دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Badgumani | بدگمانی

book_icon
بدگمانی

کہ فِی الْوَقت ہمارے دِل پر جن صِفَات کا غَلَبَہ ہے اِن میں   کتنی صِفات حَسَنہ (یعنی اچھی صِفات مثلاً سَخَاوَت ، اِخلاص ، رَحَم وغیرہ) ہیں   اور کتنی سَیِّئَہ(یعنی بُری مثلاً حَسَد ، تَکَبُّر ، بُغْض ، بد گمانی وغیرہ) ؟ پھر نتیجہ سامنے آنے پر اچھی صِفات کی بَقا کے لئے کمر بستہ ہوجائیں   اور بُری صفات سے چھٹکارے کی کوشِش شروع کردیں  ۔

            زیر ِنظر رِسالے  ’’بد ُگمانی‘‘ میں   دِل کو عارِض ہونے والی ایک صفت بد ُگمانی کے بارے میں  معلومات فراہِم کرنے کی کوشش کی گئی ہے مثلاً گُمان کسے کہتے ہیں  ؟ اِس کی کتنی اَقسام ہیں   ؟بد ُگمانی کب جائِز ہے اور کب ناجائز؟اس پر شَرْعی حکم کب لگے گا؟وغیرھا نیز اس کی ہلاکت خیزیوں   کے بیان کے بعد عِلاج کے طریقے بھی دَرَج کردئیے گئے ہیں۔ اِس رسالے کو مُرَتَّب کرنے کے لئے قرآن مجید ،  اِس کی 8تفاسیر ، 10کُتُبِ اَحادیث ، ان کی5 شُرُوحات ، فتاویٰ اَمْجَدِیَّہ ، فتاویٰ رَضَوِیَّہ ، فیضانِ سُنّت(جلد اوّل) اور12 دیگر کُتُب سے مَواد لیا گیا ہے ، علاوہ ازیں  تبلیغِ قراٰن وسنّت کی عالمگیر غیر سیاسی تحریک دعوتِ اِسلامی کی مرکزی مَجْلِسِ شوریٰ کے نگران مَدَّظِلُّہُ الْعَالِی کے کیسٹ بیان ’’بد ُگمانی‘‘ سے بھی بھر پور اِسْتِفَادَہ کیاگیا ہے(یہ کیسٹ بیان مکتبۃ المدینہ کی کسی بھی شاخ سے ھدیۃً حاصل کیا جاسکتا ہے)۔ اِس رِسالے میں  تقریباً 5 آیاتِ قرآنیہ ، 20احادیثِ مبارکہ اور 11حکایات شامل ہیں   ۔ اُمِّیدِ وَاثِق ہے کہ اِصْلَاحِ قَلْب کے سلسلے میں   یہ رسالہ بَہُت مُفِیْد ثابِت ہوگا ، اِنْ شَآءاللّٰہ عَزَّوَجَلَّ۔

            اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اَہلسنّت ، مولیٰنا شاہ اِمام اَحمد رَضا خان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ جلد 23 صفحہ 624 تا 626 پر لکھتے ہیں  : ’’مُحَرَّمَاتِ باطِنیہ (باطنی ممنوعات مَثَلاً) تکبُّر و رِیا و عُجْب (یعنی غرور)و حَسَد وغیرہا اور اُن کے مُعَالَجَات (یعنی علاج) کہ ان کا علم بھی ہر مسلمان پر اہم فرائض سے ہے۔ ‘‘ اس رسالے کو نہ صرف خود پڑھئے بلکہ دوسرے اِسلامی بھائیوں   کو اس کے مطالعہ کی ترغیب دے کر ثواب ِ جاریہ کے مستحق بنئے ۔ اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا ہے کہ ہمیں   ’’اپنی اور ساری دُنیا کے لوگوں   کی اصلاح کی کوشش‘‘ کرنے کیلئے مَدَنی انعامات پر عمل کرنے اور مَدَنی قافلوں   کا مسافر بنتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے اور دعوت ِ اسلامی کی تمام مجالس بشمول مَجْلِس اَلْمَدِیْنَۃُ الْعِلْمِیَّۃ کو دن گیارہویں   رات بارہویں   ترقی عطا فرمائے۔

  اٰمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْاَمِین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ

شعبہ اصلاحی کتب (مجلس المدینۃ العلمیۃ )

اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ رَبِّ الْعٰلَمِیْنَ وَ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامُ عَلٰی سَیِّدِ الْمُرْسَلِیْنَ ط

اَمَّا بَعْدُ فَاَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْمِ ط  بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم ط

دُرُودِ پاک کی فضیلت

            سرکارِ والا تَبار ، ہم بے کسوں   کے مددگار ، شفیع ِروزِ شمار ، دو عالَم کے مالک و مختار ، حبیب ِپروَرْدَگار صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا فرمانِ رحمت نشان ہے : ’’ اے لوگو! بے شک بروزِ قیامت اسکی دَہشتوں   اورحساب کتاب سے جلد نجات پانے والا شخص وہ ہوگا جس نے تم میں   سے مجھ پر دُنیا کے اندر بکثرت دُرُود شریف پڑھے ہوں   گے ۔ ‘‘ (فردوس الاخبار  ،  الحدیث ۸۲۱۰  ، ج۲  ، ص ۴۷۱)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                        صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نقصان اُٹھانے والا تاجِر

           ایک بُزُرگ فرماتے ہیں   کہ میں   ایک مسجِد میں   نماز ادا کرنے گیا۔ وہاں   میں   نے دیکھا کہ ایک مالدار تاجِربیٹھا ہے اور قریب ہی ایک فقیردُعا مانگ رہا ہے : ’’یا الٰہی عَزَّوَجَلَّ! آج میں   اِس طرح کا کھانا اور اِس قِسْم کا حلوہ کھانا چاہتا ہوں  ۔ ‘‘ تاجِر نے یہ دُعا سن کر بد ُگمانی کرتے ہوئے کہا : ’’اگر یہ مجھ سے کہتا تو میں   اِسے ضرور کھلاتا مگر یہ بہانہ سازی کررہا ہے اور مجھے سُنا کر اللّٰہ تعالیٰ سے دُعا کررہا ہے تاکہ میں   سُن کر اسے کھلا دوں  ، وَاللّٰہ! میں   تو اسے نہیں   کھلاؤں   گا ۔ ‘‘ وہ فقیر دُعا سے فارغ ہوکر ایک کونے میں   سورہا۔ کچھ دیر بعد ایک شخص ڈھکا ہو اطَبَاق لے کر آیا اور دائیں بائیں   دیکھتا ہوا فقیرکے پاس گیا اور اسے جگانے کے بعد وہ طَباق بصد عاجزی اس کے سامنے رکھ دیا۔ تاجِر نے غور سے دیکھا تو یہ وُہی کھانے تھے جن کے لئے فقیر نے دُعا کی تھی ۔ فقیر نے حسب ِ خواہِش اس میں   سے کھایا اور بقیہ واپس کردیا۔

             تاجِر نے کھانا لانے والے کو اللّٰہ تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھا : ’’کیا تم اِنہیں   پہلے سے جانتے ہو ؟‘‘کھانا لانے والے نے جواب دیا : ’’بخدا! ہرگز نہیں   ، میں   ایک مزدور ہوں   میری زوجہ اور بیٹی سال بھر سے ان کھانوں   کی خواہش رکھتی تھیں   مگر مہیا نہیں   ہوپاتے تھے ۔ آج مجھے مزدوری میں   ایک مِثْقَال(یعنی ساڑھے چار ماشے) سونا ملا تو میں  نے اس سے گوشت وغیرہ خریدا اور گھر لے آیا۔ میری بیوی کھانا پکانے میں   مصروف تھی کہ اس دوران میری آنکھ لگ گئی۔ آنکھیں   تو کیا سوئیں   ، سوئی ہوئی قسمت انگڑائی لے کر جاگ اُٹھی ، مجھے خواب میں   حضور سرورِ عالم ، نورِ مجسم ، شاہِ بنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  کا جلوۂ زیبا نظر آگیا ، میں   نظارۂ محبوب میں   گم تھا کہ لَبْہَائے مُبَارَکَہ کو جُنْبِش ہوئی ، رحمت کے پھول جھڑنے لگے اور اَلفاظ کچھ یوں   ترتیب پائے : ’’آج تمہارے علاقے میں   اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کا ایک ولی آیا ہوا ہے ، اُس کا قِیام مسجِد میں   ہے۔ جو کھانے تم نے اپنے بیوی بچوں   کے لئے تیار کروائے ہیں   اِن کھانوں   کی اسے بھی خواہش ہے ، اس کے پاس لے جاؤ وہ اپنی خواہش کے مطابق کھا کر واپس کردے گا ، بقیہ میں   اللّٰہ تعالیٰ تیرے لئے بَرَکت عطا فرمائے گا اور میں   تیرے لئے جنت کی ضمانت دیتا ہوں   ۔ ‘‘ نیندسے اُٹھ کر میں   نے حکم کی تعمیل کی جس کو تم نے بھی دیکھا۔

            وہ تاجِر کہنے لگا : ’’ میں   نے اِن کو اِنہی کھانوں   کے لئے دُعا مانگتے سنا تھا ، تم نے ان کھانوں   پر کتنی رقم خرچ کی ؟‘‘ اس شخص نے جواب دیا : ’’مثقال بھر سونا۔ ‘‘ اس تاجِر نے اسے پیش کش کی : ’’کیا ایسا ہوسکتا ہے کہ مجھ سے دس مثقال سونا لے لواور اس نیکی میں   مجھے ایک قیراط کا حصہ دار بنا لو ؟‘‘ اس شخص نے کہا : ’’یہ نامُمْکِن ہے ۔ ‘‘ اُس تاجِر نے اِضافہ کرتے ہوئے کہا : ’’اچھا میں   تجھے بیس مثقال سونا دے دیتا ہوں  ۔ ‘‘ اس شخص نے اپنے اِنکار کو دُہرایا حتی کہ اس تاجِر نے سونے کی مقدار بڑھا کر پچاس پھر سو مثقال کردی مگر وہ شخص اپنے اِنکار پر ڈٹا رہا اور کہنے لگا : ’’وَاللّٰہ! جس شے کی ضمانت رسولِ اکرم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے دی ہے ، اگر تو اس کے بدلے ساری دُنیا کی دولت بھی دیدے پھر بھی میں   اسے فروخت نہیں   کروں   گا ، تمہاری قسمت میں   یہ چیز ہوتی تو تم مجھ سے پہل کرسکتے تھے لیکن اللّٰہ تعالیٰ اپنی رحمت کے ساتھ خاص کرتا ہے جسے چاہے۔ ‘‘ تاجِر نہایت نادِم وپریشان ہوکر مسجد سے چلا گیا گویا اس نے اپنی قیمتی مَتَاع کھو دی ہو۔  

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن