر متلی جاتی رہی اور اس کا کوئی اثر نہ رہا پھر نئے سرے سے متلی شروع ہوئی اور قے آئی اور دونوں مرتبہ کی علیٰحدہ علیٰحدہ مونھ
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔ ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۲۔
2… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔
3… ایک مرض کا نام جس میں آدمی کے بدن پر دانے دانے ہو کر ان میں سے دھاگہ سا نکلا کرتا ہے۔
4… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۷۵۔۲۷۶۔ 5… المرجع السابق، ص۲۷۱۔
6… پیلے رنگ کاکڑوا پانی۔ 7… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔
8… المرجع السابق۔ 9… المرجع السابق۔
10… المرجع السابق و’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۹۱۔
11… کھانسی جو سانس کی نالی میں پانی وغیرہ جانے سے آنے لگتی ہے۔ 12… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۱۔ والبحرالرائق،کتاب الطہارۃ،ج ۱،ص۶۷۔
بھر نہیں مگر دونوں جمع کی جائیں تو مونھ بھر ہو جائے تو یہ ناقضِ وُضو نہیں ، پھر اگر ایک ہی مجلس میں ہے تو وُضو کر لینا بہتر ہے۔ (1)
مسئلہ ۳۱: قے میں صرف کیڑے یا سانپ نکلے وُضو نہ جائے گا اور اگر اس کے ساتھ کچھ رطوبت بھی ہے تو دیکھیں گے مونھ بھر ہے یا نہیں ۔ مونھ بھر ہے تو ناقض ہے ورنہ نہیں ۔ (2)
مسئلہ ۳۲: سو ۱۳ جانے سے وُضو جاتا رہتا ہے بشرطیکہ دونوں سرین خوب نہ جمے ہوں اور نہ ایسی ہیأت پر سویا ہو جو غافل ہو کر نیند آنے کو مانع ہو مثلاً اکڑوں بیٹھ کر سویا یا چت یا پٹ یا کروٹ پر لیٹ کر یا ایک کُہنی پر تکیہ لگا کریا بیٹھ کر سویا مگر ایک کروٹ کو جھکا ہوا کہ ایک یا دونوں سرین اٹھے ہوئے ہیں یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے اور جانور ڈھال (3) میں اُتر رہا ہے یا دو زانُو بیٹھا اور پیٹ رانوں پر رکھا کہ دونوں سرین جمے نہ رہے یا چار زانُو ہے اور سر رانوں پر یا پنڈلیوں پر ہے یا جس طرح عورتیں سجدہ کرتی ہیں اسی ہیأت پر سوگیاان سب صورتوں میں وُضو جاتا رہا اور اگر نماز میں ان صورتوں میں سے کسی صورت پر قَصْداً سویا تو وُضو بھی گیا ،نماز بھی گئی وُضو کر کے سرے سے نیّت باندھے اور بِلاقَصْد سویا تو وُضو جاتا رہا نماز نہیں گئی۔ وُضو کر کے جس رکن میں سویا تھا وہاں سے ادا کرے اور از سرِنو پڑھنا بہتر ہے۔ (4)
مسئلہ ۳۳: دونوں سُرین زمین یا کرسی یا بنچ پر ہیں اور دونوں پاؤں ایک طرف پھیلے ہوئے یا دونوں سرین پر بیٹھا ہے اور گھٹنے کھڑے ہیں اور ہاتھ پنڈلیوں پر محیط ہوں خواہ زمین پر ہوں ،دو زانُو سیدھا بیٹھا ہو یا چار زانُو پالتی مارے یا زین پر سوار ہو یا ننگی پیٹھ پر سوار ہے مگر جانور چڑھائی پر چڑھ رہا ہے یا راستہ ہموار ہے یا کھڑے کھڑے سو گیا یا رکوع کی صورت پر یا مردوں کے سجدہ مسنونہ کی شکل پر تو ان سب صورتوں میں وُضو نہیں جائے گا اور نماز میں اگر یہ صورتیں پیش آئیں تو نہ وُضو جائے نہ نماز ، ہاں اگر پورا رکن سوتے ہی میں ادا کیا تو اس کا اعادہ ضروری ہے اوراگر جاگتے میں شروع کیا پھر سو گیا تو اگر جاگتے میں بقدرِ کفایت ادا کر چکا ہے تو وہی کافی ہے ورنہ پورا کرلے ۔ (5)
مسئلہ ۳۴: اگر اس شکل پر سویا جس میں وُضو نہیں جاتا اور نیند کے اندر وہ ہیأت پیدا ہوگئی جس سے وُضو جاتا رہتا ہے تو اگر فوراً بلا وقفہ جاگ اٹھا وُضو نہ گیا ورنہ جاتا رہا۔ (6)
مسئلہ ۳۵: گرم تنور کے کنارے پاؤں لٹکائے بیٹھ کر سو گیا تو وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (7)
1… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في حکم کي الحمصۃ، ج۱، ص۲۹۳۔
2… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الصلاۃ، مطلب: نواقض الوضوئ، ج۱، ص۲۹۰۔
3… پستی۔ 4… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۳۶۵۔۳۶۷، وغیرہ۔ 5… المرجع السابق۔
6… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۳۶۷۔ 7… المرجع السابق، ص۴۲۵۔
مسئلہ ۳۶: بیمارلیٹ کر نماز پڑھتا تھا نیند آگئی وُضو جاتا رہا۔ (1)
مسئلہ ۳۷: اُونگھنے یا بیٹھے بیٹھے جھونکے لینے سے وُضو نہیں جاتا ۔ (2)
مسئلہ ۳۸: جُھوم کر گر پڑا اور فوراً آنکھ کھل گئی وُضو نہ گیا۔ (3)
مسئلہ ۳۹: نماز وغیرہ کے انتظار میں بعض مرتبہ نیند کا غلبہ ہوتا ہے اور یہ دفع کرنا چاہتا ہے تو بعض وقت ایسا غافل ہو جاتا ہے کہ اس وقت جو باتیں ہوئیں ان کی اسے باِلکل خبر نہیں بلکہ دو تین آواز میں آنکھ کھلی اور اپنے خیال میں یہ سمجھتا ہے کہ سویا نہ تھا اس کے اس خیال کا اعتبار نہیں اگر معتبر شخص کہے کہ تُو غافل تھا، پکارا جواب نہ دیا یا باتیں پوچھی جائیں اور وہ نہ بتا سکے تو اس پر وُضو لازم ہے۔ (4)
فائدہ: انبیاء علیہم السلام کا سونا ناقضِ وُضو نہیں ان کی آنکھیں سوتی ہیں دل جاگتے ہیں ۔ علاوہ نیند کے اور نواقض سے انبیاء علیہم السلام کا وُضو جاتا ہے یا نہیں اس میں اختلاف ہے ، صحیح یہ ہے کہ جاتارہتا ہے بوجہ ان کی عظمتِ شان کے، نہ بسبب نجاست کے، کہ انکے فضلاتِ شریفہ طیب و طاہر ہیں جن کا کھانا پینا ہمیں حلال اور باعثِ برکت۔ (5)
مسئلہ ۴۰: بیہوشی ۱۴ اور جنون ۱۵ اور غشی ۱۶ اور اتنا نشہ ۱۷ کہ چلنے میں پاؤں لڑکھڑائیں ناقضِ وُضو ہیں ۔ (6)
مسئلہ ۴۱: بالغ ۱۸ کا قہقہہ یعنی اتنی آواز سے ہنسی کہ آس پاس والے سنیں اگر جاگتے میں رکوع سجدہ والی نماز میں ہو وُضو ٹوٹ جائے گا اور نماز فاسد ہو جائے گی۔ (7)
مسئلہ ۴۲: اگر نماز کے اندر سوتے میں یا نماز ِجنازہ یا سجدۂ تلاوت میں قہقہہ لگایا تو وُضو نہیں جائے گا وہ نماز یا سجدہ فاسد ہے۔ (8)
مسئلہ ۴۳: اور اگر اتنی آواز سے ہنسا کہ خود اس نے سنا، پاس والوں نے نہ سنا تو وُضو نہیں جائے گا نماز جاتی رہے گی۔(9)
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲۔
2… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۳۶۷۔3… المرجع السابق۔ 4… المرجع السابق۔
5… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۲۹۸،۵۷۴۔
6… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۹۔7… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب: نوم الأنبیاء غیر ناقض، ج۱، ص۳۰۰۔ و ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲۔ 8… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، المرجع السابق۔ 9… المرجع السابق۔
مسئلہ ۴۴: اگر مسکرایا کہ دانت نکلے آواز باِلکل نہیں نکلی تو اس سے نہ نماز جائے نہ وُضو۔ (1)
مسئلہ ۴۵: مباشرتِ ۱۹ فاحشہ یعنی مرد اپنے آلہ کو تندی کی حالت میں عورت کی شرمگاہ یا کسی مرد کی شرمگاہ سے ملائے یا عورت عورت باہم ملائیں بشرطیکہ کوئی شے حائل نہ ہو ناقضِ وُضو ہے۔ (2)
مسئلہ ۴۶: اگر مرد نے اپنے آلہ سے عورت کی شرمگاہ کو مس کیا اور انتشارِ آلہ نہ تھا عورت کا وُضو اس وقت میں بھی جاتا رہے گا اگرچہ مرد کا وضونہ جائے گا۔ (3)
مسئلہ ۴۷: بڑا ۲۰ استنجا ڈھیلے سے کرکے وُضو کیا اب یاد آیا کہ پانی سے نہ کیا تھا اگر پانی سے استنجا مسنون طریق پر یعنی پاؤں پھیلا کر سانس کا زور نیچے کو دے کر کرے گا وُضو جاتا رہے گا اور ویسے کرے گا تو نہ جائے گا مگر وُضو کر لینا مناسب ہے۔ (4)
مسئلہ ۴۸: پھڑ یا بالکل اچھی ہو گئی اس کا مُردہ پوست باقی ہے جس میں اوپر مونھ اور اندر خلا ہے اگر اس میں پانی بھر گیا پھر دبا کر نکالا تو نہ وُضو جائے نہ وہ پانی ناپاک ہاں اگر اس کے اندر کچھ تری خون وغیرہ کی باقی ہے تو وُضو بھی جاتا رہے گا اور وہ پانی بھی نجس ہے۔ (5)
مسئلہ۴۹: عوام میں جو مشہور ہے کہ گھٹنایااور ستر کھلنے یا اپنا یاپرایا ستر دیکھنے سے وُضو جاتا رہتا ہے محض بے اصل بات ہے۔ ہاں وُضو کے آداب سے ہے کہ ناف سے زانو کے نیچے تک سب ستر چھپا ہو بلکہ استنجے کے بعد فوراً ہی چھپا لینا چاہیئے کہ بغیر ضرورت ستر کھلا رہنا منع ہے اور دوسروں کے سامنے ستر کھولنا حرام ہے۔ (6)
متفرق مسائل
جو رطوبت بدنِ انسان سے نکلے اور وُضو نہ توڑے وہ نجس نہیں مثلاً خون کہ بہ کر نہ نکلے یا تھوڑی قے کہ مونھ بھر نہ ہو پاک ہے۔ (7)
1… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۲۔
2… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۰۳۔
3… ’’الفتاوی الھندیۃ‘‘، کتاب الطہارۃ، الباب الأول في الوضوئ، الفصل الخامس، ج۱، ص۱۳۔
4… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۳۱۹، وغیرہ ۔5… المرجع السابق، ص۳۵۵۔۳۵۶۔
6… المرجع السابق، ص۳۵۲۔ 7… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۴۔
مسئلہ ۱: خارِش یا پھڑیوں میں جب کہ بہنے والی رطوبت نہ ہو بلکہ صرف چپک ہو، کپڑا اس سے بار بار چھو کر اگرچہ کتنا ہی سن جائے ،پاک ہے۔ (1)
مسئلہ ۲: سوتے میں رال جو مونھ سے گرے ،اگرچہ پیٹ سے آئے، اگرچہ بدبودار ہو، پاک ہے۔ (2)
مسئلہ ۳: مردے کے مونھ سے جو پانی بہے نجس ہے۔ (3)
مسئلہ ۴: آنکھ دُکھتے میں جو آنسو بہتا ہے نجس و ناقضِ وُضو ہے، اس سے اِحْتِیاط ضروری ہے۔ (4)
مسئلہ ۵: شیر خوار بچے نے دودھ ڈال دیا اگر وہ مونھ بھر ہے نجس ہے ،درہم سے زیادہ جگہ میں جس چیز کو لگ جائے ناپاک کر دے گا لیکن اگر یہ دودھ معدہ سے نہیں آیا بلکہ سینہ تک پہنچ کر پلٹ آیا تو پاک ہے۔ (5)
مسئلہ ۶: درمیانِ وُضو میں اگررِیح خارِج ہویاکوئی ایسی بات ہو جس سے وُضو جاتا ہے تو نئے سرے سے پھر وُضو کرے وہ پہلے دُھلے ہوئے بے دُھلے ہوگئے۔ (6)
مسئلہ ۷: چُلّو میں پانی لینے کے بعد حدث ہوا وہ پانی بے کار ہو گیا کسی عُضْوْ کے دھونے میں نہیں کام آسکتا۔(7)
مسئلہ ۸: مونھ سے اتنا خون نکلا کہ تھوک سرخ ہو گیا اگر لوٹے یا کٹورے کو مونھ سے لگا کر کُلّی کو پانی لیا تو لوٹا، کٹورا اور کل پانی نجس ہو جائے گا۔ چُلّو سے پانی لے کر کُلّی کرے اور پھر ہاتھ دھو کر کُلّی کے لیے پانی لے۔ (8)
مسئلہ ۹: اگر درمیانِ وُضو میں کسی عُضْوْ کے دھونے میں شک واقع ہوا او ر یہ زندگی کا پہلا واقعہ ہے تو اس کو دھولے اور اگر اکثر شک پڑا کرتا ہے تو اسکی طرف اِلتفات نہ کرے۔ یوہیں اگر بعد وُضو کے شک ہو تو اس کا کچھ خیال نہ کرے۔ (9)
1… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۸۰۔2… ’’الدرالمختار‘‘، کتاب الطہارۃ،، ج۱، ص۲۹۰۔
3… المرجع السابق۔ 4… ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۳۰۵۔
اس سے بہت لوگ غافل ہیں اکثر دیکھا گیا کہ کُرتے وغیرہ میں ایسی حالت میں آنکھ پونچھ لیا کرتے ہیں اور اپنے خیال میں اُسے اور آنسو
کے مثل سمجھتے ہیں یہ اُن کی غلطی ہے اور ایسا کیا تو کپڑا ناپاک ہوگیا ۔ ۱۲ منہ 5… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۳۵۶۔
و ’’الدرالمختار‘‘ و ’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، ج۱، ص۲۹۰۔ 6… ’’الفتاوی الرضویۃ‘‘، ج۱، ص۲۵۵۔
7… المرجع السابق، ص۲۵۶۔ 8… المرجع السابق، ص۲۵۷۔۲۶۰۔
9… ’’الدرالمختار‘‘ و’’ردالمحتار‘‘، کتاب الطہارۃ، مطلب في ندب مراعاۃ الخلاف۔۔۔ إلخ، ج۱، ص۳۰۹۔
مسئلہ ۱۰: جو باوُضو تھا اب اسے شک ہے کہ وُضو ہے یا ٹوٹ گیا تو وُضو کرنے کی اسے ضرورت نہیں ۔ (1) ہاں کر لینا بہتر ہے جب کہ یہ شُبہہ بطورِ وسوسہ نہ ہوا کرتا ہو اور اگر وسوسہ ہے تو اسے ہرگز نہ مانے ،اس صورت میں اِحْتِیاط سمجھ کر وُضو کرنا اِحْتِیاط نہیں بلکہ شیطانِ لعین کی اطاعت ہے۔
مسئلہ ۱۱: اور اگر بے وُضو تھا اب اسے شک ہے کہ میں نے وُضو کیا یا نہیں تو وہ بلا وُضو ہے اس کو وُضو کرنا ضرور ی ہے۔(2)
مسئلہ ۱۲: یہ معلوم ہے کہ وُضو کے لیے بیٹھا تھا اور یہ یاد نہیں کہ وُضو کیا یا نہیں تو اسے وُضو کرنا ضرور نہیں ۔(3)
مسئلہ ۱۳: یہ یاد ہے کہ پاخانہ یا پیشاب کے لیے بیٹھا تھا مگریہ یاد نہیں کہ پِھرا (4) بھی یا نہیں تو اس پر وُضو فرض ہے۔(5)
مسئلہ ۱۴: یہ یاد ہے کہ کوئی عُضْوْ دھونے سے رہ گیا مگر معلوم نہیں کہ کون عُضْوْ تھا تو بایاں پاؤں دھولے۔ (6)
مسئلہ ۱۵: میانی میں تری دیکھی مگر یہ نہیں معلوم کہ پانی ہے یا پیشاب تو اگر عُمر کایہ پہلا واقعہ ہے تو وُضو کرلے اور اس جگہ کو دھولے اور اگر بار ہا ایسے شبہے پڑتے ہیں تو اس کی طرف توجہ نہ کرے شیطانی وسوسہ ہے۔ (7)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع