30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ہو ۔ ‘‘ (الدرالمنثور ، ج۷ ، الحجرٰت ، تحت الآیۃ ۱۲ ، ص ۵۶۵)
(4)مسلمان کا حال حتی الامکان اچھائی پر حمل کرنا واجب ہے
اِمامِ اہلسنّت مجددِ دین وملت شاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ) فتاویٰ رضویہ شریف میں لکھتے ہیں : ’’مسلمان کا حال حَتَّی الْاِمْکَان صَلاح (یعنی اچھائی)پر حمل کرنا (یعنی ُگمان کرنا) واجب ہے۔ ‘‘ (فتاویٰ رضویہ ، ج۱۹ ، ص۶۹۱)
صدرُ الْاَفَاضِل حضرت مولانا سیدمحمد نعیم الدین مراد آبادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۶۷ھ) تفسیر خزائن العرفان میں لکھتے ہیں : ’’مؤمن ِصالح کے ساتھ بُرا گمان ممنوع ہے اس طرح (کہ) اُس کا کوئی کلام سن کر فاسد معنٰی مراد لینا باوُجُودیکہ اس کے دوسرے صحیح معنی موجود ہوں اور مسلمان کا حال ان کے مُوَافِق ہو یہ بھی گمانِ بد میں داخل ہے ۔ ‘‘
(خزائن العرفان ، پ۲۶ ، الحجرٰت ۱۲)
(5)مسلمان سے حُسنِ ظن رکھنا مُسْتَحَب ہے
علّامہ عبدالغنی نابلسی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْقَوِی (اَلْمُتَوَفّٰی۱۱۴۳ھ) لکھتے ہیں : جب کسی مسلمان کا حال پوشیدہ ہو (یعنی اس کے نیک ہونے کا بھی اِحْتِمَال ہو اور بد ہونے کا بھی) تو اُس سے حُسنِ ظن رکھنامُسْتَحَب اور اُس کے بارے میں بد ُگمانی حرام ہے۔ (الحدیقۃ الندیۃ ، ج۲ ، ص۱۶ ، ۱۷ملخصًا)
علّامہ عبداللّٰہ بن اسعد یافعی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَلْمُتَوَفّٰی۷۶۸ھ) لکھتے ہیں : اِمام الطائفہ حضرت سیدنا ابوالقاسم جنید بغدادی عَلَیْہِرَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی ایک مرتبہ مسجد شونیزیہ میں بیٹھے کسی جنازے کا اِنتظار کر رہے تھے اور بھی بَہُت سے باشندگانِ بغداد وہاں موجود تھے ۔ آپ نے وہاں ایک فقیر کو دیکھا جس کے چہرے سے عبادت وریاضت کے آثار نُمایاں تھے ۔ وہ لوگوں سے سُوال کررہا تھا۔ حضرت سیدنا جنید بغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی نے سوچا کہ اس کے بجائے اگر یہ کوئی ایسا کام کرتا جس کے سبب یہ لوگوں سے سُوال کرنے کی آفت سے بچ جاتا تو بہتر تھا۔ اسی شب کی بات ہے کہ سیدنا جنیدبغدادی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی پرآپ کے معمولاتِ شب (یعنی نوافل اور وظائف وغیرہ) دُشوار ہوگئے اور کسی کام میں جی بھی نہیں لگ رہا تھا ۔ آپ بَہُت دیر تک یونہی جاگتے رہے بالآخر آپ پر نیند کا غلبہ ہوا اور آپ کی آنکھ لگ گئی ۔ آپ فرماتے ہیں کہ میں نے خواب میں دیکھا کہ اسی فقیر کو لایا گیا ہے اور ایک دسترخوان پر ڈال دیا گیا اور مجھ سے کہا جارہا ہے کہ اس کا گوشت کھا ، تونے اس کی غیبت کی ہے ، مجھ پر حقیقت ِحال واضح ہوگئی(یعنی میں سمجھ گیا کہ اس فقیر کے بارے میں بد ُگمانی کرنے کے بارے میں تنبیہہ کی جارہی ہے)۔ میں نے عرض کی : ’’میں نے اس کی غیبت نہیں کی ، ہاں ! اس سے متعلق دِل میں کچھ ایسا سوچا تھا۔ ‘‘ جواب ملا : ’’تم ان لوگوں میں سے نہیں ، جن سے ہم اس قدر بھی گوارا کریں جاؤ اس بندے سے معافی مانگو۔ ‘‘ آپ عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْہَادِی فرماتے ہیں : ’’صبح میں اس کی تلاش میں نکلا ، وہ دریا کے کنارے مجھے مل گیااورسبزیاں دھونے والے جو پتے وہاں چھوڑ جاتے ہیں ، وہ چن رہا تھا۔ میں نے اسے سلام کیا تو اس نے جواب دینے کے بعد کہا : ’’اے ابوالقاسم! پھر ایسا کرو گے؟‘‘میں نے کہا : ’’نہیں ۔ ‘‘ اس نے کہا : ’’جا ؤ ، اللّٰہ تعالیٰ تمہیں اور ہمیں معاف فرمائے۔ ‘‘ (روض الریاحین ، الحکایۃ الثامنۃ والعشرون بعد المائۃ ، ص۱۵۵ ، ملخصاً)
میٹھے میٹھے اِسلامی بھائیو! معلوم ہوا کہ کسی کے ظاہِری لباس کی سادگی دیکھ کر اسے حقیر نہیں جاننا چاہئے کیونکہ ہوسکتا ہے کہ وہ ’’ ُگدڑی کا لعل ‘‘ہو۔ حضرت سیدناابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے روایت ہے کہ سرکارِمدینہ صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَ اٰلِہٖ وَسَلَّمَ نے فرمایا : ’’ بَہُت سے بوسید ہ کپڑے والے ایسے ہیں کہ اگر وہ کسی بات پر اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) کی قسم کھالیں تو اللّٰہ (عَزَّوَجَلَّ) ان کی قسم پوری فرماتا ہے۔ ‘‘ (الاحسان بترتیب صحیح ابنِ حبان ، کتاب المعجزات ، باب من ابطل وجود المعجزات۔ ۔ ۔ الخ ، الحدیث ۶۴۴۹ج۸ ، ص۱۳۹)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اِمامِ اہلسنّت مجددِ دین وملت شاہ مولانا احمد رضاخان عَلَیْہِرَحْمَۃُ الرَّحْمٰن (اَلْمُتَوَفّٰی۱۳۴۰ھ) نے فرمایا : ایک مرتبہ اِمام جعفر صادق رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ تنہا ایک گدڑی پہنے مدینہ طیبہ سے کعبہ معظمہ کو تشریف لیے جاتے تھے اور ہاتھ میں صرف ایک تاملوٹ(ٹِین کا برتن) تھا۔ حضرت شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے دیکھا (تو) دِل میں خیال کیا کہ یہ فقیر اوروں پراپنا بار ڈالنا چاہتا ہے ۔ یہ وسوسۂ شیطانی آنا تھا کہ اِمام جعفر رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا : شقیق بچو ُگمانوں سے بعض ُگمان گناہ ہوتے ہیں ۔ نام بتانے اور وسوسہ دلی پر آگا ہی سے نہایت عقیدت ہوگئی اور اِمام کے ساتھ ہولئے۔ راستہ میں ایک ٹیلہ پر پہنچ کر اِمام نے اس سے تھوڑی ریت لے کر تاملوٹ میں گھول کر پیا اور سیدنا شقیق بلخی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ سے بھی پینے کوفرمایا۔ انہیں اِنکارکا چارہ نہ ہوا ۔ جب پیا تو ایسے نفیس لذیذ خوشبو دار ستّو تھے کہ عمر بھر میں بھی نہ دیکھے نہ سنے۔ (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ ، حصہ دوم ، ص۲۲۲)
صَلُّوْا عَلَی الْحَبِیْب صَلَّی اللّٰہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
اپنے کام سے کام رکھنے کی عادت بنائیے اور دوسروں کے معاملات کی ٹوہ میں نہ رہئیے ، اِنْ شَاءَ اللّٰہ عَزَّوَجَلَّ بد ُگمانی پیدا ہی نہیں ہونے پائے گی ۔ شفیع ُالمذنبین ، انیس ُالغریبین ، سراج ُالسالکین صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عالیشان ہے کہ’’لوگوں سے منہ پھیر لو کیا تم نہیں جانتے کہ اگرتم لوگوں میں شک کے پیچھے چلو گے توانہیں فسادمیں ڈال دو گے۔ ‘‘
(المعجم الکبیر ، الحدیث۷۵۹ ، ج۱۹ ، ص۳۶۵)
حافظ ابونُعَیم احمد بن عبداللّٰہ اصفہانی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللّٰہِ الْوَالِی (اَ لْمُتَوَفّٰی۴۳۰ھ) حلیۃ الاولیاء میں لکھتے ہیں : حضرت سیدنا بکر بن عبداللّٰہ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ جب کسی بوڑھے آدمی کو دیکھتے تو فرماتے : ’’یہ مجھ سے بہتر ہے اور مجھ سے پہلے اللّٰہ تعالیٰ کی عبادت کرنے کا شرف رکھتا ہے۔ ‘‘ اور جب کسی جوان کو دیکھتے تو فرماتے : ’’ یہ مجھ سے بہتر ہے کیونکہ میرے گناہ اِس سے کہیں زیادہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع