30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
دروازے تھے ، جب دس بیٹے مِصْر روانہ ہونے لگے تو آپ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام کویہ خدشہ ہوا کہ اگر دس کے دس ایک دروازے سے داخل ہوئے تو ان پر دیکھنے والوں کی نظر لگ جائے گی اس لیے ارشادفرمایا :
یٰبَنِیَّ لَا تَدْخُلُوْا مِنْۢ بَابٍ وَّاحِدٍ وَّ ادْخُلُوْا مِنْ اَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍؕ- (پ۱۳ ، یوسف : ۶۷)
ترجمہ کنزالایمان : اے میرے بیٹو ایک دروازے سے نہ داخل ہونا اور جدا جدا دروازوں سے جانا۔
مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اس آیت کے تحت لکھتے ہیں : اس سے معلوم ہوا کہ نظر حق ہے اور اس میں اثر ہے ، یہ بھی معلوم ہوا کہ نظرِ بَد سے بچنے کی تدبیر کرناسنتِ پیغمبر ہے۔ (نورالعرفان ، ص۳۸۷)صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : تاکہ نظرِ بَد سے محفوظ رہو ۔ بخاری و مسلم کی حدیث میں ہے کہ نظر حق ہے ۔ پہلی مرتبہ حضرتِ یعقوب علیہ الصلٰوۃ و السلامنے یہ نہیں فرمایا تھا اس لئے کہ اس وَقْت تک کوئی یہ نہ جانتا تھا کہ یہ سب بھائی اور ایک باپ کی اولاد ہیں لیکن اب چونکہ جان چکے تھے اس لئے نظر ہو جانے کا احتمال تھا ، اس واسطے آپ نے علیٰحدہ علیٰحدہ ہو کر داخل ہونے کا حکم دیا ۔ اس سے معلوم ہوا کہ آفتوں اور مصیبتوں سے دفع کی تدبیر اور مناسب اِحتیاطیں انبیاء (عَلَیْہِمُ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلام)کا طریقہ ہیں اور اس کے ساتھ ہی آپ نے اَمْر (یعنی معاملہ) اللہ کو تَفْوِیض کر دیا کہ باوجود اِحتیاطوں کے توکّل و اِعتماد اللہ پرہے اپنی تدبیر پر بھروسہ نہیں۔ (خزائن العرفان ، ص۶۵۴)
اللہ عَزَّوَجَلَّ کی اُن پر رَحمت ہو اور ان کے صَدقے ہماری بے حساب مغفِرت ہو۔
ٰ امین بِجاہِ النَّبِیِّ الْاَمینصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
رحمتِ عالَم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو نظر لگانے کی کوشش ناکام رہی
پارہ 29سورۃ القلم کی آیت 51میں ہے :
وَ اِنْ یَّكَادُ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا لَیُزْلِقُوْنَكَ بِاَبْصَارِهِمْ لَمَّا سَمِعُوا الذِّكْرَ وَ یَقُوْلُوْنَ اِنَّهٗ لَمَجْنُوْنٌۘ(۵۱)
(پ۲۹ ، القلم : ۵۱)
ترجمہ کنزالایمان : اور ضَرورکافر تو ایسے معلوم ہوتے ہیں کہ گویا اپنی بَدنظرلگا کرتمہیں گرادیں گے جب قرآن سنتے ہیں اور کہتے ہیں یہ ضَرورعَقْل سے دُورہیں۔
صدرُ الافاضِل حضرتِ علّامہ مولانا سیِّد محمد نعیم الدّین مُراد آبادیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِیاِس آیت کے تحت لکھتے ہیں : منقول ہے کہ عرب میں بعض لوگ نظر لگانے میں شہرہِ ٔ آفاق تھے اور ان کی یہ حالت تھی کہ دعویٰ کرکرکے نظر لگاتے تھے اور جس چیز کو انہوں نے گُزند(یعنی نقصان) پہنچانے کے ارادے سے دیکھا دیکھتے ہی ہلاک ہوگئی ، ایسے بہت واقعات ان کے تجربہ میں آچکے تھے۔ کفّار نے ان سے کہا کہ رسولِ کریم صلَّی اللہ علیہ واٰلہٖ وسلَّمکو نظر لگائیں تو ان لوگوں نے حضور (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)کو بڑی تیز نگاہوں سے دیکھا اور کہا کہ ہم نے اب تک نہ ایسا آدمی دیکھا نہ ایسی دلیلیں دیکھیں اور ان کا کسی چیز کو دیکھ کر حیرت کرنا ہی سِتم ہوتا تھا لیکن ان کی یہ تمام جِدّوجُہدبھی مثل ان کے اور مکائد (یعنی بُری چالوں )کے جو رات دن وہ کرتے رہتے تھے بے کار گئی اور اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم کو ان کے شر سے محفوظ رکھا اور یہ آیت نازل ہوئی ۔ (حضرتِ)حَسَن رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ نے فرمایا جس کو نظر لگے اس پر یہ آیت پڑھ کر دَم کردی جائے ۔ (خزائن العرفان ، ص۱۰۴۸) مُفَسِّرِشَہِیر حکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان فرماتے ہیں : عرب میں بعض لوگ نظر بَد لگانے میں مشہور تھے اگر وہ بھوکے ہو کر کسی کو تیزنگاہ سے دیکھ کر کہتے کہ ’’ایسا ہم نے آج تک نہ دیکھا ، کیا ہی اچھا ہے !‘‘تو وہ آدمی یا جانور فوراً ہلاک ہوجاتا۔ کفارِ مکہ بہت لالچ دے کر انہیں لائے ، یہ حسبِ عادت تین دن بھوکے رہے‘ پھر حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کی خدمت میں حاضر ہوئے جب کہ آپ (صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)تلاوتِ قرآن فرمارہے تھے انہوں نے بار بار یہی کہا مگر اللہ تعالیٰ نے حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کو ان کی نظر بَد سے محفوظ رکھا ، اس پر آیت آئی ۔ معلوم ہوا کہ بَدنیتی سے حضور(صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم) کا چہرہ اَنور دیکھنا کُفْر ہے ،
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع