دعوت اسلامی کی دینی خدمات دیگر ممالک میں بھی دیکھئے
ہسٹری

مخصوص سرچ

30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں

Bad shuguni | بد شگونی

book_icon
بد شگونی

جاتا ہے جبکہ عربی میں  اس کو طَائِرٌ ، طَیْرٌاور طِیَرَۃٌ کہا جاتا ہے ، عرب لوگ طائِر (یعنی پرندے) کو اُڑا کر اس سے فال لیتے تھے ، پرندے کے دائیں  طرف اُڑنے سے اچھی فال لیتے اور بائیں  طرف اُڑنے اور کووں  کے کائیں  کائیں  کرنے سے بَدشگونی ( بُری فال) لیتے ، اس کے بعد مطلقاً بَدشگونی کے لیے طائِرٌ ، طَیْرٌ اور طِیَرَۃٌ  کا لفظ استعمال ہونے لگا۔ (تفسیر کبیر  ،  ۵ / ۳۴۴ ملتقطًا)عرب لوگ پرندوں  کے ناموں  ، آوازوں  ، رنگوں  اور ان کے اُڑنے کی سمتوں  سے فال لیا کرتے تھے چنانچہ عُقاب(ایک طاقتور شکاری پرندہ) سے مصیبت ، کوے سے سفر اورہُد ہُد(ایک خوبصورت پرندہ) سے ہدایت کی فال لیتے اسی طرح اگر پرندے دائیں  جانب اُڑتے تو اچھا شگون اور بائیں  جانب اُڑتے تو بَدشگونی لیا کرتے تھے ۔  (بریقہ محمودیہ شرح طریقہ محمدیہ ،  باب الخامس والعشرون  ، ۲ /  ۳۷۸)

صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب !                                   صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد

شیطانی کام

          رسولِ اکرم ، نُورِ مُجَسَّمصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم نے اِرشادفرمایا : اَلْعِیَافَۃُ وَالطِّیَرَۃُ وَالطَّرْقُ مِنَ الْجِبْتِیعنی اچھا یا بُراشگون لینے کے لیے پرندہ اُڑانا ، بَدشگونی لینااور طَرْق (یعنی کنکر پھینک کر یا ریت میں  لکیر کھینچ کر فال نکالنا)شیطانی کاموں میں سے ہے۔

( ابو داوٗد ، کتاب الطب ، باب فی الخط و زجرالطیر ، ۴ / ۲۲ ، الحدیث۳۹۰۷)

بَدشگونی حرام اور نیک فال لینا مستحب ہے

حضرتسید نا امام محمد آفندی رُومی بِرکلی علیہ رحمۃ اللہِ الولی اَلطَّرِیْقَۃُ الْمُحَمَّدِیَۃ میں  لکھتے ہیں  : بَدشگونی لینا حرام اور نیک فال یا اچھا شگون لینا مُسْتَحَبہے ۔

  (الطریقۃ المحمدیۃ  ، ۲ / ۱۷ ، ۲۴)

اور مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر  ت ِ مفتی احمد یار خان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنّانلکھتے ہیں : اسلام میں  نیک فال لینا جائز ہے ، بدفالی بدشگونی لینا حرام ہے ۔  

(تفسیر نعیمی ، ۹ / ۱۱۹)

اہم ترین وضاحت

          نہ چاہتے ہوئے بھی بعض اوقات انسان کے دل میں  بُرے شگون کا خیال آہی جاتا ہے اس لئے کسی شخص کے دِل میں  بَدشگونی کا خیال آتے ہی اسے گنہگار قرار نہیں  دیا جائے گا کیونکہ محض دِل میں  بُرا خیال آجانے کی بنا پر سزا کا حقدار ٹھہرانے کا مطلب کسی اِنسان پر اس کی طاقت سے زائد بوجھ ڈالنا ہے اور یہ بات شرعی تقاضے کے خلاف ہے ، اللہ عَزَّوَجَلَّ اِرشادفرماتا ہے :

لَا یُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَاؕ- ۳ ، البقرۃ : ۲۸۶)

ترجمۂ کنزالایمان : اللہ کسی جان پر بوجھ نہیں  ڈالتا مگر اس کی طاقت بھر ۔

          حضرت علامہ مُلَّا جِیْون رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِاس آیت کے تحت تفسیراتِ احمدیہ میں  لکھتے ہیں : یعنی اللہ تعالیٰ ہر جاندار کو اس بات کا مُکَلَّف(یعنی ذمہ دار) بناتا ہے جو اس کی وُسعت وقدرت میں  ہو۔  (التفسیرات الاحمدیہ  ، ص۱۸۹)

          چنانچہ اگر کسی نے بَدشگونی کا خیال دل میں  آتے ہی اسے جھٹک دیا تو اس پر کچھ اِلزام نہیں  لیکن اگر اس نے بَدشگونی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھا اور اِسی اعتقاد کی بنا پر اس کام سے رُک گیا تو گناہ گار ہوگا مثلاً کسی چیز کو منحوس سمجھ کر سفر یا کاروبار کرنے سے یہ سوچ کر رُک گیا کہ اب مجھے نقصان ہی ہوگاتو اب گنہگار ہوگا۔ شیخ الاسلام شہاب الدّین امام احمد بن حجر مکی ہیتمی شافعی عَلَیْہِ رَحمَۃُ اللّٰہ ِالْقَوِی   اپنی کتاب اَلزَّوَاجِرُ عَنِ اقْتِرَافِ الْکَبَائِر میں  بَدشگونی کے بارے میں  دو حدیثیں  نَقْل کرنے کے بعد لکھتے ہیں  : پہلی اور دوسری حدیثِ پاک کے ظاہِری معنی کی وجہ سے بَدفالی کو گناہِ کبیرہ شمار کیا جاتا ہے اور مناسب بھی یہی ہے کہ یہ حکم اس شخص کے بارے میں  ہو جو بَدفالی کی تاثیر کا اِعتقاد رکھتا ہو جبکہ ایسے لوگوں  کے اسلام(یعنی مسلمان ہونے نہ ہونے)میں  کلام ہے۔

 (الزواجر عن اقتراف الکبار  ، باب السفر ، ۱ / ۳۲۶)

؎کریں  نہ تنگ خیالاتِ بَد کبھی ، کردے

                             شُعُور و فکر کو پاکیزگی عطا یاربّ              (وسائل بخشش ، ص ۹۳)

 

کتاب کا موضوع

کتاب کا موضوع

Sirat-ul-Jinan

صراط الجنان

موبائل ایپلیکیشن

Marfatul Quran

معرفۃ القرآن

موبائل ایپلیکیشن

Faizan-e-Hadees

فیضانِ حدیث

موبائل ایپلیکیشن

Prayer Time

پریئر ٹائمز

موبائل ایپلیکیشن

Read and Listen

ریڈ اینڈ لسن

موبائل ایپلیکیشن

Islamic EBooks

اسلامک ای بک لائبریری

موبائل ایپلیکیشن

Naat Collection

نعت کلیکشن

موبائل ایپلیکیشن

Bahar-e-Shariyat

بہار شریعت

موبائل ایپلیکیشن