30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن مرید پر پیر کے حقوق کا بیان کرتے ہوئے کچھ یوں لکھتے ہیں : ’’(اپنے پیر سے متعلق) دِل میں بد ُگمانی کو جگہ نہ دے بلکہ یقین جانے کہ میری سمجھ کی غَلَطی ہے۔ ‘‘ (ماخوذ از فتاویٰ رضویہ ، ج۲۴ ، ص۳۶۹)
’’ہِدَایَت‘‘کے پانچ حُرُوف کی نسبت سے اولیاءُ اللّٰہ سے بد گُمانی کرنے والوں کی توبہ کی5حکایات
(1) سودا گر کی توبہ
علّامہ عبداللّٰہ بن اسعد یافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۷۶۸ھ) لکھتے ہیں : ایک صاحب ِ علم وفضل بیان کرتے ہیں کہ بغداد میں ایک سوداگر تھا جو اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی شان میں بدکلامی کیا کرتاتھا ۔ کچھ عرصہ بعد میں نے اسی شخص کو اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کی صحبت میں دیکھا اور کسی نے مجھے بتایا کہ اس نے اپنی ساری دولت انہیں پر لُٹا دِی ہے ۔ میں نے اس سوداگر سے اِس تبدیلی کی وجہ دریافت کی تو اس نے بتایا : ’’میں غَلَطی پر تھااور اس کا اِحساس مجھے اِس طرح ہوا کہ ایک مرتبہ جمعہ کی نَماز کے بعد میں نے حضرتِ سیِّدُنا بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کو دیکھا کہ بَہُت جلدی میں مسجِد سے نکل رہے ہیں ۔ میں نے سوچا کہ دیکھو تو سہی یہ شخص بڑا صوفی کہلاتا ہے اور تھوڑی دیر کے لئے مسجدمیں رُکنے کو تیار نہیں ۔ میں نے سب کچھ چھوڑ ا اور اپنے دِل میں کہا : دیکھوں تو سہی کہ یہ کہاں جاتے ہیں ؟ اور ان کے پیچھے پیچھے چل دیا ۔ انہوں نے بازار جاکر نان بائی سے نرم نرم روٹیاں خریدیں ، میں نے سوچا صُوفی صاحب کو دیکھئے نرم نرم روٹیاں لے رہے ہیں ، اس کے بعد آپ نے کباب والے سے ایک دِرہم کے کباب خریدے۔ یہ دیکھ کر میرا غصہ اور فُزُوں ہوا ۔ وہاں سے وہ حلوائی کی دُکان پر پہنچے اور ایک دِرہم کا فالُودہ لیا۔ میں نے دِل میں ٹھان لی کہ انہیں خریدنے دو ، جب یہ اسے کھانے بیٹھیں گے تو میں اِن کا مزہ کِرکرا کروں گا۔ سب چیزیں خریدنے کے بعد انہوں نے جنگل کی راہ لی ۔ میں نے سوچا انہیں بیٹھ کر کھانے کے لئے شاید سبزہ زار اور پانی کی تلاش ہے چنانچہ میں ان کے پیچھے لگا رہا حتی کہ عَصْر کے وقت آپ ایک گاؤں کی مسجِد میں پہنچے ، جہاں ایک بیمار آدمی موجود تھا ۔ آپ اس کے سرہانے بیٹھ کر اسے کھانا کھلانے لگے ۔ میں تھوڑی دیر کے لئے وہاں سے چلا گیا اور گاؤں کی سیر کو نکل گیا۔ جب میں واپس لوٹا تو حضرت بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی وہاں نہیں تھے۔ میں نے اس بیمار سے آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کے بارے میں پوچھا تو اس نے بتایا کہ وہ بغداد چلے گئے۔ میں نے پوچھا : ’’بغداد یہاں سے کتنی دُور ہے ؟‘‘اس نے بتایا : ’’تقریباً 120 میل۔ ‘‘ میری زبان سے نکلا : ’’ اِنَّا لِلّٰهِ وَ اِنَّاۤ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَؕ۔ ‘‘ مجھے اپنے کئے پر بَہُت پچھتاوا ہوا۔ میرے پلے اتنے پیسے نہ تھے کہ سواری پر جاؤں اور نہ جسم میں اتنی سکت کہ پیدل جاپہنچوں ۔ اس بیمار نے مشورہ دیا کہ حضرت بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کے آنے تک یہیں رہو۔ چنانچہ میں دوسرے جمعہ تک وہیں رُکا رہا ۔
اگلے جمعۃُ المبارک حضرت بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کھانا لے کر پھر سے بیمار کے پاس پہنچے ۔ جب آپ اسے کھانا کھلا چکے تو اس نے کہا : ’’اے ابونصر! یہ شخص گزشتہ جمعہ آپ کے پیچھے یہاں آیاتھا اور ہفتہ بھر سے یہیں پڑا ہوا ہے اسے واپس پہنچا دیجئے۔ ‘‘ حضرت بِشر حافی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے جلال سے میری طرف دیکھا اور پوچھا : ’’ میرے ساتھ کیوں آئے تھے ؟ ‘‘ میں نے کہا : ’’ مجھ سے غلطی ہوگئی۔ ‘‘ فرمایا : ’’ میرے پیچھے پیچھے چلے آؤ۔ ‘‘ میں ان کے پیچھے چلتا رہا حتی کہ مغرب کے وقت ہم شہر کے قریب جاپہنچے ۔ انہوں نے میرے محلے کے بارے میں پوچھا اور میرے بتانے کے بعد فرمانے لگے : ’’جاؤاور دوبارہ ایسا نہ کرنا۔ ‘‘ میں نے اسی وقت سے اولیائے کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام کے بارے میں بدگوئی سے توبہ کر لی اور ان کی صحبت اِختِیار کر لی اور اب اسی پر قائم رہوں گا ، اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔ (روض الریاحین ، الحکایۃ السابعۃ والثلاثون بعد المئتین ، ص۲۱۸ ، ملخصاً)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! دیکھا آپ نے کہ اولیاء کرام رَحِمَہُمُ اللّٰہُ السَّلَام سے بُغض وعَدَاوَت رکھنے اور اُن کے بارے میں بد ُگمانی کرکے ٹوہ میں پڑنے والے کو کتنی شرمندگی اُٹھانا پڑی ۔ اللّٰہ تعالیٰ ہمیں اپنے اولیاء سے حُسنِ عقیدت قائم رکھنے کی توفیق دے ، اٰمِین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ۔
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2) بد گُمانی کرنے والی کنیز
علّامہعبدالکریم بن ھوازن قشیری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۴۶۵ھ) رقم طراز ہیں : حضرت سیدناابوالحسن نوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی کی خادِمہ زیتونہ کا بیان ہے : ایک مرتبہ سخت سردی تھی ، میں نے حضرت سے پوچھا : ’’آپ کے لئے کچھ لاؤں ؟‘‘ توآپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دودھ اورروٹی لانے کا حکم فرمایا۔ میں مطلوبہ چیزیں لے کر حاضِر خدمت ہوئی تو دیکھا کہ آپ کے سامنے کچھ کوئلے پڑے تھے جنہیں آپ ہاتھ سے اُلٹ پلٹ رہے تھے ۔ آپ نے روٹی لی اور کھانا شروع کردی ۔ اب منظر یہ تھا کہ آپ روٹی کھا رہے تھے اور دُودھ آپ کے ہاتھ پر بہہ رہا تھا جس پر کوئلے کی کالک لگی ہوئی تھی ۔ یہ دیکھ کر میں نے دِل میں کہا : ’’الٰہی عَزَّوَجَلَّ! تیرے یہ ولی کس قدر گندے ہوتے ہیں ان میں سے کوئی بھی صفائی کا خیال رکھنے والا نہیں ہوتا۔ ‘‘
اِس کے بعد میں کسی کام سے گھر سے باہر نکلی تو اچانک ایک عورت آکر مجھ سے چمٹ گئی اور مجھ پراپنے کپڑوں کی گٹھڑی کی چوری کا اِلزام لگانے لگی۔ میرے فریاد کرنے کے باوُجُود لوگ مجھے پکڑ کرکَوتْوال کے پاس لے گئے۔ حضرت کو اِطّلاع ہوئی تو آپ تشریف لائے اور میرے حق میں سِفارِش فرمائی ۔ مگر کوتوال نے بصد ادب عرض کی : ’’حضرت میں اسے کیسے چھوڑ سکتا ہوں جبکہ یہ عورت اس پر چوری کا اِلزام لگارہی ہے ۔ ‘‘اتنے میں ایک لڑکی وہاں آئی جس کے پاس وہی گٹھڑی تھی اور میری جان بخشی ہوگئی۔ حضرت مجھے لے کر گھر واپس آئے اور فرمایا : ’’کیا اب دوبارہ کہو گی کہ اللّٰہ کے ولی کس قدر گندے ہوتے ہیں ۔ ‘‘یہ سن کرمیں حیران رہ گئی اور فوراً توبہ کر لی۔ (الرسالۃ القشیریۃ ، باب حدیث الغار ، ص۴۰۶)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(3) ولی کی طاقت
اِمامِ اہلسنّت مجددِ دین وملت شاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ) کا بیانِ حِکایت ہے : حضرت خواجہ نقشبند رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ بخارا میں حضرت امیر کلال رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ کا شُہرہ سن کر خدمت میں حاضِر ہوئے ۔ آپ نے دیکھا کہ مکان کے اندر خاص لوگوں کا مَجْمَع ہے اور اَکھاڑے میں کُشتی ہو رہی ہے ۔ حضرت بھی موجود ہیں اور کُشتی میں شریک
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع