30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بَدشگونی سے بلاوجہ رَنج و تردُّد پیدا ہوتا ہی٭نیک فالی انسان کو کامیابی ، حرکت اور ترقی کی طرف لے جاتی ہے جبکہ بَدشگونی سے مایوسی ، سُستی اور کاہلی پیدا ہوتی ہے جوتَنَزُّلی کی طرف لے جاتی ہے۔
٭کسی شخص ، جگہ ، چیز یا وَقْت کو منحوس جاننے کا اسلام میں کوئی تصوُّر نہیں یہ محض وہمی خیالات ہوتے ہیں۔
٭شگون کا معنی ہے فال لینا یعنی کسی چیز ، شخص ، عمل ، آواز یا وَقْت کو اپنے حق میں اچھا یابُرا سمجھنا ۔ اگر اچھا سمجھا تو اچھا شگون یا نیک فال ہے اور اگر بُرا سمجھا تو بَدشگونی ہے۔
٭ نیک فال لینا مُسْتَحَبہے ، بَدفالی(یا) بَدشگونی لینا شیطانی کام ہے ۔
٭بَدشگونی پر گناہ اس وَقْت ہوگا جب اس کے تقاضے پر عمل کر لیا اور اگر اس خیال کو کوئی اہمیت نہ دی تو کوئی اِلزام نہیں ۔
٭بَدشگونی لینا عالَمی بیماری ہے ، مختلف ممالک میں رہنے والے مختلف لوگ مختلف چیزوں سے بَدشگونیا ں لیتے ہیں۔
٭بَدشگونی انسان کے لئے دینی و دُنیوی دونوں اعتبار سے بے حد خطرناک ہے ۔
٭بَدشگونی سے اِیمان بھی ضائع ہوسکتا ہے۔
٭بَدشگونی لینا مسلمان کو زیب نہیں دیتا بلکہ یہ غیرمسلموں کا پُرانا طریقہ ہے ۔
٭ دورِ حاضِر میں بھی بہت سے غَلَط سَلط اِعتقادات ، توھُّمات اور ناجائز رُسومات زور پکڑتی جا رہی ہیں جن کا تعلق بَدشگونی سے بھی ہوتا ہے مثلاً ماہِ صفر کو منحوس جاننا ، چھینک کو منحوس جاننا ، ستاروں کے اثرات پر یقین رکھنا ، مسلسل بیٹیوں کی پیدائش کو منحوس سمجھنا ، گھر میں پپیتہ کا دَرَخْت لگانے کو منحوس سمجھنا ، شوال یا مخصوص تاریخوںمیں شادی کو منحوس جاننا ، عورت گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھنا وغیرہ ۔
٭ اِستخارہ کرنا جائز ومستحسن ہے ۔
٭نظر لگنا ایک حقیقت ہے اس سے انکار نہیں کیا جاسکتا ۔
٭اسلامی عقائد کی معلومات حاصل کرکے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ پر سچا توکُّل کرکے ، بَدشگونی کے تقاضے پر عمل نہ کرکے اور مختلف وظائف کے ذریعے بَدشگونی کا علاج کیاجاسکتا ہے ۔
تفصیلات کے لئے کتاب کا مکمل مطالعہ کیجئے
امیرُ الْمُؤْمِنِین حضرتِ سیِّدُنا مولیٰ مُشکل کُشا ، علیُّ الْمُرتَضٰی کَرَّمَ اللّٰہُ تعالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا : ’’ اگر کوئی شخص تمام رُوئے زمین کا مال حاصل کرے اور اس کا اِرادہ رضائے خداوندی کا حُصول ہو تو وہ زاہِد ہے اور اگر سارا مال چھوڑ دے لیکن رضائے خداوندی مقصود نہ ہو تو وہ زاہِد نہیں ہے۔ ‘‘ (احیاء علوم الدین ، کتاب ذم البخل وذم حب المال ، ج۳ ، ص۳۲۴تا۳۲۵ملخصًا)
نام کتاب مصنف / مؤلف مطبوعہ
قرآن مجید کلامِ الٰہی مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی
کنز الایمان اعلیٰ حضرت امام احمد رضاخان ، متوفی ۱۳۴۰ھ مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی
نور العرفان حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ، متوفی ۱۳۹۱ھ پیر بھائی کمبنی ، لاہور
تفسیر خزائن العرفان صدر الافاضل مفتی نعیم الدین مراد آبادی ، متوفی۱۳۶۷ھ مکتبۃ المدینہ ، باب المدینہ کراچی
تفسیر نعیمی حکیم الامت مفتی احمد یار خان نعیمی ، متوفی ۱۳۹۱ھ ضیاء القرآن پبلی کیشنز ، لاہور
تفسیر کبیر امام فخر الدین محمد بن عمر بن حسین رازی ، متوفی ۶۰۶ھ دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۱۴۲۰ھ
روح المعانی ابو الفضل شہاب الدین سید محمود آلوسی ، متوفی ۱۲۷۰ھ دار احیاء التراث العربی ، بیروت ۱۴۲۰ھ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع