30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
یَوْمَىٕذٍ یَّصْدُرُ النَّاسُ اَشْتَاتًا ﳔ لِّیُرَوْا اَعْمَالَهُمْؕ(۶)فَمَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَیْرًا یَّرَهٗؕ(۷)وَ مَنْ یَّعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا یَّرَهٗ۠(۸) (پ۳۰ ، الزلزال : ۶۔ ۸)
ترجمۂ کنزالایمان : اس دن لوگ اپنے رب کی طرف پھریں گے کئی راہ ہوکر تاکہ اپنا کیا دکھائے جائیں تو جو ایک ذرہ بھر بھلائی کرے اسے دیکھے گا اور جو ایک ذرّہ بھر بُرائی کرے اسے دیکھے گا۔
اس کے بعد بارگاہِ ربُّ الاَنام عَزَّوَجَلَّ سے پروانۂ بخشش جاری ہوگا یا (مَعَاذَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ) دُخولِ جہنم کا حکم ملے گا ۔ ( نَسْئَلُ الْعَافِیَۃَ یعنی ہم عَافِیَّت کا سُوال کرتے ہیں ۔ )
گرتُوناراض ہوا میری ہلاکت ہوگی! ہائے! میں نارِ جہنم میں جلوں گا یاربّ (عَزَّوَجَلَّ)
عَفْوکر اور سدا کے لئے راضی ہوجا گر کرم کردے تو جنت میں رہوں گا یاربّ (عَزَّوَجَلَّ)
(اَرمغانِ مدینہ از امیر ِاہلسنّت دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!گناہ یا نیکی کے اِرتکاب میں جِسْم کے ظاہِری اَعضاء مثلاً ہاتھ ، پاؤں ، آنکھ وغیرہ کا کِردارتو سب پر وَاضِح ہے مگر اِس طرف عموماً ہماری تَوَجُّہ نہیں ہوتی کہ سینے میں دھڑکنے والا دِل بھی ہمارے نامۂ اعمال میں نیکیوں یا گناہوں کے اِضافے میں اِن کے ساتھ برابر کا شریک ہے ۔ چنانچہ جب میدانِ مَحشَرمیں آنکھ کان وغیرہ سے حساب لیا جائے گا تو یہ دِل بھی ان کے ساتھ شریک ہوگا ۔ قراٰن پاک میں اِرشاد ہوتا ہے :
اِنَّ السَّمْعَ وَ الْبَصَرَ وَ الْفُؤَادَ كُلُّ اُولٰٓىٕكَ كَانَ عَنْهُ مَسْـٴُـوْلًا (۳۶) (پ۱۵ ، بنی اسرائیل : ۳۶)
ترجمۂ کنزالایمان : بے شک کان اور آنکھ اور دِل ان سب سے سوال ہونا ہے۔
اس آیت کے تحت علّامہ محمد بن احمد اَنصاری قرطبی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی ۶۷۱ھ) تفسیر ِقُرْطبی میں لکھتے ہیں کہ ’’یعنی ان میں سے ہر ایک سے اس کے استعمال کے بارے میں سُوال ہوگا ، چنانچہ دِل سے پوچھا جائے گا کہ اِس کے ذریعے کیا سوچا گیا اور پھرکیا اِعتِقاد رکھا گیا جبکہ آنکھ اور کان سے پوچھا جائے گا تمہارے ذریعے کیا دیکھا اور کیاسُنا گیا ۔ ‘‘
(الجامع لاحکام القراٰن ، الاسراء ، تحت الآیۃ ۳۶ ، ج۵ ، ص۱۸۸)
جبکہ علّامہ سیِّد محمود آلُوسی بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۲۷۰ھ) تفسیر روح المعانی میں اِسی آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ ’’ یہ آیت اس بات پر دلیل ہے کہ آدمی کے دِل کے اَفعا ل پر بھی اس کی پکڑ ہوگی مثلاً کسی گناہ کا پختہ اِرادہ کرلینا ۔ ۔ یا۔ ۔ دِل کا مختلف بیماریوں مثلاًکینہ ، حَسَد اور خود پسندی وغیرہ میں مُبتَلا ہوجانا ، ہاں علماء نے اس بات کی صَرَاحَت فرمائی کہ دِل میں کسی گناہ کے بارے میں محض سوچنے پر پکڑ نہ ہوگی جبکہ اِس کے کرنے کا پختہ اِرادہ نہ رکھتا ہو ۔ ‘‘ (روح المعانی ، پ۱۵ ، الاسرائ ، تحت الآیۃ ۳۶ ، ج۱۵ ، ص۹۷)
دِل کو عَرَبی زبان میں قَلْبٌ (یعنی بدلنے والا)کہتے ہیں اور اسے قلب کہنے کی وجہ یہ ہے کہ یہ مختلف اوقات میں مَحْمُود ومَذْمُوم (یعنی پسندیدہ و ناپسندیدہ) دونوں قسم کی کیفیات سے دوچار ہوتا ہے۔ (مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الایمان ، ج۱ ، ص۳۰۴) اِس حقیقت کو فرمانِ نبویعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَاممیں یوں بیان کیا گیا ہے : ’’دِل کی مثال اس پَر کی سی ہے جو میدانی زمین میں ہو جسے ہوائیں ظاہِر باطِن اُلٹیں پلٹیں ۔ ‘‘ (المسند للامام احمد بن حنبل ، حدیث ابی موسیٰ الاشعری ، الحدیث۱۹۷۷۸ ، ج۷ ، ص۱۷۸)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!واقِعی اگر ہم اپنے دِل پر غور کریں تو یہ نتیجہ سامنے آئے گا کہ کبھی اس پر رَحَم غالِب ہوتا ہے اور کبھی سختی اسے جکڑ لیتی ہے ، کبھی سَمُنْدَرِ سَخَاوَت ٹھاٹھیں مارتا ہے تو کبھی بُخل (یعنی کنجوسی ) کا طوفان اپنی ہلاکت خیزیاں دِکھاتا ہے ، کبھی توعاجزی کا ایسا پیکر کہ کتّے کو بھی حَقِیر نہ جانے اور کبھی ایسا مُتَکَبِّر کہ بڑوں بڑوں کوخاطر میں نہ لائے ، کبھی تو ایسا مُخْلِص کہ اپنا نیک عمل ظاہِر ہونے پر پریشان ہوجائے اور کبھی ایسی حالت کہ تعریف نہ ہونے پر مَلَال محسوس کرے ، کبھی ایسا صابِر کہ بڑی سے بڑی مُصیبت پر اُف تک نہ کرے اور کبھی ایسی بے صبری کہ ذَرَا سی تکلیف پرواویلا مچادے ، کبھی تو اپنے رب عَزَّوَجَلَّ کا ایسا خوف کہ گناہ کرنے کے تَصَوُّر ہی سے گھبرائے اور کبھی ایسی غَفْلَت کہ بڑے بڑے گناہ کرنے کے بعد بھی آثارِ نَدَامَت دِکھائی نہ دیں ، کبھی تو عشقِ رسول (صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ) کا ایسا جذبہ کہ زبانِ حال سے پکار اُٹھے :
میرے تو آپ ہی سب کچھ ہیں رحمتِ عالَم
میں جی رہا ہوں زمانے میں آپ ہی کے لئے
اور کبھی دُنیا کی محبت کا ایسا غَلَبہ کہ اِسی کو اپنا سب کچھ سمجھ بیٹھے ، کبھی تو مسلمانوں کی خیرخواہی کا ایسا جذبہ کہ خود نُقصان اُٹھا کر بھی دوسروں کا بھلا کرے اور کبھی ایسا خود غَرَض کہ اپنے فائدے کے لئے مسلمان بھائی کو نُقصان پہنچانے سے بھی دریغ نہ کرے ، کبھی تو ایسا اِسْتِغناء (یعنی بے نیازی)کہ جائے عزت پر باوجودِ اِصرار نہ بیٹھے اور کبھی ایسی حُبِّ جاہ (یعنی عزت کی خواہش)کہ نُمایاں جگہ نہ ملنے پر منہ پھلائے بلکہ اس مَحْفِل سے ہی رُخصت ہوجائے ، کبھی تو ایسی قناعت کہ حَاجَت سے زائد مال ملے بھی تولینے پر تیار نہ ہو اور کبھی ایسی لالچ کہ کثیرمال ہونے کے باوُجُود مال بڑھانے کی کوشش میں لگارہے ، کبھی تو ایسی حیاء کہ تنہائی میں بھی خلاف ِ حیاء کام نہ کرے اور کبھی ایسی بے باکی کہ لوگوں کے سامنے بھی بے حیائی کے کام کرنے سے نہ شرمائے ، عَلٰی ھٰذَا الْقِیَاس۔
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! دِل میں ہونے والی یہ تبدیلیاں اِنتِہائی تَشْوِیش ناک ہیں لہٰذا ہمیں اِس کی طرف سے ہرگز کوتاہی نہیں برتنی چاہئے۔ اس کے لئے ہمیں اوّلاً بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں قلب ِ سَلیم(یعنی اچھی باتوں کا اثر قبول کرنے والے دِل)کا سوال کرنا چاہئے۔ ہمارے میٹھے میٹھے آقا صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ جن کے قلب ِ اَطْہَر سے جارِی ہونے والے رُوحانی چشموں سے ساراعالَم سَیراب ہو رہا ہے ، وہ بھی اللّٰہ تعالیٰ سے اس طرح دُعا کیا کرتے : ’’یَا مُقَلِّبَ الْقُلُوْبِ ثَبِّتْ قَلْبِیْ عَلٰی دِیْنِکَ یعنی اے دِلوں کو پھیرنے والے! میرے دِل کو اپنے دین پر قائم رکھ ۔ ‘‘
(المسند للامام احمد بن حنبل ، مسند انس بن مالک ، الحدیث۱۲۱۰۸ ، ج۴ ، ص۲۲۵)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو!بارگاہِ خداوندی میں دُعا کے ساتھ ساتھ اِصلاحِ قلب کے لئے عَمَلی کوشِش کرنا بھی بَہُت ضروری ہے ۔ اِس کے لئے ہمیں سب سے پہلے اپنے دِل کا مُحَاسَبَہ کرنا چاہئے
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع