30 سے زائد لینگوئجز میں 5000 سے زائد اسلامی کتب کا خزانہ آن لائن پڑھیں اور ڈاؤن لوڈ کریں
بعض لوگ عورت ، گھر اور گھوڑے کو منحوس سمجھتے ہیں اور دلیل کے طور پر یہ حدیثِ پاک پیش کرتے ہیں کہ رسولِ نذیر ، سِراجِ مُنیر ، محبوبِ ربِّ قدیرصَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا : نُحوست عورت میں ، گھر میں اور گھوڑے میں ہے۔
(بخاری ، کتاب النکاح ، باب ما یتقی من شؤم المراۃ ۳ / ۴۳۰ ، حدیث : ۵۰۹۳)
اگراس حدیث پاک کی تشریح پڑھ اور سمجھ لی جائے تو امید ہے کہ ایسے لوگ اپنے مؤقف سے رجوع کرلیں گے ، چنانچہ مُفَسِّرِشَہِیرحکیمُ الْاُمَّت حضر ت ِ مفتی احمد یار خان علیہ رحمۃُ الحنّان اِس حدیثِ پاک کے تحت لکھتے ہیں : اس حدیث کے بہت معنی کئے گئے ایک یہ کہ اگر کسی چیز سے نُحوست ہوتی تو ان تین میں ہوتی ، دوسرے یہ کہ عورت کی نُحوست یہ ہے کہ اولاد نہ جَنے اور خاوند کی نافرمان ہو ، مکان کی نُحوست یہ ہے کہ تنگ ہو وہاں اذان کی آواز نہ آئے اور اس کے پڑوسی خراب ہوں ، گھوڑے کی نُحوست یہ ہے کہ مالک کو سواری نہ دے ، سَرکش ہو ، بہرحال یہاں شؤم سے مراد بَدفال(یعنی بَدشگونی) نہیں کہ اس کی وجہ سے رِزْق گھٹ جائے یا آدمی مرجائے کہ اسلام میں بَدفالی ممنوع ہے۔ لہٰذا یہ حدیث لَاطِیَرَۃَ کی حدیث کے خلاف نہیں۔ خیال رہے کہ بعض بندے اور بعض چیزیں مبارک تو ہوتی ہیں کہ ان سےگھر میں مال میں عمر میں زیادتیاں ہوجاتی ہیں جیسے (حضرت)عیسیٰ علیہ السلام فرماتے ہیں : وَّ جَعَلَنِیْ مُبٰرَكًا (ترجمہ کنزالایمان : اور اس نے مجھے مبارک کیا۔ (پ۱۶ ، مریم : ۳۱)) مگر کوئی چیز اس کے مقابل معنی میں منحوس نہیں ، ہاں !کافر ، کفر ، زمانۂ عذاب منحوس ہے ، رب تعالیٰ فرماتا ہے : فِیْ یَوْمِ نَحْسٍ (ترجمہ کنزالایمان : ایسے دن میں جس کی نُحوست(ان پر ہمیشہ کے لئے رہی)۔ (پ۲۷ ، القمر : ۱۹)) (مراٰۃ المناجیح ، ۵ / ۶)
حضرت عائشہ صدیقہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُا کا مؤقف
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن فتاویٰ رضویہ میں لکھتے ہیں : جب اُمُّ المومنین(رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ) کو حضرت ابوہریرہ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُ کی یہ حدیث پہنچی کہ حضور صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّمنے اِرشادفرمایا کہ عورت ، گھر اور گھوڑے میں نُحوست ہے تو آپ بہت زیادہ غضبناک ہوئیں اور فرمایا : اس خدابُزُرگ وبَرتَر کی قسم! جس نے محمد کریم صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم پرمقدس قرآن نازِل فرمایا کہ حضورپاک ( صَلَّی اللہ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلہٖ وَسَلَّم)نے اس طرح نہیں اِرشادفرمایا بلکہ یوں اِرشادفرمایا کہ دورجاہلیت والے ان چیزوں سے نُحوست اور بَدشگونی لیتے تھے۔ امام طحاوی وابن جریر نے بواسطہ قتادہ بواسطہ ابوحسان اسے روایت کیاہے نیز حاکم اور بیہقی نے اسے روایت کیاہے۔ (ت)
( شرح معانی الآثار للطحاوی ، کتاب الکراھۃ ، باب الاجتناب من ذی داء الطاعون ، ۴ / ۱۳۴)
(فتاوٰی رضویہ ، ۲۴ / ۲۴۶)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
فتاویٰ رضویہ کا ایک سُوال جواب
اعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا : کیا فرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ یہ جومشہورہے کہ گھر اور گھوڑا اور عورت منحوس ہوتے ہیں اس کی کیا اصل ہے؟اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا : یہ سب محض باطِل ومردود خیالات ہندؤوں کے ہیں ، شریعتِ مطہرہ میں ان کی کوئی اصل نہیں ، شَرْعاً گھر کی نُحوست یہ ہے کہ تنگ ہو ، ہمسائے بُرے ہوں ، گھوڑے کی نُحوست یہ کہ شریر ہو ، بَدلگام ، بَدرکاب ہو ، عورت کی نُحوست یہ کہ بَدزبان ہو ، بَدرویہ ہو ، باقی وہ خیال کہ عورت کے پہرے سے یہ ہوا ، فلاں کے پہرے سے یہ ، یہ سب باطِل اور کافروں کے خیال ہیں۔ واللہ تعالٰی اَعْلَم۔(فتاویٰ رضویہ ، ۲۱ / ۲۲۰)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیب ! صلَّی اللہُ تعالٰی علٰی محمَّد
(۱۲)میت کو غسل دینے کے بعد گھڑا توڑ دینا
میرے آقااعلیٰ حضرت ، امامِ اہلِسنّت ، مجدِّدِ دین وملّت ، مولانا شاہ امام احمد رضاخان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰن سے سُوال کیا گیا کہ گھڑے ، بَدھنے(یعنی لوٹے) میّت کو غسل دینے کے بعد پھوڑ ڈالنا جائز ہے یا نہیں ؟اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہِ نے جواب دیا : گناہ ہے کہ بلا وجہ تَضْیِیْعِ مال(یعنی مال کو ضائع
کتاب کا موضوع
کتاب کا موضوع