30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَرَکت سے اسے توچھوڑ دے (یعنی چُونکہ وہ مسلمان تھا لہٰذا اِس نسبت کے سبب اپنے فضل و کرم سے اُسے بے حساب بخش دے)اور مجھے اُس کی غیبت کرنے کی وجہ سے عذاب میں مُبْتَلا فرما دے۔ “ (تفسیر روح البیان ، 9 / 90)
تین عُیُوب کی نُحُوست کی عبرتناک حکایت
اے عاشقانِ رسول!اللہ پاک بے نیاز ہے ، اُس کی خفیہ تدبیر کِس کے بارے میں کیا ہے وہ کوئی نہیں جانتا ، لہٰذا کوئی مسلمان خواہ کتنا ہی بڑاگنہگار ہو اُس کے بارے میں ہم یہ نہیں کہہ سکتے کہ یہ ضَرور ہی جہنّم میں جائے گا ، جب اُس کی تدبیر غالب آتی ہے تو بڑے بڑوں کی وہ پکڑ ہوجاتی ہے کہ اَ لْاَمَان وَ الْحَفِیظ۔ عاشقانِ رسول کی مدنی تحریک دعوتِ اسلامی کےمکتبۃُ الْمدینہ کے رسالہ “ برے خاتمے کے اسباب “ (31صفحات)صفحہ5 پر ہے : “ منہاجُ العابِدین “ میں ہے : حضرت فُضَیل بن عیاض رحمۃُ اللہ علیہ اپنے ایک شاگِرد کی نَزع کے وَقت تشریف لائے اور اُس کے پاس بیٹھ کر سورۂ یٰس شریف پڑھنے لگے تو اُس شاگِرد نے کہا : “ سورۂ یٰس پڑھنا بند کر دو۔ “ پھر آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اسے کلمہ شریف کی تلقین ([1])فرمائی۔ و ہ بولا : “ میں ہرگزیہ کلمہ نہیں پڑھوں گا میں اِس سے بَیزار ہوں۔ “ بس انہیں الفاظ پر اُس کی موت واقِع ہوگئی۔ حضرتِ فُضَیل رحمۃُ اللہ علیہ کو اپنے شاگِرد کے بُرے خاتِمے کا سخت صدمہ ہوا۔ چالیس 40 روز تک اپنے گھر میں بیٹھے روتے رہے۔ چالیس دن کے بعد آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے خواب میں دیکھا کہ فِرِشتے اُس شاگرد کو جہنّم میں گھسیٹ رہے ہیں۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے اُس سے پوچھا : کس سبب سے اللہ پاک نے تیری مَعرِفَت سَلْب فرمالی؟ میرے شاگردوں میں تیر ا مقام تو بَہُت اونچا تھا! اُس نے جواب دیا : تین عُیُوب کے سبب سے : (1)چُغلی (2)حَسَد (3)شراب نَوشی کہ ایک بیماری سے شِفاپانے کی غَرَض سے طبیب کے مشورے پر ہر سال شراب کا ایک گلاس پِیتا تھا۔ (منہاج العابدین ، ص151بتغیر قلیل )
نَزع میں کُفر بکنے کا شَرعی مسئلہ
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!خوفِ خدا سے لَرَزاُٹھئے !اور گھبرا کر اپنے مَعبودِ برحق کو راضی کر نے کیلئے اُس کی بارگاہِ بے کس پناہ میں جُھک جایئے۔ آہ ! چُغلی ، حسد اور شراب نوشی کے سبب ولیِ کامل کا شاگرد کُفریہ کلمات بول کر مر ا ۔ یہاں ایک ضَروری مسئلہ سمجھ لیجئے چُنانچِہ صَدرُ الشَّریعہ ، بَدرُ الطَّریقہ حضرتِ علامہ مولانا مفتی محمد امجد علی اعظمی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : مرتے وَقت مَعاذَ اللہ اُس کی زَبان سے کلمۂ کُفر نکلاتو کُفر کا حکم نہ دیں گے کہ ممکن ہے موت کی سختی میں عَقل جاتی رہی ہو اور بے ہوشی میں یہ کلمہ نکل گیا۔
(بہار شریعت ، 1 / 809حصہ : 4 ۔ درمختار 3 / 96)
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!واقعی غلط چلنے والی زَبان انسان کو بَہُت پریشان کرتی ہے ، انسان اِسی زبان سے گالیاں نکال کر ، جھوٹ بول کر ، غیبتیں کرکے چُغلیاں کھا کر اپنی آخِرت کو داؤ پر لگاتا ہے ۔ اِس زَبان کی آفتوں سے اللہ پاک کی پناہ !مشہورصَحابی حضرتِ عبدُاللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضورِ اکرم صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم نے اِرشاد فرمایا : انسان کی اکثر خطائیں اُس کی زَبان سے ہوتی ہیں۔ (معجم کبیر ، 10 / 197 ، حدیث : 10446)
روزانہ صُبح اَعضاء زَبان کی خوشامد کرتے ہیں
حضرت ابوسعید خُدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے : جب انسان صُبح کرتا ہے تو اُس کے تمام اَعضاء زَبان کے سامنے عاجِزانہ یہ کہتے ہیں : ہمارے بارے میں اللہ پاک سے ڈر!کیونکہ ہم تجھ سے وابستہ ہیں اگر تو سیدھی رہے گی تو ہم سیدھے رہیں گے اگر تو ٹیڑ ھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہوں۔ (ترمذی ، 4 / 183 ، حدیث : 2415)
جو دل میں ہوتا ہے وہی زَبان پر آتا ہے
مشہور مُفسِّرِقرآن حکیمُ الْاُمَّت حضر ت مفتی احمد یار خان رحمۃُ اللہ علیہ اِس حدیثِ پاک کے تحت فرماتے ہیں : نفع ونقصان ، راحت و آرام ، تکالیف وآلام میں (اے زبان!)ہم تیرے ساتھ وابستہ ہیں اگر تُو خراب ہو گی ہماری شامت آ جاوے گی تو دُرُست ہو گی ہماری عزّت ہو گی۔ خیال رہے کہ زَبان دل کی تَرجُمان ہے اس کی اچھائی بُرائی دل کی اچھائی بُرائی کا پتا دیتی ہے۔ (مرآۃالمناجیح ، 6 / 465)
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!واقعی زَبان اگرٹیڑھی چلتی ہے تو بعض اوقات فَسادات بر پا ہوجاتے ہیں ، اِسی زَبان سے اگر مرد اپنی بیوی کو طَلَاق کہہ دے تو(کئی صورَتوں میں) طلاقِ مُغَلَّظَہ واقِع ہوجاتی ہے ، اِسی زَبان سے اگر کسی کوبُرا بھلا کہا اوراُس کوطَیش(یعنی غصّہ) آگیا تو بعض اوقات قتل وغارَ ت گَرِی تک نوبت پَہنچ جاتی ہے۔ اِسی زَبان سے اگرکسی مسلمان کوبِلااجازتِ شَرعی ڈانٹ دیا اور اُس کی دل آزاری کر دی تویقینا ًاس میں گنہگاری اور جہنّم کی حقداری ہے۔ “ طَبَرانی شریف “ کی روایت میں ہے ، سرکارِ مدینہ صلی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلم کا فرمانِ عبرت نشان ہے : جس نے(بِلاوجہِ شرعی)کسی مسلمان کو اِیذادی اُس نے مجھے اِیذادی اور جس نے مجھے اِیذادی اُس نے اللہ پاک کو ایذا دی۔ (معجم ا وسط ، 2 / 386 ، حدیث : 3607)
[1]… مرنے والے كو یہ نہ كہا جائے كہ كلمہ پڑھ بلكہ تلقین كا صحیح طریقہ یہ ہے كہ سكرات والے كے پاس بُلند آواز سے كلِمہ شریف كا وِرد كیا جائے تاكہ اسے بھی یاد آجائے۔
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع