دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Badan Ko Najasat Se Pak Karne Ke Ek Masle Mein Tahqeeq Aneeq | بدن کو نجاست سے پاک کرنے کے ایک مسئلہ میں تحقیق انیق

book_icon
بدن کو نجاست سے پاک کرنے کے ایک مسئلہ میں تحقیق انیق
            

پیش لفظ

بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم نحمدہ و نصلی و نسلم علی رسولہ الکریم اما بعد فقہ کا بنیادی ماخذ قرآن و حدیث ہیں۔ مجتہدین کرام نے قرآن و حدیث سےہی استنباط کرکے اصول و ضع فرمائے ، اور احکام کو واضح فرمایا ، جوکہ کتب فقہ ، شروح اور فتاوی میں نقل ہوئے ۔یونہی کئی اقوال میں فقہائے کرام سے کئی ایک اقوال نقل ہوئے ۔ فتوی دیتے ہوئے ان اقوال میں سے راجح اور مفتی بہ قول کو مد نظر رکھنا کی اور اصول افتا کی روشنی میں اسے متعین کرنا اہم ترین کام ہے۔ ان ہی مسائل میں سے ایک مسئلہ منی کو کھرچ کر پاک کرنے کا بھی ہے۔ کپڑے پرمنی لگ جائے تواس کے متعلق واضح طورپرایک ہی حکم کتب احناف میں موجودہے کہ اس کوکھرچ دینے سے احناف کے نزدیک کپڑاپاک ہوجائے گا مگر بدن پر منی لگنے کی صورت میں کھرچنے سے پاک ہو گا یا نہیں ؟ یہ مسئلہ معرکۃ الآراء ہے ۔ اس رسالے میں فقہائے کرام کے اقوال اور تصریحات کے مطابق اس مسئلے میں راجح اور مفتی بہ قول کو متعین کیا گیا۔

اسلوب تحریر

کپڑے پر خشک منی لگی ہو تو اسے کھرچ کر پاک کیا جا سکتا ہے اسی طرح بدن پر لگی ہوئی خشک منی بھی کھرچنے سے پاک ہو سکتی ہے ۔ یہ راجح اور مفتی بہ قول ہے اور ظاہر الروایہ بھی یہی ہے۔ اس مسئلے کے دلائل میں متون ، شروح اور بھی فتاوی سے جزئیات الگ الگ بالترتیب ذکر کیے گئے۔ اسی طرح فقہائے کرام کے وہ اقوال بھی نقل کیے گئے جن میں اس کی ترجیح کو صراحتاً ذکر کیا گیا ۔ اس کتاب کی خوبصورتی یہ بھی ہے کہ مختلف جگہ پر جزئیات کو تفصیلاً ذکر کرنے سے قبل تمام جزئیات کا خلاصہ ذکر کر دیا گیا ہے ۔ جس سے قاری کےلیے مسئلہ کے دلائل سمجھنے میں آسانی ہو جاتی ہے اور سلالت و روانگی کے ساتھ اس کا ذوق و شوق بھی برقرار رہتا ہے۔

قاری کو حاصل ہونے والے فوائد

اس رسالے کا مطالعہ علم فقہ کے طالب ، مدرس اور کارافتاء میں مشغول ، ہر ایک کےلیے انتہائی مفید ہے۔ جس طرح اس کے مطالعہ سے نفس مسئلہ اور اس کی ترجیح واضح ہوتی ہے،اسی طرح اس کے مطالعے سے ایک قاری بالخصوص طالب علم فقہ دلائل کی ترتیب و اسلوب کے ساتھ ترجیح کےاصول پر بھی آگاہی حاصل کر پائے گا۔ ان شاء اللہ عزوجل ۔ مدنی التجاء: پڑھنے والوں سے التجاہے کہ غلطی پائیں،تواس پرمطلع فرمادیجیے، ان شاء اللہ عزوجل غلطی ثابت ہونے پراس کے ازالے کی صورت کی جائے گی ۔ نیز میری،پیرومرشد،والدین،اساتذہ کرام اورآل واولادکی بے حساب مغفرت کی دعاکرتے رہیے۔ محمدعرفان مدنی عطاری دارالافتاء اہلسنت،گوجرانوالہ بِسْمِ اللہِ الرَّحْمٰنِ الرَّ حِیْم کیا فرماتے ہیں علمائے دین ومفتیان شرع متین اس مسئلےکے بارے میں کہ اگربدن پرمنی لگ کرخشک ہوجائے توکیااس کوپاک کرنے کے لیے دھوناہی ضروری ہے یاکھرچنے اوررگڑنے سے بھی بدن پاک ہوجائے گاجیسے کپڑے میں ہوتاہے ؟ بسم اللہ الرحمن الرحیم الجواب بعون الملک الوھاب اللھم ھدایۃ الحق وا لصواب بدن پرمنی لگ کرخشک ہوجائے تواسے دھوناہی ضروری ہے یاکھرچنے اوررگڑنے سےبھی بدن پاک ہوجائے گا ؟اس میں فقہائے احناف کے درمیان اختلاف ہے ۔ احناف کامذہب ،قول مفتی بہ اورظاہرالروایۃ یہی ہے کہ ایسی صورت میں بدن کھرچنے اوررگڑنے سے پاک ہوجائے گا،دھوناضروری نہیں ہے ۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے : (1)یہی عامہ متون میں (صراحتایابطوراطلاق) مذکورہے، اورمتون بنائے جاتے ہیں ،مذہب ،ظاہرالروایۃ اورمفتی بہ قول کو نقل کرنے کے لیے ،تویہی مذہب و ظاہرالروایہ اورمفتیٰ بہ ہوا۔بلکہ متون وشروح میں اس کے ظاہرالروایہ ہونے کی تصریح بھی موجودہے،جیساکہ نیچے آئے گا۔ علامہ عبد العلی البرجندیرحمۃ اللہ تعالی علیہ (متوفی 932ھ)برجندی شرح مختصر الوقایہ میں اسی مسئلے کے متعلق تحریرفرماتے ہیں:”(وعن المنی بغسلہ اوفرک یابسہ)۔۔۔۔ ولا فرق فی ظاھر الروایۃ بین الثوب والبدن کما یشعر بہ اطلاق کلام المتن وعن ابی حنیفۃ انہ لایطھر البدن بالفرک “ترجمہ:اورمنی کودھونے اورخشک ہونے کی صورت میں رگڑنے سے طہارت ہوجاتی ہے اورظاہرالروایۃ میں کپڑے اوربدن کے درمیان کوئی فرق نہیں ہے جیساکہ متن کے کلام کااطلاق اس کی خبردے رہاہےاورامام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے روایت کیاگیاہے کہ بدن کھرچنے سے پاک نہیں ہوتا۔(1) ردالمحتارمیں ایک مسئلے کے متعلق ہے :’’وعليه أصحاب المتون الموضوعة لنقل المذهب بما هو ظاهر الرواية ‘‘ ترجمہ:اوراسی پران متون کے مصنفین ہیں جوظاہرالروایہ کے مطابق مذہب کونقل کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں ۔(2) ردالمحتارمیں ایک مسئلے کے متعلق ہے:’’عامة المتون على ما مشى عليه المصنف، وهي الموضوعة لنقل المذهب، ولما عليه الفتوى ‘‘ ترجمہ :اکثرمتون اسی پرہیں جسے مصنف نے اختیارکیااورمتون مذہب کواوراس کوجس پرفتوی ہے،اسے نقل کرنے کے لیے وضع کیے گئے ہیں ۔(3) ’’قرۃ عین الاخیارلتکملۃ ردالمحتار ‘‘میں ایک مسئلے کے متعلق ہے:’’ وظاهر إطلاق المتون والشروح أنه لا فرق بين أن يدعيا معا أو متعاقبا وهي الموضوعة لنقل المذهب ‘‘ ترجمہ:اورمتون وشروح کے اطلاق کاظاہریہ ہے کہ اس میں کوئی فرق نہیں کہ وہ دونوں اکٹھے دعوی کریں یاآگے پیچھے اورمتون نقل مذہب کے لیے وضع کیے گئے ہیں ۔(4) فتاوی رضویہ میں ایک مسئلے سے متعلق متون کی عبارات نقل کرنے کےبعد فرمایا :’’وهذه كلها متون المذهب المعتمد عليها الموضوعة لنقل المذهب، فلا أقل من أن يكون أيضا ظاهر الرواية ‘‘ترجمہ:اوریہ تمام مذہب کے وہ متون ہیں ،جن پراعتمادکیاجاتاہے ،جونقل مذہب کے لیے وضع کیے گئے ہیں توکم ازکم یہ ضرور ہوگاکہ یہ بھی ظاہرالروایۃ ہے ۔(5) (2) اوریہی عامہ شروح معتبرہ میں ہےاورعامہ متون و شروح پرہی اعتمادہوتاہےکہ یہ مذہب نقل کرنے کے لیے ہوتے ہیں ۔ ’’مجمع الانھر ‘‘میں ہے:’’ وفي المنح ينبغي أن يعول على ما جزم به عامة أصحاب المتون والشروح؛ لأنها هي الموضوعة لنقل المذهب فلا يعارضه ما في الفتاوى وإنما يعول عليها إذا لم يعارضها كتب الأصول وهي الموضوعة لنقل المذهب وأما مع معارضتها لها لا يلتفت إليها كما في أنفع الوسائل ‘‘ ترجمہ:اورمنح میں ہے :جس قول پرعامہ اصحاب متون وشروح نے جزم فرمایاہو،اسی پراعتمادہوناچاہیے کیونکہ یہی نقل مذہب کے لیے وضع کی گئی ہیں، توجوکچھ فتاوی میں ہے وہ ان کے معارض نہیں ہوگا،فتاوی پرصرف اسی صورت میں اعتمادکیا جاتاہے جب کتب اصول ان کے معارض نہ ہواورکتب اصول نقل مذہب کے لیے وضع کی گئی ہیں ،اوربہرحال جب فتاوی کاکتب اصول کے ساتھ معارضہ ہوتوان کی طرف توجہ نہیں کی جائے گی ،جیساکہ انفع الوسائل میں ہے ۔(6) (3)اورمتون وشروح میں اسی کوظاہرالروایہ قراردیاگیاہے ۔ ہاں!علامہ ابن کمال پاشاحنفی علیہ الرحمۃ نے اس کوظاہر الروایۃقراردینےکووہم قراردیاہے ۔ اورانہوں نے دلیل یہ دی ہے کہ کتاب الاصل میں یہ مذکورہے کہ بدن ترہویاخشک بغیردھوئے پاک نہیں ہوتااورکافی میں مذکورہے کہ یہ قول امام اعظم ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے روایت کیا گیا ہے ۔ جواب: علامہ عابدسندھی علیہ الرحمۃ نے اس کے جواب میں فرمایا:کتاب الاصل ،ظاہرالروایۃ کی پہلی کتاب ہے ،اصل میں جوکچھ مذکورہے ،اس پرمطلع ہونے کے باوجودعلمائے کرام نے اس کے خلاف کو ظاہرالروایۃ قراردیاہے تویہ اس بات کی دلیل ہے کہ انہوں نے اصل کے بعدکی کتب ظاہرالروایۃ میں اطلاق پایاہوگاکہ ان میں کپڑے اوربدن میں تفریق نہیں کی گئی ،اسی وجہ سے انہوں نے اس پراعتمادکیاہے اوراس کی بڑی دلیل یہ ہے کہ خودکافی کے حوالے سے ذکرکیاہے کہ رگڑنے سے بدن پاک نہ ہونے والاقول امام اعظم علیہ الرحمۃ سے روایت کیاگیاہے،تویہ الفاظ ہی دلیل ہیں کہ یہ ظاہرالروایۃ نہیں بلکہ صرف ایک روایت ہے ۔ (نوٹ:کتاب الاصل میں ہمیں اس طرح کی عبارت نہیں ملی ،جس میں بدن کی صراحت سے نفی ہویاحکم کی کپڑے کے ساتھ صراحتاتخصیص ہو،کتاب الاصل میں امام اعظم علیہ الرحمۃ سے کپڑے کے متعلق سوال مذکورہے کہ اگرکپڑے پرمنی لگ کرخشک ہوجائے اور مرداسے رگڑدے(توکیاکفایت کرےگا؟)اس پرآپ علیہ الرحمۃ نے فرمایا:اسےایساکرنا کفایت کرجائے گا ۔ کتاب الاصل میں ہے:’’ قلت أرأيت المنى يكون في الثوب فيجف فيحكه الرجل قال يجزيه ذلك بلغنا عن عائشة رضي الله عنها أنها كانت تفركه من ثوب رسول الله صلى اللہ عليه وسلم ‘‘(7) علامہ ابن کمال پاشاحنفی علیہ الرحمۃ الایضاح شرح الاصلاح میں فرماتے ہیں:’’وان اصاب منی بدنہ لایطھرالابالغسل رطبا او کان یابسا،ذکرہ فی الاصل ،وھومروی عن ابی حنیفۃ علیہ الرحمہ،ذکرہ فی الکافی ،وذکرالکرخی فی مختصرہ:ان یابسہ یطھربالفرک من غیرفرق بین العضووغیرہ،ومن وھم ان عدم الفرق فی ظاھرالروایۃ والفرق فی روایۃ الحسن فقدوھم ‘‘(8) ’’طوالع الانوار ‘‘میں’’تنویر ودر ‘‘ کی اس عبارت:’’ وبدن علی الظاھرمن المذھب ‘‘(ترجمہ:اور ظاہر مذہب پر بدن )پرتحریرفرمایا :’’احترزبہ عماوقع من اختلاف المشایخ فیمااذااصاب البدن،قال بعضھم لایطھرالابالغسل،لان البدن لایمکن فرکہ،وفی الھدایۃ: قال مشایخنا: یطھربالفرک کمافی الثوب لان البلوی فیہ اشد"ونازع ابن الکمال فی طھارتہ بالفرک علی الظاھروزعم :"ان الظاھرالفرق بین الثوب والبدن لانہ ذکرفی المبسوط وھومن کتب ظاھرالروایۃ"ولکن اطلاقھم علی خلافہ بعدالاطلاع علیہ یقتضی ان الصواب ماذکرہ الماتن،لان المبسوط ھواول کتب ظاھرالروایۃ تالیفاولذایسمی الاصل،فکانھم اطلعوا علی ان ماالف بعدہ من کتب ظاھرالروایۃ علی الاطلاق فلذااعتمدوہ،ویدل علیہ مانقلہ ھوعن الکافی بقولہ:"وھومروی عن ابی حنیفۃ"وھذہ العبارۃ تشعربانہ خلاف ظاھر الروایۃ "(9) (نوٹ:دونوں کتابوں کی عبارتوں کامفہوم اوپرگزرچکا۔) (4)علامہ ابن امیرحاج علیہ الرحمۃ نے حلبہ میں بدن کے کھرچنے اوررگڑنے سے پاک ہوجانے والے قول کی ہی ترجیح وتصحیح فرمائی ہے بلکہ اسی کولائق تصحیح قراردیاہے ۔اس کی تفصیل درج ذیل ہے : منیہ میں اس مسئلے کے متعلق عبارت ان الفاظ کے ساتھ ہے:’’ واماالفرک فی المنی یطھرالثوب بالفرک اذا یبس،و العضو بالحت والفرک وان کان الثوب ذاطاقین ،وھو الصحیح ‘‘ترجمہ:اورکپڑے پرمنی لگ کرجب خشک ہوجائے تورگڑنے سے کپڑا پاک ہوجاتاہے اورکھرچنے اوررگڑنے سے اوراگرچہ کپڑادوحصوں والاہو،اوریہی صحیح ہے ۔ اس عبارت میں عضوپرمنی لگے توکھرچنےاوررگڑنے سے وہ پاک ہوجائے گایانہیں ،اس کی تصریح نہیں ہے،بلکہ اس کےمتعلق عبارت نامکمل ہے یعنی’’والعضوبالحت والفرک ‘‘ہے،اس پرعلامہ ابن امیرحاج علیہ الرحمۃ نے فرمایاکہ یہاں مختلف نسخوں میں عبارت مختلف آئی ہے ،بعض نسخوں میں عبارت یوں ہے:’’ والعضوبالحت کماذکرنا‘‘یعنی عضوپرمنی لگنے کے بعدخشک ہوجائے تووہ بھی کھرچنے سے پاک ہوجاتاہے جیسے کپڑے کے متعلق ہم نے ذکرکیاہے۔ اوربعض نسخوں میں عبارت یوں ہے:’’والعضوبالحت والفرک لایطھر اذایبس ‘‘یعنی عضوپرمنی لگ کرخشک ہوجائے، تووہ کھرچنے اوررگڑنے سے پاک نہیں ہوگا۔ اورپھر عبارت کے آخر میں جو " ھو الصحیح" ہے،اس کاتعلق صرف"الثوب ذاطاقین "سے ہے یاپیچھے موجودعضوسے بھی ہے ،یہ دونوں احتمال ہیں ۔اگرہم "ھوالصحیح" کاتعلق پیچھے موجودعضواور"الثوب ذاطاقین" دونوں سے کریں توپھردونوں نسخوں کے مسئلوں کی تصحیح کاامکان ہے یعنی جس نسخے میں ہے کہ عضوکوکھرچنے سے پاکی حاصل ہوجائے گی ،اس کی بھی تصحیح کاامکان ہے اورجس میں ہے کہ نہیں ہوگی ،اس کی بھی تصحیح کاامکان ہے،(لیکن یہ امکان ہی ہے یقین اورتعیین نہیں ہے یعنی ایک توصحیح عبارت کیاہے،یہ کنفرم نہیں اوردوسراتصحیح کاتعلق عضوکے ساتھ ہونابھی کنفرم اوریقینی نہیں ہے ۔)پھریہ دونوں امکانات ذکرکرنے کے بعد علامہ ابن امیرحاج علیہ الرحمۃ اس امکانی تصحیح کے متعلق فرماتے ہیں کہ: "لیکن عضوکے کھرچنے سے پاک نہ ہونے والے قول کے صحیح ہونے میں واضح نظرہے بلکہ معتبریہی ہے کہ کھرچنے سے عضوپاک ہوجائے گااوریہ پاک ہونے والاقول ،تصحیح کے لائق ہے ۔"

حلبہ کی عبارت درج ذیل ہے

حلبہ میں ہے:" وفي بعض النسخ والعضو بالحت كما ذكرنا، أي: ويطهر العضو من المني بحته إذا كان يابساً۔۔۔وفي بعض النسخ والعضو بالحت والفرك لا يطهر إذا يبس، انتهى۔۔۔۔ثم لا يخفى أنه يمكن أن يكون لكل مما ذكرناه من مضمون هاتين النسختين حظ من قوله: ( وهو الصحيح ) راجعاً إلى جميع ما تقدم، لكن كون الصحيح أن العضو لا يطهر من يابس المني بفركه وحته فيه نظر ظاهر ، بل المتجه طهارته منه بذلك، وأنه الجدير بالتصحيح، والله سبحانه أعلم ۔"(10) نوٹ: غنیہ المستملی میں علامہ ابراہیم حلبی علیہ الرحمۃ نے بدن کھرچنے سے پاک نہ ہونے والے قول کوترجیح دی ہے،لیکن علامہ ابن امیرحاج علیہ الرحمۃ ان سے زمانے اورعلم دونوں اعتبارسے اقدم ہیں، اورکم ازکم اتناتوضرورہے کہ اختلاف ترجیح ہے توظاہرالروایہ اورمتون کے اطلاق کے مطابق بدن کھرچنے سے پاک ہوجاتاہے اورجب فتوی مختلف ہوتوظاہرالروایہ کوترجیح ہوتی ہے ،اوراسی طرح جب فتوی مختلف ہو،توجو متون کےاطلاق کے موافق ہواس کوترجیح ہوتی ہے۔ نیزاس کے اختیارکرنے والوں کی تعدادزیادہ ہے اورعمل اسی پرہوتاہے ،جس پراکثرہوں ۔ غنیۃ المستملی میں ہے:" وقدروی عن ابی حنیفۃ علیہ الرحمۃ ان البدن لایطھربالفرک وذکرمثلہ فی الاصل ۔۔۔ثم الظاھر من کلام صاحب الھدایۃ ترجیح ھذہ الروایۃ حیث اخرھامع دلیلھاولم یتعقبھاوعادتہ تاخیرماھوالراجح و ھو الوجہ لان الطھارۃ بالفرک فی المنی وردت علی خلاف القیاس۔۔وطریق الدلالۃ ممنوع للفرق المذکور "ترجمہ:اورامام ابوحنیفہ علیہ الرحمۃ سے روایت کیاگیاہے کہ بدن رگڑنے سے پاک نہیں ہوگااوراسی کی مثل اصل میں مذکورہے ،پھرہدایہ کے کلام سے اس روایت کی ترجیح ظاہرہے کہ انہوں نے اس کواس کی دلیل کے ساتھ موخررکھاہے اوراس کاتعاقب نہیں فرمایااوران کی عادت ہے کہ وہ راجح قول کوموخررکھتے ہیں اوریہی موجہ ہے کیونکہ منی رگڑنے سے پاک ہوجانے والاقول خلاف قیاس واردہواہے اوردلالت والی صورت مذکورہ فرق کی بناپرناقابل تسلیم ہے ۔(11) درمختار میں ہے :" الفتوى متى اختلفت رجح ظاهر الرواية "ترجمہ:فتوی جب مختلف ہواتوظاہرالروایۃ کوترجیح دی جائے گی۔(12) درمختارمیں ہے: " متى اختلف الترجيح رجح إطلاق المتون "ترجمہ:جب ترجیح مختلف ہوتومتون کے اطلاق کوترجیح دی جائے گی ۔(13) ردالمحتارمیں ہے:" القاعدة العمل بما عليه الأكثر "ترجمہ:قاعدہ یہ ہے کہ عمل اسی پرہوتاہے جس پراکثرہوں ۔(14) (5)نیزامام اہلسنت امام احمدرضاخان علیہ الرحمۃ نے بھی اسی کوصحیح قراردیاہے ۔ ’’التعلیقات الرضویۃ علی فتاوی قاضی خان ‘‘ میں ہے:" ( من جمیع ذلک الا بالغسل ) وذلک لان المنی یلتزق بالبدن فلاینفصل بالفرک والصحیح ان لافرق " ترجمہ:(اوربدن کی پاکی ان تمام چیزوں سے حاصل نہیں ہوگی مگردھونے کے ساتھ) اوریہ اس لیے کہ منی بدن سے چمٹ جاتی ہے توکھرچنے سے جدانہیں ہوگی اورصحیح یہ ہے کہ کھرچنے میں کپڑے اوربدن میں کوئی فرق نہیں ہے ۔(15) (6)اورصدرالشریعہ مفتی محمدامجدعلی اعظمی علیہ الرحمۃ نے بھی بہارشریعت کے دوسرے حصے میں اسی کواختیارفرمایاہےاوراس حصے پرامام اہلسنت علیہ الرحمۃ کی تقریظ وتصدیق بھی بایں الفاظ موجودہے : "فقیرغفرلہ المولی القدیرنے مسائل طہارت میں یہ مبارک رسالہ بہارشریعت ۔۔۔۔ ۔۔۔۔۔مطالعہ کیاالحمدللہ مسائل صحیحہ رجیحہ محققہ منقحہ پرمشتمل پایا۔"(16) بہارشریعت کی عبارت یوں ہے "مَنی کپڑے میں لگ کر خشک ہو گئی تو فقط مَل کر جھاڑنے اور صاف کرنے سے کپڑا پاک ہو جائے گا اگرچہ بعد مَلنے کے کچھ اس کا اثر کپڑے میں باقی رہ جائے۔۔۔۔ بدن میں اگر مَنی لگ جائے تو بھی اسی طرح پاک ہو جائے گا۔ "(17) (7)متون کے اطلاق کے موافق بھی یہی قول ہے کہ کپڑاہویابدن دونوں، منی خشک ہوجانے کی صورت میں کھرچنے ورگڑنےسے پاک ہوجائیں گے ۔اوراختلاف تصحیح کی صورت میں اسی قول کوترجیح دی جاتی ہے، جومتون کے اطلاق کے موافق ہو۔ فتاوی رضویہ میں ہے: " پھر اگر بالفرض دوسری طرف بھی تصحیح پائی جاتی ، تاہم، یہی قول مرجّح رہتاکہ خود باقرار ردالمحتار '' مذہب اباحت ہی موافقِ اطلاقِ مُتُون ہے'' ۔ اور خود انہیں کی تصریح ہے کہ '' اختلافِ فتوی کے وقت اُسی قول پر عمل اولیٰ جواِطلاقِ مُتون کے موافق ہو ''۔ " حیث قال قد اختلف التصحیح والفتوی کما رأیت والعمل بما وافق اطلاق المُتُونِ اَوْلٰی ۔"درمختار میں ہے: " علی المعتمد لانہ متی اختلف الترجیح رجح اطلاق المتون، بحر ۔"اور جب کہ ترجیح صرف اسی طرف ہے تو اب اس قول کا اختیار فَقاہت سے بالکل برطرف ہے"(18) (8)نیزاس میں آسانی و دفع حرج بھی ہےجیساکہ نیچے بنایہ کے جزئیہ میں بھی اس کی صراحت آرہی ہے ۔وجوہات ترجیح شمارکرتے ہوئے امام اہلسنت علیہ الرحمۃ فرماتے ہیں :" وکذاالارفق اذا کان فی محل دفع الحرج "ترجمہ:یوں ہی زیادہ آسان ہوناجبکہ دفع حرج کامقام ہو۔(19) (9)کھرچنے سے بدن کے پاک ہوجانے والے قول کی بنیاداستحسان پرہے کہ دلالت النص سے ثابت ہے(جس کی تفصیل نیچے آرہی ہے) اورپاک نہ ہونے والے قول کی بنیادقیاس پرہے ۔اوراستحسان ،قیاس پرراجح ہوتاہے سوائے چندمخصوص مسائل کے اوریہ مسئلہ ان مخصوص مسائل میں سے نہیں ہے ۔ بنایہ شرح ہدایہ میں ہے:"( يطهر بالفرك لأن البلوى فيه أشد ) ش: أي لأن البلية في البدن أشد من البلية في الثوب، فلما طهر الثوب بالفرك طهر البدن بطريق الأولى دفعا للحرج "ترجمہ:بدن رگڑنے سے پاک ہوجائے گاکہ اس میں بلوی زیادہ ہے یعنی بدن میں بلوی،کپڑے میں بلوے کے مقابلے میں زیادہ ہے پس جب رگڑنے سے کپڑاپاک ہوجاتاہے توحرج دورکرنے کے لیے بدن بدرجہ اولی پاک ہوجائے گا۔(20) فتاوی رضویہ میں ہے:"معلوم ہے کہ عمل ہمیشہ استحسان پر ہے، الافی مسائل عدیدۃ لیست ھذہ منھا "(21) (10)اس کے مقابلے میں جودوسراقول ہے کہ کپڑے پرمنی لگ کرخشک ہوجائے وہ تورگڑنے سے پاک ہوجائے گالیکن بدن پرمنی لگ کرخشک ہوجائے تووہ رگڑنے سے پاک نہیں ہوگا۔یہ قیاس ہے ۔
1…۔ (برجندی شرح مختصر الوقایہ،کتاب الطھارۃ،فصل فی تطھیر الانجاس،ج 1،ص 66، کوئٹہ) 2…۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،ج08،ص295،کوئٹہ) 3…۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،کتاب القسمۃ،ج09،ص441،کوئٹہ) 4…۔ (قرۃ عین الاخیار،ج12،ص104،کوئٹہ) 5…۔ (فتاوی رضویہ،ج09،ص338،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 6…۔ (مجمع الانھر،کتاب القسمۃ،ج04،ص129، کوئٹہ) 7…۔ (الاصل،ج 1،ص 61،إدارة القرآن والعلوم الإسلامية - كراتشي) 8…۔ (الایضاح،کتاب الطھارات،ج01،ص79،دار الکتب العلمیۃ،بیروت) 9…۔ (طوالع الانوار،ج01،ص244،245،مخطوطہ) 10…۔ (حلبۃ المجلی ،کتاب الطھارۃ،باب الطھارۃ من الانجاس،ج 1،ص 516،دار الکتب العلمیۃ،بیروت) 11…۔ ( غنیۃ المستملی ،ص159،مطبوعہ:کوئٹہ) 12…۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،باب الرضاع،ج04،ص389،کوئٹہ) 13…۔ (الدرالمختارمع ردالمحتار،باب قضاء الفوائت،ج02،ص638،کوئٹہ) 14…۔ (ردالمحتارمع الدرالمختار،باب صلاۃ المریض،ج02،ص687،کوئٹہ) 15…۔ ( التعلیقات الرضویۃ علی فتاوی قاضی خان،ص67،ادارہ تحقیقات امام احمد رضا،کراچی) 16…۔ (بہارشریعت،ج01،حصہ02،ص414،مکتبۃ المدینہ) 17…۔ (بہارشریعت،ج01،حصہ02،ص400،مکتبۃ المدینہ) 18…۔ (فتاو ی رضویہ،ج08،ص632،633،رضا فاؤنڈیشن،لاہور) 19…۔ (فتاوی رضویہ،ج01،الف،ص225،رضافاؤنڈیشن،لاہور) 20…۔ (البنایۃ شرح الھدایۃ،ج01،ص726،کوئٹہ) 21…۔ (فتاوی رضویہ ،ج18،ص393،394،رضافاؤنڈیشن،لاہور)

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن