30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مسجدمیں بیٹھنےوالارَسُوْلِ کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکی مُوَافَقَت کی نیت کرے جیساکہ مروی ہے: ’’ بےشکاللہتعالٰی نےتمہارےنبی کےلیےسُنَنِ ہُدٰی مُقرَّر فرمائی ہیں اورسُنَنِ ہُدٰی پراِکتفافرمایاہے، اگرتم اپنے گھروں میں نمازپڑھو گےجیسا کہ یہ پیچھے رہ جانے والا پڑھتا ہے تو تم ضرور اپنے نبی کی سُنَّت چھوڑنے والے ہوگے اور لازمی گمراہ ہوجاؤگے۔ ‘‘ ([1])
حضورتاجدارِرسالتصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: جس نےمیری سنتوں میں سے ایک سنت کو زندہ کیامیں بروزِ قیامت اُس کی شفاعت کروں گا۔ ([2])
حضوررَحمَتِ عالَم، نُوْرِمُجَسَّمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمارشادفرماتےہیں کہ مدینہ منوَّرہ کاایک فرشتہ روزانہ یوں پکارتاہے: جس نےرَسُوْلُاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم کی سنت چھوڑی وہ قیامت کے دن ان کی شفاعت سے محروم رہےگا۔ ([3])
مسجدمیں بیٹھنےوالامسلمانوں کےمجمع میں اضافےکی نیت کرےتاکہ اُسےبڑافضل حاصل ہواوروہ بھی انہی میں سے ایک فرد شمارہواوریہ کہ وہ منتخب بندوں میں سے ہوجائے۔جیساکہ رَسُوْلِ مُکَرَّم، نَبِیِّ مُحْتَرمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: مَنْ کَثَّرَسَوَادَقَوْمٍ فَھُوَ مِنْہُمْیعنی جوکسی قوم کا مجمع بڑھائے وہ انہی میں سے ہے۔ ([4])
یوں ہی حضوراِمامُ الْاَنْبِیاءِوَالْمُرسَلِیْنصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: تم پرمسلمانوں کے بڑے گروہ کےساتھ رہنا لازم ہے کیونکہ بھیڑیاریوڑ سےالگ اور بھاگی ہوئی بھیڑکوہی پکڑتا ہے۔ ([5])
ایک روایت میں ہے: مساجد میں ذکر کی مجالس والوں کے لیے اللہعَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتاہے: اےمیرےفرشتو!هُمُ الْقَوْمُ لَا يَشْقَى بِهِمْ جَلِيْسُهُمْیعنی یہ وہ لوگ ہیں جن کے ساتھ بیٹھنے والابھی بدبخت نہیں رہتا۔ ([6])
مسجدمیں بیٹھنےوالاایک نمازکےبعددوسری نمازکےاِنتظارکےلیےوہاں جمےرہنے کی نیت کرےجیساکہ درج ذیل فرمانِ باری تعالٰی کی تفسیر میں منقول ہے۔چنانچہ
اللہ تعالٰی ارشاد فرماتا ہے:
یٰۤاَیُّهَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوا اصْبِرُوْا وَ صَابِرُوْا وَ رَابِطُوْا- وَ اتَّقُوا اللّٰهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُوْنَ۠ (۲۰۰) (پ۴، اٰلِ عمرٰن: ۲۰۰)
ترجمۂ کنز الایمان: اےایمان والوصبرکرو اور صبرمیں دشمنوں سےآگےرہواورسرحدپراسلامی ملک کی نگہبانی کرواوراللہسےڈرتے رہواس امیدپرکہ کامیاب ہو۔
ایک قول کےمطابق اِس آیَت میں مذکورلفظ” رَابِطُوۡا“سے مراد مسجدوں میں ایک نماز کے بعد دوسری نماز کے انتظار کے لیے جمے رہنا ہے۔ ([7])
اللہعَزَّ وَجَلَّکےمحبوب، دانائےغُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا: کیا میں تمہیں اُس چیز کے بارے میں نہ بتاؤں جس کے سبباللہکریم خطاؤں کو معاف فرماتااوردرجات کوبلندفرماتاہے۔حضرات صحابَۂ کرامعَلَیْہِمُ الرِّضْوَاننےعرض کی: کیوں نہیں!اےاللہعَزَّ وَجَلَّکےرَسُوْلصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم۔ارشادفرمایا: مساجدکی طرف کثرت سےجانا ، مشقت کےوقت وضو کرنااور ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار کرناپس یہی نگہبانی ہے، یہی نگہبانی ہے۔ ([8])
[1] مسلم، کتاب المساجد، باب صلاة الجماعة من سنن الھدی، ص۲۵۷، حدیث: ۱۴۸۸، قول: ابن مسعود
[2] ترمذی، کتاب العلم، باب ماجاء فی الاخذ بالسنة... الخ، ۴ / ۳۰۹ ، حدیث: ۲۶۸۷، دون قولہ شفیعہ یوم القیامة
[3] فضائل بیت المقدس، باب فی قول الملائکة الموکلین بالمساجد الثلاثة، ص۴۶، بتغیر قلیل
[4] الزھد لابن مبارک، نعیم بن حماد فی نسختہ زائدا، باب استماع اللھو، ص۱۲، حدیث: ۴۲
[5] ابن ماجہ، کتاب الفتن، باب السوادالاعظم، ۴ / ۳۲۷، حدیث: ۳۹۵۰، دون قولہ فان الذئب... الخ نسائی، کتاب الامامة، باب التشدیدفی ترک الجماعة، ص۱۴۷، حدیث: ۸۴۴، بتغیر قلیل
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع