30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
روانہ ہوگیا اورمیں اُس کی واپسی کے انتِظار میں کوفےہی میں مجبو راً پڑا رہا۔ یہاں تک کہ حاجیوں کی واپسی شروع ہو گئی جُوں ہی حُجاج کاایک قافلہ میری آنکھوں کے سامنے آیا، اپنی حج کی سعادت سے محرومی پر میرے آنسو نکل آئے۔میں اُن سے دُعائیں لینے کیلئے آگے بڑھا،جب اُن سےملاقات کر کے میں نے کہا:’’ اللہ پاک آپ حضرات کاحج قبول فرمائے اور آپ کے اَخراجات کا بہترین بَدَل عطا فرمائے ۔‘‘ اُن میں سے ایک حاجی نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دُعا کیسی؟ میں نے کہا:’’ایسے غمزدہ شخص کی دُعا جو دروازے تک پہنچ کر حاضِری سے مَحروم رہ گیا ‘‘،وہ کہنے لگا: بڑے تعجُّب کی بات ہے کہ آپ وہا ں جانے سے انکار کرتے ہیں !کیا آپ ہمارے ساتھ عَرَفات کے میدان میں نہیں تھے؟کیا آپ نے ہمارے ساتھ شیطان کو کنکریاں نہیں ماری تھیں؟ اور کیا آپ نے ہمارے ساتھ طواف نہیں کئے؟ میں اپنے دِل میں سوچنے لگا کہ یقیناً یہ اللہ پاک کا خصوصی لُطف وکَرَم ہے۔اِتنے میں میرے شہر کے حاجیوں کا قافلہ بھی آپہنچا۔ میں نے اُن سے بھی کہا کہ” اللہ پاک آپ خوش نصیبوں کی کوشش قبول فرمائے اورآپ کاحج قَبول کرے۔‘‘ وہ بھی حیران ہو کر کہنے لگے: آپ کو کیا ہو گیا ہے!یہ اَجْنَبِیَّت کیسی؟ کیا آپ عَرَفات میں ہمارے ساتھ نہ تھے؟ کیا ہم نے مِل جُل کررَمْیِ جَمَرات نہیں کی تھی(یعنی شیطان کو کنکریاں نہیں ماری تھیں)؟اُن میں سے ایک حاجی صاحِب آگے بڑھے اور میرے قریب آکرکہنے لگے کہ بھائی!اَنْجان کیوں بنتے ہیں؟ ہم مکّے مدینے میں اِکٹّھے ہی تو تھے! یہ دیکھئے! جب ہم روضۂ رسول کی زِیارت کر کے بابِ جبرئیل سے باہَر آرہے تھے تو اُس وَقْت بِھیڑ کی وجہ سے آپ نے یہ تھیلی مجھے بَطورِ اَمانت دی تھی جس کی مُہر پرلکھا ہواہے: مَنْ عَامَلَنَارَبِحَ یعنی ’’جو ہم سے مُعامَلہ کرتا ہے نَفع پاتاہے۔‘‘یہ لیجئے اپنی تھیلی! حضرتِ رَبیع رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع