30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
اپنے مالک ومولا عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دست ِدُعا دراز کر دیجئے اور یوں عرض کیجئے : ’’اے میرے مالک عَزَّوَجَلَّ! تیرا یہ کمزور وناتواں بندہ دُنیا وآخرت میں کامیابی کے لئے اس بد ُگمانی سے اپنے دِل کو بچانا چاہتاہے۔ اے میرے رب عَزَّوَجَلَّ! میری مدد فرمااور میری اس کوشش کو کامیابی کی منزل تک پہنچادے۔ اے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ! مجھے اپنے خوف سے معمور دِل ، رونے والی آنکھ اور لرزنے والا بدن عطا فرما ، اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔
جب بھی کسی مسلمان کے بارے میں دِل میں بُرا گُمان آئے تو اسے جھٹکنے کی کوشش کریں اور اس کے عمل پر اچھا گُمان قائم کرنے کی کوشش کریں ۔ مثلاً کوئی اِسلامی بھائی نعت یا بیان سنتے ہوئے اَشک بہا رہا ہو اور اسے دیکھ کر آپ کے دِل میں اس کے متعلق رِیاکاری کی بد ُگمانی پیدا ہو تو فوراً اس کے اِخلاص سے رونے کے بارے میں حسن ِظن قائم کر لیں ۔ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا فرمانِ عظمت نشان ہے :
لَوْ لَاۤ اِذْ سَمِعْتُمُوْهُ ظَنَّ الْمُؤْمِنُوْنَ وَ الْمُؤْمِنٰتُ بِاَنْفُسِهِمْ خَیْرًاۙ-وَّ قَالُوْا هٰذَاۤ اِفْكٌ مُّبِیْنٌ(۱۲) (پ۱۸ ، النور : ۱۲)
ترجمۂ کنزلایمان : کیوں نہ ہوا جب تم نے اسے سنا تھا کہ مسلمان مردوں اور مسلمان عورتوں نے اپنوں پر نیک گمان کیاہوتا اور کہتے یہ ُکھلا بہتان ہے۔
علّامہ محمد بن جریر طبری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی۳۱۰ھ) اس آیت کی تفسیر میں لکھتے ہیں : یعنی مؤمِنین ایک دوسرے کے بارے میں حسن ِظن قائم کریں اور اسے بیان بھی کریں اگرچہ یہ ُگمان یقین کے دَرَجے تک نہ پہنچا ہو ۔ (جامع البیان فی تاویل القراٰن ، پ ۲۶ ، الحجرٰت ، تحت الآیۃ ۱۲ ، ج۱۱ ، ص۳۹۴ ، ملخصا)
اس آیت کے تحت تفسیر خزائن العرفان میں ہے : ’’ مسلمان کو یہی حکم ہے کہ مسلمان کے ساتھ نیک ُگمان کرے اور بد ُگمانی ممنوع ہے ۔ ‘‘
’’ حُسنِ ظن‘‘ کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے حُسنِ ظن کے بارے میں 5روایات
(1)اچھا گمان عبادت ہے
اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے مَحبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے : ’’اچھا گُمان اچھی عبادت سے ہے۔ ‘‘
(سنن ابی داؤد ، کتاب الادب ، ج۴ ، ص۳۸۷ ، الحدیث۴۹۹۳)
حکیم الامت مفتی احمدیارخان نعیمی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۹۱ھ) اس حدیث کے مختلف مطالب بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں : ’’ یعنی مسلمانوں سے اچھا گُمان کرنا ، ان پر بد ُگمانی نہ کرنا یہ بھی اچھی عبادات میں سے ایک عبادت ہے۔ ‘‘(مراٰۃ المناجیح ، ج۶ ، ص ۶۲۱)
حضرت سیدناحارثہ بن نعمان رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نور کے پیکر ، تمام نبیوں کے سَرْوَر ، دو جہاں کے تاجْوَر ، سلطانِ بَحرو بَر صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’میری امت میں تین چیزیں لازِماً رہیں گی : بدفالی ، حَسَد اور بد ُگمانی۔ ‘‘ ایک صحابی رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے عرض کی : ’’یارسولُ اللّٰہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ! جس شخص میں یہ تین خصلتیں ہوں وہ ان کا کس طرح تدارُک کرے ؟‘‘ارشاد فرمایا : ’’جب تم حَسَد کرو تو اللّٰہ تعالیٰ سے اِسْتِغْفار کرو اور جب تم کوئی بد ُگمانی کرو تو اس پر جمے نہ رہو اور جب تم بدفالی نکالو تو اس کام کو کر لو۔ ‘‘
(المعجم الکبیر ، الحدیث ۳۲۲۷ ، ج۳ ، ص۲۲۸)
علّامہ محمد عبدالر ؤوف مناوی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۰۳۱ھ) فیض القدیر میں لکھتے ہیں : اس حدیث میں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تینوں خصلتیں اَمراضِ قلب میں سے ہیں جن کا عِلاج ضروری ہے جو کہ حدیث میں بیان کردیا گیا ہے ۔ بد ُگمانی سے بچنے کا طریقہ یہ ہے کہ دِل یا اعضاء سے اس کی تصدیق نہ کرے ۔ تصدیق ِقلبی سے مراد یہ ہے کہ اس ُگمان کو دِل پر جمالے اور اسے ناپسند نہ جانے اور اس (یعنی تصدیق ِقلبی) کی علامت یہ ہے کہ بد ُگمانی کرنے والا اس بُرے ُگمان کو زبان سے بیان کردے ۔ (فیض القدیر ، الحدیث ۳۴۶۵ ، ج۳ ، ص۴۰۱)
حُجَّۃُ الْاِسْلام اِمام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’’بد ُگمانی کے حرام ہونے کی وجہ یہ ہے کہ دِل کے بھیدوں کو صرف اللّٰہ تعالیٰ جانتا ہے۔ لہٰذا تمہارے لئے کسی کے بارے میں بُرا گُمان رکھنا اس وقت تک جائز نہیں ہے جب تک تم اس کی برائی اس طرح ظاہِر نہ دیکھو کہ اس میں تاوِیل کی گنجائش نہ رہے۔ پس اُس وقت تمہیں لامحالہ اسی چیز کا یقین رکھناپڑے گا جسے تم نے جانا اور دیکھا ہے ۔ اور اگر تم نے اُس کی برائی کو نہ اپنی آنکھوں سے دیکھا اور نہ ہی کانوں سے سنا مگر پھر بھی تمہارے دِل میں اس کے بارے میں بُرا گُمان پیدا ہو تو سمجھ جاؤ کہ یہ بات تمہارے دِل میں شیطان نے ڈالی ہے۔ اس وقت تمہیں چاہئے کہ دِل میں آنے والے اس ُگمان کو جھٹلا دو کیونکہ یہ سب سے بڑا فسق ہے۔ ‘‘ مزید لکھتے ہیں : ’’یہاں تک کہ اگر کسی شخص کے منہ سے شراب کی بُو آرہی ہو تو اس کوشرعی حد لگانا جائز نہیں کیونکہ ہوسکتا ہے کہ اس نے شراب کا گھونٹ بھرتے ہی کلّی کردی ہو یا کسی نے اسے زبردستی شراب پلادی ہو ، جب یہ سب احتمال موجود ہیں تو (ثبوتِ شرعی کے بغیر)محض قلبی خیالات کی بنا پر تصدیق کردینا اور اس مسلمان کے بارے میں بد ُگمانی کرنا جائز نہیں ہے ۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین ، کتاب آفات اللسان ، ج۳ ، ص۱۸۶)
(3)اچھی صورت پر محمول کرو
جلیل القدر تابعی حضرت سیدنا سعید بن مسیّب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ فرماتے ہیں : ’’اصحابِ رسول رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمْ میں سے میرے بعض بھائیوں نے مجھے لکھ کر بھیجا کہ اپنے مسلمان بھائی کے فعل کو اچھی صورت پر محمول کرو جب تک اس کے خلاف کوئی دلیل غالب نہ ہوجائے اور کسی مسلمان بھائی کی زبان سے نکلنے والے کلمے کو اس وقت تک بُرا گُمان نہ کرو جب تک کہ تم اسے کسی اچھی صورت پر محمول کر سکتے ہو اور جو خود اپنے آپ کو تہمت کے لئے پیش کرے اسے اپنے سوا کسی کو ملامت نہیں کرنی چاہئے ۔ ‘‘
(شعب الایمان ، باب فی حسن الخلق ، فصل فی ترک الغضب ، الحدیث۸۳۴۵ ، ج۶ ، ص۳۲۳)
حضرت عمر بن خطاب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کا فرمانِ نصیحت نشان ہے : ’’اپنے بھائی کی زبان سے نکلنے والے کلمات کے بارے میں بد ُگمانی مت کرو جب تک کہ تم اسے بھلائی پر مَحْمول کرسکتے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع