30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
میری ماں میری نیکیوں کی زیادہ حقدار ہے
حضرت سیِّدُنا عبد اللہ بن مبارَک رحمۃُ اللہ علیہ کے سامنے کسی نے غیبت کا تذکرہ کیا تو فرمایا : اگر میں کسی کی غیبت کرنا دُرُست جانتا تو اپنی ماں کی غیبت کرتا کیونکہ میری نیکیوں کی سب سے زیادہ حقدار وُہی ہے۔ (منہاج العابدین ، ص65)
ماں کے پورے حقوق ادا نہیں کئے جاسکتے
پیارے پیارےاسلامی بھائیو!دل کو چوٹ لگانے کیلئے اِس حِکایت میں عبرت کے کافی مَدَنی پھول ہیں ، گویا فرما رہے ہیں کہ نیکیاں چُونکہ انمول ہیں اور ماں کے حُقُوق سے بھی سُبکدَوشی ممکن نہیں لہٰذا اگر نیکیاں کسی کو دینی ہی ہوں تو انسان اپنی ماں ہی کو کیوں نہ دیدے !اِس حِکایت سے ماں کی اَہمیَّت کا بھی پتا چلتا ہے ۔ بَہَرحال غیبت میں کوئی بھلائی نہیں اِس میں رسوائی ہی رسوائی ہے۔
اے پیارے خدا از پئے سلطانِ مدینہ غیبت کی نُحوست سے مِری جان چھڑادے
حضرتِ سیِّدُنا عطاء خُراسانی رحمۃُ اللہ علیہ فرماتے ہیں : اگر کوئی آپ کی غیبت کرے تو پریشان نہ ہوں ، غیبت کرنے والا نادانِستہ طور پرآپ ہی کے ساتھ بھلائی کر رہا ہے!ہمیں یہ بات پہنچی ہے کہ جس کی ایک بار غیبت کی جائے اُس کے نِصف (یعنی آدھے)گناہ مُعاف ہو جاتے ہیں۔ (تنبیہ المغترِین ، ص194)
ایک بار حضرتِ سیِّدُنا حاتم اَصم رحمۃُ اللہ علیہ کی نماز ِتَہجُّد فوت ہو گئی تو زوجۂ محترمہ نے آپ رحمۃُ اللہ علیہ کو اس پر عار(یعنی غیرت)دلائی ۔ آپ رحمۃُ اللہ علیہ نے فرمایا : گزَشتہ شب کچھ افرادساری رات نوافِل میں مصروف رہے ہیں اور صبح انہوں نے میری غیبت کی ہے تو ان کی اس رات کی عبادت بروزِقیامت میرے میزانِ عمل(یعنی اعمال تُلنے کی ترازو)میں رکھ دی جائے گی۔ (منہاج العابدین ، ص66)
100برس کی نفلی عبادت اور ایک غیبت
اے عاشقانِ اولیا!بزرگانِ دین رحمۃُ اللہ علیہم کے فرامین میں حکمت کے بے شمار مَدَنی پھول ہوتے ہیں ، مذکورہ حِکایت میں غیبت کرنے والوں کو بڑے اچُھوتے انداز میں چوٹ لگائی گئی ہے تا کہ وہ غیبتیں کر کے اپنی عبادتیں داؤ پر نہ لگائیں ، اِس حِکایت سے یہ مَدَنی پھول بھی ملا کہ جو آدمی خواہ ساری ساری رات عبادات میں گزارے مگر غیبتوں سے باز نہ آئے تو اُس کی عبادات و رِیاضات اُن لوگوں کو دے دی جائیں گی جن کی غیبتیں اور حق تلفیاں کی ہیں!سچ پوچھو تو100برس کی نفلی عبادت کے مقابلے میں صِرف ایک بار کی غیبت زیادہ خطرناک ہے کیوں کہ اگر کوئی شخص زندگی میں کبھی بھی نفلی عبادت نہیں کرے گا تب بھی قِیامت میں اِس پر اُس کی گرِفت (یعنی پکڑ)نہیں ہے جب کہ غیبت میں ربُّ العزّت کی مَعصیَت (یعنی نافرمانی)اور ثوابِ آخِرت کی اِضاعَت(یعنی ضائِع ہونا)اورہلاکت ہے۔ دنیا کی ساری دولت کاہاتھ سے جاتے رہنا اگر چِہ نَفس پرگِراں بار ہے مگر حقیقت میں بَہُت چھوٹا نقصان ہے اور قِیامت میں “ ایک نیکی “ بھی اگر کسی کو حق تلفی کے عِوَض دینی پڑی تو خدا کی قسم یہ بَہُت بڑا نقصان ہے۔
میزاں پہ سب کھڑے ہیں اعمال تُل رہے ہیں رکھ لو بھرم خدارا عطّار ؔ قادِری کا
حاجت رَوائی اوربیمار پُرسی کی فضیلت
پیارے پیارےاسلامی بھائیو! غیبت کی بد خصلت سے جان چھڑایئے ، نیکیاں بچایئے بلکہ خوب بڑھایئے ، نیکیاں بڑھانے کے مکی مَدَنی نسخے اپنایئے اور جنّت الفردوس کے حقدار بن جایئے ، سبحانَ اللہ! کتنے خوش نصیب ہیں وہ اسلامی بھائی اور اسلامی بہنیں جواپنی زَبان کو نیکی کی دعوت ، سنتو ں بھرے بیان اور ذکر ودُرُود میں لگائے رکھتے ہیں۔ مسلمان کی حاجت روائی کرناکارِ ثواب ہے نیز بیمار یا پریشان مسلمان کو تسلّی دینا بھی زَبان کا عظیمُ الشان استِعمال ہے ۔ چُنانچِہ حضرت عبدُا للہ ا بنِ عمر رضی اللہ عنہما اورحضرتِ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے دونوں فرماتے ہیں : جو اپنے کسی مسلمان بھائی کی حاجت روائی کے لئے جاتاہے اللہ پاک اُس پر75ہزار مَلائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرماتا ہے ، وہ فرِشتے اس کے لئے دُعا کرتے ہیں اور وہ فارِغ ہونے تک رَحمت میں غو طہ زَن رَہتا ہے اور جب وہ اِس کام سے فارِغ ہوجاتاہے تو اللہ پاک اُس کے لئے ایک حج اور ایک عُمرے کا ثواب لکھتاہے ۔ اور جس نے مریض کی عِیادت کی اللہ پاک اُس پر 75 ہزار مَلائکہ کے ذَرِیعے سایہ فرمائے گا اور گھر واپس آنے تک اس کے ہرقدم اٹھانے پر اس کے لئے ایک نیکی لکھی جائے گی اور اس کے ہر قدم رکھنے پر اس کا ایک گناہ مٹادیا جائے گا اورایک دَرَجہ بلند کیا جائے گا ، جب وہ مریض کے ساتھ بیٹھے گا تورحمت اسے ڈھانپ لے گی اور اپنے گھر واپس آنے تک رَحمت اسے ڈھانپے رہے گی ۔ (معجم ا وسط ، 3 / 222 ، حدیث : 4396)
جب کسی کا بچّہ بیمار ہو جائے ، کوئی بے روز گار یا قرض دار ہوجائے ، حادِثے کا شکار ہو جائے ، چور یا ڈاکو مال لیکرفِرار ہو جائے ، کاروبار میں نقصان سے ہمکنار ہو جائے کوئی چیز گم ہو جانے کے سبب بے قرار ہو جائے ، اَلغَرَض کسی طرح کی بھی پریشانی سے دو چار ہو جائے اُس کی دِلجوئی کیلئے زَبان چلانا بَہُت بڑے ثواب کاکام ہے چُنانچِہ حضرتِ سیِّدُنا جابِر رضی اللہ عنہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع