30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
(iii)… سورۂ اِخلاص گیارہ بار صبح (آدھی رات ڈھلے سے سورج کی پہلی کرن چمکنے تک صبح ہے) پڑھنے والے پر اگر شیطان مع لشکر کے کوشش کرے کہ اس سے گناہ کرائے تو نہ کراسکے جب تک کہ یہ خود نہ کرے ۔ (الوظیفۃ الکریمہ ، الاذکار الصباحیۃ ، ص۱۸)
(iv)… سورۃُ الناس پڑھ لینے سے بھی وسوسے دُور ہوتے ہیں ۔
(v)… جو کوئی صبح وشام اکیس اکیس بار ’’ لَاحَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلاَّ بِاللّٰہِ الْعَلِیِّ الْعَظِیْمِ‘‘ پانی پر دم کرکے پی لیا کرے تو اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ وسوسۂ شیطانی سے بَہُت حد تک امن میں رہے گا ۔
(مراٰۃ المناجیح ، باب الوسوسۃ ، ج۱ ، ص۸۷)
(vi)…’’ هُوَ الْاَوَّلُ وَ الْاٰخِرُ وَ الظَّاهِرُ وَ الْبَاطِنُۚ-وَ هُوَ بِكُلِّ شَیْءٍ عَلِیْمٌ(۳) ‘‘ کہنے سے فوراً وسوسہ دُور ہوجاتا ہے ۔
(vii)… سُبْحٰنَ الْمَلِکِ الْخَلاَّقِ ط اِنْ یَّشَاْ یُذْهِبْكُمْ وَ یَاْتِ بِخَلْقٍ جَدِیْدٍ ط وَ مَا ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ بِعَزِیْزٍ()
کی کثرت اسے (یعنی وسو سے کو) جڑ سے قطع کردیتی ہے۔ (فتاویٰ رضویہ تخریج شدہ ، ج۱ ، ص۷۷۰)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اگراوراد ووظائف پڑھنے اور دیگر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کے باوُجُود بد ُگمانی کے مرض سے جان نہ چھوٹے تو گھبرائیے نہیں بلکہ مسلسل کوشش جاری رکھئے ۔ حضرت سیدنا اِمام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی ۵۰۵ھ) فرماتے ہیں : ’’ اگر تم محسوس کرو کہ شیطان ، اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ سے پناہ مانگنے کے باوُجُود تمہارا پیچھا نہیں چھوڑتا اور غالب آنے کی کوشش کرتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کو ہمارے مجاہدے ، ہماری قوت اور صَبْر کا امتحان مقصود ہے یعنی اللّٰہ تعالیٰ آزماتا ہے کہ تم شیطان سے مُقابَلَہ اور مُحاربہ کرتے ہو یا اس سے مغلوب ہوجاتے ہو ۔ “ (منہاج العابدین ، العائق الثالث : الشیطٰن ، ص۴۶ ، ملخصاً)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! اپنے آپ کو بد ُگمانی سے بچانے کے ساتھ ساتھ ایسے کاموں سے بھی بچئے جن کے سبب دوسروں کے بد ُگمانی میں مبتلا ہونے کا اندیشہ ہو۔ حضرت سیدنا ابن عمر رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُمَا سے مروی ہے کہ حضورِ پاک ، صاحبِ لَولاک ، سیّاحِ افلاک صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ نصیحت نشان ہے : ’’ جب تین آدمی ہوں تو تیسرے کو چھوڑ کر دو آدمی سرگوشی نہ کریں ۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الاستئذان ، الحدیث۶۲۸۸ ، ج۴ ، ص۱۸۵)
حضرت سیدنا ملّاعلی قاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْبَارِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۰۱۴ھ) اس حدیث کے تَحَت لکھتے ہیں : ’’تاکہ وہ یہ ُگمان نہ کرے کہ یہ دونوں اس کے خلاف سرگوشی کر رہے ہیں ۔ ‘‘
(مرقاۃ المفاتیح ، کتاب الآ داب ، ج۸ ، ص۶۹۹)
اس کے علاوہ جب آپ محسوس کریں کہ آپ کے کسی فعل کی بنا پر کوئی بد ُگمانی میں مُبتَلا ہوسکتا ہے تو اس کی روک تھام کی ترکیب کیجئے ۔
’’مَدَد‘‘ کے تین حُرُوف کی نسبت سے دوسروں کو بد گُمانی سے بچانے کی 3حکایات
(1) یہ میری زوجہ ہے
حضرت سیدنا علی بن حسین رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ مسجد میں (مُعْتَکِف) تھے۔ اور آپ کے پاس اَزواجِ مطہرات موجود تھیں وہ اپنے کمروں کو چلی گئیں تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے حضرت سیِّدتنا صفیہ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہا سے فرمایا : ٹھہرو میں بھی (تھوڑی دُور تک) تمہارے ساتھ چلتا ہوں ۔ آپ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ ان کے ساتھ چلے تو دواَنصاری صحابہ ملے جو آپ کو دیکھ کر آگے بڑھ گئے ۔ آپ نے ان دونوں کو بُلا کر اِرشاد فرمایا : ’’ یہ (میری زوجہ) صفیہ بنت حیی ہے۔‘‘
انہوں نے عرض کی : سُبْحَانَ اللّٰہ! یا رسولَ اللّٰہ! (یعنی یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم آپ سے بد ُگمانی کریں )۔ آپ نے ارشاد فرمایا : ’’شیطان ، انسان کے جسم میں خون کی طرح دوڑتا ہے تو میں نے خوف محسوس کیا کہ کہیں وہ تمہارے دِل میں کوئی وَسْوَسَہ نہ ڈال دے ۔ ‘‘ (صحیح البخاری ، کتاب الاعتکاف ، باب زیارۃ المرأۃ۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث۲۰۳۸ ، ج۱ ، ص۶۶۹)
شارح بخاری علّامہ ابن حجرعسقلانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی (اَلْمُتَوَفّٰی۸۵۲ھ) فتح الباری میں لکھتے ہیں : ’’اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ ایسے کاموں سے بچا جائے جو کسی کو بد ُگمانی میں مبتلا کرسکتے ہوں ۔ علماء ومُقْتَدٰی ہستیوں کو تو بطور خاص ہر اس کام سے بچنا چاہئے جس کی وجہ سے لوگ ان سے بدظن ہوجائیں اگرچہ اس کام میں ان کے لئے خُلاصی کی راہ موجود ہو کیونکہ بدظن ہونے کی صورت میں لوگ ان کے علم سے نفع نہیں اُٹھا پائیں گے۔ (فتح الباری ، الحدیث ۲۰۳۵ ، ج۴ ، ص۲۴۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
(2) اَرَنْڈِی کا تیل
ملک العلماء مولانا محمد ظفر الدین بہاری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی (اَلْمُتَوَفّٰی ۱۳۸۲ھ) ’’حیاتِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ‘‘ میں رقم طرازہیں : مولانا سید ایوب علی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْغَنِی کا بیان ہے برسات کا موسم تھا ، عشا ء کے وقت ہوا کے تیز جھونکے مسجد کے َکڑوے تیل کا چراغ باربار ُگل کردیتے تھے ، جس کے روشن کرنے میں بارش کی وجہ سے سخت دِقّت ہوتی تھی۔ اور اس کی وجہ ایک یہ بھی تھی کہ خارِجِ مسجد دِیا سلائی جلانے کا حکم تھا ۔ اس زمانہ میں ناروے کی دِیا سلائی استعما ل کی جاتی تھی ، جس کے روشن کرنے میں گندھک کی بو نکلتی تھی ، لہٰذا اس تکلیف کی مدافعت حضو ر کے خا دِم خاص حاجی کِفایتُ اللّٰہ صاحب نے یہ کی کہ’’ ایک لالٹین میں معمو لی شیشے لگو اکر کپی میں اَرَنْڈِی کا تیل ڈالا اور روشن کر کے اِمام اہلسنّت اعلیٰ حضرت مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کے ساتھ ساتھ مسجد کے اندر لے جا کر رکھ دی۔ ‘‘ تھوڑی دیر ہوئی کہ اعلیٰ حضرت عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن کی نظر اس پر پڑی ، ارشاد فرمایا : ’’ حاجی صاحب! آپ نے یہ مسئلہ بارہا سنا ہوگا
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع