30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
ملنا ہی اُس کیلئے اِنعام ہوتا ہے ۔ مَثَلاً یہی کہ وہ اولادِ نرینہ مانگتا ہے مگر اُس کو مَدَنی مُنّیوں سے نوازا جاتا ہے اور یہی اُس کے حق میں بہتر بھی ہوتا ہے۔ چُنانچِہ پارہ دوسرا سورۃُ البقرہکی آیت نمبر 216 میں ربُّ العِباد عَزَّوَجَلَّ کا ارشادِ حقیقت بنیاد ہے : عَسٰۤى اَنْ تَكْرَهُوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ خَیْرٌ لَّكُمْۚ-وَ عَسٰۤى اَنْ تُحِبُّوْا شَیْــٴًـا وَّ هُوَ شَرٌّ لَّكُمْؕ-وَ اللّٰهُ یَعْلَمُ وَ اَنْتُمْ لَا تَعْلَمُوْنَ۠(۲۱۶) (پ۲ ، البقرۃ : ۲۱۶)
ترجَمۂ کنزالایمان : قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں بری لگے اور وہ تمہارے حق میں بہتر ہو اور قریب ہے کہ کوئی بات تمہیں پسند آئے اور وہ تمہارے حق میں بری ہو اور اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔
صَلُّو ا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(فیضانِ سنت ، باب فیضان رمضان ، ۱ / ۱۰۶۱بتغیر قلیل)
بَد شگونی لینا غیر مسلموں کا طریقہ ہے
کسی شخص یا چیز کو منحوس قرار دینا مسلمانوں کا شیوہ نہیں یہ تو غیر مسلموں کا پُراناطریقہ ہے۔ اس قسم کے 4 واقعات ملاحظہ ہوں :
(۱)فرعونیوں کا حضرت موسیٰ عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے بَدشگونی لینا
پارہ 9سورۃُ الْاَعراف کی آیت131میں ہے :
فَاِذَا جَآءَتْهُمُ الْحَسَنَةُ قَالُوْا لَنَا هٰذِهٖۚ-وَ اِنْ تُصِبْهُمْ سَیِّئَةٌ یَّطَّیَّرُوْا بِمُوْسٰى وَ مَنْ مَّعَهٗؕ-اَلَاۤ اِنَّمَا طٰٓىٕرُهُمْ عِنْدَ اللّٰهِ وَ لٰكِنَّ اَكْثَرَهُمْ لَا یَعْلَمُوْنَ(۱۳۱) (پ۹ ، الاعراف : ۱۳۱)
ترجمۂ کنزالایمان : تو جب انہیں بھلائی ملتی کہتے یہ ہمارے لئے ہے اور جب برائی پہنچتی تو موسیٰ اور اس کے ساتھ والوں سے بَدشگونی لیتے ، سُن لو ان کے نصیبہ کی شامت تو اللہ کے یہاں ہے لیکن ان میں اکثر کو خبر نہیں۔
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّان اِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : جب فرعونیوں پر کوئی مصیبت(قحط سالی وغیرہ) آتی تھی تو حضرت موسیٰ عَلَیْہِ السَّلام اور ان کے ساتھی مؤمنین سے بَدشگونی لیتے تھے ، کہتے تھے کہ جب سے یہ لوگ ہمارے ملک میں ظاہِر ہوئے ہیں تب سے ہم پر مصیبتیں بلائیں آنے لگیں۔ (مفتی صاحب مزید لکھتے ہیں : ) انسان مصیبتوں ، آفتوں میں پھنس کر توبہ کرلیتا ہے مگر وہ لوگ ایسے سَرکش تھے کہ ان سب سے ان کی آنکھیں نہ کُھلیں بلکہ ان کا کُفْروسَرکشی اور زیادہ ہوگئی کہ جب کبھی ہم ان کو آرام دیتے ہیں ، اَرزانی ، چیزوں کی فَراوانی وغیرہ تو وہ کہتے کہ یہ آرام وراحت ہماری اپنی چیزیں ہیں ، ہم اس کے مستحق ہیں نیز یہ آرام ہماری اپنی کوششوں سے ہیں۔ (تفسیر نعیمی ، ۹ / ۱۱۷)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۲)قومِ ثمود نے حضرت صالح عَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام سے بَدشگونی لی
حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو قومِ ثمود کی طرف مبعوث کیا گیا کہ انہیں ایک رب عَزَّوَجَلَّکی عبادت کی طرف بلائیں ۔ جب آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے انہیں اس کی دعوت پیش کی تو ایک گروہ آپ پر ایمان لے آیا جب کہ دوسرا گروہ اپنے کُفْر پر قائم رہا اور حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کو چیلنج دینے لگا کہ اے صالح !جس عذاب کا تم وعدہ دیتے ہو اس کو لاؤ اگر رسولوں میں سے ہو !جواباً آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلامان کو سمجھاتے : تم عافیت کی جگہ مصیبت وعذاب کیوں مانگتے ہو ، عذاب نازِل ہونے سے پہلے کُفر سے توبہ کر کے ایمان لا کراللہ عَزَّوَجَلَّسے بخشش کیوں نہیں مانگتے شاید تم پر رحم ہو اور دنیا میں عذاب نہ کیا جائے مگر قوم نے تکذیب کی اس کے باعث بارش رُک گئی قحط ہو گیا ، لوگ بھوکے مرنے لگے۔ اس کو انہوں نے حضرتِ سیِّدُنا صالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کی تشریف آوری کی طرف نسبت کیا اور آپ کی آمد کو بَدشگونی سمجھا اوربولے : ہم نےبُرا شگون لیا تم سے اور تمہارے ساتھیوں سے۔ حضرتِ سیِّدُناصالح عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام نے فرمایا : تمہاری بَدشگونی اللہ کے پاس ہے بلکہ تم لوگ فتنے میں پڑے ہویعنی آزمائش میں ڈالے گئے یا اپنے دین کے باعث عذاب میں مبتلا ہو۔ (ماخوذ از سورۃ النمل ، پ ۱۹ ، آیت : ۴۵ تا۴۷ مع تفسیر خزائن العرفان ، ص۷۰۶)
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع