دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bad shuguni | بد شگونی

book_icon
بد شگونی

طرح بُرا شگون لینا منع ہے اسی طرح نیک فال لینے کی بھی اِجازت نہیں  ہے ۔ تفسیر کبیر میں  ہے : اہلِ عرب کے نزدیک فال اور بَدشگونی کا معاملہ ایک تھا ، سیِّدِ عالم ، نورِ مجسمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے فال کو برقرار رکھا اور بَدشگونی کو باطِل قرار دیا۔ امام محمد رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیفرماتے ہیں : فال اور بَدشگونی میں  فرق کا بیان ضَروری ہے ، اس سلسلے میں  بہتر بات یہ ہے کہ انسانی رُوح درندوں  اور پرندوں  کی رُوحوں  سے زیادہ قَوِی اور صاف ہوتی ہے لہٰذا انسان کی زبان پر جاری ہونے والے کلمے سے اِستدلال کرنا(فال لینا)ممکن ہے لیکن پرندوں  کے اُڑنے یا دَرِندوں  کی کسی حرکت سے کسی بات پر اِستدلال کرنا(یعنی اچھا یا براشگون لینا)ممکن نہیں  کیونکہ ان کی رُوحیں  کمزور ہوتی ہیں۔  (تفسیر کبیر ، ۵ / ۳۴۴)

اس میں  خیر اور شر کی کیابات ہے ؟

            حضرتِ سیِّدُنا عکرمہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کہتے ہیں  : ایک دن ہم لوگ حضرت ابنِ عباس رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما کے پاس بیٹھے تھے ۔ ہمارے پاس سے ایک پرندہ چہچہاتا ہوا گزرا ۔ مجلس کے حاضرین میں  سے کسی نے کہا : خیر ہی ہوگی۔ آپ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُما نے فورا ً اس کی اِصلاح فرمائی اور کہا : نہ خیر ہوگی نہ شر ہوگا۔ ( یعنی ایک پرندہ چہچہاتے ہوئے اڑ رہا ہے تو اس میں  خیر اور شر کی کیا بات ہے ؟)  (فیض القدیر ، ۵ / ۲۹۴ ، تحت الحدیث : ۷۱۰۱)

 ناگواری کا اظہار کیا

             امام طاؤس رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ  ایک شخص کے ہمراہ سفرمیں  تھے ، اس نے کوے کی آواز سنی تو کہا : خیر ہوگی ۔ یہ سنتے ہی آپ نے ناگواری سے فرمایا : ا یُّ خَیرٍ عِنْدَ ھٰذَا اَوْ شَرٍّ ،  لَاتَصحَبنِی اس میں  خیریا شر کی کونسی بات ہے ! میرے ساتھ مت جاؤ ۔  (مصنف عبدالرازق ، کتاب الجامع ، باب الطیرۃایضاً ، ۱۰ / ۲۴ ، رقم : ۱۹۶۸۲)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!                       صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد

ان کا آنا فالِ حَسَن تھا

        میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰناپنے دوسرے سفرِ مدینہ کے اَحوال بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں : اب یہا ں  کامران (ایک جگہ کا نام)میں  نودن ہوچکے ۔ کل جہاز پر جانا ہے ۔ دفعۃً (یعنی اچانک)رات کو میرے سب ساتھیوں  کو دردِ شِکَم (یعنی پیٹ کا درد) و اِسْہال (اِس ۔ ہال ، یعنی پیچش) عارض (یعنی لاحِق)ہوا ، میرے درد تو نہ تھا مگر پانچ بار اِجابت (یعنی رفع حاجت )کو مجھے جانا ہوا ، دن چڑھ گیا اور ڈاکٹر کے آنے کا وَقْت ہوا ، باہر تُرکی مرد اور اندر عورتوں  کو تُرکیہ عورت روزانہ آکر دیکھاکرتے ۔ میرے بھائی ننھے میاں  سلمہ(یعنی علامہ محمد رضا خان علیہ رحمۃ الحنان )کو اندیشہ ہوا اور عَزْم کرلیا کہ اپنی حا لتو ں  کو ڈاکٹر سے کہہ دو ۔ مجھ سے دریافت کیا۔ میں  نے کہا : اگر بیمار سمجھ کر رو ک لئے گئے اور حج کا وَقْت قریب ہے مَعَاذَ اللہ وَقْت پر نہ پہنچ سکے توکیسا خسارہ(یعنی نقصان) ہوگا۔ کہا : ’’اب ڈاکٹر اور ڈاکٹرنی آتے ہوں  گے اگر انہیں  اطلاع ہو ئی تو ہمارا نہ کہنااِخْفا (یعنی پوشیدگی) میں  نہ ٹھہرے گا ؟‘‘ میں  نے کہا : ’’ذرا ٹھہرو !میں  اپنے حکیم سے کہہ لوں۔ ‘‘ مکان سے باہر جنگل میں  آیا اور حدیث کی دعائیں  پڑھیں  اور سیِّدُنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے اِسْتِمْداد (یعنی مدد طلب)کی کہ دفعۃً سامنے سے حضرت سید شاہ غلام جیلانی صاحب سجادہ نشین سرکار بانسہ شریف کہ اولاد اَمْجاد حضور سیِّدُنا غوثِ اعظم رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے تھے اور بمبئی سے ہمارا ان کا ساتھ ہوگیا تھا ، سامنے سے تشریف لائے۔

ان کی تشریف آوری فالِ حَسَن (یعنی نیک شگون) تھی ۔ میں  نے ان سے بھی دُعا کو کہا ، انہوں  نے بھی دُعا فرمائی۔ مجھے مکان سے باہر آئے شایدد س منٹ ہوئے ہوں  گے ، اب جو مکان میں  جاکر دیکھا بِحَمْدِ اللہسب کو ایسا تَندُرُسْت (تَن ۔ دُرُسْت) پایا کہ گویا مَرَض ہی نہ تھا ، درد وغیرہ کیسا!اس کا ضُعْف بھی نہ رہا۔ سب ڈھائی تین میل پِیادَہ (یعنی پیدل) چل کر سَمُنْدَر (سَمُن ۔ دَر)کے کنارے پہنچے ۔  (ملفوظاتِ اعلیٰ حضرت ، ص۱۸۶)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

بَدشگونی اور اچھے شگون میں  فرق

           ان دونوں  میں  بنیادی فرق یہ ہے کہ بَدشگونی لینا شَرْعاً ممنوع اور اچھا شگون لینا مُسْتَحَبہے ، اس کے علاوہ٭اچھا شگون لینا ہمارے مَدَنی سرکارصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کا طریقہ ہے جبکہ بَدشگونی کفارِ ناہنجار کا شیوہ ہے ٭اچھا شگون لینے سے اللہ عَزَّوَجَلَّکے رحم و کرم سے اچھائی اور بھلائی کی امید ہوتی ہے جبکہ بَدشگونی سے ناامیدی پیدا ہوتی ہی٭نیک فال سے دل کو اطمینان اور خوشی حاصل ہوتی ہے جو ہرکام کی جدوجہد اور تکمیل کے لیے ضَروری ہے جبکہ

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن