دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Badgumani | بدگمانی

book_icon
بدگمانی

ہیں  ۔ ‘‘ اور فرماتے : ’’ اے بھائیو!تم پر ایسے اَمْر کا اِختِیار کرنا لازِم ہے کہ جس میں   تم دُرُست ہو تو اجر وثواب کے حقدار ٹھہرواور اگر تم خطا پر ہوتو گنہگارنہ ہواورہر ایسے کام سے بچو کہ اگر تم اس میں   دُرُست ہو تو تمہیں   اجر نہ ملے اور اگر تم اس میں   خطا کے مرتکب ہوجاؤ تو گناہ گارقرار پاؤ۔ ‘‘ان سے پوچھا گیا : ’’ وہ کیا ہے؟ ‘‘ فرمایا : ’’لوگوں   سے بد ُگمانی رکھنا کیونکہ اگر تمہارا گُمان دُرُست ثابت ہوا تو بھی تمہیں   اس پر اجر و ثواب نہیں   ملے گا لیکن اگر ُگمان غلط ثابت ہوا تو گنہگار ٹھہروگے ۔ ‘‘ (حلیۃ الاولیاء  ، ج۲ ، ص ۲۵۷ ، الحدیث۲۱۴۳)

حُسنِ ظن میں   کوئی نقصان نہیں   :

            امیر ِاہلسنّت حضرت علّامہ مولانا ابو بلال محمد الیاس عطارؔ قادری دَامَتْ بَرَکَاتُہُمُ الْعَالِیَہ فرماتے ہیں  : ’’حسن ِظن میں   کوئی نقصان نہیں   اور بد ُگمانی میں   کوئی فائدہ نہیں  ۔ ‘‘

آٹھواں   علاج:

            جب بھی کسی کے بارے میں  بد ُگمانی پیدا ہوتو خود کو اس طرح سمجھائیے کہ مجھ پر اس کے باطنی حالات کی تفتیش واجب نہیں   ہے ، اگر یہ واقعتا اسی شے میں   مبتلا ہے جو میرے دِل میں   آئی تو یہ اس کا اور اس کے رب عَزَّوَجَلَّ کا معاملہ ہے اور اگر یہ اس شے سے محفوظ ہے تو میں   بد ُگمانی میں   مبتلا رہ کر عذابِ نار کا حق دار کیوں   بنوں  ۔ حضرت طلحہ بن عبداللّٰہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مروی ہے کہ نبی مُکَرَّم ، نورِ مُجسَّم ، رسولِ اکرم ، شہنشاہ ِبنی آدم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ  نے فرمایا : ’’بے شک ظن غلط بھی ہوسکتا ہے اور صحیح بھی۔ ‘‘ (الدرالمنثور ، ج۷ ، الحجرٰت ،  تحت الآیۃ۱۲ ، ص ۵۶۵)

          حُجَّۃُ الْاِسْلام اِمام محمدغزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) فرماتے ہیں  : ’’جب تمہارے دِل میں   کسی کے بارے میں   بد ُگمانی آئے تو تمہیں   چاہئے کہ اس کی طرف دھیان نہ دو اور اس بات پر مضبوطی سے قائم رہو کہ اس شخص کا حال تم سے پوشیدہ ہے اور جو تم نے اس کے بارے میں   دیکھا ہے اس میں   اچھی اور بُری دونوں   باتوں   کا احتمال ہے۔ ‘‘  

 (احیاء علوم الدین  ،  کتاب آفات اللسان ، ج۳ ، ص۱۸۶)

            علّامہ عبدالغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ) لکھتے ہیں   : جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو (یعنی اس کے نیک ہونے کا بھی احتمال ہو اور بد ہونے کا بھی) تو اس سے حسن ِظن رکھنامستحب اور اس کے بارے میں   بد ُگمانی حرام ہے۔ اور جب معاملہ بَہُت پیچیدہ ہوجائے (یعنی نہ تو حسن ِظن رکھا جاسکے اورنہ بد ُگمانی کی شرعی اِجازت کی شرائط پائی جائیں   ) تومظنون کو اس کے حال پر چھوڑ دینا واجب ہے خصوصاً اس وقت کہ جب وہ ظاہِری طور پر عادِل (یعنی نیک) ہو۔  (الحدیقۃ الندیۃ  ، ج۲ ، ص۱۶ ، ۱۷ملخصًا)

سال بھر کی محرومی

          حضرت سیدنا مکحول دمشقی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی فرماتے ہیں  : ’’ جب تم کسی کو روتا ہوا دیکھو تو تم بھی روؤاور اسے ریا کاری نہ سمجھو میں   نے ایک دفعہ کسی شخص کے بارے میں   یہ خیال کیا تو میں   ایک سال تک رونے سے محروم رہا۔ ‘‘ (تنبیہ المغترین ، باب رقۃ قلوبھم وکثرۃ بکائھم ، ص۱۰۷)

صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب                       صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

نواں   علاج :

            اپنے دِل کوستھرا رکھنے کی کوشش کیجئے اس کے لئے یادِ موت اور فکر ِآخرت کرنابے حد مفید ہے ۔ اعلیٰ حضرت ، اِمامِ اہلسنّت ، عظیم المرتبت ، پروانۂ شمعِ رسالت شاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ) فتاویٰ رضویہ جلد 20 صفحہ231 پر حضرت سیدنا عارف بِاللّٰہ احمد زرّوق رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  کا قول نقل فرماتے ہیں   : ’’ خبیث ُگمان خبیث دِل سے نکلتا ہے ۔ ‘‘ (الحدیقۃ الندیۃ ، الخلق الرابع والعشرون ، ج۲ ، ص۸)

دسواں   علاج :

            جب بھی کسی اِسلامی بھائی کے بارے میں   دِل میں   بد ُگمانی آئے تو اس کے لئے دُعائے خیر کیجئے اور اس کی عزت واِکرام میں   اضافہ کردیجئے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلام اِمام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) ارشاد فرماتے ہیں   : ’’ جب تمہارے دِل میں   کسی مسلمان کے بارے میں   بد ُگمانی آئے توتمہیں   چاہئے اس کی رعایت میں   اضافہ کردو اور اس کے لئے دُعائے خیر کرو ، کیونکہ یہ چیز شیطان کو غصہ دِلاتی ہے اور اسے تم سے دُور بھگاتی ہے ۔ شیطان دوبارہ تمہارے دِل میں   براگُمان نہیں   ڈالے گا کہ کہیں   تم پھر سے اپنے بھائی کی رعایت اور اس کے لئے دُعائے خیر میں   مشغول نہ ہوجاؤ۔ ‘‘  (احیاء علوم الدین  ،  کتاب آفات اللسان ، ج۳ ، ص۱۸۷)

گیارھواں   علاج :

            دِل کے مُحَاسَبے میں   کبھی غفلت نہ کیجئے ورنہ شیطان مسلسل کوشش کے ذریعے بالآخر بد ُگمانی میں   مبتلاکروا سکتا ہے۔ حُجَّۃُ الْاِسْلام اِمام محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۵۰۵ھ) لکھتے ہیں   : ’’ شیطان بعض اوقات معمولی حیلے سے انسان کے دِل میں   لوگوں   کی برائیوں   کو پختہ کردیتا ہے اور اسے باور کراتا ہے کہ ’’ (ان برائیوں   تک پہنچ جانا)تمہاری سمجھ داری اور عقل کی تیزی کی وجہ سے ہے اور مومن تو اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ کے نور سے دیکھتا ہے ۔ ‘‘حالانکہ حقیقت میں   وہ شخص شیطان کے دھوکے میں   ہوتا ہے۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین  ،  کتاب آفات اللسان ، ج۳ ، ص۱۸۷)

بارھواں   علاج :

            میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! بد ُگمانی سے بچنے کے لئے مذکورہ اُمور کے ساتھ ساتھ ’’روحانی علاج‘‘ بھی کیجئے ؛

’’بِسْمِ اللّٰہ‘‘ کے سات حُرُوف کی نِسبت سے 7روحانی علاج

(i)… جب بھی کسی سے مُتَعَلَّق بد ُگمانی محسوس ہو تو ’’ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم ‘‘ ایک بار پڑھنے کے بعد اُلٹے کندھے کی طرف تین بار تُھوتُھو کردیں   ۔

(ii)…  روزانہ دس بار ’’اَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنَ الشَّیْطٰنِ الرَّجِیْم‘‘ پڑھنے والے پر شیطان سے حفاظت کرنے کے لئے اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ ایک فرشتہ مقرر کردیتا ہے۔

 (مسند ابی یعلٰی  ، مسند انس بن مالک  ، الحدیث ۴۱۰۰ ، ج۳ ، ص۴۰۰ ملخصاً)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن