30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
مقدمہ
اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ
اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ
ہم بحیثیت مسلمان، قرآن مجید اور احادیث کریمہ کے پابند ہیں۔ قرآن مجید اور احادیث کریمہ نے جن چیزوں کو حلال فرمایا ہے ، ہم پر لازم ہے کہ انہیں حلال جانیں اور جن کو حرام فرمایا ہے ، ہم پر لازم ہے کہ انہیں حرام جانیں اور ان سے دور رہیں۔ ہمارامذہب اسلام محض چند عبادات کی بات نہیں کرتا بلکہ ہمارا دین ہمیں عقائد و نظریات، عبادات ، مالی معاملات و لین دین ، ظاہری و باطنی اوصاف و اخلاقیات سمیت زندگی گزارنے کے جملہ پہلوؤں پر رہنمائی فراہم کرتا ہے۔یوں دین اسلام ایک کامل اور مکمل دین ہے۔قرآن پاک میں اس حقیقت کا اظہاراس آیت میں فرمایا گیا ، جو حجۃ الوداع کے موقع پر عرفہ کے دن مکہ مکرمہ میں نازل ہوئی ۔ چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:﴿اَلْیَوْمَ اَكْمَلْتُ لَكُمْ دِیْنَكُمْ وَ اَتْمَمْتُ عَلَیْكُمْ نِعْمَتِیْ وَ رَضِیْتُ لَكُمُ الْاِسْلَامَ دِیْنًا فَمَنِ اضْطُرَّ فِیْ مَخْمَصَةٍ غَیْرَ مُتَجَانِفٍ لِّاِثْمٍ ۙفَاِنَّ اللّٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِیْمٌ﴾ترجمہ کنز العرفان: ’’ آج میں نے تمہارے لئے تمہارا دین مکمل کردیا اور میں نے تم پر اپنی نعمت پوری کردی اور تمہارے لئے اسلام کو دین پسند کیا، تو جو بھوک پیاس کی شدت میں مجبور ہواس حال میں کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو (تو وہ کھا سکتا ہے۔) تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے۔‘‘(1)
اس آیتِ مبارکہ کے پہلے حصے میں یہ بتادیا گیا کہ حرام و حلال کے احکام اور قِیاس کے قانون سب مکمل کردیئے گئے ہیں اور اسلام اللہ عَزَّوَجَلَّ کو پسند ہے یعنی جو اَب دین محمدی کی صورت میں ہے، باقی سب دین اب ناقابلِ قبول ہیں۔ اس آیت کے نزول کے بعد قیامت تک اسلام کا کوئی حکم منسوخ نہیں ہو سکتا۔ اصولِ دین میں زیادتی کمی نہیں ہو سکتی،ہاں اجتہادی فروعی مسئلے ہمیشہ نکلتے رہیں گے اورحوادثاتِ زمانہ کی وجہ سے نئے پیدا ہونے والے مسائل سے متعلق بھی اصول و ضوابط قرآن و حدیث میں واضح بیان کر دیئے گئے ہیں ، جن کی مدد سے مجتہدین اور فقہائے زمانہ ہر دور میں ان مسائل سے متعلق شرعی حکم بیان کرتے ہیں اور قیامت تک کرتے رہیں گے۔
آیت کے دوسرے حصے میں یہ فرمایا گیا کہ جب کھانے پینے کے لئے کوئی حلال چیز مُیَسَّر ہی نہ آئے اور بھوک پیاس کی شدت سے جان جانے کا خطرہ ہو ، اس وقت جان بچانے کے لئے حرام کردہ چیز بقدرِ ضرورت کھانے پینے کی اجازت ہے اس طرح کہ گناہ کی طرف مائل نہ ہو۔اس آیت سے اسلام کے ایک عظیم اصول اور ضابطے کی طرف رہنمائی فرمائی گئی ہے کہ بعض اوقات سچی مجبوری کی حالت میں حرام کردہ کام کرنے کی اجازت مل جاتی
ہے تاکہ انسان ہلاکت اور ضرر سے بچ جائے ۔
دین اسلام ایک ایسا دین ہے کہ جس میں انسان کو اس کی طاقت سے بڑھ کر تکلیف میں مبتلا نہیں کیا گیا ۔ اس کے احکام ایسے ہیں کہ حرج و شدید مشقت سے دور اور آسان و سہل ہیں ، چنانچہ اللہ تعالی ارشاد فرماتا ہے:﴿لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا﴾
ترجمہ کنز العرفان: اللہ کسی جان پر اس کی طاقت کے برابر ہی بوجھ ڈالتا ہے ۔(2)
اسی طرح ایک اور آیت میں فرمایا:﴿وَ مَا جَعَلَ عَلَیْكُمْ فِی الدِّیْنِ مِنْ حَرَجٍ﴾ ترجمہ کنز العرفان: اور تم پر دین میں کچھ تنگی نہ رکھی۔(3)
ایک اور مقام پر فرمایا:﴿ یُرِیْدُ اللّٰهُ بِكُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِكُمُ الْعُسْرَ﴾ترجمہ کنز العرفان: اللہ تم پر آسانی چاہتا ہے اور تم پر دشواری نہیں چاہتا۔(4)
یہی وجہ ہے کہ جب اسلام کے کسی حکم پر عمل کرنے کی وجہ سے انسان کی جان ، مال ، عزت ، عقل یا اس کے دین کو خطرہ لاحق ہو جائے اور اسے شدید مشقت و حرج کا سامنا ہواور حقیقی سچی مجبوری واضح ہو ، تو اس طرح کی بعض صورتوں اور ناگزیر حالات میں حکم تبدیل ہو جاتا ہے۔حکم میں اس قسم کی تبدیلی کوئی خاص مدت گزر جانے کی وجہ سے نہیں ہوتی ، بلکہ جس بنیاد پر وہ حکم تھا وہ بنیاد یا حالات زمانہ کے بدلنے کی وجہ سے رونما ہوتی ہے۔
فقیہ بے مثل امام اہلسنت امام احمد رضا خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن نے اس قسم کی تبدیلی کے چھے اسباب شمار فرمائے ہیں :
(1) ضرورت (2) رفعِ حرج (3) عرف (4) تعامل(5) دینی ضروری مصلحت کی تحصیل (6) کسی فساد موجود یا مظنون بظن غالب کا ازالہ ۔
ان اَسباب میں سے کوئی سبب جب پایا جائے ، تو اس وقت اصل حکم چھوڑ کر اس کے خلاف عمل کرنے کی اجازت مل جاتی ہے اور چونکہ یہ اجازت بھی گویااسے اللہ اور رسول (عزوجل و صلی اللہ علیہ وسلم) کی طرف سے ہی ملتی ہے اس لئے ایسی صورت میں وہ اللہ کا نافرمان نہیں قرار پاتا، بلکہ اس صورت میں بھی وہ اللہ کا حکم ماننے والا ہی شمار ہوتا ہے۔اس بات کو اعلیٰ حضرت امام احمد رضا عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننے بڑے دل نشیں انداز سے سمجھایا ہے۔ آپ فرماتے ہیں:
”(نبی کریم صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ اور ائمہ مذاہب کے ) اقوال دو طرح کے ہیں: صوری اور ضروری ۔
صوری تو قول منقول ہے اور ضروری وہ قول ہے جس کی صراحت قائل نے خاص طور پر نہ کی ہو، البتہ ایسے عموم کے ضمن میں اسے بیان کر دیا ہو ، جو بدیہی طور پر اس بات کا حکم لگائے کہ اگر قائل اس خاص مسئلے میں کلام کرتے تو ضرور ایسا ہی فرماتے اور بسا اوقات حکم ضروری حکم صوری کے مخالف ہوتا ہے ، تو اس وقت اُس پر حکم ضروری کو ترجیح دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ صوری کو اختیار کرنا قائل کی مخالفت شمار کیا جاتاہے اور اس سے حکم ضروری کی طرف عدول قائل کی موافقت اور اتباع ۔ جیسے زید ایک نیک انسان تھا، اس لیے عمرو نے اپنے خادموں کو کھلے لفظوں میں اس کی تعظیم کا حکم دیا اور بار بار انہیں اس بات کی ہدایت کی اور وہ پہلے ان سے یہ بھی کہہ چکا تھا کہ تم لوگ ہمیشہ فاسق کی تعظیم سے بچتے رہنا، پھر ایک زمانے کے بعد زید فاسق معلن ہو گیا ، تو اگر اب بھی عمرو کے خادم اس کے حکم اور اس کی بار بار کی ہدایت پر عمل پیرا رہ کر زید کی تعظیم و توقیر کریں، تو وہ ضرور نافرمان قرار پائیں گے اور اگر اس کی تعظیم چھوڑ دیں، تو اطاعت شعار ہوں گے ۔
ائمہ مذاہب کے اَقوال میں بھی مذکورہ بالا اَسباب تغییر میں سے کسی سبب کے باعث یہ تبدیلی ہو جاتی ہے ، لہٰذا جب کسی مسئلے میں امام سے کوئی نص ہو، پھر ان اَسباب تغییر میں سے کوئی سبب پیدا ہو جائے ، تو ہم یقینی طور پر یہ اعتقاد رکھیں گے کہ اگر یہ سبب امام کے زمانے میں رونما ہوا ہوتا ، تو ضرور ان کا قول اس کے تقاضے کے موافق ہوتا، اس کے خلاف اور اس کے رد میں نہ ہوتا، تو ایسے وقت میں ان سے غیر منقول قول ضروری پر عمل فی الواقع انہیں کے قول پر عمل ہے اور ان کے قول منقول پر جمے رہنا در حقیقت ان کی مخالفت اور ان کے مذہب سے نا آشنائی ہے ۔ “(5)
اس سے معلوم ہوا کہ دین اسلام کے احکام میں ایسا جمود نہیں ہے کہ جس سے انسان حرج میں مبتلا ہو جائے ، بلکہ حالاتِ زمانہ کی تبدیلی کی وجہ سے بعض اُمور میں رخصت و احکام کی تبدیلی رونما ہوتی رہتی ہے اور اس کے لئے بھی شریعت نے باقاعدہ
اصول و ضوابط مقرر فرما دیئے ہیں۔
زیرِ نظر کتاب میں بھی آپ اسی طرح کے ایک دلچسپ مسئلے کی تفصیل مطالعہ
کریں گے۔اس میں معدوم یعنی غیر موجود چیز کی خرید و فروخت کی ایک صورت کے
متعلق اصل و بنیادی شرعی حکم بھی بیان کیا گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ حالاتِ زمانہ کی تبدیلی کی وجہ سے حکم میں تبدیلیاں جو ائمہ دین اور فقہائے اسلام نے اپنے اپنے دور کے حساب سے بیان کیں ، ان کی مرحلہ وار تفصیل لکھی گئی ہے اور حکم میں تبدیلی کا جوسبب بنا اس کو بھی بیان کیا گیا ہے ۔امید ہے اس کتاب کا مطالعہ کر کے شرعی احکام میں تبدیلی اور اس کے اسباب کو سمجھنے میں مدد ملے گی۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ اللہ تعالی ہمیں ہمیشہ دینِ اسلام کے احکام پر عمل پیرا ہو نے کی توفیق عطا فرمائے اور دین کی صحیح سمجھ بوجھ عطا فرمائے۔
محمد ساجد عطاری
15 ربیع الاول، 1445ھ/02 اکتوبر، 2023
کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلے کے بارے میں کہ فی زمانہ باغات میں لگے پھلوں کو بیچنے کی مختلف صورتیں ہوتی ہیں:
(1)کبھی ایسا ہوتا ہے کہ پھل آنے سے پہلے ہی اپنے باغ کے پھل سیل کر (بیچ ) دیتے ہیں،جس کو " باغ ٹھیکے پر دینا " کہا جاتا ہے ۔ اس میں کبھی ایک سال کے لئے ٹھیکہ دیا جاتا ہے اور کبھی ایک سا ل سے زیادہ عرصے کے لئے بھی ٹھیکہ پر دے دیا جاتا ہے۔ ان صورتوں میں پھلوں کا ابھی وجود ہی نہیں ہوتا۔
(2)کبھی پھل ظاہر ہوچکے ہوتے ہیں ، لیکن ابھی کچے ہوتے ہیں ، لیکن اس صورت میں یہ طے ہوتا ہے کہ خریدار ان کو فوری نہیں اتارے گا ، بلکہ پکنے کے بعد اتارے گا۔ شریعتِ مطہرہ کی روشنی میں رہنمائی فرمائیں کہ کیا ایسا کرنا ،جائز ہے ؟
سائل : محمد انس رضا ( پاکپتن )
بسم اللہ الرحمن الرحیم
الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب
کسی بھی شے کی بیع (خریدوفروخت) اس کے وجود سے پہلے نہیں ہو سکتی۔ اس اعتبار سےباغات ٹھیکے پر دینےکی وہ صورتیں جن میں پھلوں کے وجود میں آنے سے پہلے ہی ان کی خرید و فروخت کر لی جاتی ہے ، یہ باطل بنتی ہے اوراگر اسے اجارہ بنائیں ، تو استہلاکِ عین پر اجارہ ہونے کی وجہ سے یہ اجارہ باطل بنتا ہے، لیکن فی زمانہ عمومِ بلویٰ کی وجہ سے باغات ٹھیکے پر دینے کی یہ صورتیں درست اور جائز ہیں ۔
یونہی درختوں پر لگے ناپختہ پھلوں کی خریداری کی وہ صورت جس میں صراحتاً یا دلالۃ ً یہ شرط ہوتی ہے کہ پھل پکنے تک درختوں پر لگے رہیں گے ، یہ صورت بھی فی زمانہ عمومِ بلویٰ و تعامل کی وجہ سے جائز ہے۔
1…۔ (سورہ مائدہ، آیت نمبر: 03)
2…۔ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر 286)
3…۔ (سورہ حج بقرہ ، آیت نمبر 286)
4…۔ (سورہ بقرہ ، آیت نمبر 185)
5…۔ (فقہ حنفی میں حالاتِ زمانہ کی رعایت، بحوالہ فتاوی رضویہ، صفحہ9و10، مجلس شرعی جامعہ اشرفیہ، ہند)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع