30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
حضرت سَیِّدُنا عکاشہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کھڑے ہوگئے اورعرض کی : یارسول اللہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم!اللہ عَزَّوَجَلَّ کی بارگاہ میں دُعا کیجئے کہ مجھے بھی ان میں کردے ۔ چنانچہ نبی رحمت ، قاسمِ نعمتصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے دُعا مانگی : ’’ یا اللہ عَزَّوَجَلَّ! اسے بھی ان لوگوں میں سے کردے ۔ ‘‘ دوسرے صحابی نے کھڑے ہو کر عرض کی : میرے لئے بھی دُعا کیجئے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّمجھے بھی ان میں سے کردے۔ آپصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : عکاشہ تم پر سبقت لے گئے۔ (الاحسان بترتیب صحیح ابن حبان ، کتاب الرقاء والتمائم ، ۷ / ۶۲۸ ، حدیث : ۶۰۵۲)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
بَدشگونی سے کیونکر بچا جائے؟
بَدشگونی ایک ہلاکت خیز باطنی بیماری ہے اس لئے اس کا علاج بہت ضَروری ہے ، اگر آپ سے کبھی بَدشگونی پر عمل کا گناہ سرزدہوا ہو تو سب سے پہلے اس سے توبہ کیجئے ، اس کے بعد درج ذیل نسخوں پر عمل کیجئے اس بیماری پر قابو پانا بے حد آسان ہوجائے گا ، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ
(۱) اسلامی عقائد کی معلومات حاصل کیجئے
عِلْم سے وحشت دُورہوتی ہے ، اسلامی عقائد کی ضَروری معلومات رکھنا ہر مسلمان پر لازم ہے ۔ اگر تقدیر پر ان معنوں پر ایمان رکھا جائے کہ ہر بھلائی ، بُرائی اللہ عَزَّوَجَلَّ نے اپنے علمِ اَزلی کے موافق مقدّر فرما دی ہے ، جیسا ہونے والا تھا اورجو جیسا کرنے والا تھا ، اپنے عِلْم سے جانا اور وہی لکھ لیا ([1]) ۔ (بہارشریعت ، ۱ / ۱۱) تو بَدشگونی دل میں جگہ ہی نہیں بناسکے گی کیونکہ جب بھی انسان کو کوئی نقصان پہنچے گا تو وہ یہ ذہن بنالےگا کہ یہ میری تقدیر میں لکھا تھا نہ کہ کسی چیزکی نُحوست کی وجہ سے ایسا ہوا ہے ۔ پارہ27سورۃ الحدید کی آیت 22میں اِرشادہوتا ہے :
مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِیْبَةٍ فِی الْاَرْضِ وَ لَا فِیْۤ اَنْفُسِكُمْ اِلَّا فِیْ كِتٰبٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ نَّبْرَاَهَاؕ-اِنَّ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ یَسِیْرٌۚۖ(۲۲) (پ۲۷ ، الحدید : ۲۲)
ترجمۂ کنزالایمان : نہیں پہنچتی کوئی مصیبت زمین میں اور نہ تمہاری جانوں میں مگر وہ ایک کتاب میں ہے قبل اس کے کہ ہم اسے پیدا کریں ، بیشک یہ اللہ کو آسان ہے ۔
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! اپنا ذہن بنا لیجئے کہ وہی ہوتا ہے جو منظورِ خدا ہوتا ہے ، کالی بلی کے راستہ کاٹنے یا گھر کی چھت پر اُلّو کے بولنے سے ہمیں کچھ نقصان نہیں پہنچے گا ، کتنے ہی لوگ ایسے ہوتے ہیں جن کے سامنے سے کالی بلی نہیں گزرتی پھر بھی انہیں کوئی نہ کوئی نقصان اٹھانا پڑتا ہے لہٰذا کالی بلی میں کوئی نُحوست نہیں ہے۔ سورہ توبہ میں اللہ عَزَّوَجَلَّ مسلمانوں سے اِرشادفرماتا ہے کہ یوں کہا کریں :
لَّنْ یُّصِیْبَنَاۤ اِلَّا مَا كَتَبَ اللّٰهُ لَنَاۚ-هُوَ مَوْلٰىنَاۚ-وَ عَلَى اللّٰهِ فَلْیَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُوْنَ(۵۱)
(پ۱۰ ، التوبہ : ۵۱)
ترجمہ کنز الایمان : ہمیں ہر گز نہ پہنچے گی مگر وہ بات جواللہ تعالیٰ نے ہمارے لئے لکھ دی ، وہ ہمارا مولی ہے اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہئے۔
امام فخر الدین رازی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ القَوِی تفسیر کبیر میں فرماتے ہیں : اس آیت مبارکہ کا معنی یہ ہے کہ ہمیں کوئی خیر وشر ، خوف اور امید ، شدت و سختی نہیں پہنچے گی مگر وہی کہ جو ہمارا مقدر ہے اوراللہ عَزَّوَجَلَّ کے پاس لوح محفوظ پر لکھی ہوئی ہے۔ (التفسیر الکبیر ، ۶ / ۶۶)
رِزْق اور مصیبتوں کو لکھ دیا گیا ہے
حضرتِ سیِّدُنا عبدُ اللہبن مسعود رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ سے مَرْوی ہے کہ سرکارِ مدینہ ، سلطانِ باقرینہ صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : اللہ
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع